کرپشن کے کیڑے ۔ یونیکوڈ ٹیکسٹ

کرپشن کے کیڑے ۔ یونیکوڈ ٹیکسٹ

کرپشن کے کیڑے

تحریر و تحقیق:
راجہ ابرار احمد

کتاب کا عنوان: کرپشن کے کیڑے
تحریر و تحقیق: راجہ ابرار احمد
ریسرچ اسسٹنٹ: محمد موسیٰ سومرو
معاونین : ادارہ اختلاف نیوز میڈیا گروپ اینڈ پبلیکیشنز ،انسٹیٹوٹ آف کنفلیکٹ ریزولوشن اینڈ سوشل ڈویلمنٹ ،مائی ورچوئل یونیورسٹی ، راجہ امتیاز احمد راجہ عمران خان اعجاز احمد شائق شازیہ اقبال راجہ
تعداد اشاعت: 1000
سال اشاعت؛ 2021
پبلشر: اختلاف نیوز میڈیا
گروپ اینڈ پبلیکیشنز

فہرست عنوانات
1 مصنف کا تعارف
2 کتاب کا تعارف
3 پیش لفظ
4 دیباچہ۔ پاکستان کا سب سے بڑا مسئلہ
5 کرپشن کیا ہے؟ اس کی اقسام اور تاریخ
6 اسلام اور کرپشن، اسلام اور احتساب ۔
7 پاکستان میں کرپشن کی تاریخ اور مشہور اسکینڈلز
8 ریاست کا پہلا ستون مقننہ/پاکستانی سیاست اور کرپشن
9 ریاست کا دوسرا ستون عدلیہ اور کرپشن
10 ریاست کا تیسراستون انتظامیہ اور کرپشن
11 ریاست کا چوتھاستون میڈیا اور کرپشن
12 کیا پاکستان سے کرپشن کا خاتمہ ہو سکتا ہے؟

مصنف کا تعارف

میرا نام ابرار احمد ہے میرا تعلق نارمہ راجپوت قبیلے سے ہے میں10 مارچ انیس سوبیاسی کو آزاد کشمیر کے ضلع کوٹلی کے ایک گاؤں کھوئی رٹہ میں پیدا ہوا میرا لڑکپن بھی وہیں گزرا اور اسکولنگ بھی وہیں ہوئی۔جبکہ ماسٹرز میں نے قائداعظم یونیورسٹی، اسلام آباد سے کیا۔ کشمیر کے حوالے سے میری بہت سی یادیں قابل ذکر ہیں۔ ایک کشمیری نوجوان ہوتے ہوئے میں جب بھی مقبوضہ کشمیر میں ہونے والے ظلم و زیادتی کی خبریں سنتا تھا تو میرا خون کھولے لگتا تھا۔کشمیر کی تحریک آزادی کے حوالے سے میری سوچ ایک آزادی پسند مجاہد کی تو تھیں۔اس لئے لڑکپن اور نوجوانی میں تو بزور قوت بازو کشمیر کو آزاد کرانے کی سوچ کا حامل تو رہا ۔ مگر وقت کے ساتھ ساتھ سوچ میں میچورٹی آتی گئی۔ اوربالآخر قانون، قواعد اور ضوابط کے تحت زندگی گزارنے کی سوچ حاوی ہوتی گئی۔ اور نہ صرف کشمیر بلکہ دنیا بھر کے متنازعہ علاقوںمظلوم و محکوم افراد کی پریکٹیکل مدد کرنے کا جذبہ پیدا ہوا۔ اس دنیا بھر کے متنازعہ علاقوں کے تنازعات حل کرنے کےلئے کام کا آغاز کیا ۔ اس حوالے سوشل میڈیا پر کئی پلیٹ فارم بنائے۔ مگر جو سب سے اہم پیش رفت رہی وہ تنازعات کے حل کےلئے تحقیق کے ذریعےٹھوس اور قابل عمل تجاویز پیش کرنے والا ایک مستند تحقیق ادارے کا قیام تھا۔ یہ ادارہ میں نے گذشتہ سال بنایا تھا۔ اور یہ پورے زور و شور سے تحقیقی سرگرمیوں میں مصرف عمل ہے۔ اور انٹریشنل کمیونٹی، عالمی مصالحتی اداروں اور پالیسی میکرز کی توجہ کےلئے تحقیقی رپورٹس، نیوزلیٹرز اور خطوط لکھ کر عالمی تنازعات بالخصوص کشمیر کی طرف ان کی توجہ مبذول کراتا رہا ہے۔

اپنی غیر نصابی سرگرمیوں کے حوالے سے بھی بہت سی یادیں وابستہ ہیں اپنے اسکول کے دور میں میں ایک اچھا مقرر تھا اور تقریر کے بہت سے مقابلوں میں حصہ لے کر پہلی پوزیشن حاصل کی بہت بہت سے سرٹیفکیٹ وٹرافیاں اب بھی میرے پاس موجود ہیں لکھنے لکھانے سے مجھے بچپن سے دلچسپی تھی اور میں مختلف عنوانات پر مضمون لکھتا رہا ہوں میں نے نہ صرف مختلف اخبارات رسائل و جرائد کےلئے بہت سارے مضامین لکھے بلکہ بہت سے مقابلوں کے لیے بھی میں نے مضامین لکھے ہیں۔ لکھنے لکھانے کا شوق مجھے تحریر و تحقیق کی طرف لے کر آیا جب جب میں نے قائداعظم یونیورسٹی سے ماسٹرز / ایم بی اے کیا تو میری بچپن کی لکھنے لکھانے کی صلاحیت ایک ریسرچر کے طور پر ابھر کر سامنے آ چکی تھی گریجویشن اور ماسٹرز میں تھیسس لکھنے کو میں ترجیح دیتا تھا ریسرچ کے مختلف پہلوؤں سے آگاہی بھی ایم بی اے کی ڈگری حاصل کرنے کے دوران ہوئی، لیکن اس صلاحیت کو اجاگر کرنے میں جو تجربہ مجھے حاصل ہوا وہ پڑھانے کے دوران ہوا میں ایم بی اے کرنے کے بعد بھی مختلف انسٹیٹیوٹ میں پڑھاتا رہا اور یورپ آنے کے بعد بھی مجھے بہت سے تعلیمی اداروں میں پڑھانے کا موقع ملا اسی دوران میں نے ریسرچ سیکھی۔ میرا میرا مطمع نظر کوالیٹیٹو ریسرچ تھی۔ کوالیٹیٹو ریسرچ میں بہت سے ایسے سماجی مسائل تھے جن پر میں نے ریسرچ کرنے کا ارادہ کیا ریسرچ کے حوالے سے میں نے جن سماجی مسائل پر کام کرنے کا ارادہ کیا اور ان کی جب فہرست بنائی گئی تو وہ کم و بیش 200 سے زائد عنوانات پر مشتمل تھی اور میرا ارادہ ہے کہ ان 200 عنوانات پر الگ الگ ریسرچ کر کے الگ الگ کتاب لکھوں انشاء اللہ تعالی ۔اللہ نے چاہا تو میں اپنے اس ارادے کو عملی جامہ پہنائوں گا اور 200 سے زائد کتابیں تحریر کروں گا ان شاء اللہ۔ اللہ تعالی کے فضل و کرم سے اس وقت میں پانچ کتابیں لکھ چکا ہوں تین کتب ریسرچ اسٹڈیز ہیں۔جبکہ دوکتب ٹیکسٹ بکس ہیں ایک کتاب بیسک جرنلزم کورس پر مشتمل ہے جبکہ دوسری کتاب کمیونٹی ڈویلپمنٹ کوراس پر مشتمل ہے اور یہ دونوں کتابیں انگریزی زبان میں ہیں۔جبکہ میری موجودہ کتاب جو اس وقت آپ کے ہاتھوں میں ہے یہ اسلاموفوبیا پر مشتمل ہے اور یہ کتاب اپنے موضوع پر واحد کتاب ہے اور پہلی کتاب ہے اردو زبان میں اسلاموفوبیا اور ففتھ جنریشن وار پر یہ پہلی تحقیق کی کتاب ہے جو کہ میں نے انتہائی محنت اور جانفشانی سے تحریر کی ہے اس کتاب کو لکھنے میں مجھے بہت سی مختلف زبانوں کی کتابیں پڑھ کر ان ے بعض حصوں کا ترجمہ کرنا پڑا۔ بہت سی لائبریریوں میں وقت گزارنا پڑا اور تحقیق کے مختلف معیار اورٹولز کو استعمال میں لاتے ہوئے یہ کتاب تحریر کی جو کہ اس وقت آپ کے ہاتھوں میں ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

کتاب کا تعارف

بدعنوانی ،خیانت ،دھوکادہی ،کارسرکار میں غبن ،ناپ تول میں کمی یہ تمام کرپشن سے تعبیر کیے جاتے ہیں۔قرآن کریم نے جن نافرمان قوموں کی بربادی وہلاکت کی عبرت ناک داستان بیان کی ہے، ان میں خطیب الانبیاء،حضرت شعیب علیہ السلام کی قوم بھی ہے،جس کی تباہی کا سب سے بڑا سبب کفرو شرک کے بعد،اس میں پایا جانے والا کرپشن، غبن، ناپ تول میں کمی اور خیانت تھا۔اس قوم کے جلیل القدر پیغمبر، ان کے معاشرے میں ایک طویل عرصے تک حق واصلاح احوال کی صدا لگاتے رہے اور انہیں باربار غبن وکرپشن کی وبا سے نکلنے اور بچنے کی تلقین کرتے رہے۔ وہ کہتے رہے:’’اے میری قوم! ناپ تول کو مکمل انصاف کے ساتھ پورا کرکے دیا کرو اور لوگوں کی چیزوں میں کمی (اورکرپشن) نہ کرو اور زمین میں فساد پھیلاتے نہ پھیرو۔ (سورۂ ہود)

لیکن سرکشی میں مبتلا قوم پر ان پیغمبرانہ صداؤں کا کوئی اثر نہ ہوا،اس قوم کے رگ وریشے میں خیانت وکرپشن اس طرح پیوست ہوگیا تھا کہ اصلاحِ حال کی یہ صدائیں،ان کی سمجھ میں نہیں آرہی تھیں،وہ جواب میں کہتی رہی’’اے شعیب! تمہاری اکثر باتیں ہم سمجھ نہیں پاتے۔‘‘ جب وہ کسی طرح نہیں سدھرے اور مہلت کا عرصہ تمام ہوا تورب کی طرف سے پکڑ آئی اور ایک چیخ نے سرکشوں کو صفحۂ ہستی سے یوں مٹادیا، جیسے وہ ان بستیوں میں کبھی آباد ہی نہ تھے۔دیکھیے قرآن کریم کے الفاظ میں کس قدر جلال وعبرت ہے:’’ان ظالموں کو ایک سخت آواز نے اس طرح پکڑ لیا کہ وہ اپنے گھروں میں اوندھے منہ پڑے رہ کر ختم ہوگئے کہ گویا کہ ان دیار میں کبھی آباد ہی نہ تھے،سنو،قوم مدین ایسے ہی اللہ کی رحمت سے دُور ہوئی،جیسے قومِ ثمود ہوئی۔‘‘کرپشن اور خیانت سے عالم میں فساد پھیلتا اور نسل انسانی کو نقصان ہوتا ہے۔جب کسی معاشرے کے اندر، دوسروں کے حقوق غصب کرنے،ان میں کمی کرنے اور خیال نہ رکھنے کی فضا پیدا ہوجائے توایسا معاشرہ ازخود فساد کی طرف بڑھتا ہے،ایسی ظالمانہ فضا میں پرورش پانے والے ہمیشہ دوسروں کا حق مارنے کی تگ ودو میں رہتے ہیں۔وہ اپنے ذمے دوسروں کے حقوق کی ٹھیک ادائیگی کی کبھی فکر نہیں کرتے،جس کی وجہ سے سماجی اور معاشرتی رویوں میں بگاڑ آتا ہے،دشمنیاں جنم لیتی ہیں اور فساد کی نئی نئی شکلیں پیدا ہوتی ہیں۔حضور اکرمﷺ نے فرمایا: ’’جس قوم کے اندر یہ خرابی پائی جائے گی،اللہ تعالیٰ اسے قحط اور مہنگائی کے عذاب میں مبتلا فرمادے گا۔‘‘
آج ہماری قوم مہنگائی اور ہوش رُبا گرانی کے جس عذاب سے دوچار ہے، وہ اسی کرپشن اور خیانت کا شاخسانہ ہے،جس کی آوازیں ہر سمت سے اٹھ رہی ہیں۔شاید ہی کوئی شعبہ اور محکمہ ایسا ہو جو کرپشن سے خالی ہو۔اگر کوئی دردمند اس کی نشاندہی کرتا ہے تو اس کی آواز صدا بہ صحرا ثابت ہوتی ہے اور بسا اوقات یہ نشاندہی خود اس کے لیے وبالِ جان بن جاتی ہے۔جس شخص کے پاس، جس قدر اختیار واقتدار ہے،اس کے کرپشن کا حجم عموماً اسی قدر بڑا ہوتا ہے۔ اس عمل کا نتیجہ گرانیِ اشیاء کے عذاب کی شکل میں ہم سب کے سامنے ہے کہ ایک عام آدمی کے لیے زندگی کی بنیادی ضرورتوں کو پورا کرنا مشکل ہو رہا ہے۔
جب تک صاحبِ اقتدار اور صاحبِ اختیارطبقہ اس وبا کو ختم نہیں کرے گا اور اصلاح احوال کے لیے فوری اقدامات اورکوشش نہیں کرے گا، گرانی،مہنگائی اور قحط کے عذاب سے چھٹکارا حاصل نہیں کیا جاسکتا۔’’رشوت‘‘کا لین دین اور کسی بھی معاشرے میں اس کا عام ہونا اس معاشرے کی بربادی ،استحصال ،وہاں عدل و انصاف کے فقدان اور اس معاشرے کی تہذیب و ثقافت کے بگاڑ کا بنیادی سبب ہے ۔یہی وجہ ہے کہ دینِ فطرت اوردین ِ انسانیت ،اسلام میں رشوت کے حوالے سے سخت وعیدیں بیان کی گئی ہیں۔رسول اللہﷺ کا ارشاد ِ گرامی ہے:رشوت دینے والا اور رشوت لینے والا دونوں جہنمی ہیں۔جب کہ قرآن کریم میں ارشادِ ربانی ہے:’’اور آپس میں ایک دوسرے کا مال باطل طریقے سے نہ کھائو۔‘‘ (سورۃ البقرہ)مزیدفرمایاگیا:’’اللہ نے کتاب سے جو کچھ اتارا،اسےجو(لوگ )چھپاتے ہیں اوراس کے ذریعے معمولی معاوضہ حاصل کرتے ہیں،وہ اپنے پیٹوں میںآگ ہی بھرتے ہیں،اللہ ان سے قیامت کے دن بات نہ کرے گا،نہ انہیںپاک صاف کرے گااوران کے لیے دردناک عذاب ہے۔(سورۃ البقرہ)حضرت عبداللہ بن عمرؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا،”رشوت لینے اوردینے والا دونوں ہی دوزخ میں جائیں گے“۔(طبرانی)حضرت عبداللہ بن عمرؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:”رشوت لینے اوردینے والے پراللہ کی لعنت ہے“۔(ابن ماجہ)صحابی رسول حضرت ثوبانؓ سے روایت ہے ، رسول اللہ ﷺنے رشوت لینے اوردینے والے اوررشوت کی دلالی کرنے والے سب پرلعنت فرمائی ہے“۔(مسند احمد،طبرانی)حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ تویہاں تک فرماتے ہیں کہ قاضی کاکسی سے رشوت لے کراس کے حق میں فیصلہ کرناکفرکےبرابرہے،اورعام لوگوں کاایک دوسرے سے رشوت لینا،ناپاک کمائی ہے۔(طبرانی)یہی وجہ ہے کہ پوری امت رشوت کے حرام ہونے پرمتفق ہے۔قرآن کریم میں فرمایا گیا: ترجمہ:اورنہ کھاوٴ مال ایک دوسرے کاآپس میں ناحق اورنہ پہنچاوٴ انہیںحاکموں تک کہ کھاجاؤ، کوئی حصہ لوگوں کے مال میں سے ظلم کرکے(ناحق)اورتمہیںمعلوم ہے۔(سورۃ البقرہ) علامہ ابن کثیرنے اس آیت کی تفسیربیان کرتے ہوئے لکھاہے کہ یہ آیت ایسے شخص کے بارے میں ہے جس کے پاس کسی کاحق ہو،لیکن حق والے کے پاس ثبوت نہ ہو،اس کمزوری سے فائدہ اٹھاکروہ عدالت یاحاکم مجازسے اپنے حق میں فیصلہ کروالے اوراس طرح دوسرے کاحق غصب کرلے۔یہ ظلم اورحرام ہے۔عدالت کافیصلہ ظلم اورحرام کوجائزاورحلال نہیں کرسکتا۔یہ ظالم عنداللہ مجرم ہوگا۔(ابن کثیر)یہ آیت اپنے ترجمے کے لحاظ سے رشوت کی ممانعت میں صاف وصریح ہے،کیوں کہ رشوت بھی ایک ایساعمل ہے جس کااثرحقوق عامہ پربراہ راست پڑتاہے،اوراس کی وجہ سے حقدارکاحق مارا جاتا ہے۔رشوت ہمارے معاشرے کا وہ بدترین اور مہلک مرض ہے،جو سماج کی رگوں میں زہریلے خون کی مانند سرایت کر کے پورے نظام انسانیت کو کھوکھلا اور تباہ و برباد کردیتا ہے۔یہ ظالم کو پناہ دیتا اور مظلوم کو جبراً ظلم برداشت کرنے پر مجبور کرتا ہے، رشوت ہی کے ذریعے گواہ، وکیل اور حاکم سب حق کو ناحق اور ناحق کو حق ثابت کرتے ہیں۔
یہودیوں میں اہل کتاب اور انبیاء علیہم السلام کی اولاد ہونے کے باوجود رشوت عام ہوچکی تھی،ان کے معاملات بگڑ چکے تھے، عفت و پاک دامنی کی بجائے ہر سو حرص، ہوس اور لالچ کا دور دورہ تھا۔یہود اور سرداران یہود رشوت کے رسیا تھے۔ بنی اسرائیل کے حکام کا یہ حال تھا کہ فریقین میں جب کوئی ان کے پاس آتا تو رشوت کو اپنی آستین میں رکھ لیتا اور پھر حاکم کی توجہ اپنی طرف مبذول کراتا تھا۔ پھر اپنی ضرورت کا اظہار کرتا، حاکم فریفتہ ہوکر اس کی طرف مائل ہوتا، اس کی باتیں سنتا اور اس کے دوسرے فریق کی طرف نظر اٹھا کر بھی نہ دیکھتا۔اس طرح یہ حکام رشوت کھاتے اور جھوٹی باتیں سنتے۔ (تفسیر کشاف)
قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:’’اے پیغمبرﷺ یہ لوگ جھوٹی باتیں بنانے کے لیے جاسوسی کرنے والے اور (رشوت کا) حرام مال بہت زیادہ کھانے والے ہیں۔‘‘ (سورۃ المائدہ) ارشادِ ربانی ہے:’’اور تم دیکھو گے کہ ان میں اکثر گناہ، زیادتی اور حرام مال کے کھانے کی طرف جھپٹتے ہیں،بہت برے کام ہیں، جو یہ کررہے ہیں، بھلا ان کے علما انہیں گناہ کی بات کہنے اور حرام مال کھانے سے کیوں نہیں روکتے،یقیناً یہ لوگ بہت ہی برا کرتے ہیں۔‘‘(سورۃ المائدہ)گویا رشوت خور رشوت لے کر اتنا حریص ہوجاتا ہے کہ اس کی رشوت کی بھوک نہیں مٹتی،جیسے بہت زیادہ لالچی اور حریص آدمی کی بھوک نہیں مٹا کرتی۔
اسلام کسبِ حلال کی تعلیم دیتا اور حرام مال خواہ کسی بھی ذریعے سے کمایا جائے ،اسے ناجائز اور جہنم کا ایندھن قرار دیتا ہے،جس سے اجتناب ایمان اور بندگی کا بنیادی تقاضا ہے۔

دیباچہ

سوال یہ ہے کہ پاکستان کو لاحق کرپشن مالی ہے یا فکری؟ انتظامی ہے یا سیاسی؟ یہ امر تو طے ہے کہ اس ملک میں رہنے والوں کا حال اچھا نہیں۔ ان کی جیب میں اتنے پیسے نہیں کہ وہ اپنی بنیادی ضروریات پوری کر سکیں۔ ہم ان کے ذہنوں کو تعلیم کی دولت نہیں دے سکے۔ انہیں روزگار کا تحفظ نہیں دے سکے۔ اس ملک کے قوانین اچھے نہیں۔ عورتوں کے لیے اور قانون ہے جب کہ مردوں کے لیے اور۔ کچھ قانون مسلم اور غیر مسلم شہریوں میں تمیز کرتے ہیں۔ بہت سے قوانین ناقابل عمل ہیں لیکن ہم ایک نظریاتی قوم ہیں جسے ناقابل عمل اور امتیازی قوانین سے بہت محبت ہے اگرچہ اس کے نتیجے میں شہریوں کو قانون کے تحفظ سے محروم ہونا پڑتا ہے۔ ایک عام شہری سڑکوں پر چمک دار گاڑیاں دیکھتا ہے۔ دکانوں میں ایسی اشیا دیکھتا ہے جنہیں خریدنے کے بارے میں وہ سوچ بھی نہیں سکتا۔ ان حالات میں اس کا یہ سوچنا بالکل قدرتی ہے کہ کہیں نہ کہیں کچھ ایسی بدعنوانی ضرور ہو رہی ہے جس کے ہاتھوں اس کا جینا حرام ہو رہا ہے۔ اس ملک میں ”انصاف“ کے لیے ایک تحریک بھی قائم کی گئی ہے۔ ایک آزاد، باکردار اور نہایت دیانت دار میڈیا بھی موجود ہے جو اسے بتاتا رہتا ہے کہ ’زید یہ کھا گیا ، بکر وہ پی گیا اور عمر وہ لے کے بھاگ گیا‘۔ چنانچہ عام شہری کی سوئی بدعنوانی پر آکر اٹک جاتی ہے۔ جسے وہ ہماری جدید لغت میں ’کرپشن‘ کہنا پسند کرتا ہے۔ یہ امر معنی خیز ہے کہ اردو اخبارات اور ٹی وی چینل ’بدعنوانی‘ کی بجائے ’کرپشن‘ کے انگریزی لفظ کو ترجیح دیتے ہیں۔ ان خواتین و حضرات کی انگریزی دانی میں تو کلام نہیں۔ تاہم جملہ ذرائع ابلاغ میں ’کرپشن‘ کی اصطلاح کو التزام سے بار بار دہرانے کا مقصد دراصل قوم کو ایک نیا نعرہ دینا ہے۔ قوم ’کرپشن‘ کے خلاف ہو جائے تاکہ جسے ہم ’کرپٹ‘ قرار دیں، اسے سنگسار کیا جا سکے۔

انگریزی لغت میں کرپشن کے معنی وسیع ہیں۔ کرپشن کا مطلب ہے ایسی خرابی جس سے پورا نظام اتھل پتھل ہو جائے۔ کمپیوٹر استعمال کرنے والے جانتے ہیں کہ ’سسٹم کرپٹ‘ ہونے سے کمپیوٹر کام کرنا چھوڑ دیتا ہے۔ تو صاحب ’کرپشن‘ کا مفہوم ناجائز ذرائع سے دولت کمانے تک محدود نہیں۔ اگر ’کرپشن‘ دور کرنا ہے تو سسٹم میں موجود ’کرپشن‘ کی درست نشاندہی کرنا ہو گی۔ آخر کوئی وجہ تو ہے کہ دوسری قومیں ترقی کر رہی ہیں اور ہمارے دھان سوکھے ہیں۔
ہمارے سسٹم کی کرپشن یہ ہے کہ ہم حقائق کی پیچیدگی کا ادراک کرنے پر آمادہ نہیں ہیں۔ اور حقائق کی روشنی میں اپنے حالات پر غور و فکر سے قاصر ہیں کیونکہ ہم نے اس ملک کے رہنے والوں کو یہ نہیں بتایا کہ ہمارے ملک کا معاشی حجم کیا ہے؟ ہمارے ہمسایہ ممالک میں معاشی حقائق کیا ہیں؟ ہمارے کل وسائل کیا ہیں اور ہم وہ وسائل کہاں خرچ کرتے ہیں؟ ہم جس دنیا میں رہتے ہیں، اس کی تلخ سیاسی اور معاشی حقیقتیں کیا ہیں؟ سماجی نظام کا سیاسی نظام سے کیا تعلق ہوتا ہے؟ سیاسی نظام کا معاشی ڈھانچوں سے کیا رشتہ ہوتا ہے۔ ہمارے ملک کے وسائل کتنی آبادی کے متحمل ہو سکتے ہیں؟ یہ امر سمجھ سے بالا ہے کہ بچے ہم مولوی سے پوچھ کر پیدا کرتے ہیں اور روزگار حکومت سے مانگتے ہیں۔ اگر ہم بھیتر کی خرابی پکڑنے پر تیار ہی نہیں، اگر ہم ’تعمیر میں مضمر خرابی‘ کی نشاندہی نہیں کرنا چاہتے تو سسٹم کی کرپشن دور نہیں ہو سکتی۔ خالد احمد کی اصطلاح میں ہمارا مسئلہ سسٹم کی کرپشن نہیں، سرے سے سسٹم کا نہ ہونا ہے۔ مسئلہ یہ نہیں کہ پالیسی خراب ہے۔ مسئلہ یہ ہے کہ ہم نعرے کو پالیسی سمجھتے ہیں۔ نعرے سے ہنگامہ تو برپا کیا جا سکتا ہے مسائل حل نہیں ہوتے ۔ پالیسی دفاع، خارجہ امور، تعلیم، تجارت، زراعت اور صنعت وغیرہ سے تعلق رکھتی ہے جبکہ اس ملک میں ہم نے صرف حج پالیسی میں سنجیدگی اختیار کی ہے۔
ہمارے ملک کے ’انصاف پسند حلقے‘ بالکل درست کہتے ہیں کہ کرپشن دور ہونی چاہیے، تمام اداروں اور نظام مملکت میں شفافیت ہونی چاہیے، جنہیں اختیار سونپا جاتا ہے، انہیں جوابدہ بھی ہونا چاہیے۔ جوابدہ حکومت شفاف ہوتی ہے۔ لیکن اس ملک میں 33 برس تک فوجی آمریت مسلط رہی جو شفاف ہوتی ہے اور نہ جوابدہ ۔ جس ملک میں ہر دس سال بعد ایک فوجی ناقوس بجاتا ہوا نمودار ہو اور ہم شہنائیاں بجاتے اس کے استقبال کو نکل آئیں۔ نسیم حجازی کی اصطلاح میں ’شاعر چوراہوں میں اس کے قصیدے‘ پڑھیں۔ عدالتیں اس کے غیر آئینی (کرپٹ) اقدام کو جائز قرار دیں، اس ملک کا’سسٹم‘ شفاف نہیں ہو سکتا۔ شفافیت ایک مسلسل عمل کا نام ہے، بجلی کا بٹن نہیں جسے دبانے سے آن کی آن میں قمقمے جل اٹھیں۔
شفافیت، جوابدہ حکومت اور قانون کی بالادستی جدید تصورات ہیں۔ انسانی تاریخ کے کسی حصے اور دنیا کے کسی خطے میں جمہوریت سے زیادہ شفاف اور جوابدہ نظام کبھی دریافت نہیں کیا جا سکا۔ تو شفافیت کے طلب گاروں کو جمہوریت پسند بھی ہونا چاہیے۔ یہ نہیں ہو سکتا کہ شفافیت تو ہم مغرب کے معیار کی مانگیں اور نظام حکومت قرونِ وسطیٰ کا یعنی مطلق العنانیت اور امتیازی قوانین ۔جس میں ایک نیک انسان مسیحا بن کے نازل ہو اور اپنی خداداد بصیرت سے ہمارے مسائل حل کر دے۔
ایک بنیادی نکتہ یہ ہے کہ شفافیت کا تعلق اخلاقیات (Ethics) سے ہے، اوامر و نواہی (Morality) سے نہیں۔ اخلاقیات کی بنیاد انسانی تجربے سے نچوڑے جانے والے قابلِ عمل اور قابل ترمیم اصول ہوتے ہیں۔ دوسری طرف اوامر و نواہی کی بنیاد ناقابل تبدیل اور حقانی احکامات ہوتے ہیں۔ ریاست کی بنیاد اوامر اور نواہی پر رکھنے سے منافقت ، بدعنوانی اور مطلق العنانی پھیلتی ہے۔ یزید کا قاضی شریح یقیناً قانون جانتا تھانیز رشوت لیتا تھا۔ اکبر کے دربار میں لاہور کے دو علمائے کرام بھائیوں کو رسوخ حاصل تھا جن کی کرپشن ضرب المثل ہے۔ سلطنتِ عثمانیہ میں ملا کو اہم مقام حاصل تھا اور منافقت کا یہ عالم تھا کہ کرپٹ حکام کے ساتھ ایک ملازم ان کی جائے نماز لے کے چلتا تھا۔ امام احمد حنبل سے لے کر ابنِ رشد تک مسلم تاریخ کے روشن ستاروں کے ساتھ کیا سلوک کیا گیا۔ اب سید ابو الاعلیٰ مودودی کے اتباع میں یہ نہ کہیے گا کہ وہ تو ملوکیت کی داستانیں ہیں۔ اوامر اور نواہی پر جو معاشرہ تعمیر کیا جائے اس کا ملوکیت کی طرف جانا ناگزیر ہوتا ہے۔ تاریخ یورپ میں گرجا کی بالادستی پر محیط صدیوں میں پادری ضمیر فروشی بھی کرتا تھا اور دین فروشی بھی۔ بخشش نامے بھی بیچتا تھا اور تبرکات کے نام پر مردہ جانوروں کی ہڈیاں بھی۔ اوامر اور نواہی پر مبنی معاشرہ انسانی تاریخ میں کبھی شفاف نہیں رہا۔ اوامر و نواہی کا تعلق انسانوں کے عقیدے سے ہے۔ عقیدہ اجتماعی مظہر نہیں، انفرادی ضمیر سے تعلق رکھتا ہے۔ عقیدے کو فرد کے لیے چھوڑ دینا چاہیے اور اجتماعی زندگی کی بنیاد اخلاقیات پر رکھنی چاہیے۔
بدعنوانی کا بھیڑیا عشروں سے سائے کی طرح ہمارے ساتھ چل رہا ہے۔ وزیر اعظم لیاقت علی خان نے ’پروڈا‘ نامی ایک قانون بنایا جس کی مدد سے بدعنوان سیاست دانوں پر پابندیاں لگائی گئیں۔ ایوب خان نے ایبڈو نامی ایک قانون بنایا اور سیاست دانوں کی ایک بدعنوان نسل کو سیاست سے بے دخل کر دیا۔ اس کے بعد گندھارا انڈسٹریز کی بنیاد رکھی گئی۔ ایوب خان اور ان کے ساتھیوں کی دیانت داری کے باعث ہماری تاریخ میں گندھارا تہذیب کو بلند مقام حاصل ہے۔ یحییٰ خان چونکہ ایک نہایت بالغ الذہن اور سیدھے سادھے فوجی تھے انہوں نے 303 بدعنوان اہلکار نکال باہر کیے۔ بھٹو صاحب کی حکومت انقلابی تھی، انہوں نے 1300 بدعنوان پکڑ لیے۔ صاحب ہم نے اتنے بدعنوان نکالے لیکن ہمارا کنواں پاک نہیں ہوا۔ چنانچہ امیر المومنین ضیاالحق کے سریر آرائے مسند ہونے کے بعد ہم نے اخبارات میں اداریے لکھے کہ ’پہلے احتساب اور پھر انتخاب‘۔ تقریروں میں صدرِ محترم سے التجائیں کیں کہ ’جناب صدر احتساب شروع کریں‘۔ ضیاالحق صاحب گیارہ برس قوم کا احتساب کرتے رہے۔ ضیاالحق کے جانشینوں کو بھی احتساب کا شغل عزیز رہا۔ تاہم کسی سازش کے باعث احتساب کامیاب نہ ہو سکا۔ چنانچہ ایک نہایت درد مند عسکری سالار جنرل پرویز مشرف کو مداخلت کرنا پڑی۔ جنہوں نے نیب نامی ایک ادارہ قائم کیا۔ نازی جرمنی کے عقوبت خانوں کے دروازے پر لکھا ہوتا تھا۔ ”کام کرنے ہی میں آزادی ہے“۔ پرویز مشرف کے قائم کردہ نیب کے صدر دروازے پر کندہ تھا۔’آدمی ہے وہ بھلا، در پہ جو رہے پڑا‘۔
دیکھئے، یورپ جیسی شفافیت درکار ہے تو یہ سمجھنا ہو گا کہ ان شفاف معاشروں کی بنت کیا ہے؟ مغرب میں لوگ ٹیکس دیتے ہیں، ہم حج ادا کرتے ہیں نیز ہر برس اربوں روپے کے جانور قربان کرتے ہیں لیکن ہم حکومت کو ایک دھیلا ٹیکس دینے پر تیار نہیں۔ ان کے ہاں دودھ کی بوتلیں اور انڈے دروازے کے باہر رکھے رہتے ہیں اور کوئی چوری نہیں کرتا۔ ہمارے ہاں پانی کی سبیل پر رکھے گلاس کو زنجیر باندھی جاتی ہے اور مسجد سے جوتے چوری ہوتے ہیں۔ ان کے ہاں امیر زیادہ ٹیکس دیتا ہے اور غریب سے کم ٹیکس لیا جاتا ہے۔ ہمارے ہاں امیر کم ٹیکس دیتا ہے اور غریب سے زیادہ ٹیکس لیا جاتا ہے۔ ان کی معیشت کی بنیاد صنعت ہے اور ہماری معیشت کی بنیاد زراعت۔ چنانچہ وہ دن بھر کام کرنے کے بعد تفریح پر نکلتے ہیں جبکہ ہمارے اخبارات میں نمازِ استسقا کی اپیل شائع ہوتی ہے۔ وہ وقت پر دفتر آتے ہیں اور پورا وقت دیانتداری سے کام کرتے ہیں۔ ہم دیر سے دفتر پہنچتے ہیں، چائے پیتے ہیں اور پھر وقفہ نماز کے دوران ایسے غائب ہوتے ہیں کہ واپس دفتر نہیں آتے۔ ان کی برآمدات زیادہ ہیں اور درآمدات کم چنانچہ ان کا معیار زندگی مسلسل بلند ہوتا ہے۔ ہمیں ہر برس اربوں ڈالرز کا خسارہ ہوتا ہے کیونکہ ہماری درآمدات زیادہ ہیں اور برآمدات کم۔ وہ اپنے انسانی سرمائے کا معیار بلند کرنے کی فکر میں رہتے ہیں اور ہماری آخری امید زیر زمین معدنیات ہیں۔ ان کے ہاں قانون کے موثر نفاذ کو یقینی بنایا جاتا ہے ، ہمیں سخت سزاؤں پر اصرار ہے۔
ان کے تعلیمی اداروں میں وہ تعلیم دی جاتی ہے جسے پا کر طالب علموں میں مسائل کو سمجھنے اور ان کو حل کرنے کی اہلیت پیدا ہوتی ہے۔ چنانچہ وہ مشین بناتے ہیں، بیماریوں کا علاج ڈھونڈتے ہیں۔ فکر اور فلسفہ میں نئی راہیں تراشتے ہیں۔ ہمارے تعلیمی اداروں میں وہ تعلیم دی جاتی ہے جسے پا کر ہماری سوچ کی تنگ دامانی کا موازنہ شاہ دولے کے چوہوں سے کیا جا سکتا ہے۔ ہمارا ہنر کپڑا بننے، اینٹیں بنانے اور چمڑا سکھانے تک محدود ہے۔ ہمیں اپنی ادبی روایت پر بہت غرّہ ہے، ادب کا ایک نوبل انعام ہمارے حصے میں نہیں آیا۔ ہم دنیا کی امامت کرنا چاہتے ہیں لیکن ہماری منتخب حکومتوں کو اپنی میعاد پوری کرنے کے لالے پڑے رہتے ہیں۔ ترقی یافتہ دنیا میں ووٹ عوام کو از راہ عنایت ملنے والی رعایت نہیں، ایک مسلمہ استحقاق ہے۔ ہمیں اسلامی دنیاسے رشتوں پر ناز ہے لیکن اسلامی دنیا والے ہمارا بنایا ہوا کپڑا نہیں خریدتے۔ جب ہمارے محنت کش اپنے جسم و جاں کا تیل بیچنے ان کے دیسوں میں جاتے ہیں تو ان کے ساتھ غلاموں جیسا سلوک کیا جاتا ہے اور انہیں شہریت ملنے کا کوئی امکان نہیں ہوتا جب کہ مغربی ممالک میں ایک خاص ضابطہء کار سے گزرنے کے بعد انہیں شہریت مل جاتی ہے۔ معاشرے کو بدعنوانی اور کرپشن سے پاک کرنا ہے تو پھر شفاف نظام کے سب تقاضے پورا کرنا ہوں گے اور خرابی کی تمام صورتوں پر غور کرنا ہو گا۔
بدعنوانی کو مالی خورد برد یا رشوت ستانی تک محدود کرنا انسانی معاشرے کی پیچیدہ نوعیت اور جدید اداروں کے کردار سے لاعلمی کی نشانی ہے۔ مالی بدعنوانی بے شک معاشی اور سماجی ترقی کے لیے زہر کا درجہ رکھتی ہے تاہم مہذب معاشرے میں سب سے خطرناک بدعنوانی حکومت کا ناجائز ہونا ہے۔ اجتماعی سطح پر بدعنوانی کی بدترین صورت اداروں کا اپنے آئینی دائرہ کار سے تجاوز کرنا ہے۔ انفرادی دیانت داری کا پھول ایسے معاشروں میں بہار دیتا ہے جہاں عوام کے امکان پر اعتماد کیا جاتا ہو، جہاں قانون کی بالادستی قائم ہو، جہاں علم، دستور اور ضابطے کی مدد سے معیار زندگی میں مسلسل بہتری اجتماعی نصب العین ہو، جہاں رائے کے شخصی اور اجتماعی اظہار پر پابندیاں نہ ہوں، جہاں واقعاتی کوتاہیوں کا سدباب انفرادی پارسائی کی بجائے اختیارات اور احتساب کے اداراتی توازن سے کیا جاتا ہو۔ دیانت داری کی کرن لاقانونیت، سازش اور منافقت کی تاریکی میں نہیں پھوٹتی۔
کرپشن کے بارے میں یہ نکتہ قابل غور ہے کہ احتساب کا یہ ہتھیار سیاسی قوتوں ہی پر کیوں آزمایا جاتا ہے۔ احتساب کا یہ نزلہ جمہوری قوتوں ہی پر کیوں گرتا ہے۔ احتساب کی یہ بکری ہر دس برس بعد ہماری سیاسی قیادت کا بونٹ چر جاتی ہے۔ اس سے انکار نہیں کہ معاشرے میں بدعنوانی موجود ہے اور اسے دور کرنا چاہیے لیکن احتساب کو جمہوریت اور سیاسی عمل کو بے دست و پا کرنے کے لیے استعمال کرنا اپنے پاؤں پر کلہاڑا مارنا ہے۔ جمہوریت ہی شفاف اور کرپشن سے پاک معاشرے کی طرف لے کر جاتی ہے۔ دیانت داری کی کونپل لوگوں کے ووٹ لینے والی سیاسی قیادت کے بطن ہی سے پھوٹے گی خواہ پاکستان کے لوگ کسی بھی سیاسی جماعت کو ووٹ دیں۔ کرپشن مٹھی بھر لوگوں سے چند ارب روپے واپس لینے سے دور نہیں ہو سکتی اور نہ ایسا کرنے سے عوام کا معیارِ زندگی بلند ہو گا۔ عوام کی معاشی حالت پیداواری عمل کی طرف رجوع کرنے سے بہتر ہو گی اور پیداواری عمل پر مبنی پالیسیاں جمہوری قیادت ہی دے سکتی ہے۔ حکومت نام ہی پالیسی بنانے کے اختیار کا ہے۔ حکومت معاشرے کی اجتماعی ترجیحات پر نظرثانی کرنے، نیا اجتماعی نصب العین اور نیا قومی بیانیہ مرتب کرنے کے اختیار کا نام ہے۔ پاکستان کی تاریخ میں لیاقت علی خان کے قتل کے بعد یہ اختیار کس سیاسی قائد کے پاس رہا ہے؟ یہ اختیار ذوالفقار علی بھٹو کے پاس تھا اور نہ بے نظیر کے پاس۔ یہ اختیار محمد خاں جونیجو کو مل سکا اور نہ نواز شریف کو ، جس کا نتیجہ یہ ہے کہ ہماری سیاسی قیادت ایسی پالیسیاں مرتب نہیں کر سکی جو پاکستان کے عوام کو خوش حالی کی طرف لے جا سکیں۔ کیا مضائقہ ہے کہ کرپشن کی پکار کے ہاتھوں مفلوج ہونے والی سیاسی قیادت کے بارے میں بحث کو شیکسپیئر کے ایک اقتباس سے سمیٹا جائے۔
The fault, dear Brutus, is not in our stars,
But in ourselves, that we are underlings
(پیارے بروٹس، خرابی ہمارے ستاروں میں نہیں، خود ہم میں ہے۔ اور خرابی یہ ہے کہ ہم بالشتیے ہیں۔)

دیباچہ

دیباچے کی ابتدا اس بنیادی سوال سے کرتے ہیں کہ آخر کرپشن کہتے کسے ہیں؟ کرپشن کہتے ہیں بے ضابطگی کو، بے اصولی کو، کوئی اصل چیز چھپا کر نقل کو بطور اصل پیش کرنے کو، جھوٹ کو، اور کسی بھی شے کو اس کی اصل قدر سے کمتر یا برتر ثابت کرنے کو کرپشن کہتے ہیں۔ استاد محترم وجاہت مسعود کے الفاظ میں کرپشن کا مطلب ایسی خرابی ہے جس سے پورا نظام اتھل پتھل ہو جائے۔ خاکسار اس تحریر میں کرپشن کی مالی قسم کو زیر بحث لائے گا کہ آخر وہ کون سے اسباب ہیں جن سے کرپشن کے رجحان میں اضافہ ہوتا ہے، اس کا ہماری معیشت سے کیا تعلق ہے نیز آخر اس پیچیدہ مسئلہ کو کیسے حل کیا جائے؟

کرپشن کی دو بڑی اقسام ہیں ۔
اول: کرپشن کی وہ قسم جو ریاستی قانون ساز اداروں، عدلیہ، اور انتظامیہ سمیت تمام بیوروکریٹک اداروں میں پائی جاتی ہے، اسے پولیٹیکل اکانومی کی زبان میں سرکاری کرپشن کہتے ہیں جب کہ وہ کرپشن جو عوامی حلقوں، ہمارے سماج، ہمارے روزمرہ کے معاملات، ہمارے نجی کاروباری لین دین وغیرہ میں پائی جاتی ہے اسےپرائیویٹ کرپشن کہتے ہیں۔ مثال کے طور پر اگر آپ کسی سڑک کی تعمیر یا مرمت کا ٹھیکہ کسی بیوروکریٹ یا سیاستدان کو رشوت دے کر اپنے نام کروا لیتے ہیں تو یہ سرکاری کرپشن ہو گی۔ اسی طرح اگر آپ کسی سے کوئی چیز ادھار پر خریدتے ہیں اور ادائیگی کے وقت پیسے دینے سے انکار کر دیتے ہیں تو یہ پرائیویٹ کرپشن ہو گی۔ پولیٹیکل اکانومی کے ماہرین کا کہنا ہے کہ ان میں معاشی ترقی کے لئے سب سے خطرناک پرائیویٹ کرپشن ہے کیونکہ یہ براہ راست ہماری معاشی ثقافت پر اثر انداز ہوتی ہے، اس سے پروڈیوسر کی پیداوار کے لئے ترغیبات و محرکات کا خاتمہ ہو جاتا ہے یا اس میں کمی آ جاتی ہے۔ یہ تو ہم جانتے ہی ہیں کہ کسی بھی ملک میں معاشی ترقی کا انحصار کل پیداوار پر ہے۔
دیکھیں معیشت کو سمجھنےکا ایک آسان طریقہ یہ بھی ہے کہ آپ کاروبار (بزنس ) کو سمجھیں کہ کیسے کیا جا تا ہے، ایک سے زیادہ کاروبار ایک دوسرے سے کیسے معاملات طے کرتے ہیں۔ وہ کون سے عوامل ہیں جو کاروبار کو ترقی دیتے ہیں اور وہ کون سے عوامل ہیں جو اس میں رکاوٹ بنتے ہیں۔ کاروباری سرگرمیوں کو جب ہم ایک کل میں دیکھتے ہیں تو سامنے نظر آنے والی تصویر کو عموماً معیشت کہتے ہیں۔ کاروباری سرگرمیوں کا انحصار دو یا دو سے زیادہ کاروباری فریقین (بیچنے والا اور خریدنے والا) کے درمیان خرید و فروخت کے معاملات میں ایمانداری، اعتماد اور تعاون پر ہے۔ کسی بھی بے ایمان بد اعتماد اور تعاون سے عاری فریق سے کوئی کاروبار کرنا نہیں چاہے گا۔ پرائیویٹ کرپشن اس اعتماد، تعاون، اور ایمانداری کی اساس کو تباہ کر دیتی ہے، یوں مارکیٹ میں ڈیمانڈ (طلب) ہونے کے باوجود بھی پروڈیوسر پیداواری سرگرمیوں سے پرہیز کرتا ہے۔ مثال کے طور پر میں جانتا ہوں کہ اگر میں مارکیٹ میں کوئی چیز بیچنے جاؤں گا، وہ بک تو فوراً جائے گی مگر مجھے یہ ڈر ہے کہ خریدار چیز خرچ کر کے بھی پیسوں کی ادائیگی سے مکر جائے گا یوں اس پرائیویٹ کرپشن کے نتیجے میں، میں باوجود مارکیٹ میں طلب کے پیداواری سرگرمی سے دور رہوں گا، جس کا مجموعی نتیجہ یہ ہو گا کہ معاشی ترقی رک جائے گی۔ اگر میں کاروبار نہیں کروں گا تو یقیناً روزگار پیدا نہیں ہو گا جس کا نتیجہ غربت اور بھوک ہو گی۔ پولیٹیکل اکانومی کے ماہرین کا کہنا ہے کہ پرائیویٹ کرپشن سرکاری کرپشن سے بھی عموماً زیادہ خطرناک ہوتی ہے کیونکہ یہ پیداواری سرگرمیوں کو دفن کر دیتی ہے اور ہم یہ بھی جانتے ہیں کہ معاشی عمل کی اول اور اہم سرگرمی پیداوار ہے۔
س اعتماد (ٹرسٹ ) ایمانداری اور تعاون کا معیشت میں انتہائی اہم کردار ہے۔ مارکیٹ اس وقت عروج پر ہوتی ہے جب تمام کاروباری فریقین (خریدار و بیچنے والا ) کا مارکیٹ پر اعتماد عروج پر ہوتا ہے اور وہ کاروبار کرتے جاتے ہیں۔ مارکیٹ میں بحران اس وقت آتا ہے جب تمام کاروباری فریقین کا مارکیٹ پر اعتماد اٹھ جاتا ہےاور وہ خرید و فروخت روک دیتے ہیں یا کم کر دیتے ہیں۔ اسی طرح کسی بھی ملک کی مارکیٹ بحران سے اس وقت نکلتی ہے جب فریقین کا مارکیٹ پر اعتماد پھر سے بحال ہونا شروع ہو جاتا ہے۔ یہ عموما ایک فطری عمل ہے جو مارکیٹ میں جاری رہتا ہے۔
پرائیویٹ کرپشن کی ایک اور قسم جرائم ہیں جس کی بدترین مثالیں بھتہ، تاوان، چوری چکاری اور لوٹ مار وغیرہ ہیں۔ یہ ایک کاروبار کو خطرات میں ڈال دیتے ہیں۔ اگر میں نے ایک چیز اپنی فیکٹری میں تیار کی ہے اور گاہک کا آرڈر موصول ہوتا ہے کہ میں اس تک سامان کی ڈلیوری پہنچاؤں، اگر بالفرض مجھے یہ ڈر ہو کہ راستہ میں کوئی ٹرک روک کر سامان چھین لے گا تو میں ہرگز بھی سامان نہیں بھیجوں گا۔ سامان نہیں بکے گا تو میں فیکٹری بند کر دوں گا جس کا ملک کی معیشت اور روزگار پر بدترین اثر پڑے گا۔ اگر معاملہ محض پیسے تک محدود ہے جیسے بھتہ، تو کاروبار ایسے نقصانات کو اپنے پیداواری اخراجات میں ڈال کر اس کے حساب سے قیمتیں طے کرتے ہیں۔ اگر صارف ان قیمتوں کو قبول کر لے تو کاروبار چلتے جاتے ہیں اور اگر صارف اس مخصوص چیز کو زیادہ قیمت کے سبب خریدنے سے انکار کر دے تو کاروباری سرگرمیاں رک جاتی ہیں۔ دونوں صورتوں میں نقصان سوسائٹی کا ہے۔ مثال کے طور پر اگر میں نے ایک چیز سو روپے کی بنائی ہے، اور بھتہ مافیا مجھ سمیت تمام کاروباری افراد سے 30 روپے بھتہ مانگ رہا ہےتو نتیجہ میں مجھ سمیت تمام کاروباری ادارے اس چیز کی قیمت 130 روپے کی لاگت سے طے کریں گے یوں بھتہ مافیا کی بدمعاشی پر خاموش عوام بھی اس کی قیمت ادا کرنے پر مجبور ہو گی۔
ریاست جتنی کمزور ہو گی پرائیویٹ کرپشن اتنی زیادہ ہو گی۔ یاد رہے کہ ریاست کی کمزوری سے مراد یہاں تمام ریاستی اداروں کی اپنے اپنے دائرہ کار میں پروفیشنل مہارتوں میں کمی اور غیر سنجیدگی ہے۔ اگر مجھے مال کی ڈیلوری دیتے ہوئے ٹرک چھن جانے کا خطرہ ہے تو سڑکوں کو پرامن بنانا ریاست کی ذمہ داری ہے۔ اگر کوئی باوجود ایک لیگل کنٹریکٹ کے مجھے ادائیگی نہیں کر رہا تو قانونی معا ہدوں کی پابندی کروانا عدلیہ و انتظامیہ کی ذمہ داری ہے۔
سرکاری کرپشن
سرکاری کرپشن کی آگے مزید دو اقسام ہیں
ایک: یہ کرپشن کی وہ قسم ہے جس میں سیاستدان اور سرکاری ملازمین یا بیوروکریسی کسی قانونی کام کو سست رفتاری کے بجائے تیز رفتاری سے سرانجام دینے کے لئے رشوت لیتے یا سفارش کا اثر لیتے ہیں، یا دوسرے لفظوں میں معمولی درجے کی غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث افراد سے رشوت لے کر یا سفارش سن کر جو رعایت دی جاتی ہے، یا پھر کوئی ناجائز فائدہ پہنچایا جاتا ہے۔ اس قسم کی کرپشن کے اخراجات کو بھی عموماً ہر کاروبار اپنے پیداواری اخراجات میں ڈال کر صارف سے وصول کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ اگر مارکیٹ میں مقابلہ کی ثقافت ہے تو وہ اس کوشش میں ناکام رہتے ہیں کیونکہ وہ کمپنی جس نے رشوت دیئے بغیر قانونی طور پر تمام سرگرمیاں سرانجام دی ہوتی ہیں ان کی پیداواری لاگت چونکہ کم ہو گی اور وہ صارف کو اشیاء یا خدمات بھی کم قیمت پر پیش کریں گے یوں زیادہ قیمت وصول کرنے والا کاروبار مارکیٹ سے باہر ہو جائے گا یا پھر وہ کوئی اور حربہ سوچنے کی کوشش کرے گا۔ اگر میرے گھر کی گلی میں دو دکانیں ہیں اور دونوں میں کسی شے کی قیمت میں فرق ہے تو میں کم قیمت وصول کرنے والی دکان پر جاؤں گا۔ اسی طرح اگر پورے محلے میں صرف ایک ہی دکان ہے تو میں مجبور ہوں گا کہ اپنی ضرورت کے لئے منہ مانگے دام ادا کروں۔ اس قسم کی کرپشن سے دنیا کا کوئی ملک محفوظ نہیں۔ وہ ممالک جہاں مارکیٹ میں مقابلہ کی ثقافت پائی جاتی ہے وہاں اس کے اثرات بھی معاشی سرگرمیوں پر محدود ہیں جنہیں عموماً نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔
سرکاری کرپشن کی دوسری خطرناک قسم وہ ہے جس میں سیاستدان یا بیوروکریسی کسی کاروباری کمپنی سے پیسے لے کر اسے یا تو مارکیٹ میں اجارہ داری (مناپلی) قائم کرنے میں مدد دیتے ہیں یا کوئی نیا قانون اسمبلیوں سے پاس کروا کے یا کسی نئی ادارہ جاتی پالیسی کی مدد سے کسی کمپنی کو قانوناً رعایت یا سہولت دیتے ہیں۔ مثال کے طور پر پاکستان میں ٹیکسٹائل ملز مالکان کی یونین گورنمنٹ پر دباؤ ڈال کر ان سے ٹیکس میں مکمل چھوٹ لیتی ہے اور ریسرچ اینڈ ڈویلپمنٹ فنڈ الٹا گورنمنٹ سے وصول کرتی ہے۔
اس طرح کی کرپشن پاکستان میں عام ہے اور یہ کرپشن کی بدترین قسم ہے۔ اس کرپشن کی وجہ سے پاکستان میں کسی ایک کمپنی یا کچھ کمپنیوں کی یونین کی کسی ایک سیکٹر یا انڈسٹری پر اجارہ داری قائم ہوتی ہے۔ اجارہ داری چاہے سیاست میں ہو سماج میں یا معیشت میں ظلم کی بدترین قسم ہے۔ اس میں مقابلہ اور کارکردگی کی بجائے قبضے اور استحصال کی نفسیات کا غلبہ ہوتا ہے۔
پولیٹیکل اکانومی کا اصول ہے کہ ریاست معاشی سرگرمیوں میں جتنا ملوث ہوتی جائے گی اتنا ہی کرپشن کی اس قسم کو فروغ حاصل ہو گا۔ جب کسی ادارے کے بڑے افسر کو (جیسا کہ پاکستان میں فیڈرل بورڈ آف ریونیو) کو معلوم ہو گا کہ ٹیکس قانون کی کسی شق میں تھوڑی سی تبدیلی کسی کمپنی کو کروڑوں کا فائدہ دے سکتی ہے تو اس میں کرپشن کی تحریک کے پیدا ہونے کے خطرات بڑھ جاتے ہیں۔ ایک اور دلچسپ مثال آپ کے سامنے ہے، پوری دنیا میں ترقی یافتہ ممالک کے ہاں آزاد تجارت کا چال چلن ہے، پاکستان کی معاشی پالیسی میں یہ ثقافت انتہائی کمزور ہے۔ اب پاکستان میں ٹماٹر کی امپورٹ پر پابندی ہے مگر دلچسپ بات یہ کہ processed ٹماٹر جیسا کہ اس کا \”کیچ اپ \” وغیرہ اس کی امپورٹ پر ڈیوٹی انتہائی کم ہے۔ امپورٹ پالیسی میں ایک چھوٹی سی تبدیلی میکڈونلڈ اور کے ایف سی جیسے اداروں کو کتنا فائدہ دے سکتی ہے آپ جانتے ہیں۔ اس طرح کی کرپشن عموما نظروں سے اوجھل رہتی ہے۔
یہی وجہ ہے کہ جب تجارت پر پابندیاں لگتی ہیں تو پورٹ افسران کو پیسے دے کر اپنے تجارتی مال کے لیے پرمٹ حاصل کرنے کا رواج بڑھ جاتا ہے، اور جب تجارت آزاد ہوتی ہے تو یہ امکان انتہائی کم ہو جاتا ہے۔ اس کے لئے آپ دنیا کی تمام بندرگاہوں میں کرپشن کے اعدادوشمار اٹھا لیں۔ جہاں بیرونی تجارت پر سختیاں ہیں وہاں کرپشن زیادہ ہے اور جہاں صرف کوالٹی اور انتظامی امور پر توجہ دی جاتی ہے وہاں آپ کو کرپشن کی شرح بھی کم ملے گا۔ آپ مثال کے طور پر دبئی کی بندرگاہ جبل علی اور ایران کی بندرگاہ بندر عباس پر تجارتی سامان کی نقل و حرکت کی رفتار اور کرپشن کی شرح دیکھ سکتے ہیں۔
کیا کرپشن معاشی ترقی میں رکاوٹ ہے ؟ اس کا جواب ہاں میں ہے۔ غریب ممالک کی غربت کا سبب یہ نہیں کہ وہاں مارکیٹ کام نہیں کر سکتی یا امدادی ادارے امداد نہیں دے رہے یا وہاں قدرت ان سے دشمنی کر رہی ہے ؟ ایسا ہر گز نہیں ہے۔ غریب ممالک کا اصل مسئلہ چاہے وہ سماجی ہے یا معاشی ہے اس کی جڑیں اصل میں سیاسی ہیں جو اجارہ داری کی ثقافت کا تحفظ کرتی ہیں۔ ہمارے پاس افریقہ سے لے کر لاطینی امریکہ سنٹرل ایشیاء جنوبی ایشیاء سمیت ان ممالک کی ان گنت مثالیں ہیں۔ پاکستان میں بھی ہمیں دلچسپ شماریاتی ثبوت حاصل ہیں کہ جب سیاسی استحکام قائم ہوتا ہے تو معاشی ترقی کو راستہ ملتا ہے اور جب سیاست ڈاںواں ڈول ہوتی ہے تو سیاسی عدم استحکام کے نتیجے میں معیشت بھی مضطرب ہو جاتی ہے۔ غریب ممالک کی سیاست پر یا تو فوج کا قبضہ ہے یا بادشاہ کا یا قبائلی سرداروں کا یا بیوروکریسی ہٹ دھرم ہے یا سیاسی استحکام حاصل نہیں اور یا پھر اداروں کو پنپنے کے مواقع محدود و مقید ہیں۔ ایک بھی ایسا ملک دکھا دیجئے جہاں جمہوری استحکام ہو اور سول ادارے مضبوط ہوں مگر وہ ملک معاشی طور پر غریب ہو ؟ آپ کو ایسا کوئی ملک نہیں ملے گا۔
ذیل میں کرپشن کی چند دیگر وجوہات کا ہم مختصرا ذکر کریں گے۔
۔ جب اداروں کی سرگرمیاں زیادہ سے زیادہ آن لائن ہوں گی اور متعلقہ سرکاری ملازمین سے فریقین کا ملنا کم ہو گا تو اتنا ہی کرپشن کے امکانات کم ہو جائیں گے …مینوئل سرکاری سرگرمیوں میں سرکاری ملازمین کی یا تو مٹھی گرم کی جاتی ہے اور یا پھر سفارش دی جاتی ہے تب جا کر سرکاری سہولیات جلد سے جلد حاصل کی جاتی ہیں۔
۔ ایک معاشرہ جتنا متنوع ہو گا اتنی ہی کرپشن زیادہ ہو گی۔ ایک ذات، زبان، مذہب یا علاقے کا فرد اس آدمی کو زیادہ رعایت یا آسانی دے گا جس کا تعلق اس کی مشترک ذات زبان مذہب یا علاقے سے ہو گا۔
۔ جن جن سرکاری یا نجی ملکیت کے اداروں کو بیرونی ذرائع سے خیراتی فنڈ ملتے ہیں ان میں کرپشن کی شرح بہت زیادہ ہے چاہے وہ مذہبی مدرسے ہوں یا این جی اوز۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ جو پیسے دے رہا ہوتا ہے وہ کارکردگی کا عینی شاہد نہیں ہوتا، اسے آپ ایک ہنستی مسکراتی رپورٹ دکھا کر مطمئن کر سکتے ہیں۔ کاروباری ادارے اپنی کارکردگی کو مالی نفع و نقصان سے جانچتے ہیں، اس میں کارکردگی کا اندازہ لگانا چنداں مشکل نہیں ہوتا۔ سرکاری ادارے عموماً اپنی کارکردگی کا جائزہ رپورٹس سے لیتے ہیں، اچھی لفاظی خزاں کو بھی بہار دکھا سکتی ہے۔
۔ ادارے جتنے کمزور ہوں گے اتنا ہی کرپشن زیادہ اور آسان ہو گی۔ یہاں اہم نقطہ یہ ہے کہ ادارے سیمنٹ و سریے سے مضبوط نہیں ہوتے اور نہ ہی محض قانون لاگو کرنے سے وہ مستحکم ہو جاتے ہیں۔ قانون اور ثقافت میں اگر فرق دیکھا جائے تو چاہے اصولی طور پر قانون کا پلڑا بھاری ہوتا ہے مگر عملاً رواج ثقافت کا ہوتا ہے۔ ثقافت روایات کا تسلسل ہوتا ہے، اس کی جڑیں تاریخ اور اقدار میں دھنسی ہوتی ہیں۔ محض قانون کی شق بدلنے سے ثقافت کا رجحان بدلنا آسان نہیں۔ اسی لئے دنیا میں جہاں بھی ادارے مضبوط ہیں وہاں انہیں ارتقائی قوتوں کی خاص مدد حاصل رہی ہے جو محض ایک دن یا چند سالوں کا واقعہ نہیں بلکہ وقت کے ساتھ ساتھ بہتری کی منظم کوششوں کا نتیجہ ہے۔ پاکستان میں جب تک اداروں کو وقت نہیں ملتا اس وقت تک ان میں بہتری کا امکان انتہائی کم ہے۔ یہاں فوج اور بیوروکریسی اس لئے بھی مضبوط ہے کہ یہ دو ادارے برطانوی راج میں بھی مضبوط تھے اور مغلوں کے اقتدار میں بھی یہ اپنی قدیم شکل میں موجود تھے۔ سیاسی اداروں کی یہاں تاریخ مختصر اور کمزور ہے۔ ایسا ممکن نہیں کہ سیاسی و سول ادارے وقت کی بھٹی میں پکے بغیر مضبوط ہو جائیں۔
۔ ایک اہم نقطہ انسانی نفسیات کا بھی ہے جو ترغیبات (Incentives) کو رسپانس کرتی ہے۔ انسانی فطرت ہے کہ وہ فائدہ کی طرف تیزی سے بڑھتا ہے اور نقصان سے دور ہٹتا ہے۔ اگر کوئی شخص ہم سے قرض لے کر واپس نہیں کر رہا تو ہم اسے دوبارہ قرض نہیں دیں گے۔ اسی طرح اگر ایک شخص ہزار روپے کماتا ہے اور نتیجے میں اسے تین سو ستر سے چار سو کا ٹیکس دینا پڑتا ہے۔ دوسرا شخص ہزار روپے کماتا ہے مگر سو روپے ٹیکس آفیسر کو دے کر اپنے دو سو ستر سے تین سو روپے بچا لیتا ہے تو ہو گا یہی کہ باقاعدگی سے ٹیکس دینے والے کے اندر بھی ٹیکس سے بچنے کی تحریک پیدا ہو گی، یوں بدعنوانی آگے فرد سے فرد پھیلتی جائے گا تب تک کہ ریاست ٹیکس کی ثقافت کو ٹیکس ادائیگی کے مثبت محرکات (incentive ) سے نہیں جوڑ دیتی جن میں سے ایک یہ ہے کہ فرد کو یقین ہو جو ٹیکس اس سے وصول کیا جا رہا ہے وہ اس پر ہی خرچ ہو گا۔
انسانی فطرت ہے کہ ہم جبر کے خلاف مدافعت کرتے ہیں۔ آزادی ہماری فطرت کا جوہر ہے۔ قانون جبر کی ہی ایک قسم ہیں، اگر قوانین عوام میں مثبت محرکات اور ترغیبات پیدا نہیں کرتے تو یقینا عوام ان سے انحراف کی ہر ممکن کوشش کریں گے یوں اس سے مالی اخلاقی اور سماجی کرپشن کو راستہ ملے گا۔ اسی طرح اگر قوانین مثبت محرکات اور ترغیبات کو پیدا کرنے کا سبب بنتے ہیں تو ہم خود ان کی طرف بڑھیں گے۔ یوں حاصل یہی ہے کہ جب تک قانون سازی و انتظامی اداروں کی ثقافت لوگوں کی آرزوؤں کے عین مطابق نہیں ہو گی اس وقت تک کرپشن کی مختلف اقسام ہمیں نقصان پہنچاتی رہیں گی۔
۔ جتنا زیادہ نظام بیوروکریٹک ہوتا جائے گا اتنا ہی کرپشن بڑھتی جائے گی۔
۔ قانون کی حکمرانی سماج کو مہذب بناتی ہے۔ کوئی بھی ادارہ اگر قانون توڑ کر قانون کی حکمرانی قائم کرنا چاہتا ہے تو یہ ایسا ہی ہے جیسے شیطان کو دنیا میں بھلائی پھیلانے کے لئے اقتدار دے دیا جائے۔ قانون کی حکمرانی قانون کی پابندی میں ہی ہے۔ وہ معاشرے جہاں قانون کی عملداری کمزور ہے وہاں کرپشن کا راج ہے۔
حکومتی، انتظامی اور عوامی حلقوں میں مالیاتی بدعنوانی نہ نئی چیز ہے اور نہ ہی کبھی کسی معاشرے نے اسے قانونی اور اخلاقی سندِ جواز بخشی۔ ہر دور میں ہر جگہ کرپٹ افراد کے عمل کو نفرت کی نگاہ سے دیکھا گیا ہے، لیکن سچی بات یہ ہے کہ کرپشن کو صحیح طور پر بیان نہیں کیا گیا ہے۔ چھوٹے یا بڑے پیمانے پر مالیاتی ہیر پھیر، Kickbacks، غبن، دھوکا فریب، جھوٹ اور اختیارات کے ناجائز استعمال سے مال بنانا کرپشن کی معروف صورت ہے۔ کرپشن کا تصور مالی بدعنوانی میں محدود ہو کر رہ گیا ہے۔ اس کے اخلاقی پہلو کو اہمیت نہیں دی جاتی، انسان کے اندر جلَب زر اور غصب و نہب کا رجحان دراصل ایک فساد زدہ ذہنیت اور پست اخلاقی رویے اور حرص و ہوس کے میلان کا نتیجہ ہوتا ہے۔ فطرت میں بیٹھا ہوا بگاڑ اور فساد حرام خوری ہی نہیں بلکہ اس سے بھی کہیں زیادہ ہولناک حرکات میں مبتلا کر دیتا ہے۔ قوم و ملک سے بے وفائی اور غداری تک نوبت پہنچ جاتی ہے۔ سورۃ اعراف کی ۵۶ ویں آیت ہے کہ ’’زمین میں فساد برپا نہ کرو جب کہ اس کی اصلاح ہو چکی ہو‘‘۔ مطلب یہ ہے کہ خدا کے پیغمبروں، مصلحین، داعیانِ حق کی مساعی سے انسانی معاشرت، تمدن اور اخلاق میں جو اچھائی کا شعور اجاگر ہوا ہے اور اصلاح کی صورت پیدا ہوئی ہے اسے پھر بگاڑ کی نذر نہ کردو۔
قرآن پاک کے ڈیڑھ درجن سے زیادہ انگریزی ترجمہ نگاروں میں سے تقریباً نصف نے لَا تُفْسِدُوْا کا ترجمہ do not corrupt, do not spread corruption, cause not corruption, do not corruption کیا ہے۔
ان ترجموں سے مترشح ہوتا ہے کہ معاشرے کی صالح روایات، اعلیٰ اخلاقی اقدار اور نیکی اور راستی کی روش اور تہذیب و شائستگی کے طرزِ عمل میں بگاڑ پیدا کر دینا کرپشن ہے۔ اصول، قاعدے اور ضابطے سے ہٹ کر کیا جانے والا ہر عمل کرپشن ہے۔ ملکی آئین اور دستور سے ماورا کوئی اقدام خواہ ملک کا صدر اور وزیراعظم کرے، انتظامی مشینری کے چھوٹے بڑے اہلکار کریں، چیف جسٹس کرے یا عسکری اداروں کے سربراہ کریں، یہ کرپشن ہے۔ حکومت کی اہم پوزیشن پر فائز شخصیات کا قواعد و ضوابط توڑ کر اقربا پروری اور دوست نوازی، خاص افراد اور گروہوں کو بے جواز اور ناحق فائدہ پہنچانا کرپشن ہے، قطع نظر اس سے کہ نوازش و عنایت کرنے والی شخصیات میں سے کسی نے خود اس سے فائدہ اٹھایا نہیں۔ سرکاری محکموں کے بعض افسر اگر رشوت خور نہ ہوں مگروقت پر دفتر نہ پہنچیں اور وقت سے پہلے دفتر سے چلے جانے کے عادی ہوں تو ان کا یہ طرزِ عمل کرپشن کی ایک قسم ہے۔ سرکاری دفتروں میں بڑے افسروں کے آنے سے بہت پہلے گرمیوں میں اے سی اور پنکھے چلنے لگیں اور سردیوں میں گیس کے ہیٹر چالو کر دیے جائیں تو یہ اخلاقی اور معاشی پہلو سے کرپشن ہے۔ حج اور عمرہ عبادت ہیں، اگر اعلیٰ آئینی و انتظامی منصب پر فائز شخصیات سرکاری خرچ پر نہ صرف خود حج و عمرہ کریں بلکہ اپنے اہالی و موالی اور اعزہ و اقارب اور دوست احباب کو بھی یہ ’ثواب‘ لوٹنے کے لیے ساتھ لے جائیں تو اسے کرپشن کے سوا اور کیا نام دیا جاسکتا ہے؟

کرپشن کیا ہے؟

کرپشن کا مفہوم بہت وسیع ہے۔اس کی کوئی ایک تعریف نہیں کی جاسکتی۔اس کی صورتیں مختلف ہیں۔مثلاً رشوت اس کی ایک معروف شکل ہے۔کرپشن کا معاشی ترقی پر اثرات کے حوالے سے ورلڈبینک نے کرپشن کی وضاحت یوں کی ہے:
Corruption is a Complex Phenomenon. Its roots lie deep in bureaucratic and Political institutions, and its effect on development varies with country conditions.”
12جون 2007؁ء کو یونائٹیڈ نیشنز نے کرپشن کے خلاف اپنے گلوبل پروگرام میں کرپشن کی توضیح کرتے ہوئے اختیارات کا غلط استعمال (Abuse of Power)قراردیا ۔
انگلش آکسفورڈ ڈکشنری میں کرپشن کی تعریف یوں کی گئی ہے :
Dishonest or Fraudulent Conduct by those in power, typically involving bribery the journalist who wants to expose corruption in high places
بزنس ڈکشنری میں کرپشن کی تعریف یوں کی گئی ہے :
Wrong doing on the part of an authority or powerful party through means that are illegitimate, immoral, or incompatible with ethical standard. Corruption of then results from patronage and is in many countries, political problems
ان تصریحات سے یہ بات واضح ہوگئی کہ کرپشن کا مفہوم بہت وسیع ہے۔اس قبیح عمل کا اطلاق افراد واداروں پر ہی نہیں ہوتا بلکہ ملکوں اور بیرونی قوتوں پر بھی ہوتا ہے۔اس کی مختلف شکلیں ہیں۔مثلاً سیاسی کرپشن،عدالتی کرپشن،سرکاری مناصب وذرائع کا کرپشن، سول وبیوروکریسی کرپشن وغیرہ۔
پاکستانی اداروں کی کرپشن :
پاکستان میں اس وقت مختلف ادارے کرپشن میں ملوث ہیں۔اعلیٰ سرکاری افسران کی اکثریت کرپٹ ہے۔اس کا ثبوت یہ ہے کہ 2012؁ء میں جنگ اخبار میں چیئرمین نیب کی طرف سے ایک بیان شائع ہوا کہ”ملک میں روزانہ 15ارب کی مجموعی کرپشن ہورہی ہے”ملک میں اس وقت اعلیٰ عہدیداروں سے لے کر نچلی سطح تک عام ملازمین بھی اس مرض میں مبتلا ہے۔پاکستان میں اس وقت کرپشن کی چند قسمیں حسب ذیل ہیں :
1۔ کمیشن کرپشن2۔ پرمٹ کرپشن3۔ ادارتی کرپشن4۔ آڈرکرپشن 5۔ جنسی کرپشن6۔ ٹھیکہ کرپشن7۔ لائسنس کرپشن8۔ کٹوتی کرپشن 9۔ پبلسٹی کرپشن10۔ میڈیاکرپشن11۔ ٹی وی چینلزکرپشن12۔فیس بک کرپشن 13۔ ڈاکٹرزکرپشن14۔ ادویات کرپشن15۔ ملاوٹ کرپشن16۔سفارش کلچرکرپشن 17۔انرجی (بجلی وگیس کی چوری) کرپشن18۔ انجینئرز کرپشن19۔ججزووکلاء کاکرپشن 20۔ محکمہ پولیس کا کرپشن 21۔ ایم پی اے،ایم این اے اور سینٹرزکا کرپشن 22۔صوابدیدی فنڈ کرپشن23۔ تعلیمی کرپشن24- ریسرچ کرپشن 25۔نقل(Cheating)کرپشن 26۔این جی اوزکرپشن27۔ ملک میں بیرونی قوتوں کی مداخلت کرپشن28۔ ٹیکس چوری کرپشن 29۔ جاگیرداری کرپشن30۔ بیوروکریسی کرپشن31۔ رشوت کرپشن 32۔ بینکوں سے قرضہ لینے کا کرپشن33۔ ملازمت کے اوقات اور کام چوری کرپشن 34۔ سپورٹس کرپشن35۔اغواء برائے تاوان کرپشن36۔ٹارگٹ کلنگ کرپشن 37۔ بھتہ کرپشن38۔ رعایا کا آپس میں پے مینٹ کرپشن39۔ بے تحاشا کرنسی نوٹ چھپوانے کا کرپشن40۔ اسمگلنگ کرپشن41۔ ملی بھگت کرپشن42۔ ڈگری کرپشن
ملک کے مختلف محکموں میں رشوت لی جاتی ہے۔کچھ عرصہ قبل سننے میں یہ بات آئی۔کہ چھوٹی ملازمتیں بھی فروخت ہوتی ہیں یہ الیکشن سے پہلے کی بات ہے۔علاوہ ازیں حکومت کے خزانے سے پیسہ کسی نہ کسی بہانے سے نکلوانے کو لوگ جائز بلکہ مال غنیمت سمجھتے ہیں۔حالانکہ اسلام میں ایسا کرنا قطعی طورپرحرام ہے۔اسی طرح لوگ گیس اور بجلی کی چوری کو بھی جائز سمجھتے ہیں۔گھروں میں بجلی کے میٹرز میں کاروائی کرتے ہیں تاکہ وہ آہستہ چلے اور بل کم آجائے۔دیہاتوں میں بجلی کی چوری عام ہے۔بے شمارلوگ ایسے ہیں جو گذشتہ تیس سالوں سے بجلی کا بل ادانہیں کررہے ہیں۔دیہات کے سکولوں میں آساتذہ ڈیوٹی پر نہیں جاتے ہیں۔اگر کوئی اس پر اعتراض کرے تو اس استاد کا قبیلہ آڑے آجاتا ہے کیونکہ اس استاد کا تعلق اس گاؤں سے ہے جس گاؤں میں اُس کی ملازمت ہے۔اس طرح کی صورت حال میں گاؤں کے بچوں کی تعلیم کا معیارگرجاتا ہے۔نتیجتاً بہت سارے بچے تعلیم سے رہ جاتے ہیں۔کچھ عرصہ قبل سننے میں یہ بھی آرہا تھا کہ تعلیمی اداروں میں باقاعدہ ڈگریاں فروخت ہوتی ہیں۔یہ محض افواہ ہی نہیں بلکہ حقیقت ہے اور اس کے شواہد موجود ہیں۔نقل کارجحان عام ہے تعلیمی اداروں میں۔اِمتحانی سینٹرزبھی باقاعدہ فروخت ہوتے ہیں۔الغرض جس ملک میں تعلیم کی یہ صورت حال ہو وہ کس طرح ترقی کے منازل طے کرسکتا ہے؟جس ملک میں یکسا ں نظام تعلیم کا فقدان ہو۔اس ملک کے لوگ کس طرح ایک پلیٹ فارم پر جمع ہوسکتے ہیں۔
تعلیمی اداروں میں یکساں نصاب تعلیم کا بھی فقدان ہے۔مزید برآں بوقت تقرری اساتذہ کو میرٹ کی بنیادپر تعینات نہیں کیا جاتا ہے۔کچھ عرصہ قبل جب کسی کو کہیں بھی نوکری نہیں ملتی تھی تو اس کو محکمہ تعلیم میں ٹیچرتعینات کیا جاتا تھا۔حالانکہ یہ ایک پیغمبرانہ پیشہ ہے۔اگر اس پیشے سے ایسے لوگ وابستہ ہوجائیں جو صرف نااہل ہی نہ ہو بلکہ اعلیٰ درجے کے مجرم اور کرپٹ بھی ہوں تو نتیجتاً تعلیم کا معیارکیا ہوگا؟ اگرچہ اس وقت ہائر ایجوکیشن کمیشن نے میرٹ بحال کرنے کا سلسلہ شروع کیا ہوا ہے۔لیکن درپردہ اب بھی ملک میں تعلیمی کرپشن کا سلسلہ جاری ہے۔واضح رہے کہ کسی ملک کی ترقی میں تعلیم ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے۔اس لئے ضرورت اس امرکی ہے کہ شعبہ تعلیم پر بھر پور توجہ دی جائے۔اور رشوت اور کرپشن کو جڑ سے اکھاڑکرپھینک دیا جائے۔محکمہ تعلیم کے علاوہ وطن عزیزکے دیگرتمام محکموں میں بھی رشوت اور کرپشن کا بازار گرم ہے۔مثلاً محکمہ پولیس اور محکمہ کسٹم تو شروع ہی سے اس حوالے سے بدنام تھے جو محکمے اچھی شہرت رکھتے تھے وہ بھی رشوت اورکرپشن کی بیماری میں مبتلا ہوگئے مثلاپی آئی اے کو لیجئے۔ایک زمانہ تھا کہ دیگرممالک کے لوگ بھی اس کی اچھی شہرت اور کارکردگی کی بنیادپر اس میں سفر کیا کرتے تھے۔آج پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائن خسارے میں جارہا ہے۔اس کی وجہ کرپشن ہے۔اسی طرح ریلوے بھی کرپشن ہی کی وجہ سے ڈوب چکا ہے۔کراچی اسٹیل مِل کرپشن کے سبب تباہ وبربادہوچکا ہے۔ملک پر اندرونی اور بیرونی قرضوں کا بوجھ بڑھتا چلا جارہا ہے۔موجودہ الیکشن سے قبل گذشتہ حکومت نے پانچ سالوں میں جتنا قرضہ لیا۔وہ ملک کے ذمے ساٹھ سالوں کے قرضے سے بھی زیادہ تھا۔اب سوال یہ ہے کہ قرضے کی صورت میں اتنی بڑی خطیر رقم کہا ں گئی؟بلاشبہ مسائل اور مجبوریاں بھی تھیں اور ہیں مگر یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ کرپشن کا بازار بھی گرم تھا۔اسی طرح ٹیکس چوری کا مسئلہ ہے۔بااثرلوگ یا تو سرے سے ٹیکس دیتے نہیں ہیں یا پھر بہت کم ٹیکس اداکرتے ہیں۔پاکستان کی تاریخ میں ان بااثرافراد کا محاسبہ آج تک نہیں ہوسکا ہے جوٹیکس چوری جیسے کرپشن میں ملوث ہیں۔ شوگر ملز کے مالکان بھی اس حوالے سے اچھی شہرت نہیں رکھتے ہیں۔بی اینڈ آر،پی ڈبلیو ڈی،انکم ٹیکس،ایریگیشن اور پٹوار کے محکموں میں کرپشن کی شرح بہت زیادہ ہے۔
کرپشن کی ایک خاص صورت رشوت ہے جو پاکستان میں عام ہے۔مادہ پرست لوگوں نے ایسے ایسے گربنارکھے ہیں اور ایسے ایسے حیلے تلاش کئے ہیں کہ جس کو دیکھ کر انسانی عقل دنگ رہ جاتی ہے۔
چھ لوگوں کے نزدیک کرپشن، جسے فوری پیسہ اور کک بیک بھی کہا جاتا ہے، کسی بھی معیشت اور معاشرے میں کوئی غلط بات نہیں ہے۔ اسے ایک ایسی گریس کے طور پر دیکھا جاتا ہے جس کی وجہ سے سسٹم چلتا رہتا ہے۔ ایسا کہتے ہوئے جن باتوں کا دھیان نہیں رکھا جاتا، وہ وہ مسائل ہیں، جو تب پیدا ہوتے ہیں جب جن لوگوں پر اعتماد کیا جائے، وہ اعتماد کو ٹھیس پہنچائیں۔

1947 میں جو حصے پاکستان بنے، ان علاقوں میں ہندو اور سکھ بہت سی جائیدادیں اور زمینیں چھوڑ کر ہندوستان چلے گئے تھے۔ اس کے برعکس ہندوستان میں مسلمان ہندوؤں اور سکھوں جتنے صاحبِ ثروت نہیں تھے، اس لیے ہوسکتا ہے کہ جب وہ ان علاقوں میں آئے، تو ان کے لیے اثاثے اس سے زیادہ موجود تھے، جتنے وہ اپنے پیچھے چھوڑ کر آئے تھے۔

لیکن اس دور کی کئی کہانیاں اثاثوں کی تقسیم میں ہونے والے فراڈز کے بارے میں ہیں، جن میں غیرمستحق لوگوں کو زیادہ اثاثے ملے، جبکہ کئی مستحق گھرانے ہاتھ ملتے ہی رہ گئے۔ اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ تمام کلیمز میرٹ پر نہیں حل کیے گئے تھے، اور وہ افراد جنہیں اثاثوں کی منصفانہ تقسیم کا اختیار دیتے ہوئے اعتماد کیا گیا تھا، وہ اپنی ذمہ داری نہیں نبھا سکے۔

یہ سوال اب بھی حل طلب ہے کہ اوائل دور میں ہونے والی اس کرپشن، اور اعتماد کے توڑے جانے کا قوم کی نفسیات پر کیا اثر ہوا تھا۔ لیکن اس نے مستقبل کے کئی معاملات کی راہ ہموار کی۔ زمین کی اب بھی پاکستان میں سب سے زیادہ طلب ہے۔ زمینوں میں سرمایہ کاری آج کا سب سے پرکشش کاروبار ہے، اور پلاٹوں کے لیے ملک کے امیر اور طاقتور لوگ اب بھی کھیل کھیلتے ہیں۔ ہمارے کچھ نئے ہیرو لینڈ ڈویلپرز ہیں۔

کرپشن کی تعریف وسیع پیمانے پر کرنا اور اسے سمجھنا ضروری ہے۔ ایسا ہر دفعہ ہوتا ہے کہ لوگ اپنی ذمہ داریاں نبھانے میں ناکام رہتے ہیں۔

وہ لوگ جو خود پر عائد ذمہ داریوں کے باجود اپنے وقت، توانائی، اور وسائل کا ٹھیک استعمال نہیں کرتے، وہ اپنے اوپر کیے گئے اعتماد کو توڑ رہے ہیں۔ جب ہمارا مقصد انسانی بھلائی ہو، تو اچھی نیتیں اور صحیح طریقے ہمارے رویے اور ہماری جسمانی حرکات و سکنات میں واضح طور پر نظر آنے چاہیئں۔

اپنے اوپر کیے گئے اعتماد کو توڑنا صرف یہ نہیں ہے کہ ایک ٹیچر پیسے لے کر طلبا کو پاس کرے، بلکہ اگر وہ اپنی قابلیت کے مطابق نہیں پڑھا رہا، یا پڑھانے میں اتنی کوشش نہیں کررہا تو بھی وہ اپنے وعدے کو پورا نہیں کر رہا، اور نہ ہی اپنے پروفیشن اور اپنے آپ سے سچا کہلوا سکتا ہے۔ کردار کے معیارات کو کافی بلند ہونا ہوگا۔ اور ان میں سے کئی معیارات کو ذاتی ہونا چاہیے، لیکن سوسائٹی کو بھی افراد کی بہتر کارکردگی یقینی بنانے کے لیے کئی بیرونی معیارات بنانے پڑیں گے۔

معاشرے کے لیے مسئلہ اس وقت بدترین روپ اختیار کر لیتا ہے، جب لوگوں کے لیے کرپشن کی ایک خاص سطح متوقع ہوجائے۔ اس وقت ہر عمل، ہر نیت، اور ہر اقدام مشکوک بن جاتا ہے، اور کاموں کے نتائج حاصل کرنے کے بجائے زیادہ توانائی اس بات پر صرف ہوجاتی ہے کہ ارادوں اور اقدامات کی سچائی کو کس طرح ثابت کیا جائے۔

حکومت نے راولپنڈی میٹرو بس پراجیکٹ عوامی فائدے کے لیے شروع کیا یا اس لیے تاکہ پیسہ بنایا جاسکے؟ اپوزیشن جماعتوں کا الزام ہے کہ پراجیکٹ پر اٹھنے والے اخراجات اصل قیمت سے کہیں زیادہ بتائے گئے ہیں، اور یہ کہ اس کی حتمی قیمت بجٹ میں بتائے گئے تخمینے سے بھی کہیں زیادہ نکلے گی۔ اس سب میں کیا حقیقت ہے؟

حقیقت کو ایک طرف رکھیں اور یہ دیکھیں کہ اس معاملے پر کتنا وقت اور توانائی ضائع ہوئی ہے۔ کیا ایسا ہوسکتا تھا کہ ہم اس پراجیکٹ کی ضرورت، اس کی لاگت، اور اس پر اٹھنے والے حکومتی اخراجات کا ایک شفاف تجزیہ کرا لیتے؟

کرپشن، وی آئی پی کلچر، اور مراعات وغیرہ پر آج کل جاری بحث حقیقت میں اعتماد اور معیار کے وسیع خیالات کے بارے میں ہے۔ اگر ایک وزیر پی آئی اے کی ایک فلائٹ کو لیٹ کرادیتا ہے، تو کیا یہ اس کو حاصل رعایت کا حصہ نہیں؟ اگر وزیر اعظم نیویارک میں ایک نہایت مہنگے کمرے میں رہتے ہیں، تو اس میں مسئلہ کیا ہے، جبکہ وہ دوسرے سربراہانِ مملکت کی طرح سستے ہوٹل میں بھی رہ سکتے تھے۔

سوسائٹی ان اونچی پوزیشنز پر موجود لوگوں کو یہ بتا رہی ہے کہ جن عہدوں پر وہ ہیں، وہ صرف مراعات کا نام نہیں بلکہ ذمہ داری کا بھی ہے۔ ہم وزیر اعظم کے لیے سیکیورٹی کی ضرورت کو سمجھ سکتے ہیں، لیکن ہمیں سڑکوں کو بند کردینے کی منطق نہیں سمجھ آتی۔ اگر دوسرے سربراہانِ مملکت کے لیے ایک رات کے 1000 ڈالر کرائے والا کمرہ ٹھیک ہے، تو پھر اس سے کچھ بھی زیادہ خرچ کرنا ناقابلِ قبول ہے اور اعتماد شکنی ہے۔

جو لوگ اختیار اور طاقت کی پوزیشنز سے فائدہ اٹھا رہے ہیں یا اٹھا چکے ہیں، وہ کبھی بھی نہیں چاہیں گے کہ انہیں یہ بتایا جائے کہ انہیں غیرضروری خواہشوں سے پرہیز کرنا چاہیے۔ وہ ان لوگوں کو بھی پسند نہیں کریں گے جو انہیں یہ بتائیں کہ وہ اسراف پسند ہیں۔ یہی وہ جگہ ہے جہاں معاشرتی اقدار اپنا کام دکھاتی ہیں۔

ایک ایسا معاشرہ جہاں خود کو حاصل شدہ رعایت کا استحصال کرنا جائز اور حق سمجھا جاتا ہو، وہاں تبدیلی لانے کے لیے کسی بھی غیرقانونی اقدام کے بارے میں آواز اٹھانے والوں کو مزید کوشش کرنا ہوگی۔

حالیہ سیاسی جماعتوں کا دعویٰ ہے کہ وہ یہی کر رہی ہیں اور اس میں کچھ حد تک سچائی بھی ہے۔ لیکن اختیارات کے ناجائز استعمال کو قابلِ اعتبار اور مضبوط چیلنج کرنے کے لیے اس سے کہیں زیادہ مضبوط اقدامات اٹھانے ہوں گے۔
کرپشن اور اختیارات کے ناجائز استعمال کے خلاف قوانین کو مضبوط کرکے ان پر سختی سے عمل کرانا ہوگا۔ وکلا کو چاہیے کہ خود کو قانون کا محافظ سمجھیں کیونکہ اعتماد توڑنے جیسے مسائل سے نمٹنے کے لیے قانون ایک بہترین ہتھیار ثابت ہوسکتا ہے۔
کرپشن یا بد عنوانی صرف رشوت اور غبن کا نام نہیں- اپنے عہد اور اعتماد کو توڑنا یا مالی اور مادی معاملات کے ضابطوں کی خلاف ورزی بھی بدعنوانی کی شکلیں ہیں- ذاتی یا دنیاوی مطلب نکالنے کے لئے کسی مقدس نام کو استعمال کرنا بھی بد عنوانی ہے-

کرپشن ایک ایسا مرض ہے جو چھوت کی طرح پھیلتا ہے اور معاشرے کو کھا جاتا ہے- ہم سب جانتے ہیں کہ اس موذی مرض نے ہماری سماجی، سیاسی اور روحانی زندگی کو تباہ کر کے رکھ دیا ہے-

کرپشن آکاس بیل کی طرح سے ہے یعنی وہ زرد بیل جو درختوں کو جکڑ کر ان کی زندگی چوس لیتی ہے- یہ ایک ایسی لعنت ہے کہ اگر ایک بار یہ کسی معاشرہ پر آگرے تو ایک شاخ سے اگلی اور اگلی شاخ کو جکڑتی چلی جاتی ہے حتیٰ کہ زرد ویرانی کے سوا کچھ باقی نہیں رہتا- یہاں تک کہ معاشرہ کی اخلاقی صحت کے محافظ مذہبی اور تعلیمی ادارے بھی اس کا شکار ہو جاتے ہے-

کسی برائی کے خلاف جد وجہد کا انحصار معاشرہ کے اخلاقی معیاروں پر ہوتا ہے- اہمیت اس بات کی ہوتی ہے کے ہم کس بات کو رد اور کس کو قبول کرتے ہیں- بد عنوانی کے رویوں کے ساتھ بدعنوانی کا مقابلہ ممکن نہیں- کوئی نگران اگر خود بد دیانت ہو تو لوٹ میں اپنا حصہ مانگ کر کرپشن میں معاونت کرتا ہے جس سے بربادی کا عمل اور گہرا ہو جاتا ہے-

مسلح افواج اور عدلیہ جنہیں معاشرہ اپنا خون پلا کر پالتا ہے تاکہ یہ مدافعتی نظام بن کر اسکی حفاظت کریں، وہ خود حملہ آور لٹیرے کے ساتھ مل جاتے ہیں- یوں جسم کے یہ دفاعی خلیے باہر سے آنے والے حملہ آور کا مقابلہ کرنے کی بجاے اپنے جسم پر حملہ کر دیتے ہیں، جس کی حفاظت کے لئے ان کو مامور کیا گیا تھا-

ہمارا معاملہ یوں ہے کہ کرپشن کسی جڑواں بچے کی طرح پاکستان کے بنتے ہی ساتھ آ گئی تھی- وہ لوگ جو آج معاشرہ میں امتیازی حیثیت کے مالک ہیں، پاکستان کے ابتدائی دنوں کی تاریخ کو بڑی احتیاط سے چھپاتے ہیں- یہ لوگ کرپشن کے خلاف تقریریں تو کرتے ہیں لیکن کرپشن کی وجوہات اور پیدائش پر بات نہیں کرتے- یہ پاکستان کی ابتدائی تاریخ کا وہ افسوس ناک باب ہے جس میں ہماری کرپشن، موقع پرستی، مذہبی بلیک میل اور بے حسی کی جڑیں چھپی ہیں-

ہماری قیادت کو ان مسائل کا شائد کوئی تصور ہی نہ تھا جو ہمارے عوام کو تقسیم ہند کے وقت پیش آنے والے تھے- چنانچہ مہاجروں کی آباد کاری کا کوئی ٹھوس منصوبہ موجود نہ تھا-

عین اس وقت جب ہمارے لہو میں نہاے ہوئے مہاجر کیمپوں میں پڑے سڑ رہے تھے تو ملک کے طول و عرض میں ہندووں اور سکھوں کی متروکہ املاک کی لوٹ مار یوں جاری تھی جیسے عید کا تہوار ہو- چالاک موقع پرستوں کی چاندی ہو رہی تھی- لیڈر لوگ بحالیات کے دفتروں میں بیٹھے اپنے حصّوں کی سودے بازی کر رہے تھے- کیمپوں میں ہونے والے جنسی جرائم کی گندی کہانیاں بھی گردش میں تھیں- یہ سب کچھ پراپرٹی کلیم شروع ہونے سے پہلے کی بات ہے-

پھر پراپرٹی کلیم کی کہانی شروع ہوئی- لیکن پراپرٹی کلیم کیا تھا؟

بے شمار مسلم عوام تھے جنہوں نے اپنے اس نئے وطن پاکستان کے لئے ہندوستان سے ہجرت کی- ان میں بہت سے ایسے تھے جو بھارت میں اپنے گھر اور جائداد چھوڑ آے تھے- لیکن ان گنت ایسے بھی تھے جن کا وہاں کچھ بھی نہ تھا یا بہت معمولی تھا- گرچہ حقائق معلوم کرنے کا کوئی قابل اعتماد طریقه موجود نہ تھا پھر بھی ہر شخص کو یہ دعویٰ کرنے کا حق تھا کہ اسنے ہندوستان میں یہ چھوڑا اور وہ چھوڑا اور اسے پاکستان میں اس کے برابر ملنا چاھیئے- اس کا نام کلیم تھا- لیکن لوگ اپنا کلیم کیسے ثابت کرتے تھے؟ ظاہر ہے کسی کے پاس ملکیت کا کوئی کاغذ نہ تھا-

ایسی صورت حال میں جھوٹی کہانیوں کی گنجائش موجود تھی جس کی تصدیق کے لئے ذاتی گواہی کے سوا کچھ موجود نہ تھا- اور اسکی بھی کچھ ایسی مجبوری نہ تھی، کیونکہ کوئی “ہمدرد” افسر، تحریک پاکستان کا کوئی کارکن یا کوئی سیاسی رہنما آپ کا کلیم منظور کر کے آپ کی تقدیر بدل سکتا تھا-

چنانچہ ہندووں اور سکھوں کی چھوڑی ہوئی شہری اور دیہی ملکیتیں، رہائشی اور کاروباری جائیدادیں، فضل ربی بن کر ایسے ایسے لوگوں کے ہاتھ لگیں جن کا کوئی استحقاق نہ تھا- سب سے زیادہ ننگے انداز میں یہ عمل صنعتی، تجارتی اور کاروباری شعبوں میں سر زد ہوا جہاں مسلمانوں کو کوئی تجربہ نہ تھا یا بہت کم تجربہ تھا- چنانچہ جو نیا کاروباری طبقہ پیدا ہوا اسے کاروبار کے اصولوں، اسکی اخلاقیات اور اسکے مزاج کے بارے میں تربیت دینے کا بھی کوئی انتظام نہ تھا –

برطانوی حکومت سے پہلے بر صغیر میں مسلمانوں کا مزاج بالعموم جاگیردارانہ اور زراعتی تھا، بعد کی صدیوں میں زیادہ تر وقت مسلمان مزاحمت اور علیحدگی کی تحریکوں میں رھے، صرف ایک محدود سا طبقہ سول سروس اور فوج میں شامل ہوا-

اس سارے دور میں مسلم خطیبوں اور ڈاکٹر اقبال جیسے شاعروں کے ولولہ انگیز پیغام نے ہمارے مجاہدانہ مزاج کو اور گہرا کر دیا- لہٰذا ہمارے کاروباری طبقوں میں جاگیردارای اور جنگی مزاج قائم رہا اور ایک حقیقی کاروباری طبقہ کے جمہوری مزاج کی کمی رہی-

بر صغیر میں مسلمان صدیوں سے ہندو کاروباری طبقہ کو حقارت سے “بنیا” کہتے آئے تھے، اور انھیں رئیس اور سپاہی ہونے پر فخر رہا تھا- لہٰذا ہمارے کاروباری طبقوں اور سول سروس کے لئے بالکل فطری تھا کہ وہ جاگیرداروں، جرنیلوں اور دینی علماء کو اپنے راہ نما مانتے-

زرعی رؤسا جن میں سے اکثر کرپشن کے موجد تھے، جنہوں نے خالص ذاتی مفادات کے لئے انگریز کی خدمات کی تھی، اس نئی سرزمین میں خوش اور محفوظ تھے کہ جہاں نہ تو زرعی اصلاحات کا خوف تھا نہ احتساب کا-

یہ تھی صورت حالات جس میں پرمٹ، لائسنس اور الاٹمنٹوں کا ہنگامہ شروع ہوا- جلد ہی امریکی امداد کا دھارا بھی بہنے لگا- اب اوپر کے طبقوں یعنی حکمرانیه کے لئے کھلا میدان تھا- آسان کمائی کی غلیظ دوڑ کا آغاز ہوا، جس نے “راتوں رات امیر” ہو جانے کے خواب ہماری نفسیات میں گوندھ ڈالے-
بعد کی ساری تاریخ کرپشن اور اقربا پروری کے افسانوں اور کہانیوں سے اٹی پڑی ہے- آج ہمیں حیرت ہوتی ہے کے آخر کرپشن کی شکایتیں کرنے اور ایک دوسرے پر فرد جرم عائد کرنے کا جواز کیا ہے- لیکن سچ یہ ہے کہ اس کا جواز موجود ہے- نرگسیت سے بھرے معاشرہ میں ایسا عمل فطری ہے- کیونکہ نرگسیت کے مریض کی مجبوری ہوتی ہے کہ وہ اپنا جرم دوسروں پر ڈال دے-
پاکستان میں کرپشن صحت مندی کی علامت بن گئی ہے، ایک ایسا عمل جو ذہانت کا معیار ہے ، سماج میں موزوں ہونے کا ثبوت ہے- لیکن ساتھ ہی ساتھ کرپشن کو گالی دینا بھی اتنا ہی معیاری اور موزوں ہے- ہم میں سے ہر ایک کے پاس دوسرے کی کرپشن کے “ٹھوس” ثبوتوں کے ساتھ ایک فہرست موجود ہوتی ہے جس کے ساتھ ہی ویسی ہی کامیابیوں” کی آرزو ہمارے دل میں مچلتی ہے-
عمل اور فکر کا یہ تضاد یعنی ہاتھ سے کرنے اور زبان سے کوسنے کا یہ عمل اس ریا کاری کو جنم دیتا ہے جو بد عملی کو دوام بخشتی ہے- ایک ایسا معاشرہ جو ایک شاندار دین پر ایمان رکھتا ہے لیکن جن اصولوں کی تعظیم کرتا ہے عمل میں ان کے مخالف چلتا ہے، اسے ضمیر کی آسودگی کے لئے کسی بڑی تسلی کی ضرورت پڑتی ہے- لہذا ہماری حکمرانیه نے معاشرہ کے لئے نمازوں اور حج کی رسوم پر مبنی نمائشی اسلام کو بڑھاوا دیا ہے – اس سے ہم اپنے ہر روز کے احساس ندامت کو دھو لیتے ہیں تاکہ ہر نئی صبح ہلکے پھلکے ہو کر پھر سے وہی کرنے نکلیں جو کل دھویا تھا-
کیا اس حالت سے نکلنے کا کوئی راستہ ہے؟
ہاں، ہرنئی نسل بھلائی پر ایمان اورمعصوم جذبے لیکر پاکیزہ پیدا ہوتی ہے- یہ معاشرہ جس میں وزیر اعظم سے قاصد تک اور مل مالک سے دہاڑی دار معاون تک تقریباً ہر کوئی تر بہ تر ہے اور نچڑ رہا ہے، یہاں نئی نسل کی رہنمائی کے لئے شاید کوئی موجود نہیں- انھیں مستقبل کی تعمیر کے لئے بڑی توجہ سے اپنے رستے بنانا ہونگے-
اچھے معاشروں کا مطالعہ اور ذہانت سے پوچھے جانے والے سوال وہ اوزار ہیں جو راستہ بنانے میں مدد دے سکتے ہیں- جمہوریت نئی نسل کو اپنا رول ادا کرنے کے لئے میدان مہیا کر سکتی ہے- ہمیں امید ہے نئی نسلیں سائنس اور تخلیق کی دنیا کے ساتھ جینے کا فیصلہ کریں گی جو ایسا واحد راستہ ہے جو کرپشن سے آزاد ہے-
درست سماجی رویوں اور روایات کے نفاذ کا کام قوانین کی درستگی اور مضبوطی کے ساتھ ہونا چاہیے۔ اس کے بعد یہی رویے اور روایات قانون کے نفاذ میں بھی مددگار ثابت ہوں گی۔
پاکستان میں اب حالات تبدیل ہورہے ہیں۔ شاید ہم موجودہ سماجی رویوں کو تبدیل کر کے اس سے بہتر روایات قائم کرنے میں کامیاب ہوجائیں۔ لیکن یہ سوچنا مشکل ہے کہ کرپشن، اختیارات کے ناجائز استعمال، اور اعتماد کو ٹھیس پہنچانے پر خاموش رہنے والی سماجی روایات کے ہوتے ہوئے گورننس کس طرح بہتر ہوسکتی ہے۔

اسلام اور کرپشن

رشوت کیاہے؟
آج جب کہ زمانہ بہت تیزی کے ساتھ ترقی کررہا ہے اورآئے دن نت نئی ایجادات سامنے آرہی ہیں،ایسے ترقی یافتہ دورمیں رشوت کی کوئی خاص شکل وصورت متعین نہیں ہے، اور اب صرف کاغذکے چندنوٹوں کے لین دین کانام رشوت نہیں ہے؛بلکہ زمانہ اورحیثیت کے اعتبارسے رشوت کی شکلیں بھی مختلف ہوتی رہتی ہیں،اگرکوئی عام آدمی کسی کلرک کورشوت دیتاہے تووہ وہ چندنوٹوں کی شکل میں ہوتاہے،لیکن اگریہی رشوت کوئی خاص شخص کسی بڑے عہدہ دار، مثلاً وزیریاکسی بڑے صاحبِ منصب کو دیتاہے تووہ کبھی بنگلہ،موٹرکاریاپھرکسی بیرون ملک کے سیاحتی ٹکٹ وغیرہ کی شکل میں ہوتاہے، جسے وہ ہدیہ یانذرانہ کاخوبصورت نام دے دیتاہے؛لیکن درحقیقت وہ رشوت کی ترقی یافتہ شکل ہوتی ہے؛اس لیے صرف کاغذکے چند نوٹوں کے لین دین کوہی رشوت نہیں کہہ سکتے،اس کے علاوہ بھی ہروہ شئی جواپنے جائزیاناجائزمقاصدکوحاصل کرنے کے لیے کسی اہل منصب کودیاجائے گاوہ رشوت ہی ہوگا۔
مجمع البحارمیں علامہ فتنی نے بھی رشوت کی تعریف کی ہے: ”رشوت کے معنی یہ ہیں کہ کوئی شخص اپنی باطل غرض اورناحق مطالبہ کے پوراکرنے کے لیے کسی ذی اختیاریاکارپردازشخص کوکچھ دے“ ۔(مجمع البحاربحوالہ علامہ سیدسلیمان ندوی)

رشوت اسلام کی نظرمیں:
رشوت کی مذمت اوراس کے لینے اوردینے والوں پراللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے بڑی سخت وعیدیں بتائی ہیں،حضرت عبداللہ بن عمرر ضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:”رشوت لینے اوردینے والے پراللہ کی لعنت برستی ہے“۔(رواہ ابن ماجہ)
ایک دوسری حدیث میں حضرت عبداللہ بن عمررضی اللہ عنہ سے ہی مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاکہ”رشوت لینے اوردینے والا دونوں ہی دوزخ میں جائیں گے“۔ (طبرانی)

رشوت کی دلالی کرنے والابھی ملعون:
اسلام کی نظرمیں جس طرح رشوت لینے اوردینے والاملعون اوردوزخی ہے، اسی طرح اس معاملہ کی دلالی کرنے والابھی حدیث رسول کی روشنی میں ملعون ہے۔صحابی رسول حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ” رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے رشوت لینے اوردینے والے اوررشوت کی دلالی کرنے والے سب پرلعنت فرمائی ہے“۔(رواہ احمدوطبرانی)
حضرت عبداللہ بن مسعودرضی اللہ عنہ تویہاں تک فرماتے ہیں کہ قاضی کاکسی سے رشوت لے کراس کے حق میں فیصلہ کرناکفرکے برابرہے،اورعام لوگوں کاایک دوسرے سے رشوت لینا”سُحت“یعنی حرام ناپاک کمائی ہے۔(طبرانی)یہی وجہ ہے کہ پوری امت رشوت کے حرام ہونے پرمتفق ہے۔

رشوت دینے کی گنجائش کب ہوسکتی ہے؟
لغت میں”رشوت“کے معنی ہیں وہ نذرانہ جواپنے مقصدکی تکمیل کے لیے کسی کوپیش کیاجائے،خواہ وہ مقصدجائزہویاناجائز؛اسی لیے امام ابوسلیمان خطابی اس حدیث کامفہوم بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں:”رشوت لینے اوردینے والے دونوں شخص گناہ وسزاکے مستحق اس وقت ہوں گے،جب کہ دونوں کامقصدباطل اورناحق کی حمایت کرناہو،کسی پرظلم کرنایاکراناہویاشرعی حکم کی پامالی ہو،مثلاًایک شخص جس کاایک چیزمیں شرعاًکوئی حق نہیں بنتا،وہ صاحب اختیارکورشوت دے کراپنے حق میں فیصلہ کرالیتاہے یاایک چیزایک شخص کی ملکیت یااس کاحق ہے،اس کے پاس ثبوت بھی ہیں،جواس نے فراہم کردیے،مگردوسراشخص رشوت کے زورپرصاحب اختیارسے اس کے خلاف فیصلہ کرالیتاہے،تاکہ حق دارکواس کاحق نہ مل سکے،مذکورہ حدیث کی روشنی میں یہ رشوت دینابلاشبہ لعنت کاسبب ہے۔
اسی طرح رشوت لینے والاشخص بھی وعیدکامصداق اس وقت ہوگا،جب اس نے ایسے حق یاعمل کی انجام دہی پررشوت لی ہوجواس کے اوپرازروئے شریعت واجب ہے،یاوہ کوئی کام ایساکررہاہے،جس کے کرنے کاکوئی جوازنہیں اوردوسرے کااس سے نقصان ہورہاہے،جب تک اس کی مٹھی گرم نہ کی جائے،وہ اپنے اس ناحق عمل سے دست بردارہونے کے لیے تیارنہ ہو، مندرجہ بالاحدیث کی روشنی میں ایساشخص ملعون ہے۔
البتہ ایک شخص کاحق ہے کہ جواسے ملناچاہیے،رشوت دیے بغیرنہیں ملے گا،یااتنی دیرسے ملے گا،جس میں اسے غیرمعمولی مشقت برداشت کرنی پڑے گی۔اسی طرح اس کے اوپرکسی فردکی طرف سے ظالمانہ مطالبات عائدہوگئے ہیں اوررشوت دیے بغیران سے خلاصی مشکل ہے توامیدہے کہ دینے والاشخص گناہ گارنہ ہوگا،البتہ دیانت شرط ہے جس کی ذمہ داری خوداس پرہوگی۔اسی طرح ایک شخص حکام اورارباب اختیارکے نزدیک اپنی ذاتی وجاہت کی وجہ سے باحیثیت ماناجاتاہے،اگرایسے شخص کے ذریعے اپناجائزحق وصول کرنے کے لیے حاکم تک رسائی حاصل کی جائے اوروہ شخص جس پراس کام کی شرعاًکوئی ذمہ داری نہیں ہے،حق الخدمت کے طورپرکچھ وصول کرتاہے تویہ اس کے لیے حلال ہوگا،کیوں کہ یہ نہ توباطل کی اعانت ہے،نہ کسی پرظلم ہے اورنہ ہی اس پریہ کام کرناازروئے شریعت واجب ہے،لیکن نہ لیناموجب اجروثواب ہے۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کاارشادہے:سفارش کردو،ثواب پاوٴگے۔تجربہ شاہدہے کہ جن ناگوارحالات میں رشوت دینی پڑتی ہے ،ان میں دینے والاتومجبورہوتاہے،مگرلینے والامجبور نہیں ہوتا۔

رشوت اورقوم یہودکاشیوہ:
علامہ سیدسلیمان ندوی نے اسلام سے قبل زمانہٴ جاہلیت میں رشوت کے چلن پرروشنی ڈالتے ہوئے لکھاہے کہ عرب کے کاہن اپنی مفروضہ غیبی طاقت کی بناپربعض مقدموں کے فیصلے کرتے تھے،اہل غرض ان کواس کے لیے مزدوری یارشوت کے طورپرکچھ نذرانہ دیتے تھے،اس کوحلوان (مٹھائی)کہتے تھے،اسلام آیاتواوہام کایہ دفترہی اڑگیا،اس پربھی آں حضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے کاہن کے حلوان کی خاص طورسے ممانعت فرمائی۔(ترمذی،باب ماجاء فی کراہیة مہرالبغی)
اسی طرح عرب میں یہودیوں کے مقدمے ان کے احباراوررئیس فیصل کرتے تھے ،قانون کی زدسے بچنے کے لیے مال داراوراہل ثروت طبقہ علانیہ رشوت دیتے اوران کے کاہن اورقاضی یہ رشوت لے کران کے حق میں فیصلہ سنادیتے تھے،اوراتناہی نہیں؛بلکہ توراة کے احکام پرپردہ ڈالتے تھے۔ (صحیح بخاری)چنانچہ توراة کے قوانین میں تحریف کاایک بڑاسبب یہی رشوت خوری تھی،قرآن مجیدکی اس آیت میں اسی گناہ کی طرف اشارہ کیا گیا ہے:
اِنَّ الَّذِیْنَ یَکْتُمُوْنَ مَا أنْزَلَ اللّٰہُ مِنَ الْکِتَابِ وَیَشْتَرُوْنَ بِہ ثَمَنًا قَلِیْلاً، أولٰئِکَ مَا یَأکُلُوْنَ فِیْ بُطُوْنِہِمْ الاّ النَّارَ وَلاَ یُکَلِّمُہُمُ اللّٰہُ یَوْمَ الْقِیَامَةِ وَلاَ یُزَکِّیْہِمْ وَلَہُمْ عَذَابٌ ألِیْمٌ۔(بقرة:۲۱)
ترجمہ:خدانے کتاب سے جواتارااس کوجوچھپاتے ہیں اوراس کے ذریعہ معمولی معاوضہ حاصل کرتے ہیں،وہ اپنے پیٹوں میںآ گ ہی بھرتے ہیں،خداان سے قیامت کے دن بات نہ کرے گا،نہ ان کوپاک صاف کرے گااوران کے لیے دردناک عذاب ہے۔
پیٹ میںآ گ بھرنے سے مرادیہی حرام کی کمائی رشوت ہے۔
عہدنبوت میں خیبرکے یہودیوں سے زمین کی آدھے آدھ پیداوارپرمصالحت ہوئی تھی، جب پیداوارکی تقسیم کاوقت آتاتوآں حضرت صلی اللہ علیہ وسلم حضرت عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ کوبھیجتے،وہ ایمانداری سے پیداوارکے دوحصے کردیتے تھے اورکہہ دیتے تھے کہ ان دومیں سے جوچاہولے لو، یہودیوں نے اپنی عادت کے مطابق ان کوبھی رشوت دینی چاہی،آپس میں چندہ کرکے اپنی عورتوں کے کچھ زیورات اکٹھے کیے اورکہاکہ یہ قبول کرو،اوراس کے بدلہ تقسیم میں ہمارا حصہ بڑھادو، یہ سن کرحضرت عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا:”اے یہودیو!خداکی قسم تم خداکی ساری مخلوق میں مجھے مبغوض ہو،لیکن یہ مجھے تم پرظلم کرنے پرآمادہ نہیں کرسکتااورجوتم نے رشوت پیش کی ہے وہ حرام ہے،ہم(مسلمان)اس کونہیں کھاتے۔“یہودیوں نے ان کی تقریرسن کرکہاکہ”یہی وہ انصاف ہے جس سے آسمان وزمین قائم ہیں۔“(موطاامام مالک،کتاب المساقاة)

عاملین زکوٰۃکاہدیہ یانذرانہ قبول کرنا:
آں حضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے عمال کورعایاسے ہدیہ اورتحفہ قبول کرنے کی ممانعت فرمائی ہے (ابوداوٴد،کتاب الاقضیہ)،ایک دفعہ ایک عامل نے آکرکہاکہ یہ صدقہ کامال ہے اوریہ مجھے ہدیہ میں ملاہے،یہ سن کرآنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے منبرپرکھڑے ہوکرتقریرکی،حمدوثناکے بعدفرمایا:
”عامل کاکیاحال ہے کہ ہم اس کوبھیجتے ہیں توآکرکہتاہے کہ یہ تمہاراہے اوریہ میراہے، تو اپنے باپ یاماں کے گھرمیں بیٹھ کرنہیں دیکھتاکہ اس کوتحفے ملتے ہیں یانہیں،قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے،وہ اس میں سے جولے جائے گاوہ قیامت میں اپنی گردن پرلادکرلائے گا، اونٹ،گائے،بکری جوہو،پھرآپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دونوں ہاتھ اٹھاکر تین بارفرمایا:”خداوند!میں نے پہنچادیا۔“(صحیح بخاری،باب ہدایاالعمال)
اس حدیث میں غورکریں اورموجودہ دورکے عمال(یعنی مدرسہ اورملی تنظیموں کے سفراء) پرنظرڈالیں کہ جب وہ رمضان میں سفرسے واپس اپنے گھروں کولوٹتے ہیں توان کے پاس ہدایاوتحائف کی کتنی بڑی تعدادہوتی ہے بالخصوص مہتمم ،نظماء اورسکریٹری حضرات،پھرفیصلہ کریں کہ ان کایہ ہدایا اور تحائف قبول کرنامذکورہ حدیث کی روشنی میں کیساہے؟

رشوت کی برائی قرآن میں:
رشوت کی ممانعت میں قرآن کریم کی ایک اورآیت صریح طورپردلالت کرتی ہے:
وَلاَ تَأکُلُوْا أمْوَالَکُمْ بَیْنَکُمْ بِالْبَاطِلِ وَتُدْلُوْا بِہَا الیٰ الْحُکَّامِ لِتَأکُلُوْا فَرِیْقًا مِنْ أمْوَالِ النَّاسِ بِالْاثْمِ وَأنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ:(البقرة:۱۸۸)
تر جمہ:اورنہ کھاوٴ مال ایک دوسرے کاآپس میں ناحق اورنہ پہونچاوٴ ان کوحاکموں تک کہ کھاجاوٴ کوئی حصہ لوگوں کے مال میں سے ظلم کرکے(ناحق)ا ورتم کومعلوم ہے۔
علامہ ابن کثیرنے اس آیت کی تفسیربیان کرتے ہوئے لکھاہے کہ یہ آیت ایسے شخص کے بارے میں ہے جس کے پاس کسی کاحق ہو؛لیکن حق والے کے پاس ثبوت نہ ہو،اس کمزوری سے فائدہ اٹھاکروہ عدالت یاحاکم مجازسے اپنے حق میں فیصلہ کروالے اوراس طرح دوسرے کاحق غصب کرلے۔یہ ظلم ہے اورحرام ہے۔عدالت کافیصلہ ظلم اورحرام کوجائزاورحلال نہیں کرسکتا۔یہ ظالم عنداللہ مجرم ہوگا۔(ابن کثیر)
مفتی اعظم پاکستان مفتی محمدشفیع صاحب رحمۃ اللہ علیہ آیت مذکورہ کی تفسیرمیں حلال وحرام کے اسباب کی وضاحت کرتے ہوئے لکھتے ہیں:”شریعت اسلام میں جتنے معاملات باطل یافاسداورگناہ کہلاتے ہیں ان سب کی وجہ یہی ہوتی ہے کہ ان میں وجوہِ مذکورہ میں کسی وجہ سے خلل ہوتاہے،کہیں دھوکہ فریب ہوتاہے،کہیں نامعلوم چیزیانامعلوم عمل کامعاوضہ ہوتاہے، کہیں کسی کاحق غصب ہوتاہے،کہیں کسی کونقصان پہونچاکرنفع حاصل کیاجاتاہے،کہیں حقوق عامہ میں ناجائز تصرف ہوتاہے، سود، قماروغیرہ کوحرام قراردینے کی اہم وجہ یہ ہے کہ وہ حقوق عامہ کے لیے مضرہیں،ان کے نتیجہ میں چندافرادپلتے بڑھتے ہیں، اور پوری ملت مفلس ہوتی ہے،ایسے معاملات فریقین کی رضامندی سے بھی اس لیے حلال نہیں کہ وہ پوری امت کے خلاف ایک جرم ہے،آیت مذکورہ ان تمام ناجائزصورتوں پرحاوی ہے۔“(معارف القرآن:۱/۴۵۹)
یہ آیت اپنے ترجمہ کے لحاظ سے رشوت کی ممانعت میں صاف وصریح ہے؛کیوں کہ رشوت بھی ایک ایساعمل ہے جس کااثرحقوق عامہ پربراہ راست پڑتاہے،اوراس کی وجہ سے حقدارکاحق ماراجاتاہے۔

موجودہ دورمیں رشوت کااطلاق کن چیزوں پرہوگا؟
اب یہاں پرایک سوال پیداہوتاہے کہ موجودہ دورمیں کن طریقوں کورشوت کہیں گے، تو اس کاسیدھااورآسان جواب یہ ہے کہ مذکورہ بالا احادیث اورقرآنی آیتوں کی روشنی میں ہروہ لین دین جوشریعت کے خلاف ہو،اورکسی کاحق مارنے کے لیے ہویااسی طرح غیرشرعی افعال کوانجام دینے کے لیے کچھ لیایادیاجارہاہووہ سب رشوت کے دائرہ میںآ ئیں گے۔
مثلاً:اس وقت ذرائع ابلاغ سب سے موٴثراورطاقتورذریعہ ہے اپنی بات لوگوں تک پہونچانے اوراپنے مقاصدکوحاصل کرنے کا۔توہروہ شخص جو غیرشرعی طورپراپنی بات اخبار میں شائع کرانے کے لیے یااپنے کسی مدمقابل کونیچادکھانے کے لیے کوئی خبراخبارمیں شائع کراتاہے اورظاہرہے کہ اس طرح کی خبریں جوشخصی ہوتی ہیں اخباروالے بھی بغیرکچھ لیے دیے شائع نہیں کرتے تویہ دینااوراخباروالے کالینادونوں شرعاًبھی حرام ہیں اورصحافتی وقانونی نقطئہ نظرسے بھی حرام ہے۔یہ توایک چھوٹی سی مثال تھی،آج کی دنیامیں قدم قدم پررشوت کا سامنا کرنا پڑتا ہے، اوراس کاچلن سب سے زیادہ سرکاری دفاتر اور محکموں میں دیکھنے کوملتاہے اوریہ جگہیں ایسی ہیں جہاں ایک نیک اوردین دارشخص کوبھی اپناحق حاصل کرنے کے لیے رشوت کاسہارالینا پڑتاہے؛ کیوں کہ اگروہ رشوت نہیں دیتے ہیں تووہ اپنے حق سے محروم رہ جائیں گے،ایسے معاملات میں جہاں اپناحق حاصل کرنے کے لیے بہ جبرواکراہ رشوت دینی پڑتی ہے، اسے توفقہاء نے کسی حدتک جائزقراردیاہے؛ لیکن رشوت لیناہرحال میں حرام اورناجائزہے۔

جان یامال پرخوف کی وجہ سے رشوت دینے کی گنجائش :
آخرمیں رشوت دینے اورلینے سے متعلق فقیہ العصرحضرت مولاناخالدسیف اللہ رحمانی مدظلہ العالی کی ایک عبارت نقل کرناچاہتاہوں،جس میں انہوں نے علامہ ابن نجیم کے حوالہ سے رشوت لینے اوردینے کی حرمت بیان کی ہے،مزیدیہ کہ رشوت دینے کی گنجائش کن صورتوں میں ہوسکتی ہے ؟
”رشوت لیناجس طرح حرام ہے، اسی طرح اصولی طورپررشوت کادینابھی حرام ہے،اس سلسلہ میں فقہاء کے یہاں ایک متفق علیہ اصول ہے کہ جس چیز کا لینا جائزنہیں اس کادینابھی جائزنہیں۔”مَاحَرُمَ أخْذُہ حَرُمَ اعْطَائُہ“ البتہ چوں کہ رشوت لیناکبھی بھی مجبوری نہیں بن سکتی اوررشوت دینابعض دفعہ مجبوری بن جاتی ہے؛اس لیے فقہاء نے ضرورت اورمجبوری کے مواقع پررشوت دینے کی اجازت دی ہے اوراس سلسلہ میں حضورصلی اللہ علیہ وسلم کے اس عمل کوپیش نظر رکھاہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم بعض دفعہ شرپسندشعراء کواس لیے کچھ دیاکرتے تھے کہ وہ بے ہودہ ہجوپرمبنی اشعارکہنے اور مسلمانوں کوبدنام کرنے سے اجتناب کریں۔
رشوت دینے کی گنجائش کب ہوگی؟اس سلسلہ میں فقہاء نے یہ اصول متعین کیاہے کہ اگررشوت نہ دے توناحق طریقہ پراس کوجانی یامالی نقصان کا اندیشہ ہویایہ اندیشہ ہوکہ جس ذمہ دارکے پاس اس کی درخواست زیرغورہے، وہ اس کے ساتھ انصاف سے کام نہ لے گااوراس کے اوردوسرے امیدواروں کے درمیان مساویانہ سلوک روانہیں رکھے گا۔
علامہ ابن نجیم  لکھتے ہیں:
”اَلرِّشْوَةُ لِخَوْفٍ عَلیٰ نَفْسِہ أوْ مَالِہ أوْ لِیُسَوِّيَ أمْرَہ عِنْدَ السُّلْطَانِ أوْ أمِیْرٍ“ (ردالمحتار:۴/۳۴۰ بحوالہ جدیدفقہی مسائل:۱/۳۰۰)
جان یامال پرخوف کی وجہ سے نیزاس لیے کہ سلطان یاامیر کے پاس معاملہ کی صحیح صورتِ حال رکھے رشوت دینے کی گنجائش ہے یہ ممنوع صورتوں سے مستثنیٰ ہے۔
مولانا محمودالرشید نے محیط الدائرہ کے حوالے سے رشوت کی اصطلاحی تعریف یوں بیان کی ہے :
الرشوة ما يعطيه الرجل للحاكم أو غيره ليحكم له أو لغيره أو حمله به علي ما يريد (۷)
رشوت اُس عطیہ کو کہا جاتا ہے، جو انسان کسی حاکم یاغیر حاکم کے حوالے اس وجہ سے کرتا ہے کہ وہ اس کے حق میں فیصلہ دے، یا اس مال کے ذریعہ سے حاکم کو اپنی مراد پر اُبھارے”۔
فرید وجدی نے رشوت کا مفہوم یوں واضح کیا ہے :
ما يعطی للحکام لاکل اَموال الناس بالباطل(۸)
لوگوں کے اموال کو ناجائزطریقوں سے ہڑپ کرنے کیلئے جو مال حکام کو دیا جاتا ہے وہ رشوت ہے۔”
پس معلوم ہوا کہ ہر وہ مال،عطیہ،ہدیہ وتحفہ جو کسی حاکم،اعلیٰ سرکاری افسر،جج یا غیر حاکم کو اس لئے دیا جائے تاکہ اس کے حق میں ہر جائزوناجائزفیصلہ ہوجائے یا حق کو باطل اور باطل کو حق ثابت کرنے کیلئے دی جائے یا لوگوں کے مال کو ناجائزطریقے سے حاصل کیا جائے یا حاکم اور غیر حاکم کو خوشامد کے طورپرعطیہ دی جائے۔اس کے علاوہ بھی متعددصورتیں جو رشوت کے زمرے میں آتی ہیں۔رشوت کی یہ تمام صورتیں قرآن وحدیث کی رُوسے قطعی طورپر حرام ہیں۔
قرآن کی رُوسے رشوت :
وَلاَ تَأْكُلُواْ أَمْوَالَكُم بَيْنَكُم بِالْبَاطِلِ وَتُدْلُواْ بِهَا إِلَى الْحُكَّامِ لِتَأْكُلُواْ فَرِيقًا مِّنْ أَمْوَالِ النَّاسِ بِالإِثْمِ وَأَنتُمْ تَعْلَمُونَ (۹)
اور آپس میں ایک دوسرے کے مال ناحق مت کھاؤ۔اوران کو حکّام کے یہاں اس غرض سے رجوع مت کروکہ لوگوں کے مالوں کا حصہ بطریق گناہ کے کھا جاؤ اور تم کو علم بھی ہو۔”
محمودآلوسی بغدادی اس آیت کے تحت لکھتے ہیں :
۱۔”لا تلقوا بعضها إلي حكام السوء علي وجه الرشوة”(۱۰)
بطور رشوت اپنے بعض مال حکام تک مت پہنچاؤ”
۲۔’’ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُواْ لاَ تَأْكُلُواْ أَمْوَالَكُمْ بَيْنَكُمْ بِالْبَاطِلِ إِلاَّ أَن تَكُونَ تِجَارَةً عَن تَرَاضٍ مِّنكُمْ ‘‘(۱۱)
اے ایمان والوآپس میں ایک دوسرے کے مال ناجائزطورپرمت کھاؤ۔لیکن کوئی تجارت ہو جو باہمی رضامندی سے ہو”۔
سید محمودآلوسیؒ اس آیت کریمہ کی تفسیرمیں لکھتے ہیں :
والمراد من الاکل مايعم الاخذوا لاستيلاء”(۱۲)
یہاں اکل سے مراد عام ہے جو شامل ہے مال لینے اور غلبہ پانے پر”
امام قرطبیؒ نے اس آیت کی تفسیر یوں بیان کی ہے :
مالا تطيب به نفس مالكه اوحرمه الشريعة وان طابت به نفس مالكه”(۱۳)
وہ مال بھی حرام کھاتہ میں جاتا ہے جو اس کے مالک کی رضا کے بغیر حاصل کیا جائے،یا مالک بخوشی اسے دے رہا ہو۔لیکن وہ چیز اصل شریعت میں حرام ہو”۔
بتصریح رشید رضا :
اماالباطل فهو مالم تکن فی مقابلة شيء حقيقی فقد حرمة الشريعة اخذ المال بدون مقابلة حقيقة” (۱۴)
باطل سے مراد یہ ہے،کہ اس مال کے مقابل میں کوئی حقیقی چیز نہ ہو،لہذا شریعت نے بغیرحقیقی چیز کے مقابل مال لینے کو حرام قراردیا ہے”
بقول ابوحیان اندلسیؒ :
فيدخل فی ذلک الغصب والنهب والقمار وحلوان الکاهن والخيانة والرشاء وماياخذه المنجمون وکل مالم يأذن فی اخذه الشرع” (۱۵)
لفظ باطل میں لوٹ مار،جوا،کاہن کی اجرت،خیانت،رشوت،نجومیوں کی اجرت اور ہر وہ شئی جس کی شریعت نے لینے کی اجازت نہیں دی،ان سب کو یہ شامل ہے۔”
بتصریح مولانا عبدالماجددریاآبادیؒ :
قرآن مجید کی صرف اس آیت پر آج عمل درآمدہوجائے،تو جھوٹے دعووں،جعلی کاغذات،جھوٹی گواہیوں،جھوٹے حلف ناموں، اہلکاروں اور عہدیداروں کی رشوت کے ساتھ ساتھ اعلیٰ حکام کی خدمت میں نذر،نذرانوں،قیمتی ڈالیوں، شانداردعوتوں کا وجودکہیں باقی نہ رہے۔” (۱۶)
مفتی محمد شفیع ؒ مذکورہ بالاآیت کی تفسیرمیں یوں رقمطرازہیں :
اس میں کسی کا مال غصب کرلینابھی داخل ہے، چوری اور ڈاکہ بھی جن میں دوسرے پر ظلم کرکے جبراً مال چھین لیا جاتا ہے، اور سُود، قمار،رشوت،خیانت، دغا،فریب،حیلہ سازی،دھوکہ دہی،سودی لین دین،اور تمام بیوع فاسدہ اور معاملات فاسدہ بھی جوازروئے شرع جائز نہیں،اگرچہ فریقین کی رضامندی بھی متحقق ہو،جھوٹ بول کریاجھوٹی قسم کھا کرکوئی مال حاصل کرلینا،یاایسی کمائی،جس کو شریعت اسلام نے ممنوع قراردیا ہے،اگرچہ اپنی جان کی محنت ہی سے حاصل کی گئی ہو وہ سب حرام اور باطل ہیں (۱۷)۔
حدیث نبوی کی روسے رشوت :
حقوق کی دوطرح درجہ بندی کی جاسکتی ہے یعنی حقوق اللہ اور حقوق العباد،جو لوگ دوسروں کی مجبوریوں سے ناجائزفائدہ اٹھاتے ہیں۔اور ان سے رشوت لیتے ہیں اس جرم کا تعلق حقوق العباد سے ہے۔مطلب یہ ہے کہ راشی نے لوگوں سے حرام مال لیا۔ایسے لوگ حدیث کی روسے رحمت خداوندی سے دورہیں۔رشوت لینے اور دینے والے دونوں لعنتی ہیں۔حضرت امام ترمذیؒ نے باقاعدہ ایک باب باندھ کر ان احادیث رسول اللہؐ کو نقل کیا ہے جس میں رشوت لینے اور دینے والے دونوں کو ملعون قراردیاہے۔(۱۸)
چنانچہ حدیث نبوی ہے :
لعن رسول الله على الراشی والمرتشی والرائش يعنی الذی يمشی بينهما (۱۹)
رسو ل اللہ ؐ نے رشوت دینے والے اور رشوت لینے والے اور رائش (دلال)یعنی جوان دونوں کے درمیان واسطہ بنتا ہو، تینوں پر لعنت کی ہے”۔
ایک اور حدیث میں آیا ہے :
الراشی والمرتشی فی النار(۲۰)
رشوت لینے اور دینے والے دونوں جہنمی ہیں “
رشوت کی ایک مضرت یہ ہے کہ فردیا ملک غیر قوموں سے مرعوب ہوجاتا ہے۔چنانچہ حضرت انسؓ سے روایت ہے :
قال رسولُ الله مابين قوم يظهر فيهم الربوا الا اخذوا بالسنة ومابين قوم تظهر فيهم الرشا الا اخدوا بالرعب (۲۱)
سرکار دوعالم ؐ نے ارشاد فرمایا جس قوم میں سودپھیل جائے،وہ قوم قحط میں مبتلا کردی جاتی ہے،اور جس قوم میں رشوتوں کا دور دورہ عام ہوجائے،اس پر رعب ڈالا جاتا ہے”
معجم صغیرطبرانی میں حضرت عبداللہ ابن مسعودؓ کی یہ روایت نقل کی گئی ہے :
قال رسول الله الرشوۃ فی الحکم کُفر وهى بين الناس سحت (۲۲)
رسو ال اللہﷺ نے فرمایافیصلہ کرتے وقت رشوت لینا دینا کفر ہے،اور عوام الناس کا آپس میں رشوت کا لین دین سحت وحرام ہے”۔
الغرض کرپشن کی ایک معروف شکل رشوت ہے۔جس کی تمام صورتیں شرعاً حرام ہیں رشوت کے علاوہ سود،جوا،مالی دھوکہ، چوری وغیرہ سب کرپشن کے زمرے میں شامل ہیں۔عصر حاضر کے معروف عالم دین القرضاوی کے بقول :
الاسلَامُ يحرم الرشوۃ فی ای صورۃ کانت وبای اسم سميتَ (۳۲)
اسلام میں رشوت حرام ہے۔چاہے کسی بھی صورت میں ہو۔چاہے کسی بھی نام سے ہو”۔
اسی طرح منشیات کا کاروبار،سمگلنگ،ذخیرہ اندوزی،سڑکوں،پُلوں اور سرکاری عمارتوں کی ناقص تعمیروغیرہ کرپشن کی مختلف شکلیں ہیں۔جو شخص ملک کا دشمن ہوتا ہے وہ بھی کر پٹ ہے کیونکہ وہ دشمن سے رشوت لیکر ملک کے رازفروخت کرکے غداری کا مرتکب ہوتا ہے۔ اسی طرح ملکی آمدنی کا دشمن بھی کرپٹ ہے۔اس لئے کہ وہ ٹیکس چوروں سے رشوت لے کر ملکی آمدنی گھٹاتا ہے۔علاوہ ازیں ملک کی ترقی میں منفی کرداراداکرنے والا کرپٹ سمجھاجائیگا۔اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ رشوت لے کر نالائق طالب علم کو نقل کرواکراعلیٰ نمبردلانے کی کوشش کرتا ہے۔جس سے بیشترطلباء میں محنت کا جذبہ کم ہوجاتا ہے اور ملک کو اعلیٰ درجہ کے سائنس دان،ڈاکٹرزاور انجینئرز مناسب تعدادمیں نہیں ملتے۔نتیجتاً ملک ترقی کے اعتبارسے سست روی کا شکار ہوجاتا ہے۔مزید براں ناجائزڈگریاں حاصل کرنے والا کرپٹ اور خداکے ہاں ماخوذ ہے (۲۴)۔
پاکستان کا مسئلہ نمبر1خیانت :
مفتی محمد تقی عثمانی ؒ کے بقول : “ایک زمانے میں یہ بحث چلی تھی کہ پاکستان کا مسئلہ نمبر ایک کیا ہے؟ یعنی سب سے بڑی مشکل کیا ہے جس کو حل کرنے میں اولیت دی جائے حقیقت میں مسئلہ نمبر1 خیانت” ہے آج امانت کا تصورہمارے ذہنوں میں موجود نہیں ہے”۔
خیانت کا دوسرانام کرپشن :
تعلیمات اسلامی کی روسے خیانت کا دوسرانام کرپشن ہے۔امانت کو ضائع کرنا خیانت ہے۔ارشاد باری تعالیٰ ہے :
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُواْ لاَ تَخُونُواْ اللّهَ وَالرَّسُولَ وَتَخُونُواْ أَمَانَاتِكُمْ وَأَنتُمْ تَعْلَمُونَ(۲۶)
اے ایمان والو! اللہ اور اس کے رسول کے ساتھ خیانت نہ کروکہ تم نے اللہ تعالیٰ سے امانت لی تھی،اور اللہ کے رسول نے تمہیں اس امانت کے بارے میں بتادیا تھا،اس امانت کے خلاف خیانت نہ کرو”۔
قرآن کریم اور احادیث نبوی میں بہت سے نصوص میں امانت کی تاکید کی گئی ہے۔ارشادباری تعالیٰ ہے۔
إِنَّ اللّهَ يَأْمُرُكُمْ أَن تُؤدُّواْ الأَمَانَاتِ إِلَى أَهْلِهَا.
اللہ تعالیٰ تمہیں حکم دیتے ہیں کہ امانتوں کو ان کے اہل تک اور ان کے مستحقین تک پہنچاؤ”
فرمان مصطفی ہے : لا ايمان لمن لا أمانة له (28)
جس کے اندر امانت نہیں،اس کے اندرایمان بھی نہیں “۔
پس معلوم ہوا کہ فرمان نبوی کی روسے امانت ایمان کا لازمی جزء ہے چنانچہ ایک مسلمان کیلئے ضروری ہے کہ وہ امانت دارہو اور خائن نہ ہو۔
ملازمت کے فرائض میں کرپشن :
مفتی محمد تقی عثمانی ؒ کے بقول :
امانت کا دوسرا مفہوم اس کے علاوہ ہے جس کو عام طوپر لوگ امانت نہیں سمجھتے ہیں،وہ یہ ہے کہ فرض کروکہ ایک شخص نے کہیں ملازمت اختیار کی ہے،اس ملازمت میں جو فرائض اس کے سپردکئے گئے ہیں وہ امانت ہیں،ان فرائض کو وہ ٹھیک ٹھیک بجالائے۔ اور جن اوقات میں اس کو ڈیوٹی دینے کا پابند کیا گیا ہے،ان اوقات کا ایک ایک لمحہ امانت ہے،لہذا جو فرائض اس کے سپردکئے گئے ہیں،اگر وہ ان فرائض کو ٹھیک ٹھیک انجام نہیں دیتا،بلکہ کام چوری کرتا ہے توایسا شخص اپنے فرائض میں کوتاہی کررہا ہے،اور امانت میں خیانت کررہا ہے”۔ وہ تنخواہ حرام ہوگئی :
موصوف نے اس سلسلے میں مزید لکھا ہے :
مثلاً ایک شخص سرکاری دفترمیں ملازم ہے،اس کو اس کام پر لگایا گیا ہے کہ جب فلاں کام کے لئے لوگ تمہارے پاس آئیں تو تم ان کا کام کردینا۔یہ کام اس کے ذمہ ایک فریضہ ہے جس کی وہ تنخواہ لے رہا ہے،اب کوئی شخص اس کے پاس اس کام کیلئے آتا ہے، وہ اس کو ٹلا دیتا ہے، اس کو چکر کھلا رہا ہے، تاکہ یہ تنگ آکر مجھے کچھ رشوت دیدے۔۔۔۔،آج سرکاری ملازم جس عہدے پر بھی ہے وہ یہ سمجھتا ہے کہ جو شخص میرے پاس آرہا ہے اس کی کھال اُتارنا اور اس کا خون نچوڑنا میرے لئے حلال ہے۔یہ امانت میں خیانت ہے،اور وہ اس کام کی جو تنخواہ لے رہا ہے،وہ تنخواہ بھی حرام ہوگئی . (30)
ملازمت کے اوقات میں کرپشن :
ملازمت کے اوقات کا لحاظ رکھنا لازمی ہے۔ان اوقات میں اپنا ذاتی کوئی کام کرنا یا ان کے دوران غیر حاضر رہنا خیانت ہے جیساکہ تقی عثمانی ؒ نے اس کی وضاحت کی ہے :
اسی طرح ملازمت کیلئے یہ طے کیا تھا کہ میں آٹھ(۸) گھنٹے ڈیوٹی دونگا،اب اگراس آٹھ (۸) گھنٹے کی ڈیوٹی میں سے کچھ چوری کر گیا،اور کچھ وقت اپنے ذاتی کام میں استعمال کرلیاتو جتنا وقت اس نے اپنے ذاتی کام میں استعمال کیا، اس وقت میں اس نے امانت میں خیانت کی،کیونکہ یہ آٹھ(۸) گھنٹے اس کے پاس امانت تھے،اس کیلئے جائز نہیں تھا کہ اب اگر اس وقت میں دوستوں سے باتیں شروع کردیں یہ امانت میں خیانت ہے۔اور جتنی دیر خیانت کی اتنی دیرکی تنخواہ اس کیلئے حلال نہیں۔
اس کی حرمت کا سبب یہ ہے کہ ملازمت کے اوقات، ملازمین کے پاس امانت ہیں،ان میں کمی بیشی کرنا گویا ناپ تول میں کمی ہے۔ جیساکہ فرمان الٰہی ہے
وَيْلٌ لِّلْمُطَفِّفِينَ. الَّذِينَ إِذَا اكْتَالُواْ عَلَى النَّاسِ يَسْتَوْفُونَ. وَإِذَا كَالُوهُمْ أَو وَّزَنُوهُمْ يُخْسِرُونَ۔
ان لوگوں کیلئے دردناک عذاب ہے جو ناپ تول میں کمی کرتے ہیں،جب دوسروں سے وصول کرنے کا وقت آتا ہے تو پوراپورا وصول کرتے ہیں۔تاکہ ذرابھی کمی نہ ہوجائے،لیکن جب دوسروں کو دینے کا وقت آتا ہے تو اس میں کم دیتے ہیں اور ڈنڈی مارتے ہیں “۔
ناپ تول میں کمی کاملازمت کے اوقات پر بھی اس کا اطلاق ہوتا ہے۔مفتی تقی عثمانی ؒ نے اس کی وضاحت بھی کی ہے:
ناپ تول میں کمی ہر چیز میں ہے۔لہذاگر کوئی شخص آٹھ گھنٹے کا ملازم ہے۔اور وہ پورے آٹھ گھنٹے کی ڈیوٹی نہیں دے رہا ہے، وہ بھی ناپ تول میں کمی کررہا ہے۔اور اس عذاب کا مستحق ہورہا ہے، اس کا لحاظ کرنا چاہیے”(۳۳)
سرکاری اشیاء میں خیانت :
ایک سرکاری ملازم جس دفتر میں کام کرتا ہے۔اس دفترکا سامان سرکاری ملکیت ہے۔حکومت کی اجازت کے بغیراس کو اپنے ذاتی استعمال میں لانا خیانت ہے اور حرام ہے۔چنانچہ مفتی تقی عثمانی ؒ نے اس مسئلے کی بھی وضاحت یوں کی ہے:
امانت”کے صحیح معنی یہ ہیں کہ کسی شخص نے آپ پر بھروسہ کرکے اپنا کوئی کام آپ کے سپردکیا،اور آپ نے وہ کام اس کے بھروسہ کے مطابق انجام نہ دیا تو یہ خیانت ہوگی،یہ سڑکیں جن پر آپ چلتے ہیں۔یہ بسیں جن میں آپ سفر کرتے ہیں۔یہ ٹرینیں جن میں آپ سفر کرتے ہیں۔یہ سب امانت ہیں۔یعنی ان کو جائزطریقے پر استعمال کیا جائے اوراگر ان کو جائز طریقے سے ہٹ کر استعمال کیا جارہا ہے۔ تو وہ خیانت کے اندر داخل ہے۔مثلاً اس کو استعمال کرتے وقت گندہ اور خراب کردیا۔آج کل تو لوگوں نے سڑکوں کو اپنی ذاتی ملکیت سمجھ رکھا ہے۔کسی نے کھودکر نالی نکالی اور پانی جانے کا راستہ بنادیا۔کسی نے سڑک گھیرکر شامیانہ لگادیا۔حالانکہ فقہاء کرام نے یہاں تک مسئلہ لکھا ہے کہ اگر ایک شخص نے اپنے گھر کا پر نالہ باہر سڑک کی طرف نکال دیا، تو اس شخص نے ایک ایسی فضا استعمال کی جو اسکی ملکیت میں نہیں تھی، اس لئے اس شخص کیلئے سڑک کی طرف پرنالہ نکالنا جائز نہیں،حالانکہ وہ پر نالہ کوئی جگہ نہیں گھیر رہا ہے۔بلکہ فضاکے ایک حصے میں وہ پر نالہ نکلاہواہے۔
سڑک کا غلط استعمال تودرکنار،ٹھیکیدارحضرات تو سڑک کی تعمیر میں بھی جی بھر کرکرپشن کرتے ہیں۔کم اورکمزور میٹیریل استعمال کیا جاتا ہے۔اسی طرح سرکاری ٹرانسپورٹ کا لحاظ نہیں کیا جاتا ہے۔غلط استعمال تو عام ہے بلکہ پاکستان میں ایسے کئی واقعات ہوئے ہیں کہ لوگوں نے سرے سے سرکاری گاڑیوں کو غائب کردیا ہے۔
پانی کا مسرفانہ استعمال :
ملک میں لوگ پانی کی قلت کے باوجوداس کو خوب ضائع کرتے ہیں۔ان کو یہ احساس نہیں ہے کہ پانی کا بلاضرورت مسرفانہ استعمال ملک کیلئے نقصان دہ ہے بلکہ شریعت کی روسے ممنوع ہے جیساکہ حدیث نبوی ہے :
عن عبد الله بن عمرو ان رسول الله صلى الله عليه وسلم مر بسعد وهو يتوضا فقال: ما هذا السرف؟ فقال: افي الوضوء اسراف؟ قال: نعم، وان كنت علي نهر جار”
پانی کو فضول خرچ کرنے سے بچو،خواہ تم کسی بہتے ہوئے دریاکے پاس کھڑے ہو”۔
بجلی کا بے دریغ استعمال :
بجلی کا مسرفانہ استعمال بھی قومی خیانت ہے۔مسرفانہ استعمال تو خیرلوگ توکئی دھائیوں سے بجلی چوری کرتے چلے آرہے ہیں حالانکہ یہ بدترین کرپشن ہے۔
بتصریح محمد تقی عثمانی ؒ :
ایک طرف(ملک میں)بجلی کی قلت کا تو یہ عالم ہے،اور دوسری طرف جب کہیں بجلی میسر ہو تو وہا ں اس کے بے محابااور بے دریغ استعمال کا حال یہ ہے کہ اس میں کہیں کمی نظر نہیں آتی،خالی کمروں میں بلب روشن ہیں،پنکھے چل رہے ہیں،اور بسااوقات ائیرکنڈیشنز بھی پوری قوت کے ساتھ برسرکار ہیں،دن کے وقت بلاضرورت پردے ڈال کر سورج کی روشنی کو داخلے سے روک دیا گیا ہے،اور بجلی کی روشنی میں کام ہورہا ہے،معمولی بات پر گھروں اور دیواروں پر چراغاں کا شوق پورا کیا جارہا ہے.
سرکاری مقامات اور دفاترمیں جہاں بل کی ادائیگی حکومت کے ذمے ہے،وہاں تو بجلی کابلاضرورت عام،بے دھڑک اور ظالمانہ ہے۔ بقول موصوف بالخصوص جن مقامات پر بجلی کابل خرچ کرنے والے کو خود ادانہیں کرنا پڑتا، وہاں تو بجلی کا استعمال اتنی بے دردی سے ہوتا ہے کہ الامان ! سرکاری دفتروں میں دن کے وقت بسااوقات بالکل بلاضرورت لائٹیں روشن ہوتی ہیں،اور پنکھے اور ائیرکنڈیشنزاس طرح چل رہے ہوتے ہیں کہ ان کا خرچ بہت آسانی سے کم کیا جاسکتا ہے،اس کے علاوہ بعض سرکاری ملازمین اور بہت سے نجی کمپنیوں کے ملازمین کو گھروں پر بھی بجلی کے مفت استعمال کی سہولت حاصل ہوتی ہے وہاں تو”مال مفت،دل بے رحم، کی مثال پوری آب وتاب کے ساتھ صادق آتا ہے ۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ پاکستان کے کچھ علاقے ایسے ہیں جہاں سن ۵۷ میں بجلی آئی وہاں ابھی بھی ایسے لوگ ہیں جو سن ۵۷ سے لیکر تاحال بجلی کو استعمال کرتے چلے آرہے ہیں مگر آج تک انہوں نے ایک روپیہ بھی بل ادانہیں کیا ہے۔یہ صورت حال صرف اس علاقے کا نہیں ہے بلکہ پاکستان میں کئی ایسے علاقے ہیں کہ وہاں لوگ بجلی کی چوری میں ملوث ہیں۔حالانکہ یہ بدترین قومی خیانت ہے اور شریعت اسلامیہ کی رو سے قطعی طورپر حرام ہے۔
مذکورہ بالا ناقدانہ جائزے سے حسب ذیل نتائج برآمد ہوئے :
۱۔پاکستان کا مسئلہ نمبر1واقعی کرپشن ہے۔
۲۔کرپشن ہی ملک کی ترقی میں سب سے بڑى رکاوٹ ہے۔
۳۔ملک پر اندرونی اور بیرونی قرضوں کا بوجھ ناقابل برداشت حد تک بڑھ گیا ہے۔اس کا سبب بھی کرپشن ہے۔نیز ان قرضوں کے استعمال میں بھی کرپشن کا عنصر شامل ہے۔
۴۔بیوروکریسی، اسٹیبلیشمنٹ، اعلیٰ وادنیٰ سرکاری ملازمین، عوامی نمائندے، این جی اوز، پرائیوٹ کمپنیاں وغیرہ سب کرپشن میں ملوث ہیں۔
۵۔پاکستان میں ان کرپٹ اداروں اور افراد کا آج تک صحیح احتساب نہیں ہوسکا ہے۔حالانکہ کرپشن کے خاتمے کا واحد ذریعہ ان مجرموں کا محاسبہ ہے۔
۶۔پاکستان میں انرجی کابحران،دہشت گردی،بے روزگاری، مہنگائی،معاشی بدحالی اوربدامنی وغیرہ کا سبب بھی کرپشن ہے۔

کرپشن کے اسباب :

واضح رہے کہ ملک میں ایسے سرکاری ملازمین بھی ہیں۔جو انتہائی ایمان دار ہیں۔مجبوری اور ہر طرح کے دباؤ کے باوجود رشوت اور کرپشن کے مرتکب نہیں ہوتے ہیں۔ان میں سے ایسے بھی ہیں جو نان شبینہ کیلئے ترستے ہیں مگرصبروقناعت سے کام لیتے ہیں۔بدعنوانی نہیں کرتے ہیں لیکن یہ طبقہ اقلیت میں ہے۔اکثریت ان ملازمین کی ہے جو بدعنوانی کے موذی مرض میں مبتلا ہے، بدعنوان و فراڈ کے چند خاص اسباب حسب ذیل ہیں :
1۔معاشی تفاوت
2-مسرفانہ غلط رسم ورواج
3-کم تنخواہ ومراعات
4۔دولت کی ہوس اور راتوں رات امیر سے امیر تر بننے کی خواہش۔
5-محاسبہ کا فقدان
ان کرپٹ اعلیٰ وادنیٰ سرکاری ملازمین کو سزانہیں دی جاتی ہے۔جوسرکاری اہل کارپیشہ وارانہ طورپرکرپٹ ہیں اس کا حل یہ ہے کہ ملازمین کی تمام جائیدادبحق سرکاری ضبط کرلی جائیں اور جو سرکاری کارندے واقعی مجبورہیں۔ان کی تنخواہوں میں اضافہ کیا جائے تاکہ وہ بامرمجبوری رشوت لینے سے بازرہیں۔نیز ان کی ذہن سازی کی جائے قرآن وحدیث کے تعلیمات سے ان کو باخبرکیا جائے کہ اسلام میں کرپشن اور رشوت گناہ کبیرہ ہے۔اور قیامت کے دن تمام کرپٹ لوگ رب العٰلمین کی عدالت میں پیش ہونگے۔اور اخروی سزا سے نہیں بچ سکیں گے۔

اللہ سبحانہ و تعالیٰ اپنی نازل کردہ آخری آسمانی کتاب میں چودہ سو سال قبل اس گاؤں والوں کو متنبہ فرماتے ہیں :
“ خشکی اور تری میں لوگوں کی بد اعمالیوں کے باعث فساد پھیل گیا۔ اس لیے کہ انہیں ان کے بعض کرتوتوں کا پھل اللہ چکھا دے۔ (بہت) ممکن ہے کہ وہ باز آجائیں۔”(سورة الروم: ٤١)

ہر وہ مہیب جنگ جو ایک مملکتوں کا گروہ دوسرے ممالک سے لڑتا ہے ، اس سے جو کثیر جانی ، مالی اور معاشرتی نقصانات وقوع پذیر ہوتے ہیں ان کا اندازہ اور تخمینہ لگا نا کوئی مشکل امر نہیں ہے۔ مندرجہ بالا قرآنی اصول کا اطلاق ان اقسام کی جنگوں پر بالعموم اور گزشتہ ادوار کی دو جنگ عظیموں پر بالخصوص ہوتا ہے۔ اس ضمن میں دنیا بھر کی لائبریریاں گواہ ہیں ۔ ( یہ صرف ہوش اڑانے والے نقصانات بتانے پر اکتفا کرتی ہیں ۔ کتبِ سماوی کے جاری و ساری اصولوں سے انہیں غرض نہیں) علاوہ ازیں یہ اصول پروردگار عالم کا تمام لوگوں ،تمام مذاہب کے ماننے والوں ، دہریوں اور مشرکوں پر پوری طرح لاگو ہے۔
من حیث الجماعة امت مسلمہ کا حال زار ذرا پتلا ہے اور دیگر مذاہب کے بالمقابل دگرگوں ہوتا چلا جا رہا ہے۔ایسا لگتا ہے کہ امت میں عقائد ، علم اور اعمال کا بگاڑ بڑھتا چلا جا رہا ہے۔ دانشوران قوم دن رات بے شمار تجاویز اور حل ابلاغ عامہ کے ذرائع سے پیش کرتے رہتے ہیں مگر بہت کم خدائی احکامات سے رجوع فرمانے کی تگ و دو کرتے ہیں۔ ایک آیت کریمہ مسلمانوں کو توجہ دلاتی ہے :
“ اے لوگو جو ایمان لائے ہو ! اگر تم میں سے کوئی دین سے پھرتا ہے (تو پھر جائے)، اللہ اور بہت سے لوگ ایسے پیدا کر دے گا جو اللہ کو محبوب ہونگے اور اللہ ان کو محبوب ہوگا۔ جو مومنوں پر نرم اور کفار پر سخت ہونگے۔ جو اللہ کی راہ میں جدوجہد کریں گے اور کسی ملامت کرنے والے کی ملامت سے نہیں ڈریں گے۔یہ اللہ کا فضل ہے جسے چاہے وہ اسے عطا کرتا ہے ۔ اللہ وسیع ذرائع کا مالک ہے اور سب کچھ جانتا ہے۔”(سورة المائدة:٥٤)
پتہ چلتا ہے کہ اسلام کی نظر میں اس دور زبوں حالی میں بہترین لوگ ، اولوالعزم اور راسخ العقیدہ اور سیسہ پلائی ہوئی دیوار کی مانند افراد کار ( ؎ ذرا نم ہو تو یہ مٹی بڑی زرخیز ہے ساقی) صدق دل سے اجتماعی توبہ و استغفار کرتے صراط مستقیم کی جانب رواں دواں ہوسکتے ہیں۔ بشرط یہ کہ امت مسلمہ کے ذہین ترین ، بر سر آوردہ اشرافیہ ، سب اقسام کی جنگوں سے زیادہ مہلک ترین جنگ جو ان کے سروں پر مسلط ہے اس کا مدلل اور محقق ادراک فرماتے ہوئے لائحہ عمل تجویز کریں اور اپنا تن من دھن اس جنگ سے نکالنے کے لیے قربان کردیں، تو بات بنے!
مالک الملک غضبناک لہجہ میں الٹی میٹم دے رہے ہیں :
“ اے لوگو،جو ایمان لائے ہو! اللہ سے ڈرو اور جو سود کا بقایا ہے اس کو چھوڑ دو اگر تم ایمان والے ہو ، پس اگر تم نے ایسا نہ کیا تو اللہ اور اس کے رسول سے جنگ کے لیے تیار ہوجاؤ۔” (سورة البقرة:٢٧٩)
ماضی میں جنگ کے اشتہار سے جو مقصود مرادلیا جاتا تھا آج کی حربی اصطلاح میں اسے الٹی میٹم سے ہی تعبیر کریں گے۔اگر کوئی “ مخلوق” ملک یا سلامتی کونسل الٹی میٹم کے نام سے یا یک طرفہ پابندیوں کی شکل میں دھمکیاں دے تو ملک کی انتظامیہ کانپ جاتی ہے اور اس ناگہانی آفت سے نجات حاصل کرنے کے لیے ہر قسم کی دوڑ دھوپ سے جلد مضمحل ہو جاتی ہے۔ کسی صورت چین نصیب ہوتا نظر نہیں آتاہے۔ مگر رب العزت کے مندرجہ بالا احکام سے پہلو تہی پورے ملک کو کس پستی اور ذلت سے متعارف کرا رہی ہے اس کا مکمل اور محقق ادراک ہو نہیں پاتا۔ اس نہ ہونے والے ادراک کا تعلق ( مروجہ قانون کی زبان میں Nexus ) احکم الحاکمین کے حکم کے اس جملے : ”اگر تم ایمان والے ہو” سے ہے۔ مگر اس بات کا کیا کیا جائے بہ حیثیت مجموعی ایمانی حالت ڈانواں ڈول ہے اور اس خدائی جنگ کا خمیازہ پورا ملک بھگت رہا ہے۔

ہمارے اوپر ان بلاؤں کے پے درپے نزول کی واحد وجہ ہے کہ ہم سود سے ناتہ نہیں توڑ سکے۔ اپنی کمزوری ، کم ہمتی اور کم علمی کا بھر پور اعتراف کرتے ہوئے ہم اپنے رب علیم و قدیر سے مدد طلب کرتے ہوئے سود جیسے گناہ کی سنگین نوعیت کا جائزہ قران و سنت کی روشنی میں اپنے آئندہ کے لائحہ عمل کی تشکیل کے لیے لیں گے۔ یاد رہے کہ نہ صرف اسلامی جمہوریہ پاکستان سودی شکنجوں میں جکڑا ہے بلکہ خدائی جنگ کی شدت فزوں تر ہے اور اس جنگ سے پیدا شدہ نقصانات کا تخمینہ ہر اندازے سے کروڑوں گنا زیادہ ہے۔

کیا ایسا نہیں ہے کہ علی الا علان ملک کی معیشت پر قابض حکمران اپنی دنیا کو خوب سے خوب تر بنانے کی خاطر ، اس ملک کو اس جنگ میں جھونک چکے ہیں؟ کیا اب ہمارا ان بلاؤں سے چھٹکاراچند انتظامی اقدامات سے ہو سکتا ہے؟ کیا یہ ایک اچنبھے کی بات نہیں کہ جس ملک کو لاالہ الا اللہ کے انتہائی عظیم الشان “ با مقصد “ اور دلوں کو نیا جوش اور ولولہ عطا کرنے والے نعرہ لگا لگا کر حاصل کیا گیا تھا ، ہم اپنی لا حاصل اور بے جا خواہشات کی نظر کر دیں گے؟ اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے بالمقابل حالت جنگ میں ہوتے ہوئے پاکستان مختلف بلاؤں کے نرغہ میں آچکا ہے۔ چشم تصور میں اگر تمام حقائق اجاگر ہوجائیں Complete Realization تو ہر پاکستانی کا دن کا چین اور رات کا آرام حرام ہوجائے گا۔

ان بلاؤں میں سے چند کا ذکر کرتے ہیں۔

جنسی جرائم جو ان خطوں میں سننے کو نہیں آتے تھے اب روزانہ کی خبروں کا حصہ ہوتے ہیں۔اطلاعات کی شاہراہ (Information Super Higjhway) پر جنس و جرائم کی ریڈیائی لہریں ہمارے ہم وطنوں کے اعصاب پر پوری شدت سے حملہ آور ہو رہی ہیں۔گاؤں ہو یا شہر ، میدان ہو یا پہاڑ سب جنسی جرائم کی آماج گاہ بنتی جارہی ہیں۔ پہلے کوئی شخص گینگ ریپ (Gang Rape) کے فعل بد سے آشنا نہیں تھا۔ اب یہ لفظ میڈیا میں بلا جھجھک استعمال ہوتا ہے۔ شائد پہلے کبھی ان واقعات کے علم میں آنے کے بعد خون کے آنسو بہانا آسان تھا ، فی الوقت حس اور حیرانگی بھی جواب دے گئی ہے۔ہادیِ برحق ﷺ کے مندرجہ ذیل برحق ارشادات کی روشنی میں “ ایسا کیوں ہورہا ہے “ کے سوال کا جواب دانشوران قوم کو تلاش کرنا پڑے گا۔

رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ:” سود اتنا بڑا گناہ ہے کہ اس کو اگر ستر اجزا ء میں تقسیم کیا جائے تو ہلکے سے ہلکا جزو اس گناہ کے برابر ہوگا کہ آدمی اپنی ماں کے ساتھ زنا کرے۔” (ابن ماجہ)
کیا اس شہوانیت کی سونامی کی وجہ سود کی لعنت و وحشت میں علی وجہ بصیرت نظر نہیں آرہی ؟ کیا کوئی ہوش مند پاکستانی یہ ماننے میں تامل کرسکتا ہے کہ اس فعل بد کا عمل دخل ملک کی معیشت سے فی الفور خارج ہو جانا چاہئے؟ کیا اس قبیح فعل کے نقصانات واضح ہونے کے باوجود حضوراکرم ﷺ کے ارشاد گرامی کی حقانیت اظہر من الشمس نہیں ہوگئی ؟ قرآن پاک کی آیتِ مبارکہ اور حدیث پاک کی روشنی میں خطرات اور محرکات دونوں پوری طرح آشکار ہو چکے ہیں۔طلب مغفرت اور رجوع الی اللہ دائمی امن وامان کے حصول کا ضامن ہو سکتا ہے صرف چشم بصیرت وا کرنے کی دیر ہے۔
اس ایک بلائے بے درمان یعنی فحاشی کی سونامی کے تعین کے بعدایک اور حدیث پاک کے مطالعہ کے ذریعہ اپنے ارد گرد نظر دوڑاتے ہیں کہ کہیں مزید بلاؤں نے ہمارا محاصرہ کرنے کا تہیہ تو نہیں کر رکھا ہے:
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ: ” میں نے آج رات دو اشخاص کو دیکھا جو میرے پاس آئے اور مجھے بیت المقدس لے گئے ، پھر ہم آگے چلے تو ایک خون کی نہر دیکھی جس کے اندر ایک آدمی کھڑا ہے اور دوسرا آدمی اس کے کنارے پر کھڑا ہے۔ جب نہر کے اندر والا آدمی باہر آنا چاہتا ہے تو کنارے والا آدمی اس کے منہ پر پتھر مارتا ہے جس کی چوٹ سے بھاگ کر وہ پھر وہیں چلا جاتا ہے جہاں کھڑا تھا۔ وہ پھر نکلنے کا ارادہ کرتا ہے تو پھر کنارے والا آدمی وہی معاملہ کرتا ہے۔ آنحضرت فرماتے ہیں کہ میں نے اپنے ان دو ساتھیوں سے پوچھا یہ کیا ماجرا ہے جو میں دیکھ رہا ہوں؟ انہوں نے بتلایا کہ خون کی نہر میں قید کیا ہوا آدمی سود کھانے والا ہے (اپنے عمل کی سزا کھا رہا ہے)۔” (صحیح البخاری، کتاب البیوع)
ہمارے ملک میں بڑھتی ہوئی تخریب کاری جس کو روکنے کا اہتمام اب تک ہم نہ کر پائے ایک ایسی بلا ثابت ہوچکی جس نے جگہ جگہ خون کی نہریں بہا دی ہیں۔ یہ خونریزی اگر دو ممالک کی آپس میں دست و گریباں ہونے کی وجہ سے ہو تو کسی کی سمجھ سے بالا تر نہیں ہوسکتی ۔ یہاں البتہ صورت حال عجیب ہے کہ کسی ملک نے ہم پر حملہ بھی نہیں کیا۔ جس ملک سے ہم ماضی میں مسلسل بر سر پیکار رہے وہ ہماری ہنسی اڑاتا ہے کہ ہم نے اس کا کام آسان کردیا ہے۔ کیا یہ خون کی نہر ہم خود نہیں کھود رہے؟ اس نہر کو پاٹنے کی کوشش میں ہم سودی قرضوں سے امن و امان (Law and Order) قائم کرنے میں مدد دینے والے آلات اور گاڑیاں در آمد کرتے ہیں اور ہوتا یہ ہے کہ ہم اپنے اس سودی عمل سے خونی نہر کو اور گہرا کرتے جارہے ہیں۔اور اس طرح اللہ اور اس کے رسول ﷺ سے جنگ کرنے کے کڑوے ثمرات سے اپنے دامن کو آلودہ کرتے جارہے ہیں۔کبھی نہر کا قیدی (حکومت پاکستان) نہر کے باہر والے پہریدار سے قید سے آزادی کی التجا کرتا ہے جو رد ہو جاتی ہے اور سودی قرضوں کا ایک مہیب پتھر (ورلڈ بینک اور آئی ایم ایف کے توسط سے) نہر کے قیدی (حکومت وقت) کے منہ پر مار دیا جاتا ہے۔ قیدی نہر میں مزید غرق ہوجاتاہے۔ اس طرح قومی قرضوں سے نجات حاصل کرنے کے امکانات معدوم سے معدوم ہوتے جارہے ہیں۔

ہمارے وطن میں ایسے سیاسی گروہوں کی بھر مار ہوتی جارہی ہے جن میں اکثر فاشسٹ لبرل ہیں اور انہیں خفیہ (Clandestine) ذرائع سے ہر قسم کے مہلک ہتھیار مہیا ہو جاتے ہیں۔ یہ لوگ ملک میں نہ صرف خو ف وہراس پھیلانے کا باعث بنتے ہیں بلکہ ملک کے مقتدر اور معزز رہنماؤں کو بے دردی سے قتل بھی کرتے ہیں اور عدلیہ سے اپنی بے گناہی کا پروانہ حاصل کرنے میں دیر بھی نہیں کرتے۔اس طرح ان دو بلاؤں (فحاشی اور تخریب کاری) نے ہمارے ملک کا محاصرہ کیا ہوا ہے اور مکمل حل کی طرف نہ کسی سیاستدان کی رسائی ہے اور نہ ہی کسی دانشور قوم کی کیونکہ اپنی دانست میں وہ سود کو معیشت کا ایک ضروری حصہ سمجھے ہوئے ہیں۔ بد نصیبی کے دھکے ہیں جو پاکستان کے مظلوم عوام کھاتے چلے جارہے ہیں۔

مزید بلائیں جو در پیش ہیں وہ مہنگائی اور کرپشن ہیں۔ اس موضوع پر ذخیرہ احادیث میں سے ایک حدیث مندرجہ ذیل ہے۔:
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :”جب کسی قوم میں سود کا لین دین رواج پا جاتا ہے تو اللہ تعالی ان پر ضروریات زندگی کی گرانی مسلط کردیتا ہے اور جب کسی قوم میں رشوت عام ہو جائے تو دشمنوں کا رعب اور غلبہ ان پر ہوجاتا ہے۔”(مسند احمد)
مندرجہ بالا حدیث مبارک میں رشوت اور سود کا تعلق چودہ سو سال قبل بتایا گیا جس کا اسلام نے قلع قمع کردیا تھا۔ البتہ موجودہ دور ببانگ دُہل ان دونوں بلاؤں کا اثبات کر رہا ہے بلکہ ان کا چولی دامن کا ساتھ اظہر من ا لشمس پوری وضاحت کے ساتھ کرہ ارض پر بسیرا کرنے والوںکو اظہار ابلاغ کے تمام ذرائع سے کراتا چلا جارہا ہے۔

فا عتبروا یا اولی الابصار۔
اب ہم چند مثالوں سے مزید وضاحت کرنا چاہیں گے۔

رشوت خور حکومتی کارکن حکومت سے اپنی کارگزاری (خواہ کیسی ہی ہو) کا صلہ حکومت سے پوری تنخواہ اور الاؤنس (اصل زر) کی شکل میں حاصل کرتا ہے۔ مگر وہ اپنی ہوس زر کی خاطر عوام الناس سے طلب رشوت (سود کی ایک شکل) کی شدید خواہش بھی رکھتا ہے۔ مثلاً ایک سرکاری وکیل قتل کے ایک ملزم ( مضبوط شواہد کی بنیاد پر بادی النظر (Prima Facie ) میں مجرم ) کی جرح عدالت کے روبرو کرنے کے لیے سرکار سے ایک ہزار روپیہ لیتا ہے۔ چونکہ مؤکل کا مفاد “ہاتھ ہولا رکھنے’ ‘ پر منحصر ہوتا ہے اس لیے وکیل دس ہزار رشوت (بمعنی سود ) سے اپنی ناتواں معیشت کی درستگی پر جٹ جاتا ہے۔ ایسے ہزاروں وکلا اپنے باس کی خوشنودی کی تمنا میں اور ان کے ہم عصر (دیگر محکمات) کروڑوں اربوں روپے کی ہیر پھیر (Kick Backs and Horse Trading etc) میں ملوث ہوتے ہیں۔ یہ بین ثبوت ہے صادق و مصدوق ﷺ کے اس قول کا کہ “ اللہ تعالی ان پر ضروریات کی گرانی مسلط کر دیتا ہے “ جو قوم کی آنکھیں کھول دینے کے لیے کافی و شافی ہو جاتا ہے۔

مندرجہ بالا بلا اپنے وطن پر اس طرح مسلط ہوگئی ہے کہ بعض حلقوں میں کہا جاتا ہے کہ پاکستان کرپشن (Corruption) میں دنیا بھر کے ممالک میں اولین درجے پر فائز ہے۔ حدیث پاک کا بقیہ حصہ “ اور جب کسی قوم میں رشوت عام ہوجائے تو دشمن کا رعب و غلبہ ان پر ہوجاتا ہے” پوری طرح اور روز روشن کی طرح عیاں ہوجاتا ہے۔ جتنا دفاعی سازوسامان سودی قرضوں کے ذریعہ سے لے کر اپنی فوجوں کے حوالہ کیا جائے گا اسی تناسب سے وہ اغیار کے رعب و دبدبہ کا شکار ہوتی رہیں گی۔نہ سودی قرضوں سے نجات ملے گی اور نہ ہی دشمنوں کے چنگل سے۔یہ کیسی دفاعی تیاری ہے ؟ کیا یہ عقلمندی کا فقدان نہیں ہے۔ کیا حکمران قوم کے حالات از خود خسارہ کے سالانہ بجٹ کے ذریعہ گرانی کے سپرد نہیں کررہے؟ سود کی بلا از خود اپنی گردنوں پر سوار کرنے والے سو ائے گرانی کے عذاب ( معیشتاً ضنکاً ) (القرآن) کے سوا اور کس چیز کے مستحق ہو سکتے ہیں ۔ یہ ایک (دائرة السوء )(التوبة) یعنی Vicious Circle ہے۔ مکروہ دولت کی گردش ان حکمرانوں ، مرکزی بینک کے عہدہ داروں ، صنعت کاروں ، سیاست دانوں اور جاگیر داروں کے نعرہ “ھل من مزید” کی تکرار ختم ہونے کا نام نہیں لیتی۔ عوام “ کالا نعام “ انتہائی عسرت ( Abject Poverty) کی زندگی گزارنے پر مجبور کر دئے گئے ہیں۔

کرہ ارض پر رہنے والے نسل در نسل دو واضح طبقات میں بٹ گئے۔ اول الذکر افراد اپنے معیار زندگی ( اقوام متحدہ کے منظور شدہ الفاظ Quality Of Life ) بلند سے بلند کرنے کی دوڑ دھوپ میں مصروف ہوگئے اور اپنے لیے Haves کا لقب پا گئے۔ عسرت زدہ موخرالذکر Have Nots کی صفت سے مزین ہوئے اور حشرات الارض کے لیول کے زمرہ میں شمولیت پر مجبور کر دئیے گئے۔ یا حسرةََ علی العباد۔۔۔

ہائے افسوس متاعِ کارواں جاتا رہا
کارواں کے دل سے احساس زیاں جاتارہا

Haves کا طبقہ فساد فی البر و البحر کے فتنہ کی آگ شب و روز بھڑکا رہا ہے ۔ اس کے نتیجہ میں Have Nots کا طبقہ تعداد میں روز بروز بڑھ رہا ہے اور ساتھ ساتھ ان کی زندگی کی ڈور کا سرا ان کے ہاتھوں سے چھوٹ بھی رہا ہے۔
ایک عقلمند آفاقی دنیا کی مشاہدات سے اور اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی تمثیلات سے اپنی روحانی و اُخروی زندگی کا ڈھب پوری طرح نہ صرف سمجھ سکتا ہے بلکہ اپنے آپ کو اور دیگر برادران اسلام کوان بلاؤں سے تحفظ دلانے کی تدبیر بھی کر سکتا ہے۔
رسول اللہﷺ ان خوفناک بلاؤں کے شکار لوگوں کی روحانی اور اُخروی زندگی کا ڈھب کیا ہوگا ، بتاتے ہیں :“ جب ہم ساتویں آ سمان پر پہنچے تو میں نے اپنے اوپر رعد و برق کو دیکھااس کے بعد ہم ایسی قوم پر سے گزرے جن کے پیٹ رہائشی مکانات کی طرح پھیلے اور پھولے ہوئے ہیںاور جن میں سانپ بھرے ہوئے ہیں جو باہر سے نظر آ رہے ہیں۔ میں نے جبرائیل امین سے پوچھا کہ یہ کون لوگ ہیں ؟ انہوں نے فرمایا : یہ سود خور ہیں۔”(مسنداحمد)
حسرت زدہ مسلم کے سَلَم (Slum) علاقوں سے الگ تھلگ پوش (Posh) ماحول میں تعمیر شدہ وسیع و عریض مکانات سودی قرضوں کے طفیل وجود میں آتے ہیں۔ بعد ازاں انکی رجسٹریاں (Sale Deed) رہن رکھ کر Mortgage بنکوں سے مزید سودی قرضے لیتے ہوئے دکانوں اور مکانوں کی تعمیر کا ایک طویل سلسلہ چل نکلتا ہے۔ پھر کیا تعجب کہ ایسی تعمیر میں مضمر خرابی ایسی ہو جیسی صادق و مصدوق ﷺ ہمیں بتا گئے ہیں اور قیامت میں سود خوروں کے حرص و آز کے مسکن پیٹ ان دنیاوی ماڈل ( Global Village) کی اسکائی اسکریپر Sky Scraper کے مطابق مگر اُخروی تناسب سے بہت بڑے بنا دئیے جائیں گے۔ اگر سود خور آ سمان چھیلنے کا بے ہودہ نام اپنی تعمیرات کو دیتے ہیں تو آسمان والا جہنم میں یقینا انہیں ابد الاباد دہکتے ہوئے لوہے کے کنگھوں سے چھیلنے کے عذاب سے بھی نوازے گا اور کیا خوب کہ ان محلات پر نصب سیٹیلائٹ رسیورز اور ڈش ائنٹینے ان دوزخی سانپوں کے مشابہ ہوں جس کا تذکرہ حدیث بالا میں آیا ہے۔ یا یہ سانپ ان اینٹیناکے جوڑ ‘ تیزی سے بدلتے ہوئے جدید اور مختلف انواع کے Multimedia آلات ابلاغ ‘ سے کرتے ہوئے کروڑوں ناظرین و سامعین کے سمع و بصر کے نظام کو زہر آلود کر رہے ہوں۔ اس زہر کے تریاق کی تلاش مفقود ہونے کے سبب گھناؤنے جنسی جرائم پر کمر بستہ شر پسند افراد کی لاٹری نکل آئی اور ملک میں انہوں نے فحاشی اور عریانی کے بے شمار اڈے کھول دئیے اور اندھا دھند غرق دریا ہوگئے۔

اب ان لا حاصل خواہشات کے بندوں کے بارے میں ہمارے حضور رسالت مآ ب ﷺ کیا ارشاد فرما گئے ہیں مطالعہ کیجئے:“ پس قسم اللہ کی میں فقر و افلاس سے تمہارے لیے نہیں ڈرتا بلکہ اس بات سے ڈرتا ہوں کہ دنیا تم پر پھیلائی جائے گی جس طرح تم سے پہلوں پر پھیلائی گئی اور جس طرح انہوں نے باہم رشک و تنافس کیا ، اسی طرح کہیں تم بھی نہ کرو اور تم بھی غافل نہ ہو جاؤ جس طرح وہ ہوگئے۔” (بخاری)
ایک اور جگہ ارشاد فرمایا :
“ اشرفیوں اور روپوں والے جھالر دار لباس والے سیاہ عبا والے سب گرے اور ہلاک ہوئے۔” (بخاری)
ایک اور جگہ ارشاد فرمایا :
“ اگر آدم کے بیٹے کے پاس مال کی دو وادیاں ہوں تو وہ تیسری کی تلاش میں مصروف ہوگا۔ اور آدم کے بچے کا پیٹ (یا آنکھ) مٹی کے سوائے کوئی چیز نہیں بھر سکتی۔”(بخاری)
پاک سر زمیں پر غلاظت اور گندگی کے ڈھیر پر انتہائی غریب عوام کے بچوں ، بوڑھوں اور نوجوانوں کے موت کا انتظار کرتے ہوئے لاشے نظر آنے لگے ہیں۔یہ قومی ہیومن ریسورس (Human Resource) کی دولت ہیروئین اور دیگر منشیات کی نذر ہوگئی۔ ان کے بدلے میں ڈرگ مافیہ معاشرہ کی سیاست اور معیشت پر چھا گیا اور وطن کو پنجہ اغیار پھنسا گیا۔
وطن کے ایک پہاڑی درے آدم خیل میں ہتھیار جہاد فی سبیل اللہ کے لیے ذوق و جذبہ سے بنا کرتے تھے۔ اب قوم کی بد قسمتی ہے کہ شیطان نے اس پاکیزہ صنعت کا رخ تخریب کاری اور ڈکیتی کی طرف موڑدیا۔اب اس سے ایک اور مافیا وجود میں آگیا ہے یعنی ایک بلا دوسری بلا کو جنم دے رہی ہے۔ ان تمام مافیاؤں کی حرام رقومات سودی دلدل کو ہولناک انداز میں گہرا کرتی چلی جارہی ہیں اور اللہ اور اس کے رسول اللہ ﷺ سے پاکستان کی جنگ نہ صرف شدت اختیار کرتی جارہی ہے بلکہ اس کے ختم ہونے کے آثار معدوم ہوتے جارہے ہیں۔
ایسی دولت کی بے بضاعتی کا اظہار مالک الملک اس طرح کرتے ہیں :“ یقین رکھو جن لوگوں نے کفر اختیار کیا اور کفر کی ہی حالت میں جان دی ان میں سے کوئی اگر اپنے آپ کوسزا سے بچانے کے لیے روئے زمین بھر کر بھی سونا فدیہ میں تو اسے قبول نہیں کیا جائے گا۔ ایسے لوگوں کے لیے دردناک سزا تیار ہے اور وہ اپنا کوئی مددگار نہ پائیں گے۔”( آل عمران :٩١)
کثیر تعداد میں پیدا ہونے والی بلاؤں کے غول کے غول پوری قوم پر اپنی سودی دولت سے خدائی جنگ کی شدت بڑھانے کی وجہ سے بے شمار مصائب کے بادل چھا گئے اور سود کے عظیم گناہ سے بچنے کا جو داعیہ لوگوں کے دلوں میں وقتاًفوقتاً ان کے ایمان کے تقاضوں کی بنیاد پر پیدا ہوتا رہا ، وائے افسوس ختم ہو چکا ہے۔ ١٩٨٠ کے عشرہ میں ایماندار طبقے نے اربوں روپے اکل حلال کمانے کے ذرائع میں اپنی معیشت کو ترویج دینے کے لیے لگائے۔مگر ملک کے سودی گماشتے گدھوں کی طرح ان پر ٹوٹ پڑے ۔ اب مہذب اور ترقی یافتہ اکیسویں صدی کا دور دورہ ہے۔ بے شمار بوڑھوں ، یتیموں اور بیواؤں کی دنیا اجڑ گئی بلکہ ان اجڑے ہوئے افراد میں سے بیشتر اللہ کو پیارے ہوگئے اور ایک نسل جوان ہوگئی۔ حکمران بشمول عدل و انصاف مہیا کرنے والے ادارے منقار زیر پر رہے۔ ؎ ناطقہ بر سر گریبان ، اسے کیا کہئے

عالمی پیمانے پر سودی گماشتوں کا آپس میں مضبوط گٹھ جوڑ ہوگیا۔ ملکی سطح پر ( جبکہ قدرت خداوندی ٤٠ سال قبل ملک کو بطور سزا دو لخت کر چکی تھی) حرام مال بغیر کسی لیت و لعل کے حلال کردیا گیا۔بالفاظ دگر کالا دھن سفید کرنا۔ ( Money Laundering )۔ اس طرح حرام کاری سے کمایا ہوا روپیہ حلال آمدنی پر غالب آگیا ، بڑھ گیا اور کافی بڑی مقدار میں ملک سے باہر فرار ہوگیا اور ہوتا چلا جارہا ہے۔ غیر ملکیوں کو کھلی آزادی ہے کہ وہ اس سرمایہ کو ملک کے اسٹاک ایکسچینج سے ایک مرکھنے بیل (Bullish) کی طرح یا برفانی ریچھ ( Bearish) کی مانند انتظار کرو اور ہڑپ کر جاؤ والی چالوں کے ذریعہ نکالے ہوئے سرمایہ کو ملک سے باہر تحفظ دینے والے جزائر میں ان کا انبار لگا دیں ۔ کیا یہ اپنے ہاتھوں اپنی جڑیں کھودنے کے مترادف نہیں۔ محاورةً کہا جاسکتا ہے کہ ؎ اس گھر کو آگ لگ گئی گھر کے چراغ سے۔

برطانوی اصول قانون کی متابعت کرتے ہوئے پاکستانی عدالت عُلیہ و عُظمیٰ نے نہ صرف سودی معاملات کو حلال کر رکھا ہے بلکہ متعلقہ مقدمات کا رخ فوجداری قوانین سے نتھی کرنے کی بجائے دیوانی طریقہ کار کی طرف موڑ دیا۔ شائد عدلیہ حالت تردد میں ہو کہ رب کائنات بہمراہ رسول اللہ ﷺنے (بحوالہ آیت ٢٧٩ سورة بقرہ ) صرف الٹی میٹم پر اکتفا کیا ہو اور جنگ نہ چھیڑی ہو۔
معلوم ہونا چاہئے کہ خدائی افواج کی طاقت کیا ہے:“ اور تیرے رب کے لشکروں کو خود اس کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ “ (سورة المدثر : ٣١)
یعنی اللہ تعالیٰ نے اس کائنات میں کیسی کیسی مخلوقات پیدا کر رکھیں ہیں اور ان کو کیا کیا طاقتیں بخشی ہیں اور ان سے وہ کیا کیا کام لے رہا ہے ، ان تمام باتوں کو اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ ایک چھوٹے سے کرہ زمین پر رہنے والا انسان اپنی محدود نظر سے اپنے گرد و پیش کی چھوٹی سی دنیا کو دیکھ کر اگر اس غلط فہمی میں مبتلا ہو جائے کہ خدا کی خدائی میں بس وہی کچھ ہے جو اسے اپنے حواس یا اپنے آلات سے محسوس ہوتا ہے ، تو یہ اس کی اپنی ہی نادانی ہے۔ وگرنہ تو اس خدائی کا کارخانہ تو اتنا وسیع اور عظیم ہے کہ اس کی کسی ایک چیز کا بھی پورا علم حاصل کرلینا انسان کے بس میں نہیں ہے کجا یہ کہ اس کی ساری وسعتوں کا تصور بھی اس کے چھوٹے سے دماغ میں سما سکے۔

آج سے ٣٩ سال قبل پاکستان کے متفقہ آئین میں نہ صرف اللہ سبحانہ و تعالیٰ کو مقتدر اعلیٰ تسلیم کیا گیا ہو بلکہ ریاست کا دین بھی اسلام کو متعین کیا گیا ہو ، پھر سود سے پیچھا چھڑانے کا جتن تک نہ کرنا اور مالک الملک کے غضب کو بھڑکانا اپنی پوری قوم اور ملک کو جلد از جلد تباہی کے مہیب غار میں دھکیلنے کا موجب نہیں ہے تو اور کیا ہے۔ سب سے پہلا قدم ایک حکمران کے لیے عموما ً اور ایک منصف اعلیٰ کے لیے خصوصاً یہ سمجھنے کے لیے ضروری ہے کہ حلال (قانونی Legal/Judicial ) اور حرام (Void/Abinitio) کے مُطلق اختیارات صرف باری تعالیٰ کے ہیں ۔ قرآنی فیصلہ حسب ذیل ہے:
“ اور یہ جو تمہاری زبانیں جھوٹے احکام لگایا کرتی ہیں کہ یہ حلال ہے اور وہ حرام ، تو اس طرح کے حکم لگا کر اللہ پر جھوٹ نہ باندھا کرو۔ جو لوگ اللہ پر جھوٹے افتر ا باندھتے ہیں وہ ہر گز فلاح نہیں پاتے۔ دنیا کا عیش چند روزہ ہے۔ آخر کار ان کے لیے درد ناک سزا ہے۔”( سورة النحل:١١٦- ١١٧)
مندرجہ بالا آیات صاف تصریح کرتی ہیں کہ اللہ کے سوائے کوئی تحلیل و تحریم کا حق نہیں رکھتا۔ یا بہ الفاظ دیگر ، قانون ساز صرف اللہ ہے۔ دوسرا کوئی بھی ادارہ جو جائز اور نا جائز کا فیصلہ کرے گا وہ اپنی حد سے تجاوز کرے گا الا یہ کہ وہ قانون الٰہی کو سند مان کر اسکے فرامین سے استنباط( Deduce) کرتے ہوئے یہ کہے فلاں چیز اور فلاں فعل جائز ہے اور فلاں ناجائز۔ ایک خود مختارانہ تحلیل و تحریم کو اللہ پر جھوٹ اور افترا اس لیے فرمایا گیا کہ جو شخص اور ادارہ اس طرح کے احکامات لگاتا ہے اس کا یہ فعل دو حال سے خالی نہیں ہوسکتا۔ اولا ً وہ اس بات کا دعوی کرتا ہے کہ جسے وہ کتاب الٰہی کی سند سے بے نیاز ہو کر جائز یا ناجائز کہ رہا ہے اسے خود اللہ نے جائز اور ناجائز ٹھہرایا ہے۔ ثانیا ً یہ کہ اس کا دعویٰ ہے کہ اللہ نے تحلیل و تحریم کے اختیارا ت سے ( نعوذ باللہ) دست بردار ہوکر انسان کو خود اپنی زندگی کی شریعت بنانے کے لیے آزاد چھوڑ دیا ہے۔ان میں سے جو دعویٰ بھی کیا جائے وہ لا محالہ جھوٹ اور اللہ پرافترا ہے۔

اس پر فتن دور میں ہماری ریاست کے ستونوں( مثلا ً مقننہ ، عدلیہ ، اور منتظمہ ) کا استحکام شدید خطرات سے دوچار ہے۔ ایک اظہر من الشمس عدالت عظمیٰ کے احکامات نہ ماننا اور اس کی توہین اور بے توقیری پر ملک کے مقتدر طبقہ Elitesکا ڈٹ جاناہے۔ مندرجہ بالا قرانی آیات کا بالواسطہ اشارہ عدلیہ کے ضعف ایمان کی جانب ہے۔ پس مضبوطی ایمان کی دلیل ہے۔ ایک اور قرآنی تقاضہ ملاحظہ کیجئے:
“اے محمد ﷺ ! تمہارے رب کی قسم یہ کبھی مومن نہیں ہوسکتے جب تک کہ اپنے باہمی اختلافات میں یہ تم کو اپنا فیصلہ کرنے والا نہ مان لیں، پھر جو کچھ فیصلہ تم کرو اس میں اپنے دلوں میں بھی کوئی تنگی محسوس نہ کریں بلکہ سر بسر تسلیم کرلیں۔” ( سورة النساء : ٦٥ )

اس آیت کا حکم صرف حضور ﷺ کی زندگی تک محدود نہیں ہے بلکہ قیامت تک کے لیے ہے۔جو کچھ اللہ کی طرف سے نبی ﷺ لائے ہیں اور جس طریقہ پر اللہ تعالیٰ کی ہدایت اور رہنمائی کے تحت آپ ﷺ نے عمل کیا ہے وہ ہمیشہ ہمیشہ کے لیے مسلمانوں کے درمیان سند ہے اور سند کو ماننے یا نہ ماننے ہی پر آدمی کے مومن ہونے یا نہ ہونے کافیصلہ ہے۔ ایک حدیث میں اسی بات کو نبی کریم ﷺ نے ان الفاظ میں ارشاد فرمایاہے:
” تم میں سے کوئی شخص مومن نہیں ہوسکتا جب تک کہ اس کی خواہش نفس اس طریقہ کی تابع نہ ہو جائے جسے میں لے کر آیا ہوں ۔ ”

معاشرہ میں چلن کچھ ایساچل پڑاہے کہ جو فرعون وقت ہو ، یا جس کو قارون کی طرح اپنی دولت پر گھمنڈ ہو یا ہامان کی طرحEstablishment پر بھرپور اختیار ہونے کے ساتھ ساتھ مرد و زن کے بڑے بڑے مخلوط اجتماعات کراتے ہوئے Modernity کی بے قابو سونامی پیدا کرنے کی صلاحیت بھی رکھتا ہو تو ” جسد جمہوریت ” میں جان پڑ جاتی ہے۔ اب ان بلائوں کے سد باب کے لیے ” صحیح اور مدبر لیڈر شپ کہاں سے دستیاب ہو ؟” کے جواب میں سب چپ سادھ لیتے ہیں۔ آیئے قران کی روشنی میں اس کا حل تلاش کیا جائے۔
” لوگو !ہم نے تم کو ایک مرد اور ایک عورت سے پیدا کیا اور پھر تمہاری قومیں برادریاں بنا دیں تاکہ تم ایک دوسرے کو پہچانو۔ در حقیقت اللہ کے نزدیک سب سے زیادہ عزت والا وہ ہے جو تم میں سب سے زیادہ پرہیز گار ہے ۔ یقینا اللہ سب کچھ جاننے والا اور با خبر ہے۔ ” ( سورة الحجرات: ١٣)

اس آیت میں پوری نوع انسانی کو خطاب کرکے اصلاح کی گئی ہے جو دنیا میں ہمیشہ عالمی فساد کا موجب رہی ہے۔ یعنی رنگ ، نسل ، زبان ، وطن اور قومیت کاتعصب۔ قدیم ترین زمانے سے آج تک ہر دور میں انسان بالعموم انسانیت کو نظر انداز کرکے اپنے گرد مختلف قسم کے منفی دائرے کھینچتا رہا ہے اور ان ہی محرکات نے نفرت ، عداوت ، تحقیر و تذلیل اور ظلم و ستم کی بدترین دائرة السوء ( Vicious Circles) برپا کرتے ہوئے سوسائٹی کو اور کرپٹ کر دیا ہے۔ ان دگر گوں حالات میں اپنا رہبر اور رہنما وہی بن سکتا ہے جو دوسروں سے بڑھ کر اللہ سے ڈرنے والا ، برائیوں سے بچنے والا اور نیکی اور پاکیزگی کی راہ پر چلنے والا ہو۔

امن و امان کی فضا میں پروردہ ایک ریاست کے لیے انتہائی ضروری ہے کہ ادنیٰ سے ادنیٰ فرد سے لے کر اعلیٰ سے اعلیٰ ریاستی منصب دار تک ہر شخص کے دل کا بحیثیت ایک ادارہ اور انصاف کرنے والے منصفین کا فردا ً فردا ً ادب و احترام دل میں بس جانا چاہئے تاکہ وہ صرف لبوں تک (Lip Service) محدود نہ ہوجائے۔ اب اولین درجہ پر جج حضرات پر واجب ہے کہ وہ اپنے نفوس میں سورة حجرات کی تقویٰ سے متعلق ہدایات جانگزیں فرماتے ہوئے انصاف کا ترازو سنبھالیں۔ یاد رہے کہ ایسے مبارک افراد جو ذہین ترین بھی ہوتے ہیں بلا تخصیص مذہب ،بنی نوع انسانی میں ہر دور میں پائے گئے ہیں۔ چراغ کے تیل سے تمثیلاً استنباط کرتے ہوئے رب کائنات کا منشا ء مندرجہ ذیل ارشاد ربانی سے پوری طرح واضح ہوجاتاہے :
” جس کا تیل آپ ہی آپ بھڑک پڑتا ہو چاہے اس کو آگ لگے نہ لگے ( اس طرح) روشنی پر روشنی (بڑھنے کے تمام اسباب جمع ہو گئے ہوں)۔” (سورة النور:٣٥)

کرپشن ایک لعنت کی طرح معاشرہ پر مسلط ہے اس لیے ضرورت اس بات کی ہے کہ اس سے جنگی بنیاد پر ( On War Footing) نمٹا جائے اور اس ضمن میں قران کریم کا یہ حکم ہے کہ
” اور تم لوگ آپس میں نہ تو ایک دوسرے کا مال ناروا طریقہ سے کھاؤ اور نہ حاکموں کے آگے اس کو اس غرض سے پیش کرو کہ تم کو دوسروں کے مال کا کوئی حصہ قصداً ظالمانہ طریقہ سے کھانے کا موقعہ مل جائے۔” (سورة البقرہ: ١٨٨)

اس آیت کا ایک مفہوم تویہ ہے کہ حاکموں کو رشوت دے کر ناجائز فائدہ اٹھانے کی کوشش نہ کرو ۔ اور دوسرا یہ کہ جب تم خود جانتے ہو کہ مال دوسرے شخص کا ہے ، تو محض اس لیے کہ اس کے پاس ملکیت کا کوئی ثبوت نہیں ہے یا اس بنا پر کہ کسی اینچ پینچ سے تم اس کو کھا سکتے ہو ، اس کا مقدمہ عدالت میں مت لے جاؤ۔ ہو سکتا ہے کہ حاکم عدالت مقدمہ کی روداد کے مطابق وہ مال تمہیں دلوادے۔حاکم کا یہ فیصلہ غلط بنائی ہوئی روداد سے دھوکہ کھا جانے کی سبب سے ہوگا۔ اس لیے عدالت سے اس کی ملکیت کا حق حاصل کرنے کے باوجود حقیقت میں تم اس کے جائز مالک نہیں ہوگے بلکہ عنداللہ وہ تمہارے لیے حرام ہی رہے گا۔ ( یہاں ہدایت الٰہی کا اطلاق بعینہ بار کے ارکان پر اتنا ہی ہوگا جتنا کہ بنچ کے جج حضرات مکلف ہونگے۔)مزید وضاحت کے لیے حضور ﷺ فرماتے ہیں:
” میں بہر حال ایک انسان ہی تو ہوں۔ ہوسکتا ہے کہ تم ایک مقدمہ میرے پاس لاؤ اور تم میں سے ایک فریق دوسرے کی نسبت زیادہ چرب زبان ہو اور اس کے دلائل سن کر میں اس کے حق میں فیصلہ کردوں ۔ مگر یہ سمجھ لو کہ اس طرح سے اپنے بھائی کی کوئی چیز میرے فیصلے کے تحت تم نے حا صل کرلی تو تم دراصل دوزخ کا ایک ٹکڑا حاصل کروگے۔”

ایک اور حدیث مبارک کا ایک حصہ ملاحظہ کریں،حضور ﷺ نے ارشاد فرمایا:
” سات قسم کے لوگوں کو اللہ تعالیٰ اس دن اپنے (عرش کے) سایہ کے نیچے جگہ دے گاجس دن صرف اس کے عرش کا سایہ ہوگا (پہلا شخص) عدل کرنے والا حکمران۔” (صحیح بخاری)

اللہ رب العزت کے نزدیک ادنیٰ عادل جج یا مجسٹریٹ ، اور عادل سپریم کورٹ یا ہائی کورٹ کے جج کے درمیان ان کے دنیاوی مراتب کی کوئی اہمیت و تخصیص نہیں کہ یہ ان کے لیے عرش کے سایہ کے فیصلہ کی بنیاد بن سکے۔ اس لیے ہر انصاف کی ترازو پکڑنے والے مسلمان کو اپنی کم تر حیثیت نظر انداز کرتے ہوئے اپنے پالنے والے کے اس بیان کردہ نعمت عظمیٰ کو اپنی زندگی کا اولین مقصد بنانے اور عملی میدان میں آگے سے آگے بڑھنے کی انتھک اور جاںگسل جدوجہد میں اپنا حصہ (وقت ضائع کیے بغیر) ڈال دینا چاہئے۔چونکہ بنچ اور بار انصاف کے تقاضوں کو پورا کرنے کے لیے اصولی بنیادوں پرایک دوسرے کی معاونت کے پابند ہیں اس لیے عدالت میں تعاون کرنے والے وکلا اپنی حسن نیت کی برکت اپنے اللہ سے عرش بریں کے سایے تلے عادل و فاضل ججوں کے درمیان جگہ ان شا ء اللہ پالیں گے۔

ہم نہیں جانتے کہ ہماری صفوں میں ان مذکورہ بالا صفات کی شخصیات ہیں بھی کہ نہیں۔ اگر وہ ہیں تو اغلبا ً وہ کم تعداد میں ہوں یا نہ ہونے کے برابر ہوں اور غلبہ حاصل کرنے کی پوزیشن میں اب تک نہ آئے ہوں ۔ دراصل ہمارے وطن میں غلبۂ اشرار کم ہو ہی نہیں سکتا جب تک خدائی جنگ کی سیز فائر (Cease Fire) کروانے کے لیے اس ملک کے باسیوں کے قلوب رجوع الی اللہ کرتے ہوئے اپنے مقتدر طبقوں کو جنگ بندی اور اصلاح احوال پر پوری شدت سے اور پوری درد مندی سے مجبور نہ کر لیں۔ ان شا ء اللہ اس مضمون میں بیان کردہ آیات قرانی برہان قاطع ہیں۔ روز روشن کی مانند ہر خاص و عام کو نظر آرہا ہے کہ پاکستان فیصلہ خداوندی کے مطابق نرغہ اغیار میں ہے۔ حکمرانوں کو ایک طرف اپنے برگزیدہ کلام کے بارے میں خداوند تعالیٰ فرماتے ہیں :
” یہ ایک نصیحت ہے ۔ اب جس کا جی چاہے اپنے رب کی طرف جانے کا راستہ اختیار کرے۔”(سورة المزمل: ١٩)

تو دوسری جانب جھڑکتے ہوئے فرمایا :
“بے شک اللہ کے نزدیک بد ترین قسم کے جانور وہ بہرے گونگے لوگ ہیں جو عقل سے کام نہیں لیتے۔ ” (٢٢ :٨)

لگتا ہے کہ حکمران اپنے لیے خود ساختہ مگر دائمی استثنا ء کے حصول کا تہیہ کر چکے ہیں۔ اور بر افروختہ بلاؤں نے ان مقتدر طبقوں کا بشمولیت سودی گماشتوں کے سرعت رفتار سے تعاقب جاری رکھا ہوا ہے۔ ہرانسان کو موت کا ذائقہ چکھنا ہے۔، مگر استثناء کے عشق میں مبتلا گروہ اپنے رب کے حضور قیامت والی پیشی کے دن اپنے معیوب سفاکانہ طرز عمل کا مظاہرہ کرنے سے باز نہیں آئے گا ۔ مالک الملک کا ہم پر احسان ہے کہ وہ دنیا میں یوم الحسرت کا مشاہدہ اپنے متلو (یعنی تلاوت کیے جانے والے ) الفاظ میں کرا رہے ہیں :
” کاش تم دیکھو وہ وقت جب یہ مجرم سر جھکائے اپنے رب کے حضور کھڑے ہونگے ( اس وقت یہ کہہ رہے ہونگے) اے ہمارے رب! ہم نے خوب دیکھ لیا اور خوب سن لیا اب ہمیں واپس بھیج دیجئے تاکہ ہم نیک عمل کریں، ہمیں اب یقین آگیا ہے۔( جواب میں ارشاد ہوگا) اگر ہم چاہتے تو پہلے ہی ہر نفس کو ہدایت دے دیتے مگر میری وہ بات پوری ہوگئی جو میں نے کہی تھی کہ میں جہنم کو جنوں اور انسانوں سے بھر دوں گا۔ بس اب چکھو مزا اپنی اس حرکت کا کہ تم نے اس دن کی ملاقات کو فراموش کر دیا ہے۔ چکھو ہمیشگی کے لیے عذاب کا مزہ اپنے کرتوتوں کی پاداش میں۔” (سورة السجدہ: ١١٢ – ١١٤)

حکمرانوں کی دیرینہ خواہش بہر صورت الیکشن جیتنے کی ہوتی ہے۔ کامیابی کی صورت میں مناسب لیپا پوتی سے یہ لوگ اپنی غلطیوں پر پردہ ڈال دیتے ہیں۔ اور گاڑی پرانے طرز پر ہی چلتی رہتی ہے۔ آخرت سے لا پرواہی کا قبیح ترین انجام قران پاک میں بیان ہو چکا ہے۔ حالا ت میں تبدیلی ناگزیر ہے ۔ اس لیے مسلمانوں کے روڈ میپ (Road Map) اگر مغربی ماہرین کے توسط سے بنیں گے تو اسلامی معاشرہ مذکورہ بالا بلاؤں کے تعاقب و مزاہمت کو نہ روک پائے گا۔ پہلی تبدیلی کا ایک خوش آئند حوالہ کلام پاک کے بابرکت الفاظ میں ملاحظہ کیجئے:
” اللہ مومنوں کو اس حالت میں ہرگز نہ رہنے دے گا جس میں تم اس وقت پائے جاتے ہو۔ وہ پاک لوگوں کو ناپاک لوگوں سے الگ کر کے رہے گا۔ مگر اللہ کا یہ طریقہ نہیں کہ وہ تم کو غیب پر مطلع کردے۔ غیب کی باتیں بتانے کے لیے تو وہ اپنے رسولوں میں سے جس کو چاہے منتخب کر لیتا ہے۔ لہٰذا (امور غیب کے بارے میں) اللہ اور اس کے رسول ﷺ پر ایمان رکھو۔ اگر تم ایمان اور خدا ترسی کی روش پر چلوگے تو تم کو بڑا اجر ملے گا۔” (سورة آل عمران: ١٧٩)

حزب اختلاف کے لیے خوش خبری ہے اگر وہ اپنے زمینی نقشہ جات کی مطابقت (Alignment) مکمل طور پر اسلام پر رکھیں اور بلا خوف و خطر عمل پیرا ہوجائیں۔ اس ضمن میں رب قدوس کے دو پالیسی احکام یہ ہیں:
١۔”اس فرمانبرداری (الاسلام) کے سوا جو شخص کوئی اور طریقہ اختیار کرنا چاہے اس کا وہ طریقہ ہرگز قبول نہ کیا جائے گا اور آخرت میں وہ ناکام اور نامراد رہے گا۔” (سورة آل عمران: ٨٥)

٢۔” اے ایمان والو ! تم پورے کے پورے اسلام میں آجاؤ اور شیطان کی پیروی نہ کرو کہ وہ تمہارا کھلا دشمن ہے۔ جو صاف صاف ہدایات تمہارے پاس آچکی ہیں ، اگر ان کو پا لینے کے باوجود پھر تم نے لغزش کھائی ، تو خوب جان رکھو اللہ سب پر غالب اورحکیم و دانا ہے۔(ان ساری نصیحتوں اور ہدایتوں کے بعد بھی لوگ سیدھے نہ ہوں تو) کیا اب وہ اس بات کے منتظر ہیں کہ اللہ بادلوں کا چتر لگائے فرشتوں کے پرے ساتھ لیے خود سامنے آموجود ہو اور فیصلہ ہی کر ڈالا جائے؟۔ ” (سورة البقرة: ٢٠٨- ٢١٠)

یہ الفاظ قابل غور ہیں۔ ان سے اس حقیقت پر روشنی پڑتی ہے کہ اس دنیا میں انسان کی ساری آزمائش اس بات پر ہے کہ وہ حقیقت کو بغیر دیکھے مانتا ہے کہ نہیں اور ماننے کے بعد اتنی اخلاقی طاقت رکھتا ہے یا نہیں کہ نافرمانی کا ااختیار رکھنے کے باوجود فرمانبرداری اختیا ر کرے۔چنانچہ اللہ تعالیٰ نے انبیاء کی بعثت میں، کتابوں کی تنزیل میں ، حتیٰ کہ معجزات تک میں عقل کے امتحان اور اخلاقی قوت کی آزمائش کا ضرور لحاظ رکھا ہے اور کبھی حقیقت کو اس طرح بے پردہ نہیں کردیا ہے کہ آدمی کے لیے مانے بغیر چارہ نہ رہے۔ کیونکہ اس کے بعد تو آزمائش بالکل بے معنیٰ ہو جاتی ہے اور امتحان میں کابیابی اور ناکامی کا کوئی مفہوم باقی نہیں رہتا ہے۔ اسی بنا پر یہاں فرمایا جارہا ہے کہ اس وقت کا انتظار نہ کرو جب اللہ اور اس کی سلطنت کے کارکن فرشتے خود سامنے آجائیں کیونکہ پھر تو فیصلہ ہی کر دیا جائے گا۔ ایمان لانے اور اطاعت میں سر جھکانے کی ساری قدر و قیمت اس وقت تک ہے جب حقیقت تمہارے حواس سے پوشیدہ ہو اور تم اسے صرف دلیل سے تسلیم کرکے اپنی دانش مندی کا اور محض فہمائش سے اس کی پیروی اور اطاعت اختیار کرکے اپنی اخلاقی طاقت کا ثبوت دو۔ ورنہ جب حقیقت بے نقاب سامنے آجائے اور تم بچشم سر دیکھ لو کہ اللہ اپنے جلال کے ساتھ تخت پر متمکن ہے اور اس ساری کائنات کی سلطنت اس کے فرمان پر چل رہی ہے اور یہ فرشتے زمین و آسمان کے انتظام میں لگے ہوئے ہیں اور تمہاری یہ ہستی اس کے قبضہ قدرت میں پوری بے بسی کے ساتھ جکڑی ہوئی ہے، اس وقت تم ایمان لائے اور اطاعت پر آمادہ ہوئے تو اس ایمان اور اطاعت کی قیمت ہی کیا ہے؟۔ اس وقت تو کوئی کٹے سے کٹا کافر اور بد سے بدتر مجرم بھی انکار اور نافرمانی کی جراء ت نہیں کر سکتا۔ ایمان لانے اور اطاعت قبول کرنے کی مہلت صرف اس وقت تک ہے جب تک پردہ کشائی کی وہ ساعت سامنے نہیں آتی۔ اور جب وہ ساعت آگئی تو پھر نہ مہلت ہے نہ آزمائش۔بلکہ وہ تو فیصلہ کا وقت ہے۔
یہ گھڑی محشر کی ہے تو عرصہ محشر میں ہے

پیش کر غافل عمل کوئی اگر دفتر میں ہے

پاکستان ، مدینہ منورہ کی بنی ہوئی اسلامی مملکت کے بعد پہلی نیشن اسٹیٹ (Nation State) ہے۔ جس کی بیخ کنی پر شیطانی قوتیں متحد و متفق ہیں ۔ ہم نے اپنے اس مقالے میں متعدد قرآنی حوالے پیش کرتے ہوئے آگاہ کیا ہے اللہ کے پاک کلام کو حرز جاں بنائے بغیر اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی ہمارے خلاف برپا جنگ سے چھٹکارا عبث ہے۔ مفکر پاکستان نے مختصرا ً بتا دیا
گر تو می خواہی مسلماں زیستن

نیست ممکن جز بہ قراں زیستن

یعنی قران کو حرز جاں آپ اسی وقت بنا سکتے ہیں جب اسے لے کر اٹھیں اور دعوت الی اللہ کا کام شروع کردیں اور جس طرح یہ کتاب ہدایت دیتی جائے اس طرح قدم اٹھاتے چلے جائیں تب و ہ سارے تجربات آپ کو پیش آئیں گے جو نزول قرآن کے وقت پیش آئے تھے۔مکہ ، حبش اور طائف کی منزلیں بھی آپ کو دیکھنی پڑیں گی اور بدر و احد سے لے کر حنین اور تبوک تک کے مراحل بھی آپ کے سامنے آئیں گے۔ ابو جہل اور ابو لہب سے بھی آپ کو معاملہ ہوگا اور یہود و منافقین بھی آپ کو ملیں گے۔ اور مئولفة القلوب سے لے کر سابق الاولون تک سبھی قسم کے انسانی نمونے آپ دیکھ لیں گے اور برت بھی لیں گے۔ اس کی جس جس منزل سے آپ گزرتے جائیں گے قرآن کی کچھ سورتیں اور آیات بھی آپ کے سامنے آکر آپ کو بتاتی چلی جائیں گی کہ وہ اس منزل پر اتری تھیں اور یہ ہدایت لے کر آئیں تھیں۔پھر اسی کلیہ کے مطابق قرآن کے احکام اس کے معاشی و تمدنی ہدایات اور زندگی کے مختلف پہلوؤں کے بارے میں اس کے بتائے ہوئے اصو ل و قوانین انسانی سمجھ میں آ ہی نہیں سکتے جب تک کہ وہ ان کو برت نہ لے۔ نہ وہ شخص اس کتاب کو سمجھ سکتا ہے جس نے اپنی انفرادی زندگی کو اس کی پیروی سے آزاد رکھا ہو اور نہ وہ قوم اس سے آشنا ہو سکتی ہے جس کے سارے اجتماعی ادارے اس کی بتائی ہوئی روش کے خلاف چل رہے ہوں۔

سودی مسائل کے ضمن میں اللہ کے نیک بندے خوش گمان ہیں کہ ہمارے عادل ججز فیصلہ کن اقدامات کرنے کی پوزیشن میں ہیں۔ اس لیے بہتر ہوگا کہ مزید تجزیہ کرلیا جائے ۔ اولاً عدالت عظمیٰ ملک کے توہین عدالت کے تمام قوانین ، رولز اور پروسیجرز کا تفصیلی جائزہ لے کہ یہ بنیادی قسم کے قوانین ہر لحظہ بے اثر ہوتے جارہے ہیں تو کیوں۔اگر آئینی چپقلش حل ہونے میں نہ آرہی ہوں تو توہین عدالت کی لاٹھی برسا کر کام نکالا جاسکتا تھا مگر اہانت عدالت اعلیٰ حکومتی عہدیداروں سے لے کر صف اول کے ممتاز بار کے ارکان کا طرہ امتیاز بنتا جارہا ہے ۔ غرضیکہ آئین بازیچئہ اطفال بن چکا ہے ۔ پارلیمانی روایات کا خاصہ آئین و قوانین کا تقدس اور سر بلندی برقرار رکھنا ایسا ہے جیسا مملکت کے سبز ہلالی کو اونچے سے اونچا رکھنا مگر عمل کی دنیا میں منفی سوچ بروئے کار ہے اور فروغ پارہی ہے۔ قرآنی اشارہ ” بات یہ ہے کہ صرف آنکھیں ہی اندھی نہیں ہوتی ہیں بلکہ دل اندھے ہو جاتے ہیں جو سینوں میں ہیں۔” (سورة الحج:٤٦) فعل تعقل کا انتساب دل سے کیا گیا ہے جس سے استدلال کیا گیا ہے کہ عقل کا محل قلب ہے۔ اور بعض کہتے ہیں کہ محل عقل دماغ ہے۔بعض کہتے ہیں کہ فہم و ادراک کے حصول میں دل و دماغ دونوں کا آپس میں بڑا گہرا تعلق ہے۔

ہم مزید آیات قرآنی کا مطالعہ ایک گہرے غور و فکر کی خاطر کرتے ہیں کہ ججز کو اپنے لیے روشن لائحہ عمل مرتب کرنا دشوار نہ ہو۔ رب کائنات کا ارشاد ہے :
”وہ منہ پر کہتے ہیں کہ ہم مطیع و فرمانبردار ہیں۔مگر جب تمہارے پاس سے نکلتے ہیں تو ان میں سے ایک گروہ راتوں کو جمع ہوکر تمہاری باتوں کے خلاف مشورہ کرتا ہے۔ اللہ ان کی یہ ساری سر گوشیاں لکھ رہا ہے۔ تم ان کی پرواہ نہ کرو اور اللہ پر بھروسہ رکھو وہی بھروسہ کے لیے کافی ہے۔ کیا یہ لوگ قرآن پر غور نہیں کرتے ؟ اگر یہ اللہ کے سوا کسی اور کی طرف سے ہوتا تو اس میں بہت کچھ اختلاف بیانیاں پائی جاتیں۔”

”یہ لوگ جہاں کوئی اطمینان بخش یا خوفناک خبر سن پاتے ہیں اسے لے کر پھیلا دیتے ہیں حالانکہ یہ اگر اسے رسول اور اپنی جماعت کے ذمہ دار اصحاب تک پہنچائیں تو وہ ایسے لوگوں کے علم میں آجائے جو ان کے درمیان اس بات کی صلاحیت رکھتے ہیں کہ اس سے صحیح نتیجہ اخذ کر سکیں۔ تم لوگوں پر اللہ کی رحمت نہ ہوتی تو ( تمہاری کمزوریاں ایسی تھیں کہ) معدودے چند کے سوا تم سب شیطان کے پیچھے لگ گئے ہوتے۔” (سورة النساء :٨١ ، ٨٢ ، ٨٣)

رب کریم ججز کو کیا خوب آگاہ فرما رہے ہیں کہ ہم واقف ہیں کہ کون سے سازشی کردار تمہاری عزت و حیثیت کو معاشرہ میں مجروح (Character Assasination) کرنے کے درپے ہیں۔ تم ان سے خوف نہ رکھو اور نہ ہی پرواہ کرو۔ تمہارا بھروسہ صرف اور صرف باری تعالیٰ پر بلا شک و تشکیک ہونا چاہئے۔ رہے سازشی ، اللہ سبحانہ و تعالیٰ خود ان شک و شبہ والے نفوس سے نمٹ لیں گے۔ تم اللہ کی رسی کو مظبوطی سے تھامے رکھو۔ کتمان حق سے بچو اور اعلاء کلمة الحق دل و جان سے بلا کسی خوف و تردد کے کرتے رہو۔یہ لوگ میرے احکام سے غور و خوض سے اعراض برتتے ہیں اور جھوٹی افواہ سازی کا ایک طوفان بپا کیے ہوئے ہیں ۔ یہ کام اپنی بے حد و حساب سودی رقومات سے مختلف النوع ذرائع ابلاغ (Multimedia) استعمال کرتے ہوئے انجام دیتے ہیں۔ اگر ان میں امن و اصلاح ، اخلاق اور ایمان کی رمق ہوتی تو وہ یہ افواہ گڑھنے کی بجائے ایسی اطلاعات اللہ کے رسول اور اپنی جماعت کے ذمہ دار افراد کے علم میں لاتے تاکہ وہ اپنی مثبت صلاحیتوں سے احسن نتائج اخذ فرماتے۔ مگر ہو رہا ہے اس کے برعکس۔ یہ مالک کی رحمت و مہربانی کا تقاضا ہے کہ تمہیں شیطان کے چنگل سے نکالتا رہاہے۔ وُقعت و سرفرازی منبر و محراب مصطفیٰﷺ کو ہی زیبا ہے۔
نور خدا ہے کفر کی حرکت پہ خندہ زن

پھونکوں سے یہ چراغ بجھایا نہ جائے گا

اس لیے لازم ہے کہ ججز کرسئی عدالت کو بمع توہین عدالت کے ،ایک نوجوان مجسٹریٹ کے Summary Trial سے زیادہ اہمیت نہ دیں راہ نجات اپنے آپ کو دین متین کی خدمت میں وقف کردینے میں ہے۔ پھر شعور حاصل ہوگا توتوہین عدالت تو دراصل توہین رسالت ہی ہے۔ پھر مفکر ملت کا یہ سمجھانا کیسا عقل و فہم کو ” سراجا ً منیرا ً ” کرے گا۔
قوت عشق سے ہر پست کو بالا کردے

دہر میں اسم محمد سے اجالا کردے

اس مقالہ کا مرکزی موضوع سودی طرز معیشت سے مکمل علیحدگی اور خدائی جنگ سے مکمل امن و امان کی طرف مراجعت ہے۔ اس لیے کہ سازشی کرداروں کے کرتوتوں کے متعلق رب العالمین ارشاد فرماتے ہیں :
”افسوس ان کے حال ، (ان کی زبان پر ہے)۔ اطاعت کا اقرار اور اچھی اچھی باتیں۔ مگر جب قطعی حکم دے دیا گیا اس وقت وہ اپنے عہد میں اللہ سے سچے نکلتے تو انہی کے لیے اچھا تھا۔اب تم لوگوں سے اس کے سوا کچھ اور توقع کی جاسکتی ہے کہ اگر تم الٹے منہ پھر گئے تو زمین میں پھر فساد برپا کروگے اور آپس میں ایک دوسرے کے گلے کاٹو گے۔ یہ لوگ ہیں جن پر اللہ نے لعنت کی اور ان کو اندھا اور بہرا بنا دیا ۔ کیا ان لوگوں نے قرآن پر غور نہیں کیا ، یا ان کے دلوں پر قفل چڑھے ہوئے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ جو لوگ ہدایت واضح ہو جانے کے بعد اس سے پھر گئے ان کے لیے شیطان نے ان کی روش کو سہل بنا دیا اور جھوٹی توقعات کا سلسلہ ان کے لیے دراز کررکھا ہے۔” (سورة محمد: ٢٠ – ٢٥)

ملکی زبوں حالی کا بھر پور اندازہ ہر خاص و عام کو ہو چکا ہوگا۔ قرآن دو راستے تجویز کرتا ہے ۔ اگر ملت کے قدم مضبوطی سے سیدھے راستے پر گامزن ہوگئے تو تا دم آخر نقشہ بروز قیامت یہ ہوگا:
” اس وقت جس کا نامہ اعمال سیدھے ہاتھ میں دیا جائے گا وہ کہے گا لو دیکھو پڑھو میرا نامہ اعمال ، میں سمجھتا تھا کہ مجھے میرا حساب ملنے والا ہے ۔ پس وہ دل پسند عیش میں ہوگا عالی مقام جنت میں جس کے پھلوں کے گچھے جھکے پڑے ہونگے (ایسے لوگوں سے کہا جائے گا) مزے سے کھاؤ پیو ان اعمال کے بدلے میں جو تم نے گزرے ہوئے دنوں میں کیے۔ ” (سورة الحاقہ: ١٩ -٢٤)

وگرنہ……..جب چڑیاںچگ گئیں کھیت تو جاٹ کھڑاپچھتائے

” اور جس کا نامہ اعمال اس کے بائیں ہاتھ میں دیا جائے گا وہ کہے گا ‘ کاش میرا اعمال نامہ مجھے نہ دیا جاتااور میں نہ جانتا کہ میرا حساب کیا ہے۔ کاش میری وہی موت (جو دنیا میں آئی تھی) فیصلہ کن ہوتی۔آج میرا مال میرے کچھ کام نہ آیا۔ میرا سارا اقتدار ختم ہوگیا (حکم ہوگاکہ) پکڑو اسے جہنم میں جھونک دو اور اس کی گردن میں طوق ڈالدو اور اس کو ستر ہاتھ لمبی زنجیروں میں جکڑ دو۔ یہ نہ اللہ بزرگ و برتر پر ایمان لاتا تھا اور نہ مسکین کو کھانا کھلانے کی ترغیب دیتا تھا۔ لہٰذا آج یہاں اس کا کوئی یار ہے نہ غمخوار اور نہ ہی زخموں کے دھون کے سوا اس کے لیے کوئی کھانا جسے خطا کاروں کے سوا کوئی نہیں کھاتا۔” (سورة الحاقہ: ٢٥ -٣٧)

اے اللہ ! ہم کمزور ہیں ، بس اپنی رضا جوئی میں ہمارا ضعف اپنی قوت سے دور کردے اور کشاں کشاں ہمیں خیر کی طرف لے جا اور الاسلام کو ہماری پسند کا منتہا بنا دے۔ ہم ذلیل ہیں تو ہمیں عزت دے اور ہم محتاج ہیں تو ہمیں رزق دے۔ اے اللہ ! ہمارے دل ، ہماری مہار اور ہمارے اعضا تیری مٹھی میں ہیں اور تو نے ہمیں ان میں سے کسی کا مالک نہیں بنایا۔ پس جب تو نے ہمارے ساتھ یہ معاملہ کیا ہے تو ، تو ہی بس ہمارا ولی بن جا اور ہمیں سیدھے رستے پر لے جا۔ آمین یا رب العالمین
Advertisements

REPORT THIS AD
جزاک اللہ خیرا کثیرا:
Click to print (Opens in new window)Click to email this to a friend (Opens in new window)Click to share on Facebook (Opens in new window)Click to share on Twitter (Opens in new window)Click to share on LinkedIn (Opens in new window)

تبصرہ کریں
پاکستان بلاؤں میں گرفتار ملک۔ تدارک کی تمنا
نومبر 3, 2012 Team Al-Waqia محمد احمد،کرپشن،پاکستان بلاؤں میں گرفتار ملک،اللہ کی فوج،احکام شریعت،حدود اللہ،رشوت،سود،شمارہ5 مہنگائی،کرپشن،پاکستان بلاؤں میں گرفتار ملک،رشوت
Rate This

جریدہ “الواقۃ” کراچی، شمارہ (5 / 6 ) شوال، ذیقعد 1433ھ/ ستمبر، اکتوبر 2012
پاکستان بلاؤں میں گرفتار ملک۔ تدارک کی تمنا
محمد احمد
قسط نمبر 1
قسط نمبر 2 پڑھئے
اپنا عزیز از جان وطن بے شمار مسائل کی زد میں ہے۔ ان کی نوعیت اتنی حیران کن ہے بلکہ تباہ کن ہے کہ بے اختیار ان مسائل کو بلاؤں کا خطاب دئیے بغیر بات بنتی نظر نہیں آتی ! فی زمانہ ابلاغ عامہ کے ذرائع کی وسعت پذیری نے کرہ ارض کو ایک ہمہ جہتی بحر و بر پر محیط گاؤں Global Village کا درجہ عطا کردیا ہے ۔ اسی گاؤں کی مناسبت سے ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ دنیا میں چین و سکون اور امن و امان کا دور دورہ ہوتا مگر حالات تیزی سے دوسرا رخ اختیار کر گئے اور فساد فی الارض سے امن امان تہ و بالا ہوگیا۔ اللہ سبحانہ و تعالیٰ اپنی نازل کردہ آخری آسمانی کتاب میں چودہ سو سال قبل اس گاؤں والوں کو متنبہ فرماتے ہیں :
“ خشکی اور تری میں لوگوں کی بد اعمالیوں کے باعث فساد پھیل گیا۔ اس لیے کہ انہیں ان کے بعض کرتوتوں کا پھل اللہ چکھا دے۔ (بہت) ممکن ہے کہ وہ باز آجائیں۔”(سورة الروم: ٤١)

ہر وہ مہیب جنگ جو ایک مملکتوں کا گروہ دوسرے ممالک سے لڑتا ہے ، اس سے جو کثیر جانی ، مالی اور معاشرتی نقصانات وقوع پذیر ہوتے ہیں ان کا اندازہ اور تخمینہ لگا نا کوئی مشکل امر نہیں ہے۔ مندرجہ بالا قرآنی اصول کا اطلاق ان اقسام کی جنگوں پر بالعموم اور گزشتہ ادوار کی دو جنگ عظیموں پر بالخصوص ہوتا ہے۔ اس ضمن میں دنیا بھر کی لائبریریاں گواہ ہیں ۔ ( یہ صرف ہوش اڑانے والے نقصانات بتانے پر اکتفا کرتی ہیں ۔ کتبِ سماوی کے جاری و ساری اصولوں سے انہیں غرض نہیں) علاوہ ازیں یہ اصول پروردگار عالم کا تمام لوگوں ،تمام مذاہب کے ماننے والوں ، دہریوں اور مشرکوں پر پوری طرح لاگو ہے۔
من حیث الجماعة امت مسلمہ کا حال زار ذرا پتلا ہے اور دیگر مذاہب کے بالمقابل دگرگوں ہوتا چلا جا رہا ہے۔ایسا لگتا ہے کہ امت میں عقائد ، علم اور اعمال کا بگاڑ بڑھتا چلا جا رہا ہے۔ دانشوران قوم دن رات بے شمار تجاویز اور حل ابلاغ عامہ کے ذرائع سے پیش کرتے رہتے ہیں مگر بہت کم خدائی احکامات سے رجوع فرمانے کی تگ و دو کرتے ہیں۔ ایک آیت کریمہ مسلمانوں کو توجہ دلاتی ہے :
“ اے لوگو جو ایمان لائے ہو ! اگر تم میں سے کوئی دین سے پھرتا ہے (تو پھر جائے)، اللہ اور بہت سے لوگ ایسے پیدا کر دے گا جو اللہ کو محبوب ہونگے اور اللہ ان کو محبوب ہوگا۔ جو مومنوں پر نرم اور کفار پر سخت ہونگے۔ جو اللہ کی راہ میں جدوجہد کریں گے اور کسی ملامت کرنے والے کی ملامت سے نہیں ڈریں گے۔یہ اللہ کا فضل ہے جسے چاہے وہ اسے عطا کرتا ہے ۔ اللہ وسیع ذرائع کا مالک ہے اور سب کچھ جانتا ہے۔”(سورة المائدة:٥٤)
پتہ چلتا ہے کہ اسلام کی نظر میں اس دور زبوں حالی میں بہترین لوگ ، اولوالعزم اور راسخ العقیدہ اور سیسہ پلائی ہوئی دیوار کی مانند افراد کار ( ؎ ذرا نم ہو تو یہ مٹی بڑی زرخیز ہے ساقی) صدق دل سے اجتماعی توبہ و استغفار کرتے صراط مستقیم کی جانب رواں دواں ہوسکتے ہیں۔ بشرط یہ کہ امت مسلمہ کے ذہین ترین ، بر سر آوردہ اشرافیہ ، سب اقسام کی جنگوں سے زیادہ مہلک ترین جنگ جو ان کے سروں پر مسلط ہے اس کا مدلل اور محقق ادراک فرماتے ہوئے لائحہ عمل تجویز کریں اور اپنا تن من دھن اس جنگ سے نکالنے کے لیے قربان کردیں، تو بات بنے!
مالک الملک غضبناک لہجہ میں الٹی میٹم دے رہے ہیں :
“ اے لوگو،جو ایمان لائے ہو! اللہ سے ڈرو اور جو سود کا بقایا ہے اس کو چھوڑ دو اگر تم ایمان والے ہو ، پس اگر تم نے ایسا نہ کیا تو اللہ اور اس کے رسول سے جنگ کے لیے تیار ہوجاؤ۔” (سورة البقرة:٢٧٩)
ماضی میں جنگ کے اشتہار سے جو مقصود مرادلیا جاتا تھا آج کی حربی اصطلاح میں اسے الٹی میٹم سے ہی تعبیر کریں گے۔اگر کوئی “ مخلوق” ملک یا سلامتی کونسل الٹی میٹم کے نام سے یا یک طرفہ پابندیوں کی شکل میں دھمکیاں دے تو ملک کی انتظامیہ کانپ جاتی ہے اور اس ناگہانی آفت سے نجات حاصل کرنے کے لیے ہر قسم کی دوڑ دھوپ سے جلد مضمحل ہو جاتی ہے۔ کسی صورت چین نصیب ہوتا نظر نہیں آتاہے۔ مگر رب العزت کے مندرجہ بالا احکام سے پہلو تہی پورے ملک کو کس پستی اور ذلت سے متعارف کرا رہی ہے اس کا مکمل اور محقق ادراک ہو نہیں پاتا۔ اس نہ ہونے والے ادراک کا تعلق ( مروجہ قانون کی زبان میں Nexus ) احکم الحاکمین کے حکم کے اس جملے : ”اگر تم ایمان والے ہو” سے ہے۔ مگر اس بات کا کیا کیا جائے بہ حیثیت مجموعی ایمانی حالت ڈانواں ڈول ہے اور اس خدائی جنگ کا خمیازہ پورا ملک بھگت رہا ہے۔

ہمارے اوپر ان بلاؤں کے پے درپے نزول کی واحد وجہ ہے کہ ہم سود سے ناتہ نہیں توڑ سکے۔ اپنی کمزوری ، کم ہمتی اور کم علمی کا بھر پور اعتراف کرتے ہوئے ہم اپنے رب علیم و قدیر سے مدد طلب کرتے ہوئے سود جیسے گناہ کی سنگین نوعیت کا جائزہ قران و سنت کی روشنی میں اپنے آئندہ کے لائحہ عمل کی تشکیل کے لیے لیں گے۔ یاد رہے کہ نہ صرف اسلامی جمہوریہ پاکستان سودی شکنجوں میں جکڑا ہے بلکہ خدائی جنگ کی شدت فزوں تر ہے اور اس جنگ سے پیدا شدہ نقصانات کا تخمینہ ہر اندازے سے کروڑوں گنا زیادہ ہے۔

کیا ایسا نہیں ہے کہ علی الا علان ملک کی معیشت پر قابض حکمران اپنی دنیا کو خوب سے خوب تر بنانے کی خاطر ، اس ملک کو اس جنگ میں جھونک چکے ہیں؟ کیا اب ہمارا ان بلاؤں سے چھٹکاراچند انتظامی اقدامات سے ہو سکتا ہے؟ کیا یہ ایک اچنبھے کی بات نہیں کہ جس ملک کو لاالہ الا اللہ کے انتہائی عظیم الشان “ با مقصد “ اور دلوں کو نیا جوش اور ولولہ عطا کرنے والے نعرہ لگا لگا کر حاصل کیا گیا تھا ، ہم اپنی لا حاصل اور بے جا خواہشات کی نظر کر دیں گے؟ اللہ اور اس کے رسول ﷺکے بالمقابل حالت جنگ میں ہوتے ہوئے پاکستان مختلف بلاؤں کے نرغہ میں آچکا ہے۔ چشم تصور میں اگر تمام حقائق اجاگر ہوجائیں Complete Realization تو ہر پاکستانی کا دن کا چین اور رات کا آرام حرام ہوجائے گا۔

ان بلاؤں میں سے چند کا ذکر کرتے ہیں۔

جنسی جرائم جو ان خطوں میں سننے کو نہیں آتے تھے اب روزانہ کی خبروں کا حصہ ہوتے ہیں۔اطلاعات کی شاہراہ (Information Super Higjhway) پر جنس و جرائم کی ریڈیائی لہریں ہمارے ہم وطنوں کے اعصاب پر پوری شدت سے حملہ آور ہو رہی ہیں۔گاؤں ہو یا شہر ، میدان ہو یا پہاڑ سب جنسی جرائم کی آماج گاہ بنتی جارہی ہیں۔ پہلے کوئی شخص گینگ ریپ (Gang Rape) کے فعل بد سے آشنا نہیں تھا۔ اب یہ لفظ میڈیا میں بلا جھجھک استعمال ہوتا ہے۔ شائد پہلے کبھی ان واقعات کے علم میں آنے کے بعد خون کے آنسو بہانا آسان تھا ، فی الوقت حس اور حیرانگی بھی جواب دے گئی ہے۔ہادیِ برحق ﷺکے مندرجہ ذیل برحق ارشادات کی روشنی میں “ ایسا کیوں ہورہا ہے “ کے سوال کا جواب دانشوران قوم کو تلاش کرنا پڑے گا۔

رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ:” سود اتنا بڑا گناہ ہے کہ اس کو اگر ستر اجزا ء میں تقسیم کیا جائے تو ہلکے سے ہلکا جزو اس گناہ کے برابر ہوگا کہ آدمی اپنی ماں کے ساتھ زنا کرے۔” (ابن ماجہ)
کیا اس شہوانیت کی سونامی کی وجہ سود کی لعنت و وحشت میں علی وجہ بصیرت نظر نہیں آرہی ؟ کیا کوئی ہوش مند پاکستانی یہ ماننے میں تامل کرسکتا ہے کہ اس فعل بد کا عمل دخل ملک کی معیشت سے فی الفور خارج ہو جانا چاہئے؟ کیا اس قبیح فعل کے نقصانات واضح ہونے کے باوجود حضوراکرم ﷺکے ارشاد گرامی کی حقانیت اظہر من الشمس نہیں ہوگئی ؟ قرآن پاک کی آیتِ مبارکہ اور حدیث پاک کی روشنی میں خطرات اور محرکات دونوں پوری طرح آشکار ہو چکے ہیں۔طلب مغفرت اور رجوع الی اللہ دائمی امن وامان کے حصول کا ضامن ہو سکتا ہے صرف چشم بصیرت وا کرنے کی دیر ہے۔
اس ایک بلائے بے درمان یعنی فحاشی کی سونامی کے تعین کے بعدایک اور حدیث پاک کے مطالعہ کے ذریعہ اپنے ارد گرد نظر دوڑاتے ہیں کہ کہیں مزید بلاؤں نے ہمارا محاصرہ کرنے کا تہیہ تو نہیں کر رکھا ہے:
رسول اللہ ﷺنے فرمایا کہ: ” میں نے آج رات دو اشخاص کو دیکھا جو میرے پاس آئے اور مجھے بیت المقدس لے گئے ، پھر ہم آگے چلے تو ایک خون کی نہر دیکھی جس کے اندر ایک آدمی کھڑا ہے اور دوسرا آدمی اس کے کنارے پر کھڑا ہے۔ جب نہر کے اندر والا آدمی باہر آنا چاہتا ہے تو کنارے والا آدمی اس کے منہ پر پتھر مارتا ہے جس کی چوٹ سے بھاگ کر وہ پھر وہیں چلا جاتا ہے جہاں کھڑا تھا۔ وہ پھر نکلنے کا ارادہ کرتا ہے تو پھر کنارے والا آدمی وہی معاملہ کرتا ہے۔ آنحضرت فرماتے ہیں کہ میں نے اپنے ان دو ساتھیوں سے پوچھا یہ کیا ماجرا ہے جو میں دیکھ رہا ہوں؟ انہوں نے بتلایا کہ خون کی نہر میں قید کیا ہوا آدمی سود کھانے والا ہے (اپنے عمل کی سزا کھا رہا ہے)۔” (صحیح البخاری، کتاب البیوع)
ہمارے ملک میں بڑھتی ہوئی تخریب کاری جس کو روکنے کا اہتمام اب تک ہم نہ کر پائے ایک ایسی بلا ثابت ہوچکی جس نے جگہ جگہ خون کی نہریں بہا دی ہیں۔ یہ خونریزی اگر دو ممالک کی آپس میں دست و گریباں ہونے کی وجہ سے ہو تو کسی کی سمجھ سے بالا تر نہیں ہوسکتی ۔ یہاں البتہ صورت حال عجیب ہے کہ کسی ملک نے ہم پر حملہ بھی نہیں کیا۔ جس ملک سے ہم ماضی میں مسلسل بر سر پیکار رہے وہ ہماری ہنسی اڑاتا ہے کہ ہم نے اس کا کام آسان کردیا ہے۔ کیا یہ خون کی نہر ہم خود نہیں کھود رہے؟ اس نہر کو پاٹنے کی کوشش میں ہم سودی قرضوں سے امن و امان (Law and Order) قائم کرنے میں مدد دینے والے آلات اور گاڑیاں در آمد کرتے ہیں اور ہوتا یہ ہے کہ ہم اپنے اس سودی عمل سے خونی نہر کو اور گہرا کرتے جارہے ہیں۔اور اس طرح اللہ اور اس کے رسول ﷺ سے جنگ کرنے کے کڑوے ثمرات سے اپنے دامن کو آلودہ کرتے جارہے ہیں۔کبھی نہر کا قیدی (حکومت پاکستان) نہر کے باہر والے پہریدار سے قید سے آزادی کی التجا کرتا ہے جو رد ہو جاتی ہے اور سودی قرضوں کا ایک مہیب پتھر (ورلڈ بینک اور آئی ایم ایف کے توسط سے) نہر کے قیدی (حکومت وقت) کے منہ پر مار دیا جاتا ہے۔ قیدی نہر میں مزید غرق ہوجاتاہے۔ اس طرح قومی قرضوں سے نجات حاصل کرنے کے امکانات معدوم سے معدوم ہوتے جارہے ہیں۔

ہمارے وطن میں ایسے سیاسی گروہوں کی بھر مار ہوتی جارہی ہے جن میں اکثر فاشسٹ لبرل ہیں اور انہیں خفیہ (Clandestine) ذرائع سے ہر قسم کے مہلک ہتھیار مہیا ہو جاتے ہیں۔ یہ لوگ ملک میں نہ صرف خو ف وہراس پھیلانے کا باعث بنتے ہیں بلکہ ملک کے مقتدر اور معزز رہنماؤں کو بے دردی سے قتل بھی کرتے ہیں اور عدلیہ سے اپنی بے گناہی کا پروانہ حاصل کرنے میں دیر بھی نہیں کرتے۔اس طرح ان دو بلاؤں (فحاشی اور تخریب کاری) نے ہمارے ملک کا محاصرہ کیا ہوا ہے اور مکمل حل کی طرف نہ کسی سیاستدان کی رسائی ہے اور نہ ہی کسی دانشور قوم کی کیونکہ اپنی دانست میں وہ سود کو معیشت کا ایک ضروری حصہ سمجھے ہوئے ہیں۔ بد نصیبی کے دھکے ہیں جو پاکستان کے مظلوم عوام کھاتے چلے جارہے ہیں۔

مزید بلائیں جو در پیش ہیں وہ مہنگائی اور کرپشن ہیں۔ اس موضوع پر ذخیرہ احادیث میں سے ایک حدیث مندرجہ ذیل ہے۔:
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :”جب کسی قوم میں سود کا لین دین رواج پا جاتا ہے تو اللہ تعالی ان پر ضروریات زندگی کی گرانی مسلط کردیتا ہے اور جب کسی قوم میں رشوت عام ہو جائے تو دشمنوں کا رعب اور غلبہ ان پر ہوجاتا ہے۔”(مسند احمد)
مندرجہ بالا حدیث مبارک میں رشوت اور سود کا تعلق چودہ سو سال قبل بتایا گیا جس کا اسلام نے قلع قمع کردیا تھا۔ البتہ موجودہ دور ببانگ دُہل ان دونوں بلاؤں کا اثبات کر رہا ہے بلکہ ان کا چولی دامن کا ساتھ اظہر من ا لشمس پوری وضاحت کے ساتھ کرہ ارض پر بسیرا کرنے والوںکو اظہار ابلاغ کے تمام ذرائع سے کراتا چلا جارہا ہے۔

فا عتبروا یا اولی الابصار۔
اب ہم چند مثالوں سے مزید وضاحت کرنا چاہیں گے۔

رشوت خور حکومتی کارکن حکومت سے اپنی کارگزاری (خواہ کیسی ہی ہو) کا صلہ حکومت سے پوری تنخواہ اور الاؤنس (اصل زر) کی شکل میں حاصل کرتا ہے۔ مگر وہ اپنی ہوس زر کی خاطر عوام الناس سے طلب رشوت (سود کی ایک شکل) کی شدید خواہش بھی رکھتا ہے۔ مثلاً ایک سرکاری وکیل قتل کے ایک ملزم ( مضبوط شواہد کی بنیاد پر بادی النظر (Prima Facie ) میں مجرم ) کی جرح عدالت کے روبرو کرنے کے لیے سرکار سے ایک ہزار روپیہ لیتا ہے۔ چونکہ مؤکل کا مفاد “ہاتھ ہولا رکھنے’ ‘ پر منحصر ہوتا ہے اس لیے وکیل دس ہزار رشوت (بمعنی سود ) سے اپنی ناتواں معیشت کی درستگی پر جٹ جاتا ہے۔ ایسے ہزاروں وکلا اپنے باس کی خوشنودی کی تمنا میں اور ان کے ہم عصر (دیگر محکمات) کروڑوں اربوں روپے کی ہیر پھیر (Kick Backs and Horse Trading etc) میں ملوث ہوتے ہیں۔ یہ بین ثبوت ہے صادق و مصدوق ﷺکے اس قول کا کہ “ اللہ تعالی ان پر ضروریات کی گرانی مسلط کر دیتا ہے “ جو قوم کی آنکھیں کھول دینے کے لیے کافی و شافی ہو جاتا ہے۔

مندرجہ بالا بلا اپنے وطن پر اس طرح مسلط ہوگئی ہے کہ بعض حلقوں میں کہا جاتا ہے کہ پاکستان کرپشن (Corruption) میں دنیا بھر کے ممالک میں اولین درجے پر فائز ہے۔ حدیث پاک کا بقیہ حصہ “ اور جب کسی قوم میں رشوت عام ہوجائے تو دشمن کا رعب و غلبہ ان پر ہوجاتا ہے” پوری طرح اور روز روشن کی طرح عیاں ہوجاتا ہے۔ جتنا دفاعی سازوسامان سودی قرضوں کے ذریعہ سے لے کر اپنی فوجوں کے حوالہ کیا جائے گا اسی تناسب سے وہ اغیار کے رعب و دبدبہ کا شکار ہوتی رہیں گی۔نہ سودی قرضوں سے نجات ملے گی اور نہ ہی دشمنوں کے چنگل سے۔یہ کیسی دفاعی تیاری ہے ؟ کیا یہ عقلمندی کا فقدان نہیں ہے۔ کیا حکمران قوم کے حالات از خود خسارہ کے سالانہ بجٹ کے ذریعہ گرانی کے سپرد نہیں کررہے؟ سود کی بلا از خود اپنی گردنوں پر سوار کرنے والے سو ائے گرانی کے عذاب ( معیشتاً ضنکاً ) (القرآن) کے سوا اور کس چیز کے مستحق ہو سکتے ہیں ۔ یہ ایک (دائرة السوء )(التوبة) یعنی Vicious Circleہے۔ مکروہ دولت کی گردش ان حکمرانوں ، مرکزی بینک کے عہدہ داروں ، صنعت کاروں ، سیاست دانوں اور جاگیر داروں کے نعرہ “ھل من مزید” کی تکرار ختم ہونے کا نام نہیں لیتی۔ عوام “ کالا نعام “ انتہائی عسرت ( Abject Poverty) کی زندگی گزارنے پر مجبور کر دئے گئے ہیں۔

کرہ ارض پر رہنے والے نسل در نسل دو واضح طبقات میں بٹ گئے۔ اول الذکر افراد اپنے معیار زندگی ( اقوام متحدہ کے منظور شدہ الفاظ Quality Of Life ) بلند سے بلند کرنے کی دوڑ دھوپ میں مصروف ہوگئے اور اپنے لیے Havesکا لقب پا گئے۔ عسرت زدہ موخرالذکر Have Nots کی صفت سے مزین ہوئے اور حشرات الارض کے لیول کے زمرہ میں شمولیت پر مجبور کر دئیے گئے۔ یا حسرةََ علی العباد۔۔۔

ہائے افسوس متاعِ کارواں جاتا رہا
کارواں کے دل سے احساس زیاں جاتارہا

Haves کا طبقہ فساد فی البر و البحر کے فتنہ کی آگ شب و روز بھڑکا رہا ہے ۔ اس کے نتیجہ میں Have Nots کا طبقہ تعداد میں روز بروز بڑھ رہا ہے اور ساتھ ساتھ ان کی زندگی کی ڈور کا سرا ان کے ہاتھوں سے چھوٹ بھی رہا ہے۔
ایک عقلمند آفاقی دنیا کی مشاہدات سے اور اللہ اور اس کے رسول ﷺکی تمثیلات سے اپنی روحانی و اُخروی زندگی کا ڈھب پوری طرح نہ صرف سمجھ سکتا ہے بلکہ اپنے آپ کو اور دیگر برادران اسلام کوان بلاؤں سے تحفظ دلانے کی تدبیر بھی کر سکتا ہے۔
رسول اللہﷺ ان خوفناک بلاؤں کے شکار لوگوں کی روحانی اور اُخروی زندگی کا ڈھب کیا ہوگا ، بتاتے ہیں :“ جب ہم ساتویں آ سمان پر پہنچے تو میں نے اپنے اوپر رعد و برق کو دیکھااس کے بعد ہم ایسی قوم پر سے گزرے جن کے پیٹ رہائشی مکانات کی طرح پھیلے اور پھولے ہوئے ہیںاور جن میں سانپ بھرے ہوئے ہیں جو باہر سے نظر آ رہے ہیں۔ میں نے جبرائیل امین سے پوچھا کہ یہ کون لوگ ہیں ؟ انہوں نے فرمایا : یہ سود خور ہیں۔”(مسنداحمد)
حسرت زدہ مسلم کے سَلَم (Slum) علاقوں سے الگ تھلگ پوش (Posh) ماحول میں تعمیر شدہ وسیع و عریض مکانات سودی قرضوں کے طفیل وجود میں آتے ہیں۔ بعد ازاں انکی رجسٹریاں (Sale Deed) رہن رکھ کر Mortgage بنکوں سے مزید سودی قرضے لیتے ہوئے دکانوں اور مکانوں کی تعمیر کا ایک طویل سلسلہ چل نکلتا ہے۔ پھر کیا تعجب کہ ایسی تعمیر میں مضمر خرابی ایسی ہو جیسی صادق و مصدوق ﷺہمیں بتا گئے ہیں اور قیامت میں سود خوروں کے حرص و آز کے مسکن پیٹ ان دنیاوی ماڈل ( Global Village) کی اسکائی اسکریپر Sky Scraperکے مطابق مگر اُخروی تناسب سے بہت بڑے بنا دئیے جائیں گے۔ اگر سود خور آ سمان چھیلنے کا بے ہودہ نام اپنی تعمیرات کو دیتے ہیں تو آسمان والا جہنم میں یقینا انہیں ابد الاباد دہکتے ہوئے لوہے کے کنگھوں سے چھیلنے کے عذاب سے بھی نوازے گا اور کیا خوب کہ ان محلات پر نصب سیٹیلائٹ رسیورز اور ڈش ائنٹینے ان دوزخی سانپوں کے مشابہ ہوں جس کا تذکرہ حدیث بالا میں آیا ہے۔ یا یہ سانپ ان اینٹیناکے جوڑ ‘ تیزی سے بدلتے ہوئے جدید اور مختلف انواع کے Multimedia آلات ابلاغ ‘ سے کرتے ہوئے کروڑوں ناظرین و سامعین کے سمع و بصر کے نظام کو زہر آلود کر رہے ہوں۔ اس زہر کے تریاق کی تلاش مفقود ہونے کے سبب گھناؤنے جنسی جرائم پر کمر بستہ شر پسند افراد کی لاٹری نکل آئی اور ملک میں انہوں نے فحاشی اور عریانی کے بے شمار اڈے کھول دئیے اور اندھا دھند غرق دریا ہوگئے۔

اب ان لا حاصل خواہشات کے بندوں کے بارے میں ہمارے حضور رسالت مآ ب ﷺکیا ارشاد فرما گئے ہیں مطالعہ کیجئے:“ پس قسم اللہ کی میں فقر و افلاس سے تمہارے لیے نہیں ڈرتا بلکہ اس بات سے ڈرتا ہوں کہ دنیا تم پر پھیلائی جائے گی جس طرح تم سے پہلوں پر پھیلائی گئی اور جس طرح انہوں نے باہم رشک و تنافس کیا ، اسی طرح کہیں تم بھی نہ کرو اور تم بھی غافل نہ ہو جاؤ جس طرح وہ ہوگئے۔” (بخاری)
ایک اور جگہ ارشاد فرمایا :
“ اشرفیوں اور روپوں والے جھالر دار لباس والے سیاہ عبا والے سب گرے اور ہلاک ہوئے۔” (بخاری)
ایک اور جگہ ارشاد فرمایا :
“ اگر آدم کے بیٹے کے پاس مال کی دو وادیاں ہوں تو وہ تیسری کی تلاش میں مصروف ہوگا۔ اور آدم کے بچے کا پیٹ (یا آنکھ) مٹی کے سوائے کوئی چیز نہیں بھر سکتی۔”(بخاری)
پاک سر زمیں پر غلاظت اور گندگی کے ڈھیر پر انتہائی غریب عوام کے بچوں ، بوڑھوں اور نوجوانوں کے موت کا انتظار کرتے ہوئے لاشے نظر آنے لگے ہیں۔یہ قومی ہیومن ریسورس (Human Resource) کی دولت ہیروئین اور دیگر منشیات کی نذر ہوگئی۔ ان کے بدلے میں ڈرگ مافیہ معاشرہ کی سیاست اور معیشت پر چھا گیا اور وطن کو پنجہ اغیار پھنسا گیا۔
وطن کے ایک پہاڑی درے آدم خیل میں ہتھیار جہاد فی سبیل اللہ کے لیے ذوق و جذبہ سے بنا کرتے تھے۔ اب قوم کی بد قسمتی ہے کہ شیطان نے اس پاکیزہ صنعت کا رخ تخریب کاری اور ڈکیتی کی طرف موڑدیا۔اب اس سے ایک اور مافیا وجود میں آگیا ہے یعنی ایک بلا دوسری بلا کو جنم دے رہی ہے۔ ان تمام مافیاؤں کی حرام رقومات سودی دلدل کو ہولناک انداز میں گہرا کرتی چلی جارہی ہیں اور اللہ اور اس کے رسول اللہ ﷺسے پاکستان کی جنگ نہ صرف شدت اختیار کرتی جارہی ہے بلکہ اس کے ختم ہونے کے آثار معدوم ہوتے جارہے ہیں۔
ایسی دولت کی بے بضاعتی کا اظہار مالک الملک اس طرح کرتے ہیں :“ یقین رکھو جن لوگوں نے کفر اختیار کیا اور کفر کی ہی حالت میں جان دی ان میں سے کوئی اگر اپنے آپ کوسزا سے بچانے کے لیے روئے زمین بھر کر بھی سونا فدیہ میں تو اسے قبول نہیں کیا جائے گا۔ ایسے لوگوں کے لیے دردناک سزا تیار ہے اور وہ اپنا کوئی مددگار نہ پائیں گے۔”( آل عمران :٩١)
کثیر تعداد میں پیدا ہونے والی بلاؤں کے غول کے غول پوری قوم پر اپنی سودی دولت سے خدائی جنگ کی شدت بڑھانے کی وجہ سے بے شمار مصائب کے بادل چھا گئے اور سود کے عظیم گناہ سے بچنے کا جو داعیہ لوگوں کے دلوں میں وقتاًفوقتاً ان کے ایمان کے تقاضوں کی بنیاد پر پیدا ہوتا رہا ، وائے افسوس ختم ہو چکا ہے۔ ١٩٨٠ کے عشرہ میں ایماندار طبقے نے اربوں روپے اکل حلال کمانے کے ذرائع میں اپنی معیشت کو ترویج دینے کے لیے لگائے۔مگر ملک کے سودی گماشتے گدھوں کی طرح ان پر ٹوٹ پڑے ۔ اب مہذب اور ترقی یافتہ اکیسویں صدی کا دور دورہ ہے۔ بے شمار بوڑھوں ، یتیموں اور بیواؤں کی دنیا اجڑ گئی بلکہ ان اجڑے ہوئے افراد میں سے بیشتر اللہ کو پیارے ہوگئے اور ایک نسل جوان ہوگئی۔ حکمران بشمول عدل و انصاف مہیا کرنے والے ادارے منقار زیر پر رہے۔ ؎ ناطقہ بر سر گریبان ، اسے کیا کہئے

عالمی پیمانے پر سودی گماشتوں کا آپس میں مضبوط گٹھ جوڑ ہوگیا۔ ملکی سطح پر ( جبکہ قدرت خداوندی ٤٠ سال قبل ملک کو بطور سزا دو لخت کر چکی تھی) حرام مال بغیر کسی لیت و لعل کے حلال کردیا گیا۔بالفاظ دگر کالا دھن سفید کرنا۔ ( Money Laundering )۔ اس طرح حرام کاری سے کمایا ہوا روپیہ حلال آمدنی پر غالب آگیا ، بڑھ گیا اور کافی بڑی مقدار میں ملک سے باہر فرار ہوگیا اور ہوتا چلا جارہا ہے۔ غیر ملکیوں کو کھلی آزادی ہے کہ وہ اس سرمایہ کو ملک کے اسٹاک ایکسچینج سے ایک مرکھنے بیل (Bullish) کی طرح یا برفانی ریچھ ( Bearish) کی مانند انتظار کرو اور ہڑپ کر جاؤ والی چالوں کے ذریعہ نکالے ہوئے سرمایہ کو ملک سے باہر تحفظ دینے والے جزائر میں ان کا انبار لگا دیں ۔ کیا یہ اپنے ہاتھوں اپنی جڑیں کھودنے کے مترادف نہیں۔ محاورةً کہا جاسکتا ہے کہ ؎ اس گھر کو آگ لگ گئی گھر کے چراغ سے۔

برطانوی اصول قانون کی متابعت کرتے ہوئے پاکستانی عدالت عُلیہ و عُظمیٰ نے نہ صرف سودی معاملات کو حلال کر رکھا ہے بلکہ متعلقہ مقدمات کا رخ فوجداری قوانین سے نتھی کرنے کی بجائے دیوانی طریقہ کار کی طرف موڑ دیا۔ شائد عدلیہ حالت تردد میں ہو کہ رب کائنات بہمراہ رسول اللہ ﷺنے (بحوالہ آیت ٢٧٩ سورة بقرہ ) صرف الٹی میٹم پر اکتفا کیا ہو اور جنگ نہ چھیڑی ہو۔
معلوم ہونا چاہئے کہ خدائی افواج کی طاقت کیا ہے:“ اور تیرے رب کے لشکروں کو خود اس کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ “ (سورة المدثر : ٣١)
یعنی اللہ تعالیٰ نے اس کائنات میں کیسی کیسی مخلوقات پیدا کر رکھیں ہیں اور ان کو کیا کیا طاقتیں بخشی ہیں اور ان سے وہ کیا کیا کام لے رہا ہے ، ان تمام باتوں کو اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ ایک چھوٹے سے کرہ زمین پر رہنے والا انسان اپنی محدود نظر سے اپنے گرد و پیش کی چھوٹی سی دنیا کو دیکھ کر اگر اس غلط فہمی میں مبتلا ہو جائے کہ خدا کی خدائی میں بس وہی کچھ ہے جو اسے اپنے حواس یا اپنے آلات سے محسوس ہوتا ہے ، تو یہ اس کی اپنی ہی نادانی ہے۔ وگرنہ تو اس خدائی کا کارخانہ تو اتنا وسیع اور عظیم ہے کہ اس کی کسی ایک چیز کا بھی پورا علم حاصل کرلینا انسان کے بس میں نہیں ہے کجا یہ کہ اس کی ساری وسعتوں کا تصور بھی اس کے چھوٹے سے دماغ میں سما سکے۔

آج سے ٣٩ سال قبل پاکستان کے متفقہ آئین میں نہ صرف اللہ سبحانہ و تعالیٰ کو مقتدر اعلیٰ تسلیم کیا گیا ہو بلکہ ریاست کا دین بھی اسلام کو متعین کیا گیا ہو ، پھر سود سے پیچھا چھڑانے کا جتن تک نہ کرنا اور مالک الملک کے غضب کو بھڑکانا اپنی پوری قوم اور ملک کو جلد از جلد تباہی کے مہیب غار میں دھکیلنے کا موجب نہیں ہے تو اور کیا ہے۔ سب سے پہلا قدم ایک حکمران کے لیے عموما ً اور ایک منصف اعلیٰ کے لیے خصوصاً یہ سمجھنے کے لیے ضروری ہے کہ حلال (قانونی Legal/Judicial ) اور حرام (Void/Abinitio) کے مُطلق اختیارات صرف باری تعالیٰ کے ہیں ۔ قرآنی فیصلہ حسب ذیل ہے:
“ اور یہ جو تمہاری زبانیں جھوٹے احکام لگایا کرتی ہیں کہ یہ حلال ہے اور وہ حرام ، تو اس طرح کے حکم لگا کر اللہ پر جھوٹ نہ باندھا کرو۔ جو لوگ اللہ پر جھوٹے افتر ا باندھتے ہیں وہ ہر گز فلاح نہیں پاتے۔ دنیا کا عیش چند روزہ ہے۔ آخر کار ان کے لیے درد ناک سزا ہے۔”( سورة النحل:١١٦- ١١٧)
مندرجہ بالا آیات صاف تصریح کرتی ہیں کہ اللہ کے سوائے کوئی تحلیل و تحریم کا حق نہیں رکھتا۔ یا بہ الفاظ دیگر ، قانون ساز صرف اللہ ہے۔ دوسرا کوئی بھی ادارہ جو جائز اور نا جائز کا فیصلہ کرے گا وہ اپنی حد سے تجاوز کرے گا الا یہ کہ وہ قانون الٰہی کو سند مان کر اسکے فرامین سے استنباط( Deduce) کرتے ہوئے یہ کہے فلاں چیز اور فلاں فعل جائز ہے اور فلاں ناجائز۔ ایک خود مختارانہ تحلیل و تحریم کو اللہ پر جھوٹ اور افترا اس لیے فرمایا گیا کہ جو شخص اور ادارہ اس طرح کے احکامات لگاتا ہے اس کا یہ فعل دو حال سے خالی نہیں ہوسکتا۔ اولا ً وہ اس بات کا دعوی کرتا ہے کہ جسے وہ کتاب الٰہی کی سند سے بے نیاز ہو کر جائز یا ناجائز کہ رہا ہے اسے خود اللہ نے جائز اور ناجائز ٹھہرایا ہے۔ ثانیا ً یہ کہ اس کا دعویٰ ہے کہ اللہ نے تحلیل و تحریم کے اختیارا ت سے ( نعوذ باللہ) دست بردار ہوکر انسان کو خود اپنی زندگی کی شریعت بنانے کے لیے آزاد چھوڑ دیا ہے۔ان میں سے جو دعویٰ بھی کیا جائے وہ لا محالہ جھوٹ اور اللہ پرافترا ہے۔

کرپشن کے خاتمہ میں اسلام کا کردار

عہد حاضر میں انسانیت کے لئے جو مسائل زیادہ پیچیدہ ہو گئے ہیں ان میں سب سے اہم بدعنوانی اور کرپشن کا مسئلہ ہے یہ ایک ایسا مسئلہ ہے جس سے آج پورا انسانی معاشرہ پریشان ہے۔ وہ اس دلدل سے نکلنے کے لئے ہاتھ پیر مار رہا ہے لیکن اس سے باہر نکلنے کی تمام کوششیں ناکام ثابت ہورہی ہیں۔ معاشرے کو گھن کی طرح چاٹ کر کھوکھلا کرنے والی اس مہلک بیماری کا کوئی علاج دنیا کے پاس نہیں ہے۔ آج شاید ہی کوئی انسان ہو جسے دانستہ یا نادانستہ رضایا مجبوری سے بدعنوانی اور کرپشن میں ملوث نہ ہونا پڑتا ہو۔ خاص کر ہمارے ملک ہندوستان میں بدعنوانی کی شرح ۶۹فیصد ہے جو ہمارے ملک کو دنیا کے بڑے بدعنوان ملکوں کی صف میں کھڑا کرتا ہے۔

اس وقت ملک کی صورت حا ل کس قدر خراب ہے اس کا اندازہ اس بات سے کیجئے کہ آج ملک کی۶۹ فیصد عوام اپنے جائز کاموں کے لئے بھی رشوت دینے پر مجبور ہیں۔ حکومت کا کام عوام کی فلاح و بہبودہے، لیکن ہمارے سرکاری محکموں کا حال یہ ہے کہ وہاں اپنا کام کرانے کے لئے ۵۲ فیصد لوگوں کو مجبوراََرشوت دینا پڑتی ہے۔ محکمہ قانون کی صورتحال اس سے بھی زیادہ خراب ہے یہاں کرپشن کی شرح۶۲فیصد ہے۔ اسی طرح ملک کے ۶۰ فیصد لوگ ٹریفک پولیس کو رشوت ادا کرتے ہیں، یہ رقم سال میں ۱۵۰۰ کڑوڑ روپے تک پہونچ جاتی ہے۔ محکمۂ تعلیم اور محکمۂ صحت میں ہونے والی بد عنوانیوں کا یہ حال ہے کہ یہاں ہر ہر قدم پرعوام کا استحصال کیا جاتا ہے اور بے چاری عوام کو کو چارو نا چار اس میں ملوث ہونا پڑ تا ہے۔ ان دونوں محکموں میں ہونے والی بدعنوانی کی رقم سال میں سوا تین لاکھ کڑوڑ تک پہنچ جاتی ہے، جو ہمارے دفاعی اور رفاہی بجٹ سے بھی زیادہ ہے۔
اگر ملک کی سیاست کی بات کریں تو یہاں ۷۸ فیصد سیاسی قائدین بد عنوان ہیں جبکہ ۳۱ فیصدممبر پارلیمنٹ ایسے ہیں جن پر کوئی نہ کوئی فرد جرم عائد ہے۔ بدعنوانی کا گھن ملک کو کس طرح چاٹ رہا ہے اس کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ ملک کی دولت کا بڑا حصہ کالے دھن کی شکل میں سوئیز بینکوں میں جمع ہے۔ جس کی مالیت ۲۵ لاکھ کڑوڑ روپیے بتائی جاتی ہے۔ یہ رقم اتنی زیادہ ہے کے وزیر اعظم نے اپنے انتخابی ایجنڈے میں اس رقم کی واپسی کو ہی اہم مدعا بنایا تھا اور کہا تھا کہ اگر یہ رقم واپس آجائے تو ہر ہندوستانی کے حصہ میں ۱۵ لاکھ روپے آئیں گے۔ ہمارے ملک میں جو رقم بدعنوانی کے نذر ہوتی ہے اس کا تخمینہ تین کھرب انیس ارب بہتر کڑوڑ پچاس لاکھ روپئے سالانہ لگایا گیا ہے۔
ایسا نہیں ہے کہ حکومت نے کرپشن کے سد باب کے لئے اقدامات نہیں کئے۔ حکومت برابراس کے خاتمہ کے لئے کوششیں کر رہی ہے اور اس کے سد باب کے لئے سخت ترین قوانین بھی بنائے گئے ہیں۔ لیکن اس سب کے با وجود حال یہ ہے ’’مرض بڑھتا گیا جوں جوں دوا کی‘‘۔ در اصل حکومتیں قوانین تو بنا لیتی ہیں لیکن ان کے نفاذ کے سلسلے میں وہ انصاف کے تقاضوں کو پورا نہیں کرتیں، جس کی وجہ سے ظالموں کے حوصلے بلند ہوتے ہیں اور کمزوروں کا استحصال ہوتا رہتا ہے۔ حکومت کی اسی غلطی کی وجہ سے یہ بیماری کنٹرول سے باہر ہوتی جارہی ہے۔ یہاں تک کے ہمارے عوام بھی ماننے پر مجبور ہو گئے ہیں۔ کہ ہمارا ملک اس دلدل سے کبھی نہیں نکل پائے گا۔ غور کیجئے تو ان کا کہنا شاید درست بھی ہو، کیونکہ حکومتی سطح سے لیکر پرائیویٹ سطح تک اوپر سے نیچے تک پورا کا پورا نظام اس گندگی میں لت پت ہے، سب بے باک اور بے خوف ہو کر کمزوروں اور لاچاروں پر ظلم میں ایک دوسرے سے بازی لے جانے کو شش کر رہے ہیں۔
بدعنوانی کے اسباب
بدعنوانی یا کرپشن کی بہت سی وجوہات ہیں اس موضوع پر مطالعے کے بعد اس کے پیدا ہونے کے جو بنیادی اسباب سامنے آئے ہیں وہ یہ ہیں۔
(۱) اس بات پر یقین نہ ہونا کہ اللہ حاضر و ناظر اور سمیع و بصیر (۲)اس بات پر یقین نہ ہونا کہ مرنے کے بعد ایک دائمی زندگی ہوگی۔ (۳) آخرت میں خدا کے حضور پیشی اور دنیا وی اعمال کے حساب وکتاب اور ان پر جزا و سزسے بے خوفی(۴)مال کے بارے میں غلط تصور کہ یہ انسان کی ذاتی ملکیت ہے اوروہ اس کے معاملہ میں خود مختار ہے (۵)ضرورت مندوں پر مال خرچ کرنے پرملنے والے اجرو ثواب اور بخل سے متعلق وعیدوں سے لاعلمی(۶) زیاد سے زیادہ مال جمع کرنے کی چاہت (۷) حلال و حرام سے عدم واقفیت (۸) حقوق العباد سے لاعلمی (۹)سود (۱۰) شراب و جوا، اور دیگر نشہ آور چیزیں (۱۱)فحاشی(۱۲) لالچ(۱۳)خود غرضی ومفاد پرستی۔ (۱۴)مسابقت الی الشر۔
کرپشن کا علاج
بدعنوانی کے پیدا ہونے کے جو اسباب اوپر بیان کئے گئے ہیں ان کا حل اور علاج اسلام کے سوا دنیا کے کسی مذہب اور تحریک کے پاس نہیں ہے۔ بدعنوانی در اصل حق تلفی کا دوسرا نام ہے، زندگی کے تمام شعبے اس سے متعلق ہیں او رکیونکہ اسلام میں بدعنوانی کا مفہوم بہت وسیع ہے، اسلام نے اسے صرف رشوت تک محدود نہیں کیا بلکہ حقوق العباد کے تمام شعبے اس میں شامل کئے ہیں۔ اس لئے اسلام اس کے سد باب میں ۱۰۰ فیصد کامیاب رہا ہے۔
اس بیماری کی دوا صرف اسلام کے پاس ہے: یہ ایک کھلی حقیقت ہے کہ اس دنیا سے کرپشن کا خاتمہ اس وقت تک ممکن نہیں جب تک اس سے نکلنے کا کوئی ایسا راستہ نہیں دکھا یا جائے جس پر چلنے کو ہر شخص تیار ہوجائے، اور ایساکوئی پیغام نہ سنایا جائے جوخود لوگوں کے دلوں کی آواز ہو۔
بلاشبہ اسلام ہی وہ اکلوتا مذہب ہے جو انسانوں کو کسی راہ پر تنہا نہیں چھوڑتا۔ وہ ان کا کا ہاتھ تھام کرانھیں ہر تنگ و تاریک راہ سے گزار لے جاتا ہے۔ زندگی کا کوئی شعبہ ایسا نہیں جہاں اسلام ایک مکمل راہنما کی حیثیت سے موجود نہ ہو۔ لیکن یہ دنیا کی محرومی ہے کہ وہ اسلام کے آغوش میں آکر اپنے مسائل کو حل کرنے کے بجائے انھیں دردرلئے پھرتی ہے، جہاں اس کے مسائل سلجھنے کے بجائے مزید الجھتے چلے جاتے ہیں۔
جہاں تک بدعنوانی کے خاتمہ کا مسئلہ ہے تو اسلام ہی وہ مذہب ہے جواس ناگ کا سر کچل کر ہراس سوراخ کو بند کر تا ہے جہاں سے اس کے سر نکالنے کا اندیشہ ہو۔ وہ اس مہلک بیماری کا نہ صرف مکمل علاج کرتا ہے بلکہ اس کو پیدا کرنے والے جراثیموں کی بھی نسل کشی کردیتا ہے۔
اب سوال یہ اٹھتاہے کہ اسلام کے پاس ایسا کونسا نظام ہے جو اس ناممکن کو ممکن بنا سکتا ہے؟
اسلام دلوں کی آواز ہے:
اس کا جواب یہ ہے کہ اسلام کی سب سی بڑی خوبی یہ ہے کہ وہ انسانوں کے دلوں کی آواز اور انکی فطرت ہے۔ وہ ان کے دلوں میں اتر کر ان میں ایسے خدا کا یقین پیدا کرتا ہے جو سارے عالم کا تن تنہا بادشاہ ہے۔ اسلام یہ یقین دلاتا ہے کہ اس کائنات میں جو کچھ ہے سب کچھ خدا نے پیدا کیا ہے۔ کائنات کی ہر شے اسی کے قبضۂ قدرت میں ہے یہاں جوکچھ ہورہا ہے وہ سب کچھ اسی کے حکم سے ہو رہا ہے، اور کوئی چیز اس کے علم سے باہر نہیں ہے۔
ایک حاضر وناظر مالک کا یقین
اسلام انسان کے دلوں میں اس بات کا یقین پیدا کرتا ہے کہ کائنات کی کوئی چھوٹی بڑی چیز اللہ سے پوشیدہ نہیں وہ انسانوں کے تمام اعمال کو دیکھ رہا ہے، اسے سب کے دلوں کاحال معلوم ہے، اس نے اپنے فرشتوں کو انسان کے ہر ہر عمل اور احساس کو ریکارڈکرنے کا کام سونپ رکھا ہے، اور ایک د ن ہم سب کو مرنا ہے اور اس کے حضور پیش ہونا ہے، اس دن وہ ہمارے تمام اعمال کا ریکارڈ ہمار ے سامنے پیش کریگا۔ ہمارا ہر وہ عمل جو ہم نے دن کی روشنی میں اور رات کے اندھیرے میں برسر عام یا تنہائی میں کیا تھا، ہمارے سامنے اس کی ریکارڈنگ چلادی جائے گی اور جنت اور دوزخ کا فیصلہ انھی اچھے برے اعمال کی بدولت کیا جائے گا۔ قرآن میں اللہ فرماتے ہیں :’’کَلَّا بَلْ تُکَذِّبُونَ بِالدِّین* وَإِنَّ عَلَیْکُمْ لَحَافِظِیْنکِرَاماً کَاتِبِیْنَ یَعْلَمُونَ مَا تَفْعَلُونَ إِنَّ الْأَبْرَارَ لَفِیْ نَعِیْمٍ* وَإِنَّ الْفُجَّارَ لَفِیْ جَحِیْم*ٍ یَصْلَوْنَہَا یَوْمَ الدِّیْنِ *وَمَا ہُمْ عَنْہَا بِغَاءِبِیْنَ’’* (الانفطار:۹تا۱۶) (ہر گز ایسا نہیں ہونا چاہئے۔ لیکن تم لوگ سزا و جزا کے دن کو جھٹلاتے ہو۔ حالانکہ، تم پر کچھ نگہبان (فرشتے) مقرر ہیں۔ وہ معزز لکھنے والے ہیں (ہر ہر عمل کو نوٹ کرنے والے ہیں )۔ جو تمہارے سارے کاموں کو جانتے ہیں۔ یقین رکھو کہ(آخرت میں ) نیک لوگ بڑی نعمتوں میں ہونگے۔ اور برے و بدکار لوگ ضرور دوزخ میں ہونگے۔ وہ اس (دوزخ)میں سزا و جزا کے دن داخل ہونگے۔ اور وہ اس سے غائب نہیں ہو سکیں گے)۔
دنیا وی اعمال پر حساب وکتاب کا یقین
اسلام یہ تصور دیتا ہے کہ اللہ نے دنیا وی زندگی کو صرف اچھے اور برے اعمال کی آزمائش کے لئے بنایا ہے۔ ارشاد فرمایا:
’’َّالذِیْ خَلَقَ الْمَوْتَ وَالْحَیَاۃَ لِیَبْلُوَکُمْ أَیُّکُمْ أَحْسَنُ عَمَلاً وَہُوَ الْعَزِیْزُ الْغَفُور‘‘(الملک:۲)
(اللہ ہی ہے) جس نے موت اور زندگی کو پیدا کیا تاکے وہ تمہارا امتحان لے کہ تم میں کون سب سے اچھے عمل کرنے والا ہے)۔
ارشاد نبوی ہﷺہے:’’ لا تزول قدماعبدیوم القیامۃ حتیٰ یسأل عن اربع:عن شبابہ فیما أبلاہ، وعن عمرہ فیما افناہ، وعن مالہ من أین جمعہ وفیم أنفقہ و عن علمہ ماذا عمل فیہ‘‘(رواہ الترمزي)۔ نبی پاک ﷺ کا ارشاد ہے کہ قیامت کے دن آدمی اس وقت تک اپنے قدم نہیں ہلا سکے گا جب تک چارچیزوں کے بارے میں جواب نہ دے دے: جوانی کے بارے میں سوال کیا جائے گا کہ اس کو کہاں خرچ کیا، عمر کے بارے میں پوچھا جائے گا کہ وہ کہاں گزاری، مال کے بارے میں سوال ہوگا کہ وہ کیسے جمع کیا اور کہاں کہان خرچ کیا، اور علم کے بارے میں پوچھا جائے گا کہ اس پر کتنا عمل کیا۔
دنیا دا رالامتحان ہے
اسلام یہ تصور دیتا ہے کہ انسان کی اصل زندگی اخروی زندگی ہے جو ہمیشہ ہمیش کی ہے، جبکہ دنیا وی زندگی فانی ہے۔ دنیا دار العمل اور دارالامتحان ہے اور آخرت اس کی جزاء ہے۔ اس لئے اپنے دلوں میں دنیا کی محبت کو نہ بسایاجائے بلکہ تمام اعمال میں آخرت ہی مطمح نظر ہو۔ قرآن کہتا ہے۔ ’’ٍ قُلْ مَتَاعُ الدَّنْیَا قَلِیْلٌ وَالآخِرَۃُ خَیْْرٌ لِّمَنِ اتَّقَی وَلاَ تُظْلَمُونَ فَتِیْلا‘‘ََ(النساء :۷۱) (اے نبی کہہ دیجئے !دنیاوی نعمتیں تو چند روزہ ہیں، لیکن آخرت بہت بہتر ہے اس کے لئے جو تقوے والا ہو، اور(اللہ کے یہاں کسی پر) دھاگے کی برابر بھی ظلم نہیں کیا جا ئے گا)۔ اس سے معلوم ہوا کہ اسلام کے نزدیک دنیا وی نعمتیں ان نعمتوں کے سامنے کوئی حیثیت نہیں رکھتیں جن کواللہ نے اخروی زندگی میں نیک عمل کرنے والوں کے لئے بنا یا ہے۔ چنانچہ جس شخص کے دل میں اخروی زندگی کا یقین خدا کے حاضر و ناضر ہونے پرا یمان اور آخرت میں اپنے ہر عمل کی جوابدہی کا احساس پیدا ہوجائے وہ کبھی بھی کسی کی حق تلفی کے بارے میں نہیں سوچ سکتا۔ بلک وہ تو حقوق العباد کی ادائیگی کو اپنا فرض منصبی جانے گا اور ان کی ادائیگی کو خدا کی خوشنودی کا ذریعہ بنا ئے گا۔
اسلام نے صرف اتنا ہی نہیں کیا کہ آخرت میں حساب و کتاب کا تصور دیکر چھوڈ دیاہوبلکہ انسان کے تمام اچھے برے اعمال اور جائز و ناجائز کاموں کو پوری وضاحت سے بیان کیا ہے تاکے دنیاوی زندگی میں انسان جو بھی قدم اٹھائے وہ بہت سوچ سمجھ کر اٹھا ئے۔ چنانچہ بدعنوانی کے جو جو پہلو انسانی زندگی میں ہو سکتے تھے اسلام نے بڑی وضاحت سے انھیں بیان کیا ہے تاکہ انسان ان سے خود بھی بچ سکے اور دوسروں کو بھی اس سے بچا سکے۔
مال کے بارے میں اسلام کا تصور
مال اللہ کی ملکیت ہے:
بدعنوانی کی جڑ مال کی حرص اور لالچ ہے۔ چنانچہ اسلام نے مال کے بارے میں یہ تصور پیش کیا کہ مال کسی انسان کی ذاتی ملکیت نہیں بلکہ وہ انسان کے پاس اللہ کی امانت ہے، انسان اپنے مال میں خود مختار نہیں بلکہ اللہ کے حکم کا پابند ہے۔ چنانچہ انسان کو مال اسی طریقے پر حاصل کرنا ہے جس طریقے پر اسے اللہ نے حاصل کر نے کا حکم دیا ہے اور انھی جگہوں پر خرچ کرنا ہے جن جگہوں پر اللہ نے خرچ کرنے کا حکم دیا ہے۔ قر آن میں اللہ کا فرمان ہے :’’کلوا من طیبات ما رزقناکم واشکروا لللہ ان کنتم ا یاہ تعبدون‘‘(ہم نے جوتم کو پاک روزی عطا کی ہے اس میں سے کھاؤ اور اللہ کا شکر ادا کرو اگر تم اس کی عبادت کرتے ہو)۔ ایک جگہ فرمایا ’’و اٰتوھم من مال اللہ الذی آتاکم‘‘ (اللہ نے جو مال تمہیں دیا ہے اس میں سے ضرورت مندوں کو دو)۔ حدیث پاک میں ارشاد ہے’’المال مال اللہ ‘‘۔ (مال تو سب کا سب اللہ کا ہی ہے)۔
بخل کی ممانعت
مال و دولت کی محبت انسان کی فطرت میں شامل ہے۔ قرآن نے بھی اسے جگہ جگہ بیان کیا ہے۔ سورہ فجر آیت ۲۰ میں ارشاد ہے: ’’وَتُحِبُّونَ الْمَالَ حُبّاً جَمّاً ‘‘۔ (اور تم مال و دولت سے حد درجہ محبت رکھتے ہو)۔ سورہ ’’والعٰدیات‘‘ میں فرمایا:’’إِنَّ الْإِنسَانَ لِرَبِّہِ لَکَنُودٌوَإِنَّہُ عَلَی ذَلِکَ لَشَہِیْدٌوَإِنَّہُ لِحُبِّ الْخَیْْرِ لَشَدِیْدٌ ۔ (بالاشبہ انسان اپنے رب کا بڑا ہی ناشکرا ہے، اور وہ اس بات پر خود ہی گواہ ہے۔ اور اس مین بھی کوئی شک نہیں کہ وہ مال کی محبت مین بڑی شدت سے مبتلا ہے)۔ انسان کی اس فطرت کو ملحوظ رکھتے ہو ئے اسلام نے مال جمع کرنے کی قطعی ممانعت نہیں کی، بلکہ اس مال میں چند حقوق متعین کر دئے تاکہ انسانوں کے درمیان عدل و انصاف قائم ہو اور بدعنوانی اور کرپشن کو پنپنے کا موقع نہ مل سکے۔ اس لئے اسلام اس بات کو پسند نہیں کرتا کہ معاشرے کے سارے مال و دولت پر صرف چندافراد کا کنٹرول ہو جائے اور باقی لوگ غریبی اور لاچاری کی زندگی گزارنے پر مجبور ہوجائیں۔ اسلئے اسلام مال پر قبضہ جماکر رکھنے والوں اور ضرورت مندوں پر خرچ نہ کرنے والوں کو سخت وعیدیں سناتاہے۔ ارشادخداوندی ہے ’’وَالَّذِیْنَ یَکْنِزُونَ الذَّہَبَ وَالْفِضَّۃَ وَلاَ یُنفِقُونَہَا فِیْ سَبِیْلِ اللّہِ فَبَشِّرْہُم بِعَذَابٍ أَلِیْمِ ِیَوْمَ یُحْمَی عَلَیْْہَا فِیْ نَارِ جَہَنَّمَ فَتُکْوَی بِہَا جِبَاہُہُمْ وَجُنوبُہُمْ وَظُہُورُہُمْ ہَذَا مَا کَنَزْتُمْ لأَنفُسِکُمْ فَذُوقُواْ مَا کُنتُمْ تَکْنِزُون‘‘۔ (التوبۃ :۳۴)۔
(اور جو لوگ سونا چاندی(مال و دولت) جمع کرکے رکھتے ہیں اور اللہ کے راستے میں اسے خرچ نہیں کرتے، تو ایسے لوگوں کو درد ناک عذاب کی بشارت سنا دیجئے۔ جس دن اس دولت کو دوزخ کی آگ میں تپایا جائے گا، پھراس سے ان لوگوں کی پیشانیاں اور کروٹیں اور پیٹھوں کو داغا جائے گا۔ (اور کہا جائے گا) یہ ہے وہ مال جو تم اپنے لئے جمع کرتے تھے۔ اب چکھو اس( خزانہ )کا مزا جو تم جوڑجوڑ کر رکھاکرتے تھے۔
اسلام نے ایک ایسا نظام دیاہے جس کے ذریعہ دولت کی تقسیم صحیح طور پر ہوتی ہے۔ چنانچہ اسلام دولت مندوں کو اس بات کا پابند کرتا ہے کہ وہاللہ کے دئے ہوئے مال میں سے ان لوگوں کا بھی حق رکھیں جن کو اللہ نے مال نہیں دیا۔ اسلام اسے زکاۃ کا نام دیتا ہے جو امیروں سے لیکر غریبوں پر خرچ کی جاتی ہے۔
صدقہ و خیرات کا حکم
اسلام اس بات کاشوق بھی پیدا کرتا ہے کہ سال میں صرف ایک مرتبہ کی زکاۃ پر اکتفاء نہ کیا جائے بلکہ گاہے گاہے صدقہ و خیرات کیا جاتا رہے۔ قرآن میں ارشاد ہے۔ و فی اموالہم حق للسائل و المحروم۔ (اور ان کے مال میں سوال کرنے والے کا اور محروم کا حق ہے )۔
ایک جگہ فرمایا:َ
یا أَیُّہَا الَّذِیْنَ آمَنُواْ أَنفِقُواْ مِن طَیِّبَاتِ مَا کَسَبْتُمْ وَمِمَّا أَخْرَجْنَا لَکُم مِّنَ الأَرْضِ وَلاَ تَیَمَّمُواْ الْخَبِیْثَ مِنْہُ تُنفِقُونَ وَلَسْتُم بِآخِذِیْہِ إِلاَّ أَن تُغْمِضُواْ فِیْہِ وَاعْلَمُواْ أَنَّ اللّہَ غَنِیٌّ حَمِیْدٌ(بقرہ :۲۶۷)
(اے ایمان والو جو تم نے پاکیزہ مال کما یا ہے اس میں سے خرچ کرہ، اور جو ہم نے زمین سے نکالا ہے وہ خرچ کرو۔ اورتم گندی اور خراب چیز خرچ کرنے کے بارے میں مت سوچو، حالانکہ تم خود اسے آنکھیں بند کئے بغیر لینا گوارا نہیں کروگے۔ اور یہ جان لو کہ( ہر چیز سے) اللہ بے نیاز ہے ا ورتعریف والا ہے)۔
صدقہ و خیرات کرنے والوں کے دلوں میں یہ خیال آسکتا تھا کہ اس طرح تو ہمارا مال کم ہو جائے گا۔ اسلام اس بات کی تردید کر کے یہ یقین دلاتا ہے کہ صدقہ و خیرات سے مال میں کوئی کمی نہیں ہوتی بلکہ اس سے مال و دولت میں اضافہ ہوتا ہے۔
ارشادخداوندی ہے۔ :’’مَثَل الَّذِیْنَ یُنفِقُونَ أَمْوَالَہُمْ فِیْ سَبِیْلِ اللّہِ کَمَثَلِ حَبَّۃٍ أَنبَتَتْ سَبْعَ سَنَابِلَ فِیْ کُلِّ سُنبُلَۃٍ مِّءَۃُ حَبَّۃٍ وَاللّہُ یُضَاعِفُ لِمَن یَشَاءُ وَاللّہُ وَاسِعٌ عَلِیْمٌ(بقرہ ۲۶۱)۔ (جو لوگ اللہ کے راستے میں خرچ کرتے ہیں ان کی مثال اس دانے کی سی ہے جس نے سات بالیاں اگائیں اور ہر بالی میں سو دانے ہیں۔ اور اللہ تعالیٰ جسے چاہتا ہے اس سے بھی زیادہ دیتا ہے، اور اللہ تعالیٰ وسعت والا اور (سب کچھ) جاننے والا ہے۔
بھلا جو اپنے مال کو اللہ کی امانت سمجھے اور اس مال میں سے ضرورت مندوں اور محتاجوں کا حق ادا کرنا اپنا فرض سمجھتا ہو وہ کسی کی حق تلفی(بدعنوانی) کے بارے میں کیسے سوچ سکتا ہے؟ حرص و لالچ کا علاج انسان فطری طور پر لالچی واقع ہوا ہے۔ اور اسی لالچ کے سبب وہ کرپشن میں مبتلا ہوتا ہے۔ پھر وہ لوگوں کی حق تلفیاں کرتا ہے اور زمین میں فساد مچاتا ہے، چنانچہ اسلام انسان کے لالچ کا رخ دنیاکی فانی نعمتوں کے مقابلہ جنت کی ابدی اور تعریفوں سے بالاتر نعمتوں کی طرف موڑ دیتا ہے، جنہیں نہ کسی آنکھ نے دیکھا نہ کسی کان نے سنااور نہ کسی کے ذہن میں ان کا وہم و گمان گزرا۔ ارشاد خداوندی ہے:’’وَلَا تَمُدَّنَّ عَیْنَیْکَ إِلَی مَا مَتَّعْنَا بِہِ أَزْوَاجاً مِّنْہُمْ زَہْرَۃَ الْحَیَاۃِ الدُّنیَا لِنَفْتِنَہُمْ فِیْہِ وَرِزْقُ رَبِّکَ خَیْرٌ وَأَبْقیٰ‘‘(طہٰ:۱۳۱) (اور دنیا وی زندگی کی اس بہار (چکاچوندھ) کو نظر اٹھا کر بھی نہ دیکھو جو ہم نے ان(کافروں ) میں سے مختلف لوگوں کو مزے اڑانے کے لئے دی ہے، تاکہ ان کو اس کے ذریعہ آزمائیں۔ اور تمہارے رب کا رزق سب سے بہتر اور سب سے دیر پا ہے)۔
قر آن نے جگہ جگہ جنت میں ملنے والی نعمتوں کی تصویر کشی اس انداز سے کی کہ ان کی چاہت انسان کےء دل میں گھر کر جاتی ہے۔ چنانچہ قرآن کہتا ہے :’’مَثَلُ الْجَنَّۃِ الَّتِیْ وُعِدَ الْمُتَّقُونَ فِیْہَا أَنْہَارٌ مِّن مَّاء غَیْرِ آسِنٍ وَأَنْہَارٌ مِن لَّبَنٍ لَّمْ یَتَغَیَّرْ طَعْمُہُ وَأَنْہَارٌ مِّنْ خَمْرٍ لَّذَّۃٍ لِّلشَّارِبِیْنَ وَأَنْہَارٌ مِّنْ عَسَلٍ مُّصَفًّی وَلَہُمْ فِیْہَا مِن کُلِّ الثَّمَرَاتِ وَمَغْفِرَۃٌ مِّن رَّبِّہِمْ کَمَنْ ہُوَ خَالِدٌ فِیْ النَّارِ وَسُقُوا مَاء حَمِیْماً فَقَطَّعَ أَمْعَاء ہُمْ ‘‘۔ (سورہ محمد:۱۵)
(متقی لوگوں سے جس جنت کا وعدہ کیا گیاہے، اس کا حال یہ ہے کہ اس میں ایسے پانی کی نہریں ہیں جو خراب ہونے والا نہیں، ایسے دود ھ کی نہریں ہیں جس کا ذائقہ نہیں بدلے گا، ایسے شراب کی نہریں ہیں جو پینے والوں کے لئے سراپا لذت ہوگی، اور ایسے شہد کی نہریں ہیں جو نتھرا ہوا ہوگا۔ اور ان جنتیوں کے لئے وہاں ہر قسم کے پھل ہوں گے، اور ان کے پر وردگار کی طرف سے مغفرت۔ کیا یہ لوگ ان جیسے ہو سکتے ہیں جو دوزخ میں ہمیشہ اس حال میں رہیں گے کہ انھیں کھولتا ہوا پانی پلایا جائے گا، چنانچہ وہ ان کی آنتون کو تکڑے کر دے گا)۔
ایک انسان جب اخروی نعمتوں پر یقین کرتا ہے اور ان کو پانے کی کوشش میں لگ جاتا ہے تو دنیاوی مال و دولت کا لالچ خود بخود اس کے دل سے نکل جاتا ہے، دنیا اور اس کی نعمتیں اس کے سامنے بے حیثیت ہو جاتی ہیں اوروہ کسی بھی طرح کی بد عنوانی اور حق تلفی کرنے سے محفوظ ہو جاتا ہے۔
حقوق العباد کا تصور
اللہ کے نزدیک اس کے تمام بندے محترم ہیں اسی لئے ایک انسان کی جان اس کے نذدیک ساری انسانیت کی جانوں کی برابر ہے۔ اللہ اپنے تمام بندوں پر رحم و کرم کا معاملہ کرتے ہیں اور وہ اپنے بندوں سے بھی یہی چاہتے ہیں کہ وہ بھی اس کے بندوں پرمہر بانی کا معاملہ کریں۔ چنانچہ اللہ نے جہاں اپنے حقوق متعین کئے ہیں، ساتھ ہی ساتھ وہاں بندوں کے حقوق بھی متعین کئے ہیں تاکے اس کے تمام بندوں کے ساتھ عدل و انصاف کا معاملہ کیا جائے۔
اسلام میں حقوق العباد کی کتنی اہمیت ہے اس کا اندازہ اس بات سے لگائیے کہ اس کی ادائیگی کواسلام میں فرض قرار دیا گیا ہے اور اس سے کوتاہی کرنے والے کو نہ صرف اللہ کے عذاب سے ڈرایا گیا بلکہ دنیا میں بھی اس پر سخت سزائیں سنا ئی گئی ہیں۔ کیونکہ اللہ کو یہ بات بالکل پسند نہیں کہ اس کے کسی بندے کے ساتھ ادنیٰ بھی زیادتی کی جائے، اور اس کو کمزور جان کر ظلم کا نشانہ بنا یا جائے، اس لئے قر آن میں جگہ جگہ لوگوں کو اس بات سے آگاہ کیا گیا ہے کہ وہ حقوق العباد میں کسی بھی قسم کی بدعنوانی سے بچیں۔ چنانچہ قرآن مال کو نا جائز طریقوں سے کما نے کو حرام قرار دیتا ہے۔ ارشاد خداوندی ہے۔ یَا أَیُّہَا الَّذِیْنَ آمَنُواْ لاَ تَأْکُلُواْ أَمْوَالَکُمْ بَیْنَکُمْ بِالْبَاطِلِ إِلاَّ أَن تَکُونَ تِجَارَۃً عَن تَرَاضٍ مِّنکُمْ وَلاَ تَقْتُلُواْ أَنفُسَکُمْ إِنَّ اللّہَ کَانَ بِکُمْ رَحِیْما۔ (النساء ۲۹) (اے ایمان والو ااپس میں ایک دوسرے کے مال کو ناجائز طریقے سے مت کھاؤ۔ ہاں یہ اور بات ہے کہ تمہاری آپسی رضامندی سے کوئی سمجھوتا ہو گیا ہو۔ اور ایک دوسرے کو قتل نہ کرو۔ بلاشبہ اللہ تم پر بہت رحم کرنے والا ہے)
حرام کمائی کی ممانعت
غور کیجئے تو معلوم ہوگا کہ بندوں کے حقوق کی پامالی میں حرام کمائی کا بڑا ہاتھ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اللہ نے حرام کمائی اور اس کی تمام شکلوں کو نا جائز ٹہرایا ہے۔ اللہ کے یہاں حلال مال کی ہی مقبولیت ہے جبکہ حرام مال کھانا پیٹ کو آگ سے بھرنا۔ ارشاد خدا وندی ہے:’’اِنَّ الَّذِیْنَ یَأْکُلُونَ أَمْوَالَ الْیَتَامَی ظُلْماً إِنَّمَا یَأْکُلُونَ فِیْ بُطُونِہِمْ نَاراً وَسَیَصْلَوْنَ سَعِیْر‘‘َ(النساء:۱۰) (اس بات میں کوئی شک نہیں کہ جو لوگ یتیموں کا مال ظلم کے ذریعے کھاتے ہیں وہ اپنے پیٹوں کو آگ سے بھرتے ہیں۔ اور بہت جلد ہی وہ بھڑکتی ہوئی آگ میں ڈالے جائیں گے۔ )
آج سب سے زیادہ کرپشن رشوت کی شکل میں پھیل رہا ہے۔ رشوت ہی ہے جس کے ذریعے مستحقین کو ان کے حق سے محروم کر کے ان کا حق دوسروں کو دلوا دیا جاتا ہے۔ رشوت کو اسلام نے حرام قرار دیا ہے۔ ارشاد خداوندی ہے:’’وَلاَ تَأْکُلُواْ أَمْوَالَکُم بَیْْنَکُم بِالْبَاطِلِ وَتُدْلُواْ بِہَا إِلَی الْحُکَّامِ لِتَأْکُلُواْ فَرِیْقاً مِّنْ أَمْوَالِ النَّاسِ بِالإِثْمِ وَأَنتُمْ تَعْلَمُون‘‘(البقرہ:۱۸۸)۔
(اور آپس میں تم ایک دوسرے کے مال کو ناجائز اور غلط طریقوں سے مت کھاؤ اور نہ انھیں حاکموں کے پاس لے جاؤ کہ (رشوت دے کر یا طاقت کے بل بوتے) لوگوں کا مال جانتے بوجھتے ہڑپ کر جاؤ)۔ نبی پاکﷺ کا فرمان ہے:’’ الراشی والمرتشی کلا ہما فی النار‘۔ ‘(رشوت دینے والا اور رشوت لینے والا دونوں ہی جہنم میں جائیں گے)۔ ایسی سخت وعیدوں کے بعد بھی اگر کوئی مال حرام سے اپنے پیٹ کو بھرتا ہے، اور خدا کے بندوں کا استحصال کر تا ہے، تو ایسا شخص معاشرے کو تباہی میں ڈال رہا ہے۔ اور اس طرح کے لوگوں کا علاج سخت ترین قوانین کے ذریعے کیا جانا چاہیے۔
ناپ تول میں کمی کی ممانعت
بازار تجارت ہو یا گھریلوو باہمی معاملات اسلام اس بات کی شدید مذمت کرتا ہے کہ جھوٹ اور دھوکے کے ذریعہ لوگوں کا حق مارا جائے، اورناپ تول میں کمی کر کے عوام کو ان کی چیزیں گھٹا کر دی جائیں۔ ارشاد خداوندی ہے: ’’وَإِلَی مَدْیَنَ أَخَاہُمْ شُعَیْباً قَالَ یَا قَوْمِ اعْبُدُواْ اللّہَ مَا لَکُم مِّنْ إِلَہٍ غَیْرُہُ قَدْ جَاء تْکُم بَیِّنَۃٌ مِّن رَّبِّکُمْ فَأَوْفُواْ الْکَیْلَ وَالْمِیْزَانَ وَلاَ تَبْخَسُواْ النَّاسَ أَشْیَاء ہُمْ وَلاَ تُفْسِدُواْ فِیْ الأَرْضِ بَعْدَ إِصْلاَحِہَا ذَلِکُمْ خَیْرٌ لَّکُمْ إِن کُنتُم مُّؤْمِنِیْن‘‘(الاعراف:۸۴)۔
(اور مدین والوں کی طرف ہم نے ان کے بھائی شعیب کو (پیغمبر بنا کر) بھیجا۔ انھوں نے کہا: اے میری قوم، صرف اللہ کی عبادت کو اس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں ہے۔ تمہارے رب کی جانب سے تمہارے پاس کھلی نشانیاں آچکی ہیں۔ چنانچہ تم لوگ ناپ تول پوری پوری کیا کرو اور لوگوں کو ان کی چیزوں میں سے گھٹا کر مت دو۔ اور زمین میں اس کی درستگی کے بعد بگاڑ مت پیدا کرو۔ یہ سب تمہارے لئے بہتر ہے اگر تم ایمان رکھتے ہو)۔ ایک دوسری جگہ ارشاد فرمایا:’’وَأَوْفُوا الْکَیْلَ إِذا کِلْتُمْ وَزِنُواْ بِالقِسْطَاسِ الْمُسْتَقِیْمِ ذَلِکَ خَیْرٌ وَأَحْسَنُ تَأْوِیْلا‘‘(بنی اسرائیل :۳۵)۔ (اور جب کسی کو کوئی چیز پیمانے سے ناپ کر دو تو پورا ناپو اور تولنے کے لئے صحیح ترازو استعمال کرو۔ یہی طریقہ درست ہے اور اسی کا انجام بہتر ہے)۔
سود کی حرمت و شناعت
معاشرے میں بدعنوانی کو بڑھا وا دینے میں سود کا بھی بڑا ہاتھ ہے۔ آج سود کی وجہ سے دنیا کا معاشی نظام تباہ برباد ہو کر رہ گیا ہے۔ سود خوروں نے عام لوگوں کی مجبوریوں کا فائدہ اٹھا کر ان کا بے جا استحصال کر رکھا ہے۔ آج دنیا کے بہت سے ممالک اسی سود کی وجہ سے دنیا کی باطل طاقتوں کے غلام بنے ہوئے ہیں۔ اسلام سود کو حرام و ناجائز قرار دیتا ہے اور سود خوری کی شدید مذمت کرتا ہے۔ اسلام کہتا ہے کہ تجارت دونوں فریق کے درمیان نفع و نقصان میں شرکت کے ساتھ ہونا چاہئے۔ صرف یک طرفہ فائدہ حاصل کرنا اور یک طرفہ نقصان اٹھانا بالکل درست نہیں۔ ارشاد خدا وندی ہے:’’الَّذِیْنَ یَأْکُلُونَ الرِّبَا لاَ یَقُومُونَ إِلاَّ کَمَا یَقُومُ الَّذِیْ یَتَخَبَّطُہُ الشَّیْطَانُ مِنَ الْمَسِّ ذَلِکَ بِأَنَّہُمْ قَالُواْ إِنَّمَا الْبَیْعُ مِثْلُ الرِّبَا وَأَحَلَّ اللّہُ الْبَیْعَ وَحَرَّمَ الرِّبَا‘(البقرہ :۲۷۵)۔ (جو لوگ سود کھاتے ہیں وہ( قیامت میں ) اٹھیں گے تو اس شخص کی طرح اٹھیں گے جسے شیطان نے چھو کر پاگل بنا دیا ہو، یہ اس لئے ہوگا کہ انھوں نے کہا تھا کے تجارت بھی تو سود ہی کی طرح ہے۔ حالانکہ اللہ نے تجارت کو حلال کیاہے ور سود کو حرام قرار دیا ہے)۔ دوسری جگہ فرمایا:’’یَا أَیُّہَا الَّذِیْنَ آمَنُواْ لاَ تَأْکُلُواْ الرِّبَا أَضْعَافاً مُّضَاعَفَۃً وَاتَّقُواْ اللّہَ لَعَلَّکُمْ تُفْلِحُون‘‘(آل عمران:۱۳۰)۔ (اے ایمان والو کئی گنا بڑھا چڑھا کر سود مت کھا ؤ اور اللہ سے ڈرو تاکہ تم کامیاب ہو سکو)۔
سود کتنی بڑی لعنت ہے کہ اس کے تعلق سے نبی ﷺ کا ارشاد ہے:’’لعن رسول اللہ ﷺ علی آکل الرباٰ و موکلہ و کاتبہ و شاہدیہ، وقال: ھم سواء‘‘(مسلم۱۵۹۸) ( نبی پاک ﷺ نے لعنت فرمائی سود کھانے والے پر، سود کھلانے والے پر، سود کو لکھنے والے پر اور سود پر گواہ بننے والوں پر۔ اور فرمایا کہ (گناہ کے سلسلے میں ) یہ سب برابر ہیں )۔
شراب اور جوے پر پابندی
لوگوں کو بد عنوان بنا نے اور انسانی معاشرے میں بگاڑ اور فساد پیدا کرنے میں شراب اور جوئے کا بہت بڑا کردار ہے۔ یومیہ ہزاروں گھر انھیں کی وجہ سے ٹوٹ جاتے ہیں اور سالانہ لاکھوں لوگ نشہ خوری کے سبب ہلاک ہوجاتے ہیں۔ انسانی زندگیوں کو تباہ کر نے والے اس ناسور کے تعلق سے اللہ کا فرمان ہے:’’إِنَّمَا الْخَمْرُ وَالْمَیْسِرُ وَالأَنصَابُ وَالأَزْلاَمُ رِجْسٌ مِّنْ عَمَلِ الشَّیْطَانِ فَاجْتَنِبُوہُ لَعَلَّکُمْ تُفْلِحُون‘‘۔ (المائدہ :۹۰) (اے ایمان والو! یقیناََ شراب اور جوا اور (عبادت کے لئے) نصب کئے گئے بت اور (قسمت معلوم کرنے کے لئے )فال کا تیر(سب)ناپاک شیطانی کام ہیں۔ سو تم ان سے کوسوں دور رہو، تاکے تم کامیاب ہو سکو)۔
بھلے ہی شراب اور جوئے سے لوگ کتنا ہی نفع کماتے ہوں لیکن ان سے ہونے والے نقصان کے سامنے ان کا نفع بہت معمولی ہے۔ قرآن کا ارشاد ہے:’’یَسْأَلُونَکَ عَنِ الْخَمْرِ وَالْمَیْسِرِ قُلْ فِیْہِمَا إِثْمٌ کَبِیْرٌ وَمَنَافِعُ لِلنَّاسِ وَإِثْمُہُمَا أَکْبَرُ مِن نَّفْعِہِمَا ‘‘۔ (اے نبی ﷺ) یہ لوگ آپ سے شراب اور جوئے کے متعلق سوال کرتے ہیں۔ آپ کہہ دیجئے کہ ان دونوں میں بہت بڑا گناہ ہے، ہاں (بظاہر) لوگوں کا کچھ فائدہ بھی ہے لیکن ان کا گناہ (نقصان)ان کے فائدے سے کہی زیا دہ ہے)۔
اسلام صرف شراب پر اکتفا نہیں کرتا بلکہ ہر نشہ آور چیز جو انسان کی عقل کو ماؤف کرتی ہو، اسلام میں حرام ہے۔ ارشاد نبوی ﷺ ہے:’’کل مسکرحرام‘‘۔ (ْہر نشہ آور چیز حرام ہے)۔ ایک جگہ فرمایا :’’ما اسکرکثیرہ فقلیلہ حرام‘‘جس چیز کی کثیر مقدار نشہ آور ہو اسکی تھوڑی سی مقدار بھی حرام ہے۔
آج دنیا اس فساد سے تنگ آچکی ہے اور جگہ جگہ نشہ بندی اور جوا بندی کی تحریکیں چلائی جارہی ہیں لیکن سب بے اثر اور بے سود ثابت ہو رہا ہے۔ جبکہ اسلام نشہ پر۱۰۰ فیصد کنٹرول کرتا ہے۔ اس کی مثال ہمیں مدینہ کی گلیوں میں بہنے والی شراب میں نظر آتی ہے، شراب جن کے خون میں دوڑتی تھی اسلام نے ان کے دلوں میں اس سے نفرت پیدا کردی۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اسلام نے نشہ بندی پر صرف احکامات دیکر نہیں چھوڑا بلکہ اس پرسخت سزا بھی رکھی ہے۔ چنانچہ اسلامی قانون میں شرابی کی سزا ۸۰ کوڑے ہے، جو معاشرے کو اس خباثت سے پاک رکھنے میں نہایت معاون ہوتی ہے۔ آج دنیا بھر میں میں منشیات کا بازار گرم ہے لیکن اس معاملے میں سب سے کم گراف ان ممالک کا ہے جہاں اسلامی قانون نافذ ہے۔ اسلام نے دنیا کو نشہ بندی کاایک ایسا فارمولا دیا ہے جس پر عمل کر کے دنیا نشہ کی بیماری سے پاک ہو سکتی ہے۔
فحاشی کا سد باب
آج معاشرے کا بڑا حصہ فحاشی میں ڈوبا ہوا ہے اور یہی فحاشی کرپشن کو بڑھا نے میں معاون ہے۔ جس کے باعث دنیا کی وہ مملکتیں جہاں فحاشی کو فروغ مل رہاہے تنزلی کا شکار ہیں اور ان کا زوال دن بدن بڑھتا ہی جارہا ہے۔
فحاشی کی تعریف کرتے ہوئے اما م راغب اصفہانی فرماتے ہیں :’’الفحش ما عظم قبحہ من الأفعال و الأعمال‘‘(مفرادات، راغب، ص:۳۷۴)(ہر بری چیز کو فحش کہتے ہیں، چاہے اس کا تعلق فعل سے ہو یا عمل سے)۔
اسلام ہر طرح کی فحاشی پر مکمل پابندی لگاتا ہے اوراس میں ملوث لوگوں کو سخت ترین وعیدیں سناتا ہے۔
ارشاد خداوندی ہے:’’قُلْ إِنَّمَا حَرَّمَ رَبِّیَ الْفَوَاحِشَ مَا ظَہَرَ مِنْہَا وَمَا بَطَنَ‘‘(الأعراف:۳۳)۔ (اے نبی کہدیجئے کہ بلا شبہ میرے رب نے کھلی اور چھپی تمام فواحشات (برائیوں )کو حرام قرار دیا ہے)۔ فحاشی میں سب سے برا فعل زنا ہے، اور اس کھلی بے حیائی اور جنسی چاہت کے طوفان نے تہذیب و تمدن کی جڑیں کھوکھلی کر دی ہیں۔ اسلام انسانوں کو اس کی شناعت سے آگاہ کرتا ہے اوراور اس سے کوسوں دور رہنے کا حکم دیتا ہے۔ قر آن کا ارشاد ہے: ’’ وَلاَ تَقْرَبُواْ الزِّنَی إِنَّہُ کَانَ فَاحِشَۃً وَسَاء سَبِیْلا‘‘(الاسراء ؛۳۲) (اور زنا کے قریب بھی مت جانا وہ ایک گھناؤنا کام اور برا راستہ ہے) یہ ایک حقیقت ہے کہ جنسی شہوت انسان کی فطرت میں شامل ہے اسلئے اسلام نے انسانی مزاج کا پورا خیال رکھا ہے اور ان کو حلال اور جائز طریقے سے اس خواہش کو پورا کرنے کا حکم دیا ہے، یہی وجہ ہے کہ اسلام نکاح کی حوصلہ افزائی کرتا ہے اورتجرد کو قطعی پسند نہیں کرتا۔ اس لئے اس نے نکاح کو بے حد آسان کر دیا ہے، یہاں تک کہ بوقت ضرورت ایک سے زائد نکاح کی بھی اجازت دی ہے تاکہ زنا کی طرف جانے والا ہر راستہ بند ہوجائے۔ اسلام نے فحاشی کو روکنے کے لئے صرف احکامات پر اکتفا نہیں کیا بلکہ اس اس کے سد باب کے لئے سخت ترین قوانین بھی بنائے ہیں۔ چنانچہ اسلام میں شادی شدہ زانی کی سزا یہ ہے کہ اس کو پتھر مار مار کر ہلاک کر دیا جائے۔ اور کنوارے زانی کی سزا یہ ہے کہ اس کے ۱۰۰ کوڑے لگا ئے جائیں۔ اگر آج دنیا ان سزاؤں کا نافذ کر دے تو دنیا سے فحاشی اور اس کے نتیجہ میں پیدا ہونے والا کرپشن دونوں کا ہی خاتمہ ہو جائے گا۔ چنانچہ وہ ممالک جہاں اسلامی قانون نافذ ہے وہاں خواتین کے جنسی استحصال اور آبروریزی کے واقعات کا گراف صفر ہے۔
مسابقت الی الخیر
عوام میں بدعنوانی کو فروغ دینے والی ایک چیز مسابقت الی الشر ہے۔ یعنی نام و نمود اور انا کی غرض سے دنیا وی عیش و عشرت میں ایک دوسرے سے باز ی لے جانے کی کوشش کرنا۔ جیسے رسومات میں بے دریغ اخراجات کے سلسلے میں مقابلہ آرائی، یا پھر دنیا کی نظر میں اپنے وقار کی بلندی کے لئے سامانِ عیش و عشرت میں مقابلہ آرائی۔ غرض کہ مسابقت الی الشر انسان کواس کی حیثیت سے بڑھ کر اقدامات پر مجبور کرتی ہے، جس سے بڑے پیمانے پر اس کو مالی نقصان کا سامنا کرنا پڑتا ہے، اور اسی نقصان کی تلافی کے لئے وہ لوگوں کی حق تلفی پر آمادہ ہوتا ہے۔
چنانچہ اسلام لوگوں کو مسابقت الی الشر سے باز رہنے کی تلقین کرتا ہے اور اس کے متبادل میں مسابقت الی الخیر کو پیش کرتا ہے۔ ارشاد خداوندی ہے:’’وَآتِ ذَا الْقُرْبَی حَقَّہُ وَالْمِسْکِیْنَ وَابْنَ السَّبِیْلِ وَلاَ تُبَذِّرْ تَبْذِیْراً* إِنَّ الْمُبَذِّرِیْنَ کَانُواْ إِخْوَانَ الشَّیَاطِیْنِ وَکَانَ الشَّیْْطَانُ لِرَبِّہِ کَفُورا*‘‘(بنی اسرائیل:۲۶، ۲۷)۔ ( رشتہ داروں، مسکینوں اور مسافروں کو ان کا حق دیا کرو، اور فضول خرچی مت کیا کرو۔ بلاشبہ فضول خرچی کرنے والے شیطان کے بھائی ہیں۔ اور شیطان اپنے رب کا بڑا ناشکرا ہے)۔
مبذر کہتے ہیں مال کو ایسی جگہ خرچ کرنے والے کو جہاں اس کے خرچ کرنے کا حق نہیں تھا۔ اسی لئے علماء نے مال کو صحیح جگہ خرچ کرنے والوں کو مبذر ین یعنی فضول خرچی کرنے والوں میں شمار نہیں کیا ہے۔ کیونکہ مسابقت الی الشر میں فضول خرچی لازمی ہوتی ہے اسلئے اللہ نے ایسے لوگوں کو شیطان کا بھائی کہا ہے۔
قرآن میں جگہ جگہ مسابقت الی الخیر کی دعوت دی گئی ہے۔ چنانچہ ارشاد ربانی ہے:’’وَالَّذِیْنَ یُؤْتُونَ مَا آتَوا وَّقُلُوبُہُمْ وَجِلَۃٌ أَنَّہُمْ إِلَی رَبِّہِمْ رَاجِعُونَ * أُوْلَءِکَ یُسَارِعُونَ فِیْ الْخَیْْرَاتِ وَہُمْ لَہَا سَابِقُون *(المؤمنون :۶۰، ۶۱)۔ (اور وہ لوگ (جن کا حال یہ ہے کہ) جو کچھ بھی (راہ خدا) میں دے سکتے ہیں دیتے ہیں، اور( اس کے باوجود)ان کے دل اس خیال سے کانپتے رہتے ہیں کہ، انھیں اپنے رب کے حضور لوٹ کر جانا ہے۔ یہی لوگ ہیں جو اچھائیوں کے لئے دوڑنے والے ہیں اور آگے بڑھکر انھیں پانے والے ہیں )
نبی ﷺ نے بھی امت کو مسابقت الی الخیر کے لئے برابر ابھا را ہے۔ اسلام کے اسی مزاج کا اثر تھا کہ صحابہ کرام اچھائیوں میں ایک دوسرے پر بازی لے جانے کی کوشش کیا کرتے تھے۔ حضرت ابو بکر اور حضرت عمر کا واقعہ اس کے بے نظیر مثال ہے، جب نبیﷺ کے اعلان کے بعد حضرت عمر اپنے گھر کا آدھا سامان صدقہ کر دیتے ہیں اور ان پر بازی لے جاتے ہوئے حضرت ابو بکر اپنے گھر کا سارا ساما ن صدقہ کر دیتے ہیں۔ یہ مسابقہ الی الخیر کا تصور ہی ہے جو مسابقت الی الشر کا خاتمہ کرتا ہے۔ اور معاشرے کو بدعنوانی سے پاک کرتا ہے۔
اسلام کے یہی احکامات اور اصول و ضوابط ہیں جن کو اپنانے کے بعد کوئی بھی معاشرہ بدعنوانی سمیت تمام معاشرتی خرابیوں سے پاک و صاف ہو جائے گا، اور ایک ایسا معاشرہ وجود میں آئے گا جس میں صرفٖ خدائی قانون کی حکمرانی ہوگی، عدل و انصاف کا بول بالا ہوگا اور ہر طرف امن و امان قائم ہو جائے گا۔

ریاست اور اس کے چار ستون

جدید نظمِ اجتماعی کی رو سے کوئی بھی صحت مند جمہوری ریاست دراصل چار بنیادی ستونوں پر قائم ہوتی ہے۔ گویا یہ چار ستون ایک صحت مند جمہوری ریاست کی بنیاد کی حیثیت رکھتے ہیں۔ اگر ان چار ستونوں میں سے ایک ستون بھی مضمحل ہو جائے تو ریاست کا مجموعی نظم تتر بتر ہو جاتا ہے۔ پس ضروری ہے کہ ریاست کے چاروں ستون اپنے اپنے مقام پر صحت مندانہ بنیاد پر پر استوار ہوں۔ چونکہ جمہوریت کے حقیقی معانی یہی ہیں کہ عوام کو عوام کے ذریعے عوام پر حکمرانی اور قانون سازی کا مکمل اور غیر مشروط حق دے دیا جائے، اس لئے مقننہ یعنی پارلیمنٹ کسی بھی خالص جمہوری ریاست کا اولین ستون ہوتی ہے۔ ذیل میں ہم ان ستونوں کی مختصر لیکن جامع تعبیر بیان کرتے ہیں

(1)مقننہ۔
(2)انتظامیہ۔
(3)عدلیہ۔
(4)ذرائع ابلاغ

مقننہ مفعول مشتق اسم ظرفِ مکان ہے، قانون سے جس کے معنی ہیں وہ جگہ جہاں پر عوام کی خواہشات کے مطابق قانون سازی کی جائے یعنی جدید اصطلاح میں اسے ہم پارلیمنٹ اور مذہبی اصطلاح میں مجلسِ شوریٰ کہتے ہیں۔ پارلیمنٹ ایک ایسا خالص جمہوری ادارہ ہوتا ہے جس میں انسانی رویّے کو ضبط میں رکھنے کے لئے عوامی رائے سے قانون سازی کرکے عوام پر حکمرانی کی جاتی ہے۔ اس ادارے میں مختلف تعداد میں عوامی نمائندے قیام کرتے ہیں تاکہ وہ اپنے اپنے متعلقہ حلقوں سے اپنے عوام کی نمائندگی کر سکیں اور عوام کے مزاج کے مطابق جزوی و جوہری قانون سازی کر سکیں۔ یہ ہے اصل اور خالص جمہوری ادارے یعنی پارلیمنٹ کا مختصر تعارفی کردار۔علاوہ ازیں اس ادارے کے مختلف آئینی جزئیات ہوتے ہیں لیکن بنیادی کردار اس ادارے کا یہی ہے۔ یہ جمہوری ادارہ دراصل ایک صحت مند جمہوری ریاست کے عوام کا ترجمان ہوتا ہے یعنی ہم کہہ سکتے ہیں کہ اس ادارے میں ریاست کے ہر معزز شہری کا ایک ایسا نمائندہ موجود ہوتا ہے جس کو شہریوں نے خود اپنی کامل رضا سے اپنی ترجمانی سونپ دی ہوتی ہے۔ پس یہ اپنی اصل کے لحاظ سے حفظِ مراتب سے مشروط ہر شہری کی حکمرانی ہوتی ہے۔

انتظامیہ
ریاست کا دوسرا اہم ترین ستون انتظامیہ یا حکومت کہلاتا ہے، تکنیکی زبان میں ہم اِسے بیوروکریسی بھی کہہ سکتے ہیں۔ مقننہ تو عوامی نمائندگی کا ادارہ ہے جس کا تذکرہ ہم اس سے قبل کر چکے ہیں جبکہ انتظامیہ ایک مستقل اور غیر متبدل تنظیمِ امر ہے جو ریاست کے پیندے میں بہرحال موجود رہتا ہے۔ عوامی نمائندے عوام کی اکثریتِ رائے سے منتخب ہوتے ہیں جبکہ منتظم اپنی اعلیٰ بصیرت کی بنیاد پر منتخب کئے جاتے ہیں جیسا کہ معلمِ سیاست ارسطو نے کہا کہ ریاست کا انتظام ہمیشہ اہلِ دانش کے سپرد کیا جانا چاہئے بلکہ اہلِ دانش کے لئے الگ سے ایک ایسا معاشرہ قائم کر دیا جائے جہاں پر وہ پرسکون ماحول میں رہ کر اپنی بصیرت سے ریاست کا نظم و نسق ترتیب دینے کا اہتمام کریں جیسا کہ جمہوریت کی بنیاد عوامی رائے پر ہوتی ہے بالکل ایسے ہی انتظامیہ کی بنیاد میرٹ پر ہے۔ گویا اعلیٰ علمی بصیرت ہی اہلیانِ نظم و نسق کا انتخاب کرتی ہے۔ یہاں پر ایک باریک سا نکتہ یہ ہے کہ عوامی نمائندے انتظامیہ کی تنصیب و ترمیم کا حق تو رکھتے ہیں لیکن یہ حق صرف میرٹ کی بنیاد پر ہوگا۔ شومئی قسمت کہ مملکتِ عظمیٰ میں انتظامیہ کو سیاست میں ضم کر دیا گیا اور اعلیٰ و ادنی انتظامی امور کو رہن کر دیا گیا، عوامی نمائندوں کے جس کے سبب تنظیم و سیاست میں فرق ہی باقی نہ رہا۔ ایک اعلیٰ بصیرت کا حامل بیوروکریٹ سالوں سے اپنی خدمات تندہی سے سرانجام دے رہا ہوگا لیکن ایک نو منتخب عوامی نمائندہ اسے اٹھا کر کہیں ایسی جگہ بٹھا دے گا جہاں اس کی ساری صلاحیتیں اور حوصلے زمین بوس ہو جائیں گے۔ انتظامیہ پر سیاست کا یہ شعوری و غیر شعوری جبر دراصل ایک خالص اور صحت مند جمہوری ریاست کو تہس نہس کر دیتا ہے۔

عدلیہ
عدلیہ کے لغوی معانی تو فیصلے کرنے کے ہیں یا دو چیزوں میں باہم فرق کرنا لیکن اصطلاح میں مستحقینِ انصاف اہلیانِ ریاست کو مختلف النوع امورِ مطلوبہ میں انصاف کی بروقت فراہمی عدلیہ کہلاتی ہے جیسا کہ ہم عرض کر چکے کہ انسانی رویہ کو ضبط میں رکھنے کے لئے قانون کا سہارا لیا جاتا ہے لیکن چونکہ انسان فطری طور پر ضبط شکن واقع ہوا ہے، اس لئے معاشرے میں غیر متوازن رویوں کے سبب اخلاقی و آئینی اضمحلال رونما ہو جاتا ہے۔ پس اس اخلاقی اضمحلال اور آئین شکنی کا سدِ باب کرنے کے لئے فصلِ باہم(عدالت) کا قیام عمل میں لایا جاتا ہے کسی بھی خالص جمہوری ریاست کے بنیادی چار ستونوں میں عدلیہ کو تیسرے بنیادی ستون کی حیثیت حاصل ہے۔

ذرائع ابلاغ
ذرائع ابلاغ سے مراد دراصل وہ ریاستی و نجی ادارے ہیں جو ایک خالص جمہوری ریاست میں سماجی، اخلاقی اور آئینی مسائل کی نشر و اشاعت کا اہتمام کرتے ہیں۔ قریبی وقت میں یہ ادارے اخبار اور رسائل تک محدود تھے۔ چنانچہ اس وقت ذرائع ابلاغ کی صرف ایک ہی صورت موجود تھی جسے معروف اصطلاح میں صحافت سے تعبیر کیا جاتا تھا جبکہ فی زمانہ ذرائع ابلاغ کا دائرہ غیر یقینی طور پر وسیع ہو گیا ہے۔ جدید تکنیکی ترقی کے سبب اب خبر قرطاس سے اڑ کر برقی آلات میں مزیّن ہو گئی ہے چنانچہ آج اخبار و رسائل کی جگہ انٹرنیٹ اور ٹی وی نے لے لی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج اصطلاحات بھی تبدیل ہو گئیں، چنانچہ قدیم ابلاغی اصطلاح ’صحافت‘ کی جگہ آج ’میڈیا‘ نے لے لی ہے۔ پس اس کی بھی تین اہم بنیادی جزئیات وقوع پذیر ہو گئی ہیں۔ سوشل میڈیا (سماجی محاذ) پرنٹ میڈیا(اشاعتی محاذ)اور الیکٹرانک میڈیا(برقی محاذ )، سوشل میڈیا کی جزئیات میں آج کل فیس بک، ٹویٹر وغیرہ جبکہ پرنٹ میڈیا میں اخبارات و رسائل اور الیکٹرانک میڈیا میں مختلف ٹی وی چینلز اس وقت اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔ کسی بھی خالص جمہوری ریاست میں ان چار ستونوں کا صحت مند اور آزاد ہونا بہت ضروری ہوتا ہے تاکہ اعلیٰ ترین نظمِ اجتماعی کا وقوع لاء اینڈ آرڈر کی برقرار صورت، انصاف کی بروقت فراہمی اور ذرائع ابلاغ کا مثبت اور بہترین اخلاقی کردار قائم ہو سکے۔

دنیا میں دیکھیں جو بھی ریاست مستحکم و مضبوط بنیادوں پر قائم و دائم ہے اور دن رات ترقی کے منازل طے کر رہی ہے تو سمجھو کہ اس ریاست کے ادارے مضبوط، فعال اور قابلِ اعتبار و اعتماد ہیں اور ملکی وقار میں روزبروز اضافہ ہو رہا ہے۔ ظاہر ہے کہ ریاست کے عمومی طور پر چار ستون ہوا کرتے ہیں جن میں مقننہ، عدلیہ، انتظامیہ اور صحافت شامل ہیں مگر ریاستِ پاکستان میں یہ چاروں ستون ہدفِ تنقید ہیں اور آئے روز ان پر سنگ باری بے دریغ ہوتی رہی ہے اور تمام تر برائیاں ان کے کھاتے میں ڈالے جاتے ہیں جن کی مختلف اور عجیب وغریب وجوہات ہیں۔ باوجود اس کے کہ مقننہ نے پاکستانی ریاست کو مضبوط کرنے کیلئے لاکھ جتن کیے ہیں، مقننہ نے قراردادِمقاصد سمیت انیس سو تہتر کا آئین دیا مگر یاد ہو کہ اس مقننہ نے ہر ڈکٹیٹر کا ساتھ دیا اور ہر ڈکٹیٹر کو الگ الگ آئین بنا کے دیا اس لیے ریاست کے سنجیدہ اور حساس طبقہ فکر کے افراد نے انہیں مختلف انداز میں ہدفِ تنقید بنایا اور عوام کو مقننہ کا وہ چہرہ بھی دکھا دیا جو نقاب کے پیچھے معصوم بنا رہا اور یہ ستون ہر دور میں ناکامی کا سبب بنا رہا۔ دوسری ریاستی ستون عدلیہ ہے جس کا تقدس اور تکریم کرنا لازمی ہوتا ہے مگر عدلیہ نے بھی ہر مشکل گھڑی میں عوام کے بجائے خواص کو ترجیح دی اور مختلف ادوارِ آمریت میں نظریہ ضرورت کے تحت غیرضروری مفاہمت کا راستہ اختیار کیا اور یہی وجہ ہے کہ عدلیہ نے اپنا وقار، اعتماد اور مقامِ انصاف کھو دیا اور ججوں پر انگلیاں اٹھتی رہیں۔ عدالتوں کو مختلف ناموں سے یاد کیا جاتا رہا اور ملک میں ہر برائی کا جڑ عدالتوں اور ججوں کو گردانا گیا۔ نہ حزبِ اقتدار کو عدلیہ پر اعتماد رہا اور نہ حزبِ اختلاف نے ان کے فیصلوں کو سراہا کیونکہ عدلیہ نے خود انصاف کا دامن چھوڑ کر کئی متنازعہ فیصلے کیے اور اپنی اداؤں سے سیاسی و مذہبی جماعتوں کے علاوہ عوام کا اعتماد بھی کھو دیا اور اس کا مظاھرہ ریاستی عوام طویل عرصہ سے دیکھ اور سمجھ رہے ہیں۔ اور معاشرہ کوئی فیصلہ خوش دلی سے قبول نہیں کر پاتا جو کہ یقینی طور پر قابلِ افسوس امر اور بدشگونی ہے مگر یہ سب کچھ عدلیہ کا اپنا کیا دھرا ہے۔ ریاست کا تیسرا ستون انتظامیہ ہے جو کہ ہر وقت تنقید کی ضد میں رہی ہے اور باجود اس کے کہ بہت خدمات بھی ادا کر رہی ہے مگر عدم شفافیت اور میرٹ نہ ہونے سے قابلِ قدرکردار ادا کرنے سے قاصر ہے۔ سفارشوں اور رشوتوں کے سبب اپنی اہمیت کھو چکی ہے، اپنی آزادی اور خودمختاری سے محروم ہو کر اس کی کارکردگی اس قدر بہتر نہیں جس کی توقع اس سے کی جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ انتظامیہ کے بارے میں سماج میں منفی تاثر بہت زیادہ ہے یعنی جتنی زیادہ اہمیت ہو گی تو توقعات بھی اتنی ہی زیادہ ہوں گی۔ عوام کے دلوں میں انتظامیہ سے نفرت اس کے کرتوتوں کا شاخسانہ ہے جو بتدریج بڑھ رہی ہے جس سے عوام اور انتظامیہ کے درمیان خلیج وسیع سے وسیع تر ہوتی جا رہی ہے جس کی بروقت روک تھام انتظامیہ کی اپنی ذمہ داری ہے۔ اب آتے ہیں ریاست کے چوتھے ستون کی طرف جو خوش فہمی سے یا غلط فہمی سے چوتھا ریاستی ستون قرار دیا جا رہا ہے اور یہ ستون عرصہِ دراز سے ہِل رہا ہے بلکہ جھل رہا ہے اور ہر طرف سے بحرانوں اور طوفانوں کی زد میں دکھائی دے رہا ہے باوجود اس کے کہ اس کا ایک کلیدی اور اہم کردار رہا ہے۔ قیامِ پاکستان سے آج تک شعبہ صحافت نے اپنے آپ کو کم اور محدود وسائل میں منوایا ہے اور دیگر تین ستونوں میں موجود نقصان کی بروقت نشاندھی کی ہے جس کی سزا مختلف ادوار میں مختلف شکلوں میں اسے دی گئی خواہ وہ نیشنل پریس ٹرسٹ کے تحت اخبارات کو قومی تحویل میں لینا ہو یا صحافیوں کو جیلوں میں بند کرنا ہو، اخبارات پر سنسرشپ لگانے سے پیمرا کے نام پر آزادی سلب کرنے تک ہر دور میں مختلف قسم کے ہتھکنڈے استعمال کیے گئے۔ میڈیا یعنی صحافت نے ہر مشکل گھڑی میں رائے عامہ ہموار کی ہے اور لوگوں کا شعور بیدار کر کے آگاہی پیدا کی ہے مگر یہاں بات یہ بھی ہے کہ میڈیا مالکان تو ہر دور میں خوش و خرم رہتے ہیں فقط صحافیوں کی زندگی اجیرن بنا دی گئی ہے اور یہی وجہ ہے کہ ریاستِ پاکستان میں صحافیوں کو شھید کیا جاتا ہے، ان کو گولی مارکر زخمی کیا جاتا اور ڈرا دھمکا کر انہیں اپنا قومی فریضہ ادا کرنے سے روکا جاتا ہے یعنی سچ کو دبایا جاتا ہے تاکہ عوام سچ اور حقائق جاننے سے بے خبر رہے اور ان کے حقوق پر ڈاکا ڈالا جائے۔ موجودہ دور میں دیکھیں جو سوشل میڈیا کا دور ہے اور ہر سیاسی ومذھبی جماعت کے کارندے جینوئن صحافیوں کے خلاف گالیاں بکتے ہیں، حق اور سچ لکھنے کو برداشت نہ کر کے سوشل میڈیا پر خرافات لکھ لکھ کر عوام کو تذبذب کا شکار کرتے رہے ہیں۔ سوشل میڈیا فورم کو یکسر منفی رویوں اور شدت پسندی کو فروغ دینے کا فورم بناتے ہیں اور یہ سب غل غپاڑہ پاکستانی سماج کا حصہ بن چکا ہے۔ مثبت سوچیے اور مثبت لکھیے، جذبات اور دلائل کے درمیان توازن کرنا سیکھیے تاکہ صحافت حقیقی معنوں میں ریاست کا چوتھا ستون بن سکے۔ فقط اتنا بقولِ شاعر
حقیقت خرافات میں کھو گئی
یہ امت روایات میں کھو گئی

ریاست کا پہلا ستون ۔ مقننہ اور کرپشن

سیاسی بدعنوانی ناجائز ذاتی فوائد کے لیے حکومت کے اہلکاروں کا طاقت کا غلط استعمال ہے۔ کرپشن کا لفظ خراب، ٹوٹے ہوئے، عیبی کے معنوں میں استعمال ہوتا ہے، مشہور فلسفی ارسطو اور بعد میں سسرو نے اسے بدعنوانی کے معنوں میں استعمال کیا۔ یعنی رشوت لینا، اپنے اختیارات کا نا جائز فائدہ اٹھاکر کسی دوسرے کا وہ کام کرنا جس کا وہ اہل نہیں ہے۔ کرپشن یعنی بدعنوانی کا لفظ آج کل سیاست میں بہت زیادہ استعمال کیا جانے لگا ہے۔ بد عنوانی کے مختلف پیمانے ہیں۔ نچلی سطح سے لے کر حکومتی بلکہ بین الاقوامی سطح تک اس بد عنوانی کی جڑیں پھیل چکی ہیں بین الاقوامی معاملات میں بھی اس کے شواہد ملتے ہیں۔ چھوٹی موٹی بد عنوانیوں مین نوکری پیشہ افراد اپنے افسران کی خوشنودی حاصل کرنے کے لیے موقع بے موقع تحائف پیش کرتے رہتے ہیں۔ یا پھر ذاتی تعلّقات سے کام لے کر اپنے چھوٹے چھوٹے کام نکلوا لیتے ہیں۔ بڑے پیمانے پر بد عنوانی حکومتی عہدے داروں تک جا پہنچتی ہے۔ بڑے بڑے ٹھیکے منظور کروانا مختلف اہم اور ذمّہ داری والے کاموں کے لا ئسنس حاصل کرنا۔ ایسی اشیاء کے لا ئسنس حاصل کرنا جس کی مانگ زیادہ اور ترسیل میں کمی ہو ،جس کی ذخیرہ اندوزی کرکے منہ مانگے پیسے وصول کرنا۔ بڑے بڑے عہدوں پر یا حکومتی شعبوں میں ملازمت حاصل کرنے یا مہیّا کرنے پر بھاری رشوت کا لین دین کرنا یہ سب بڑے پیمانے کی بد عنوانیوں میں شامل ہے۔ حکومتی محکموں میں پبلک کے ٹیکس کا پیسہ جو مختلف ترقّیاتی، فلاحی اور اصلاحی کاموں کے لیے مختص ہوتا ہے اس کے ذمّہ داران خرد برد کرکے اس فنڈ کا ایک بڑا حصّہ ہضم کرجاتے ہیں۔

پاکستان میں جب بھی سیاست دانوں کی کرپشن اور بد عنوانی کی بات کی جاتی ہے تو اسے جمہوری نظام کو خطرے کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔ ایک منطق یہ دی جاتی ہے کہ سیاست دانوں کی کرپشن کے سوالات وہ طبقہ اٹھاتا ہے،جو ملک میں جمہوریت کے مقابلے میں غیر جمہوری قوتوں کا حامی ہوتا ہے۔ بد قسمتی سے پاکستان میں جب فوجی حکمرانوں کے ادوار آئے تو انہوں نے بھی سیاستدانوں کی کرپشن سمیت بد عنوانی کے معاملے کو فوجی مداخلت کا جواز بنا کرپیش کیا۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ سیاست دانوں پر کرپشن اور بدعنوانی کے الزامات عائد کرنا آسان ہوتا ہے۔ بنیادی طور پر سیاست اور کرپشن کا معاملہ آپس میں اس قدر گٹھ جوڑ اختیار کر گیا ہے کہ اس سے یا تو سیاست کو طاقت دی جا سکتی ہے یا اس کے مقابلے میں کرپشن اور بد عنوانی پر مبنی سیاست کو تقویت مل سکتی ہے۔ سیاست میں وہ طبقہ، جو کرپشن اور بد عنوانی کا شکار ہے،وہ عملی طور پر جمہوریت کو بطور سیاسی ہتھیار اپنے حق میں استعمال کرتا ہے، یہی وجہ ہے کہ جب بھی کرپشن اور بد عنوانی کو بنیاد بنا کر کوئی سیاست دانوں کا احتساب کرتا ہے تو وہ سیاسی انتظامی کارروائی سمجھا جاتا ہے۔
ایک دلیل یہ دی جاتی ہے کہ سیاست دانوں نے اس حد تک کرپشن اور بد عنوانی نہیں کی،جس قدر میڈیا سمیت مختلف فریقین نے سیاسی قوتوں کو بدنام کیا ہے۔ حالانکہ اس کرپشن میں میڈیا کے چند مہرے بھی شامل ہوتے ہیں،لیکن وہ وقت کی نزاکت دیکھتے ہیں اس میں کوئی شک نہیں کہ اس ملک میں کرپشن اور بدعنوانی کی سیاست کا مجرم محض سیاست دان یا سیاسی طبقہ نہیں۔ مسئلہ یہ نہیں کہ سیاسی طبقہ احتساب اور انصاف کے عمل سے باہر ہے،بلکہ حقیقی معنوں میں سیاسی جماعتوں سمیت ہر طبقہ،ملٹری و سول بیورو کریسی سب ہی نے کرپشن کی گنگا جمنا میں اپنے ہاتھ دھوئے ہیں۔ پاکستان کا بالا دست طبقہ اصولی طور پر اپنے آپ کو احتسابی عمل سے باہر سمجھتا ہے، اگر یہ کہا جائے تو غلط نہیں ہو گا کہ اس ملک میں مختلف فریقین یا اداروں کا گٹھ جوڑ ہے، جس نے کرپشن کے معاملے میں سیاسی سمجھوتہ کر کے ملک کے وسائل کو بے دریغ لوٹا ہے۔ سیاست دانوں پر کرپشن اور بدعنوانی کا الزام باقی فریقین کے معاملے میں زیادہ سنگین ہے،کیونکہ اگر سیاسی اور جمہوری قیادت اقتدار میں آ کر اپنے اندر شفافیت پر مبنی نظام قائم نہیں کرے گی تو اس کی ذمہ داری بھی ان کو قبول کرنی چاہئے۔
یوای ٹی میں پی ایچ ڈی کے اسلامیات کا پیپر لیک آوٹ ہونے کا معاملہ، ہائرایجوکیشن کمیشن نے بڑا قدم اٹھالیا
جہاں تک سول اور ملٹری بیورو کریسی کی کرپشن اور بد عنوانی کا معاملہ ہے تو اس کو بھی ٹھیک کرنا اور ایک درست سمت کا تعین کرنا سیاسی اور جمہوری حکومت کا مینڈیٹ ہوتا ہے۔ لوگوں کو سیاسی حکومتوں سے زیادہ توقعات ہوتی ہیں۔ اول تو وہ عوامی مینڈیٹ کے ساتھ اور شفافیت اور تبدیلی کے بڑے بڑے نعروں کی بنیاد پر اقتدار کا حصہ بنتی ہیں۔ اگر اس کے برعکس اقتدار میں شامل افراد اداروں کو سیاسی استحصال کا نشانہ بنا کر جب خود اداروں کو برباد کریں گے یا ان کو اپنے ذاتی مفاد میں استعمال کریں گے تو پھر دوسرے طبقات (عوام) کی اصلاح کون کرے گا؟ اصولی طور پر ہرجمہوری حکومت کو کرپشن اور بد عنوانی پر قابو پانے کے لئے احتساب کمیشن، پبلک اکاؤنٹ کمیٹی، نیب، ایف آئی اے یا کرپشن کے متعلقہ محکمہ جات کو زیادہ شفاف اور خود مختار بنانا چاہئے، اگر واقعی ہماری جمہوری حکومتیں اور حزب اختلاف کی توجہ اداروں کو مضبوط بنانے کی طرف نہ ہوئی تو لوگ کرپشن اور بد عنوانی کے خاتمے کے لئے سیاسی قیادتوں سے مایوس ہو کر پس پردہ قوتوں کی طرف دیکھیں گے، لیکن بدقسمتی سے پاکستان کا فوجی تجربہ بھی کرپشن اور بد عنوانی کے خاتمے میں کوئی بڑی کامیابی حاصل نہیں کر سکا۔
خطے کے تیزی سے بدلتے منظر نامے میں پاکستان بین الاقوامی سطح پر خصوصی اہمیت اختیار کر چکا : سردار تنویر الیاس
فوجی قیادت نے کئی بار سیاسی حکومتوں کو کرپشن اور بد عنوانی کے نام پر برطرف کر کے سیاسی نظام کی بساط لپیٹی، لیکن بہت جلد یہ فوجی قیادت بھی اقتدار کے حصول یا لمبی مدت کے لئے اپنی حمائتی قیادتوں سے گٹھ جوڑ کر کے کرپشن اور بد عنونی پر سیاسی سمجھوتہ کرتی رہی ہے، یہی وجہ ہے کہ ماضی میں فوجی حکمرانی کا تجربہ بھی شفاف نہیں رہا۔اس وقت بھی ملک میں جو کرپشن، بدعنوانی، مہنگائی،لوٹ مار، اقربا پروری کی بحث قومی سیاست پر غالب ہے اور حکومت وقت کو لوٹ مار کرنے والوں کو پکڑنے میں بے شمار رکاوٹوں کا سامنا ہے، اس سے بھی وہ سول اور ملٹری تعلقات میں رکاوٹ پیدا ہو رہی ہے، کیونکہ گزشتہ برسوں میں سیاسی حکومتوں کا ریکارڈ کرپشن اور بد عنوانی کے خاتمے کے لئے کوئی اچھا نہیں، بلکہ یہ شواہد موجود ہیں کہ سیاسی حکومتوں میں شامل افراد اپنے سیاسی و انتظامی اختیارات کی بنیاد پر خود بھی کرپشن کرتے رہے اور دوسروں کو بھی موقع فراہم کر کے کرپشن اور بد عنوانی کا سیاسی جواز پیش کرتے رہے ہیں۔ جو کرپشن اور بد عنوانی کی کہانیاں اب تک ملک میں سامنے آئی ہیں، وہ عملاً جمہوری نظام کے لئے خود بڑی رکاوٹ ہیں۔
کرپشن اور بدعنوانی ایک قومی مسئلہ ہے اور اس کو قومی ترجیحات کے تناظر میں دیکھا جانا چاہئے …… مگر یہ تناظر مولانا صاحب والا نہ ہو، ایک مشکل یہ ہے کہ جب بھی کرپشن اور بد عنوانی کی بات کی جاتی ہے تو صرف سیاست دانوں کی، باقی طبقات اور لوگ کیا کم ہیں، یعنی ہماری جمہوری سیاست کے دعوے دار کرپشن اور بدعنوانی کی سیاست کا اپنے اندر ایک سیاسی جواز رکھتے ہیں۔ ایک دلیل یہ دی جاتی ہے کہ سیاست دانوں کا احتساب ووٹوں کے ذریعے ہو جاتا ہے، جبکہ باقی طبقوں کا نہیں ہونا، اگر باقی لوگوں کا احتساب نہیں ہو رہا تو اس کی ذمہ داری براہ راست سیاسی حکومت پر عائد ہوتی ہے۔ جہاں تک ووٹ بینک کے ذریعے احتساب کی بات ہے تو کیا یہ منطق جائز ہے کہ آپ پہلے اس ملک کو دونوں ہاتھوں سے لوٹیں اور الیکشن پر خرچ کریں، جیت جائیں تو موج، ورنہ لوٹی ہوئی دولت پر عیش کریں۔ ووٹ کے علاوہ دوسرا عمل قانون کی حکمرانی کے ساتھ جڑا ہوا ہے۔ ایک احتساب ووٹر کرتا ہے دوسرا قانون اور انصاف کا نظام تا کہ کوئی کرپشن اور بدعنوانی کے معاملات میں بچ نہ سکے،جو لوگ ملک میں جمہوریت کے ہتھیار کو جواز بنا کر کرپشن پر سمجھوتہ کرنا چاہتے ہیں۔
ان میں دو طبقے شامل ہیں۔ اول اس کو معمولی بات سمجھتے ہیں کہ کرپشن بڑا مسئلہ نہیں اور ہمیں جمہوریت کو بچانے کے لئے کرپشن کی کڑوی گولی کھا لینی چاہئے۔ دوسرا طبقہ وہ ہے، جو خود سیاسی حکومتوں کی کرپشن پر پردہ ڈال کر خود بھی کرپشن اور بد عنوانی کے نظام کا حصہ بن کر خود بھی ذاتی مفادات کے معاملات کو طاقت فراہم کرتا ہے۔کیا کرپٹ سیاست دانوں سے نہیں پوچھا جا سکتا کہ کیا وجہ ہے کہ وہ کرپشن اور بد عنوانی کے خاتمے کے اداروں کو اپنے تابع کر کے خود شفاف نظام کا بیڑہ کرتے ہیں، عدالتوں سے اپنی مرضی کے فیصلے کروانا چاہتے ہیں، کیا پاکستان عوام ان چند خود غرض اور غلط بیانی کرنے اور لوٹ مار کرنے والوں کے ساتھیوں سے پوچھنے کا حق نہیں رکھتے جو باقی پاکستان عوام کو بھیڑ بکریاں سمجھتے ہیں کہ ان کے لئے انصاف اور فیصلے مختلف ہوں۔ سیاست دانوں پر تنقید اسی وجہ سے ہوتی ہے، جو جمہوریت کے نام پر بہت زور دیتے ہیں، وہ ملک میں کرپشن اور بد عنوانی کو ختم کرنے پر زور کیوں نہیں لگاتے۔ یہ لوگ ملک اور معاشرے کا کیوں نہیں سوچتے؟ یہ افراد اور لیڈروں کو ترجیح دے کر ملک اور معاشرے سے دشمنی کر رہے ہیں۔ یہ آنے والی نسلوں کے مستقبل کو تباہ کر رہے ہیں صرف اپنی لوٹ مار چھپانے کے لئے۔

ایک جدید جمہوری ریاست کے بنیادی ستون مقننہ، عدلیہ اور انتظامیہ ہوتے ہیں۔ مقننہ کا کام عوامی مفاد میں قانون سازی کرنا ہے۔ اس قانون کے مطابق ریاست کے نظام کو چلانا انتظامیہ کی ذمہ داری ہے۔ عدلیہ کا کام عوام کو انصاف فراہم کرنا اور قوانین کی تشریح ہے۔ لہٰذا جیسا کہ قانون سازی کی ابتداء مقننہ سے ہوتی ہے اور انتظامیہ اور عدلیہ کی نسبت یہی ایک ادارہ ہے جو براہ راست عوام منتخب کرتی ہے اور یہ عوام میں سے ہی ان کے نمائندے ہوتے ہیں۔
اس لئے ریاستی نظام میں اسے پہلا مقام حاصل ہے۔ ایک مقننہ کی ابتدائی ذمہ داری کسی ریاست کا نظم و نسق چلانے کے لئے ایک بنیادی بندوبست تیار کرنا ہے۔ یعنی ایسے قواعد و ضوابط تیار کرنا جن کے تحت ریاست کاتمام ڈھانچہ کھڑا کیا جائے گا اور ریاست کے دیگر بنیادی ستون قائم کیے جائیں گے اور مختلف اداروں کے دائرہ کار طے کیے جائیں گے۔ عوام کے حقوق اور ریاست کی بنیادی ذمہ داریوں کا تعین کیا جائے گا۔ یہ ابتدائی بنیادی قواعد جن پر ایک ریاستی نظام کی بنیاد ڈالی جاتی ہے۔ اس ریاست کا آئین کہلاتا ہے۔
ایک جدید جمہوری ریاست میں عوام کو یہ حق حاصل ہوتا ہے کہ وہ مقننہ کے لئے اپنے میں سے نمائندے منتخب کریں اور پھر یہ نمائندے مقننہ میں جاکر اپنی مفوضہ ذمہ داری یعنی قانون سازی کریں اور وسیع تر عوامی مفاد میں اپنی مرضی کا آئین تیار کرکے ریاست کے نظم و نسق کی بنیاد ڈالیں۔ پھر اس بنیادی آئین کے طے کردہ اصولوں کی بنیاد پر ثانوی قانون سازی کی جاتی ہے تاکہ نظم و نسق کو بہتر رنگ میں چلایا جائے۔ اس کے بعد ان قوانین کے اطلاق کی ذمہ داری انتظامیہ کے سپرد کی جاتی ہے۔ قوانین کی تشریح، انصاف فراہم کرنا کی حتمی ذمہ داری عدلیہ کے سپرد ہوتی ہے۔ یہی تین ادارے بنیادی ستون ہیں جبکہ باقی تمام نظام انہیں اداروں کے ذیل میں آتے ہیں۔
جیسے کسی ہسپتال میں علاج ڈاکٹر کی بجائے کسی چوکیدار سے نہیں کروایا جاسکتا۔ گھر کا سربراہ گھرکا ملازم نہیں بن سکتا، آگ بجھانے کی ذمہ داری ٹریفک پولیس کو نہیں دی جاسکتی، ٹریفک کو کنٹرول کرنے کی ذمہ داری آگ بجھانے والوں کو نہیں دی جاسکتی، تدریس کا نظام مزدو ر کے حوالے نہیں کیا جاسکتا اور صنعت کو اساتذہ کے حوالے نہیں کیا جاسکتا، بالکل اسی طرح قانون سازی کو مقننہ کے علاوہ کسی اور ادارے کے سپرد نہیں کیا جاسکتا۔
مقننہ ریاست میں قانون سازی کی تنہا ذمہ دار ہوتی ہے۔ اس سے یہ حق نہیں چھینا جاسکتا۔ بصورت دیگر وہی ہوگا جو اوپر کی مثالوں کو بیان کرکے سمجھانے کی کوشش کی گئی ہے۔ لیکن قانون کی تشریح کا کام مقننہ کو نہیں دیا جاسکتا۔ قوانین کے اطلاق کا نظام بھی مقننہ کے حوالے نہیں کیا جاسکتا۔ غرض ہر ادارے کے اپنے دائرے اور حدود و قیود ہیں جنہیں اگر قائم نہ رکھا جائے تو تباہی اور ظلم کے علاوہ کوئی اور نتیجہ نہیں نکل سکتا۔
مقننہ کو اس کی بنیادی ذمہ داری یعنی قانون سازی کے حق سے محروم نہیں کیا جاسکتا اور نہ ہی اس پر کسی قسم کی قدغن لگا کر اسے محدود و مسدود کیا جاسکتا ہے۔ اگر ایسا کیا جائے تو گویا عوام کو اس کے نمائندوں کے ذریعے قانون سازی سے محروم کردیا۔ جو جمہوریت اور جمہوری اصولوں کی نفی ہے۔ اور ایسا کوئی بھی آئین جو مقننہ کے قانون سازی کے حق کو کسی بھی طرح محدود یا مسدود کرے کم از کم جمہوری کسی صورت نہیں کہلا سکتا۔
مگر پاکستان کا دستور ہی نرالا ہے۔ اس وقت ریاست کا نظام جس آئین کے تحت چل رہا ہے وہ 1973 کا آئین ہے۔ یہ آئین فخریہ انداز میں اس وقت کی مقننہ نے تشکیل دیا۔ اس کی تعریف و توصیف اس کے متفقہ ہونے کی صورت میں بھی بیان کی جاتی ہے۔ جو کہ آئینی اور قانونی میدان میں کوئی وجہ تفاخر نہیں ہے، سوائے سیاسی نعرہ بازی کے۔ اختلاف رائے کا نہ ہونا تعریف کے قابل ہر گز نہیں بلکہ اختلاف رائے کا ہونا اور جمہور کا کسی ایک رائے پر متفق ہونا ہی اصل جمہوریت ہے۔
بہرحال اس آئین میں چند ایک ایسے اصول شامل کیے گئے ہیں جو دراصل نہ صرف اس آئین میں فساد کی اصل جڑھ ہیں بلکہ یہ خود مقننہ کے قانون سازی کے حق کو محدود کرکے اس پر ایک اور قدغن لگا دیتے ہیں۔ گویا یہ آئینی عمارت کے ڈھانچے میں وہ نقائص ہیں جو تمام عمارت کو ایک دوسرے سے جوڑے رکھنے میں ناکامی کی اصل وجہ ہیں۔ ایک جدید جمہوری ریاست کے بنیادی اصولوں کے برخلاف اسی مقننہ نے جس نے اس آئین کو تشکیل دیا، اسی آئین میں اپنے بنیادی اوراپنے سے مخصوص حق، یعنی قانون سازی پر اجارہ داری سے خود ہی دستبرداری اختیار کرلی۔یعنی طے کرلیا کہ اس آئین میں مقننہ کو قانون سازی کا مکمل اختیار حاصل نہیں ہوگا۔ اور یہ اختیار محدود ہوگا۔ کس طرح؟ یعنی یہ قرار دے دیا گیا کہ کوئی قانون سازی اسلام کی تعلیمات کے خلاف نہیں ہوسکتی۔ گو بظاہر یہ بات ایک سیاسی نعرے کے طور پر تو سادہ لوح مسلمانوں کے لئے بڑی پرکشش نظر آتی ہے۔ مگر اس کے مضمرات ریاست کے بنیادی ڈھانچے کے لئے خوفناک تھے۔ اور آج پاکستان کے تمام مسائل کا جائزہ لیا جائے تو اصل خرابی کی جڑھ یہی نظر آئے گی۔
مسئلہ اسلامی اصولوں کا ہرگز نہیں ہے۔ اور نہ ہی اسلام کوئی ایسے اصول وضع کرتا ہے جو ریاستی معاملات میں خرابی یا خلل کا باعث بنیں۔ بات اس اصول کی ہے جو یہاں اختیار کیا گیا۔ یہ تو قرار دے دیا گیا کہ کوئی قانون سازی اسلام کی تعلیمات کے خلاف نہیں ہوسکتی۔ مگر یہ طے نہیں کیا گیا کہ اسلامی تعلیمات کی تشریح کون کرے گا۔ ظاہر ہے کسی بھی مقننہ کا کام کسی مذہب کی تشریح نہیں ہوتا۔ آئین میں جب یہ شق ڈالی گئی تو اس وقت بھی اس کے پیچھے یہی نیت کارفرما تھی کہ یہ کام ملاؤں نے ہی کرنا ہے۔
مقننہ نے خود پر ہی ایک ایسا پیر تسمہ پا بٹھا لیا جس کی مرضی کے بغیر قانون سازی کی ہی نہیں جاسکتی۔ گویا ملاؤں پر مشتمل طبقے کا مفاد عوامی مفاد پر آئینی طور پر مسلط کردیا گیا۔ پھر اسی آئین نے عوام کے مذہب کے بارے میں فیصلے کرنے کا اختیار بھی اپنے ہاتھ میں لے لیا۔ ظاہر ہے اس سارے فعل سے کسی قسم کا عوامی مفاد تو وابستہ نہیں تھا سوائے چند طبقوں کے سیاسی اور گروہی مفادات کے۔ عوام کے درمیان مذہبی امتیاز کی بنیاد بھی رکھ دی گئی۔
ایسے قوانین بنائے گئے جو عوام میں ان کے مذہب کی بنیاد پر تفریق کرتے ہیں اور قومی اتحاد کو پارہ پارہ کردیا گیا۔ مذہب کے نام کو نفرت پھیلانے کا ذریعہ بنایا گیا۔ عوام کے بنیادی حقوق کو بھی مذہب سے جوڑ دیا گیا۔ جو دراصل اسی آئین میں فراہم کیے گئے دیگر بنیادی انسانی حقوق سے واضح رنگ میں متصادم ہیں۔ گویا آئین میں اسی آئین کے تحت تضادات کی بنیاد ڈال دی گئی۔ اور جو قانون اپنے اندر ہی تضادات رکھتا ہو اس کا نفاذ فساد تو پھیلا سکتا ہے قانون کی حکمرانی قائم نہیں کرسکتا۔
اسی آئین کے تحت اکثریت اور اقلیت پیدا کرنے کی بنیاد ڈالی گئی۔ یعنی دنیا جہان کے قاعدوں کے برعکس اقلیت اور اکثریت کے تعین کو مذہب سے جوڑ دیا گیا۔ اور اس سے جہاں بتدریج مذہبی ملا ریاستی معاملات میں طاقتور ہوتے گئے وہاں مقننہ کی حیثیت کمزور ہوتی رہی اور اس کو سیاسی مفادات حاصل کرنے کے ایک ذریعے تک ہی محدود کردیا گیا۔
چونکہ قانون سازی کی ابتدا مقننہ سے ہوتی ہے اس لئے ان بنیادی خامیوں کے ساتھ جو بھی قانون سازی ہوئی اس کے نتیجے میں انتظامیہ اور عدلیہ اور دیگر ادارے اسی طرح متاثر ہوئے جیسے کسی مشینری میں تیل یا گریس کی جگہ پانی چلا جائے تو ہر جگہ اسے زنگ آلود کرتا جاتا ہے اور نتیجے میں مشینری کا ہر کل پرزہ متاثر ہوکر اس کی ساری فعالیت ختم ہوجاتی ہے۔ اب پاکستان میں یہ صورت ہے کہ مذہبی شدت پسند طاقتور ہوچکے ہیں اور غیر ریاستی عناصر ہونے کے باوجود ایک ریاستی ادارہ کی حیثیت اختیار کرچکے ہیں۔
ان کی مرضی کے بغیر نہ کوئی قانون سازی ہوسکتی ہے اور نہ ہی انتظامیہ کوئی ایسا قدم اٹھا سکتی ہے جس سے ملاؤں کے مفادات کو کوئی نقصان پہنچتا ہو۔ عدلیہ کا بھی یہی حال ہے۔ غرض اس وقت ہر ادارہ کسی نہ کسی رنگ میں ملاؤں کو خوش کرنے کی کوشش میں لگا ہوا ہے یا ان کی طاقت کے آگے بے بس نظر آتا ہے۔ اور ساری ریاستی نظام کی دھجیاں بکھر کر رہ گئی ہیں۔ اس کی رٹ مذاق بن کررہ گئی ہے۔ ادارے کمزور ہوگئے ہیں۔ اخلاقی قدریں عنقا ہیں۔
جن کی جگہ مفادات اور کرپشن نے لے لی ہے۔ اگر کوئی انفرادی حیثیت میں انصاف سے کام لینے کی کوشش کرتا ہے تو اس پریہودی، قادیانی یا قادیانی نواز ہونے کا لیبل لگا کر اسے سرنگوں کروا لیا جاتا ہے۔ کسی با اصول انسان کو کسی اہم عہدے پر رہنے نہیں دیا جاتا۔ غرض اصول پسندی صرف ایک منافقانہ نعرہ سے زیادہ حیثیت نہیں رکھتی۔ مذہب کی بنیاد پر تفرقہ بازی اور نفرت کا وہ بازار گرم ہے کہ اس نفرت نے ساری قوم کا مزاج بگاڑ کررکھ دیاہے۔
مذہب کے نام پر محبت کی بجائے نفرت پھیلانے کو مسلمانی قرار دیا جانے لگا ہے۔ اب محض کلمہ پڑھنا مسلمان ہونے کے لئے اس ریاست میں کافی نہیں رہا بلکہ دیگر عقیدہ والوں سے نفرت کا اظہار مسلمانی کا اصل معیار قرار دیا جاچکا ہے۔ مذہب کی بنیاد پر نفرت کے شعلے اس قدر بھڑکا دیے گئے ہیں کہ اب ریاست کی اپنی بنیادیں اس نفرت کی آگ کی لپیٹ میں ہیں۔
مقننہ کے جن نے اپنی طاقت خود نکال کر جس طوطے میں ڈالی اسے ملاؤں کے ہاتھ دے دیا۔ اب وہ جس طرح چاہے اس کی گردن مروڑے اور اپنی مرضی کی قانون سازی کروائے۔ اس ساری صورتحال میں سب کچھ ہوسکتا ہے مگر عوامی بالادستی جسے سویلین سپریمیسی بھی کہا جاسکتا ہے وہ قائم نہیں ہوسکتی۔ جن لوگوں کو کسی سیاستدان سے کوئی امید ہے کہ وہ اس مقننہ کے ذریعے عوامی بالادستی کے لئے کھڑا ہوگا تو ان کا وہی حال ہے جو چند سال قبل ایک آغا وقار نامی شخص کے پانی سے کار چلانے کو سچ سمجھنے والوں کا تھا۔ کیونکہ ایک عوامی سیاستدان کی اصل قوت تو مقننہ ہے۔ جب مقننہ کی طاقت ہی کسی اور کے قبضے میں ہو تو وہاں سے عوامی بالا دستی کی امید رکھنا ایسا ہی ہے کہ نہیں دی جاسکتی جو دوسرے شہریوں کی آزادی سلب کرنے باعث بنے۔
رہا یہ سوال کہ مقننہ کس طرح لامحدود قانون سازی کر سکتی ہے یا کس طرح مادر پدر آزاد قانون سازی کرسکتی ہے جو اکثریت کے مذہب کے برخلاف ہو تو اس کا جواب ایسے ہی ہے جیسے کسی مسلمان کو کہا جائے کہ جو چاہو کھاؤ اور وہ اس کا مطب یہ نکالے کہ اب چاہے وہ سور بھی کھا لے۔ ظاہر ہے ایک مسلمان سور کا گوشت کھانا ہی نہیں چاہتا بھلے اسے اختیار بھی دیاجائے۔ اسی طرح ایک مسلم اکثریتی ملک میں عوام کا ایک نمائندہ جسے عوام نے قانون سازی کے لئے منتخب کیا ہو، وہ کیسے اکثریت کے مذہب کی تعلیمات کے خلاف قانون سازی کرسکتا ہے؟
لہٰذا مقننہ کے اختیار کو اسلام کی تعلیمات کے نام پر محدود و مسدود کرنے کا اصل مقصد اس کی طاقت کو ملاؤں کے آگے سر نگوں کرنے کے علاوہ اور کوئی معنی نہیں رکھتا۔ لہٰذا جب تک آئین پاکستان میں مقننہ کو ملاؤں کی قید سے آزاد نہیں کیا جاتا کسی قسم کی بہتری یا بھلائی کی توقع یا امید ایک خام خیالی سے بڑھ کر کچھ نہیں۔
غالب نے یہ مصرعہ تو نہ جانے کس ترنگ میں کہا تھا کہ، مری تعمیر میں مضمر ہے اک صورت خرابی کی۔ مگر تہتر کے آئین پریہ مصرعہ بھرپور صادق آتا ہے۔
پاکستان میں کرپشن اور سیاست کا چولی دامن کا ساتھ رہا ہے۔ ایک بیانیہ یہ ہے کہ کرپشن کے لیے سیاست ہوتی ہے۔ دوسرا بیانیہ یہ ہے کہ کرپشن کی مخالفت کے نام پر بھی سیاست کی جاتی ہے۔ دونوں بیانیے ایسے گڈمڈ ہو گئے ہیں کہ نہ سیاست نظر آتی ہے اور نہ کرپشن کا خاتمہ۔ یہ تمیز کرنا مشکل ہو گیا ہے کہ کہاں کرپشن ہے؟ کہاں سیاست؟
وزیراعظم عمران خان نے اقتدار میں آتے ہی دو بڑی اپوزیشن جماعتوں کے رہنماؤں کو ڈاکو اور چور کے القابات دے کر اِن سب کو جیل میں ڈالنے اور قوم کا پیسہ نکلوانے کا اعلان کیا تھا۔ اس کے بعد نیب نے اہم اپوزیشن رہنمائوں پر مقدمات بنائے اور انہیں گرفتار کیا۔
لیکن اب صورتحال مختلف ہو رہی ہے۔
مزید پڑھیں

نیب اختیارات کم کرنے کی ترمیم کیوں؟

’۔۔۔ہواؤں کا رخ بدل رہا ہے تو ترمیمی آرڈیننس آ گیا‘

نیب آرڈیننس میں ترمیم سے کس کو فائدہ؟
ضرورت پڑی تو مفاہمت کے راستے نکلے۔ سزا یافتہ نواز شریف کوعلاج کے لیے بیرون ملک جانے کی اجازت دی گئی، مسلم لیگ نواز کے صدر شہباز شریف بھی بیرون ملک چلے گئے۔ آصف علی زرداری اور ان کی ہمشیرہ فریال تالپور اور سید خورشید شاہ ضمانت پر رہا ہوگئے۔
دسمبر کے آخر میں حکومت نے نیب آرڈیننس میں ترمیم پیش کی ہے۔ جس سے تاجر، سرکاری افسران کے علاوہ سیاستدان بھی مستفید ہوں گے۔
آرمی ایکٹ میں ترمیمی بل کی پوزیشن پر اتفاق رائے اور ایوانوں میں اس کے حق میں ووٹ دینے کے بعد، نیب قانون میں ترمیم اپوزیشن کی مشاورت سے کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

وزیراعظم عمران خان نے اقتدار میں آتے ہی اپوزیشن جماعتوں کے رہنماؤں کو ڈاکو اور چور کے القابات دے کر جیل میں ڈال دیا۔ فوٹو اے ایف پی

سیاستدان قیام پاکستان کے فوراً بعد ہی کرپشن کے الزامات کی لپیٹ میں آنا شروع ہو گئے تھے۔ یہ الزام سیاسی اثر اور حمایت حاصل کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا رہا۔
اس وقت کے وزیراعلیٰ سندھ محمد ایوب کھڑو نے کراچی کو سندھ سے علیحدہ کر کے مرکزی حکومت کے حوالے کرنے کی مخالفت کی تو انہیں وزارت سے برطرف کر دیا گیا۔ ان کے خلاف اختیارات کے ناجائز استعمال وغیرہ کے 62 الزامات عائد کیے گئے۔ ٹائپ رائٹر چوری کے الزام میں اڑھائی سال قید کی سزا سنائی گئی۔ انہیں تین سال کے لیے سیاست میں حصہ لینے سے نااہل قرار دیا گیا۔
جب مصالحت ہوگئی تو ایوب کھڑو کو کابینہ میں لے لیا گیا۔ لیکن ایک سال بعد گورنر سندھ نے ان کے خلاف تحقیقات شروع کر کے ان سے استعفیٰ لے لیا۔ عجیب بات ہے کہ چند ہی ماہ بعد انہیں نگران وزیراعلیٰ مقرر کیا گیا۔ اگلے سال پھر ان پر دیگر سندھ کے سیاستدانوں سمیت پروڈا کے تحت مقدمہ دائر کیا گیا۔
وزیراعظم لیاقت علی خان نے پروڈا نافذ کیا تھا جس کا مقصد کرپشن اور اختیارات کے ناجائز استعمال کو روکنا بتایا گیا۔ یہ قانون اگرچہ 1949 میں بنایا گیا لیکن اس کو نافذالعمل 1947 سے قرار دیا گیا۔
ایوب خان نے حکمرانی کے دو ہتھیاراستعمال کیے۔ اختیارات کا ارتکاز اور مخالفین کو دھونس دینا اوران کو دبائے رکھنا۔

وزیراعظم لیاقت علی خان نے پروڈا نافذ کیا تھا جس کا مقصد کرپشن اور اختیارات کے ناجائز استعمال کو روکنا تھا۔ فوٹو سوشل میڈیا

صدراسکندر مرزا اور ایوب خان کے دور میں ان کے سیکرٹری رہنے والے قدرت اللہ شہاب اپنی یاداشتوں میں لکھتے ہیں کہ ‘یہ قانون سیاسی عہدیداروں کے سر پر شمشیر برہنہ کی طرح آویزاں ہو گیا۔ کسی بھی مرکزی یا صوبائی وزیر کے خلاف الزام لگا کرنہایت آسانی سے پروڈا کی صلیب پر لٹکایا جاسکتا تھا۔‘
وہ لکھتے ہیں کہ ’اس میں کوئی شبہ نہیں کہ یہ قانون ایک سیاسی ہتھیار کی حیثیت سے عالم وجود میں آٰیا اور سیاسی مقاصد کے لیے استعمال بھی ہوا۔ ایوب خان صرف سیاسی عہدیداروں کی بیخ کنی ہی نہ تھا بلکہ وہ سیاست کے میدان میں سرگرم عمل ان عناصر کو کانٹے کی طرح نکال کر باہر پھینک دینا چاہتے تھے۔‘
دو سابق وزراء اعظم ملک فیروز خان نون اور حسین شہید سہروردی، تین سابق وزراء اعلیٰ ایوب کھڑو، افتخار محمد ممدوٹ اور یوسف اے ہارون اور کئی ایک مرکزی و صوبائی وزراء ایبڈو کی زد میں آئے۔
ایوب خان کی اقتدار میں آنے کے بعد ترجیح یہ تھی کہ ملک میں موجود سیاسی نظام کو تباہ کرے۔
ایوب خان کے اس اقدام نے ایک پورے سیاسی کلاس کو ختم کردیا۔
1988 کے بعد جمہوری دورکی حکومتیں بھی اپنے حریفوں کے خلاف کرپشن چِپ استعمال کرتی رہیں۔ بینظیر بھٹو کی پہلی حکومت کو کرپشن کا الزام لگا کربر طرف کیا گیا۔ بعد میں غلام اسحاق خان نے نجی مشیروں کی مدد سے بینظیر بھٹو اور ان کے شوہر آصف علی زرداری کے خلاف کرپشن کے 20 مقدمات بنائے۔
حسن کمال دیکھیے کہ غلام اسحاق خان نے جب نواز شریف کی حکومت ختم کی تو اسی آصف علی زرداری کو نگراں حکومت میں وزیر بنایا۔

ایوب خان کے چند اقدامات سے ایک پورے سیاسی کلاس ختم ہو گئی تھی۔ فوٹو ویکیپیڈیا

بینظیر بھٹو 1993 میں دوبارہ وزیراعظم بنیں تو انہوں نے سابق وزیراعظم نواز شریف پر لاہور اسلام آباد موٹر وے اور ییلو کیب سکیم میں کمیشن لینے، سرکاری بینکوں سے قرضہ لینے اور پنجاب میں کوآپریٹیو سکینڈل کے ذریعے 18 ارب روپے بنانے کا الزام لگایا۔ نواز شریف اور ان کے خاندان کے خلاف 150 مقدمات دائر کیے گئے۔
نومبر 1996 میں صدر فاروق لغاری نے بینظیر بھٹو کی دوسری حکومت کو ایک بار پھر کرپشن کے الزامات کے تحت برطرف کیا۔ انہوں نے احتساب آرڈیننس جاری کیا جس کے تحت احتساب 1985 سے شروع کیا جاسکتا ہے، یعنی جب ضیاء الحق نے مارشل لاء اٹھایا تھا۔ ضیاء کے مارشل لاء دور کو مستثنیٰ قراردیا گیا۔
نواز شریف دوسری مرتبہ اقتدار میں آئے تو انہوں نے نیا احتساب ایکٹ لاگو کیا اور اپنے دوست سیف الرحمٰن کو چیف احتساب کمشنر مقرر کیا۔ بعد میں 1998 میں احتساب سیل نام تبدیل کر کے احتساب بیورو رکھا گیا۔ اس احتساب بیورو نے سابق وزیراعظم بینظیر بھٹو اور ان کے شوہر کو خاص طور پر نشانہ بنایا۔
نواز شریف کے تین سالہ دور میں عدلیہ نے بینظیر بھٹو اور آصف علی کو منی لانڈرنگ کے الزام میں پانچ سال قید اور 6 ملین ڈالر جرمانے کی سزائیں سنائی گئیں۔ فیصلے کے خلاف عدالت عظمیٰ سے رجوع کیا گیا۔
پرویز مشرف نے اقتدارمیں آ کر نواز شریف دور کے احتساب کے قانون کو بدل ڈالا اور ایک خطرناک احتساب آرڈیننس جاری کیا۔ اس نئے قانون کے تحت نیب کسی بھی شخص کو گرفتار کر کے، کورٹ میں پیش کیے بغیر 90 روز تک اپنی تحویل میں رکھ سکتا ہے۔

پرویز مشرف نے اقتدارمیں آ کر نواز شریف دور کے احتساب کے قانون کو بدل کر ایک خطرناک احتساب آرڈیننس جاری کیا۔ فوٹو: اے ایف پی

جب پرویز مشرف کو اقتدار کو طول دینے کے لیے سیاسدانوں کی ضرورت پڑی تو انہوں نے اکتوبر 2007 میں این آر او جاری کیا۔ جس میں کرپشن، منی لانڈرنگ، خواہ دہشتگردی کے الزامات میں ملوث سیاستدانوں، سیاسی کارکنوں کو معافی دی۔
سوئس اکائونٹس کے معاملے میں پیپلزپارٹی کو ایک وزیراعظم کی قربانی دینی پڑی۔
تیسری بار نواز شریف وزیراعظم بنے تو انہیں بھی سخت دبائو کو سامان کرنا پڑا بالآخر پاناما گیٹ کھلا تو انہیں پہلے نااہل قرار دیا گیا اور بعد میں سزا سنائی گئی۔
ہر پانچ دس سال بعد خاص انتظامات کے تحت چند افراد کو کرپشن کے الزام میں گرفتار کیا جاتا رہا۔ پھر امید ہو چلتی ہے کہ بلاامتیاز احتساب ہوگا۔ لیکن اگلے دو تین سال میں یہ خواب ادھورا ہی رہ جاتا ہے۔ بعد میں پتہ چلتا ہے کہ اس سے نہ کسی کو سزا ہوتی ہے نہ کرپشن رکتی ہے، بلکہ اس سے کسی کی سیاست ہی آگے بڑھتی ہے۔
ہمارا حکمران طبقہ قوم پر ہتھیار اُٹھاتا ہے اور امریکہ اور بھارت کے آگے ہتھیار ڈالتا ہے۔یہ روحانی، ذہنی، نفسیاتی اور جذباتی کرپشن کی ایک صورت ہے
کہنے والے کہتے ہیں پاکستان کا سیاسی نظام کرپشن پر کھڑا ہوا ہے۔ مگر یہ ’’سرسری خیال‘‘ ہے۔ پاکستان کے سیاسی نظام کے بارے میں ’’گہری بات‘‘ یہ ہے کہ پاکستان کا سیاسی نظام کرپشن پر کھڑا ہوا نہیں ہے، کرپشن سے ’’بنا ہوا‘‘ ہے۔ اس کا ڈیزائن کرپشن سے بنا ہے، اس کی اینٹیں کرپشن سے تخلیق ہوئی ہیں، اس کا گارا کرپشن سے وضع ہوا ہے، اس کا فرش کرپشن سے نمودار ہوا ہے۔
پاکستان کے سیاسی نظام کی کرپشن کی تازہ ترین مثال ’’چینی اسکینڈل‘‘ ہے۔ چینی اسکینڈل کی کڑواہٹ کا یہ عالم ہے کہ پورا قومی وجود بلبلا اٹھا ہے۔ چینی بحران کمیشن کی رپورٹ کے مطابق چینی کے اسکینڈل میں حکومت اور حزبِ اختلاف کی اہم شخصیات ملوث ہیں۔ ان میں شہبازشریف کا خاندان بھی ملوث ہے، عمران خان کا دایاں بازو کہلانے والے جہانگیر ترین بھی ملوث ہیں۔ اسکینڈل کے سلسلے میں مونس الٰہی اور خسرو بختیار کے بھائی کا نام بھی آیا ہے، اور آصف علی زرداری سے قربت کے لیے بدنام اومنی گروپ بھی چینی اسکینڈل میں ملوث پایا گیا ہے۔ چینی بحران کمیشن کی رپورٹ کے مطابق ملک میں گنا سستا خرید کر مہنگا ظاہر کیا گیا ہے۔ کسانوں کی بلاجواز کٹوتیاں کی گئی ہیں۔ سٹہ کھیلا گیا ہے۔ 100 ارب روپے سے زیادہ منافع کمایا گیا ہے۔ سرکاری اداروں اور سیٹھوں کے لیے الگ الگ کھاتے بنائے گئے ہیں تاکہ بڑے پیمانے پر گھپلا کیا جاسکے۔ رپورٹ کے مطابق افغانستان برآمد کی جانے والی چینی میں اربوں روپے کی گڑبڑ کی گئی ہے۔ سندھ حکومت نے اومنی گروپ کو فائدہ پہنچانے کے لیے اُسے زرِتلافی ادا کیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق ملک میں چینی کے 6 بڑے گروپ چینی کی 51 فیصد پیداوار اور تجارت کو کنٹرول کرتے ہیں۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ تمام شوگر ملیں کسانوں کے گنے کے وزن میں 15 سے 30 فیصد تک کٹوتی کرتی ہیں جس سے کسانوں کو بے پناہ نقصان ہوتا ہے۔ ملوں کے مالکان کے بارے میں انکشاف ہوا ہے کہ وہ دو کھاتے رکھتے ہیں، ایک کھاتا سرکاری اداروں کو اور دوسر اکھاتا سیٹھ کو دکھایا جاتا ہے جس میں اصل منافع درج ہوتا ہے۔ افغانستان برآمد ہونے والی چینی کے بارے میں پتا چلا ہے کہ ٹرک 15 سے 20 ٹن چینی لے جاتے ہیں مگر حکومت کو بتایا جاتا ہے کہ فی ٹرک 70 سے 80 ٹن چینی لے جائی گئی۔ کرپشن کے بارے میں ایک بنیادی بات یہ ہے کہ کرپشن صرف مالی یا معاشی نہیں ہوتی، بلکہ کرپشن نظریاتی بھی ہوتی ہے، سیاسی بھی، جمہوری بھی، اخلاقی بھی، نفسیاتی بھی، سماجی بھی۔ بدقسمتی سے پاکستان کی فوجی اور سیاسی قیادت نے ملک و قوم کو جو سیاسی نظام دیا ہے اس میں کرپشن کی ہر صورت موجود ہے۔ غالب نے کہا تھا:۔

مری تعمیر میں مضمر ہے اک صورت خرابی کی
مگر پاکستان کا سیاسی نظام زبانِ حال سے کہہ رہا ہے

’’مری تعمیر میں مضمر ہے ہر صورت خرابی کی‘‘
پاکستان کی فوجی اور سیاسی ’’اجلافیہ‘‘ کی نظریاتی کرپشن یہ ہے کہ پاکستان اسلام کے نام پر وجود میں آیا تھا، مگر یہاں اسلام سے زیادہ مظلوم کوئی نہیں۔ ملک کا آئین اسلامی ہے مگر ’’جرنیل‘‘، ’’بھٹوز‘‘ اور ’’شریفین‘‘ اسلام کو آئین سے نکلنے ہی نہیں دیتے، بلکہ اگر یہ کہا جائے تو غلط نہ ہوگاکہ پاکستان کی فوجی اور سیاسی ’’اجلافیہ‘‘ نے آئین کو اسلام کا قید خانہ بنا کر رکھ دیا ہے۔ قرآن کہتا ہے: سود اللہ اور اس کے رسولؐ کے خلاف جنگ ہے، مگر ہمارے فوجی اور سول حکمرانوں نے ملک کے پورے معاشی اور مالیاتی نظام کو سود پر کھڑا کیا ہوا ہے۔ قرآن کہتا ہے: اسلام میں پورے کے پورے داخل ہوجائو، مگر ہمارا معاشی نظام غیر اسلامی ہے، ہمارا عدالتی نظام غیر اسلامی ہے، ہمارا تعلیمی نظام غیر اسلامی ہے۔ ہمارے حکمران طبقے کی نظریاتی کرپشن کی ایک صورت یہ ہے کہ جنرل ایوب کو سیکولرازم اور جنرل پرویز کو لبرل ازم عزیز تھا۔ ذوالفقار علی بھٹو ’’اسلامی سوشلزم‘‘ جیسی لایعنی اصطلاح کے عاشق تھے۔ شریفوں اور زرداریوں کا بس چلتا تو وہ ملک کو ایک دن میں سیکولر اور لبرل بنادیتے۔ عمران خان بات ریاست مدینہ کی کرتے ہیں مگر نظریاتی اعتبار سے وہ اب تک نہ ’’He‘‘ ثابت ہوئے ہیں، نہ ’’She‘‘ ثابت ہوئے ہیں۔ ان کی کابینہ میں فواد چودھری جیسے رکیک النفس لوگ پائے جاتے ہیں جو اسلام اور اہلِ اسلام کی تضحیک کو اپنا مشن بنائے ہوئے ہیں۔ فواد چودھری سائنس سائنس کرتے رہتے ہیں، مگر اُن کی سائنس ڈیڑھ دو سال میں رویت ہلال کے مسئلے سے آگے نہیں بڑھ سکی ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ فواد چودھری کی ساری سائنس رویت ہلال مرکز ہے۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ فواد چودھری کو سائنسی شعور اور سائنسی فہم چھو کر بھی نہیں گزرا۔ گہرائی میں دیکھا جائے تو ہمارا حکمران طبقہ دراصل کسی بھی نظریے کے ساتھ کمٹڈ نہیں ہے۔ وہ نہ اسلام پسند ہے، نہ سیکولر۔ لبرل ہے نہ سوشلسٹ۔ ذوالفقار علی بھٹو خود کو سوشلسٹ کہتے تھے، مگر جب اُن کے خلاف عوامی ردعمل پیدا ہوا تو انہوں نے مذہبی طبقات کو خوش کرنے کے لیے قادیانیوں کو غیر مسلم قرار دے دیا، شراب پر پابندی لگادی، جمعہ کی تعطیل کی راہ ہموار کردی۔ جنرل پرویز اقتدار میں آئے تھے تو کہتے تھے کہ جہاد اور دہشت گردی میں بڑا فرق ہے، مگر جب امریکہ کا دبائو آیا تو انہوں نے جہاد کو دہشت گردی اور مجاہدوں کو دہشت گرد قرار دے ڈالا۔ بے نظیر بھٹو خود کو سیکولر اور لبرل کہتی تھیں، مگر دعائوں کے لیے بابوں کے پاس بھی حاضر ہوتی رہتی تھیں۔ میاں نوازشریف کے خاندان کو بڑا مذہبی قرار دیا جاتا ہے، مگر چودھری شجاعت نے اپنی خودنوشت میں لکھا ہے کہ شریفوں نے قرآن کو ضامن بناکر کہا کہ ہم نے آپ کے ساتھ جو معاہدہ کیا ہے اس پر حرف بہ حرف عمل کریں گے، مگر چودھری شجاعت کے بقول بعد ازاں ’’شریفوں‘‘ نے معاہدے کی ایک شق پر بھی عمل نہ کیا۔ الطاف حسین خود کو سیکولر کہتے تھے، مگر پھر کروٹن کے پتّوں پر ان کی شبیہیں ظاہر ہونے لگیں، اور الطاف حسین کو اس ’’روحانی تجربے‘‘ پر کوئی اعتراض لاحق نہ ہوا۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ ہمارے حکمران نہ اسلام پرست ہیں، نہ سیکولرازم اور لبرل ازم پرست ہیں، نہ سوشلزم پرست ہیں… وہ صرف ’’مفاد پرست‘‘ ہیں۔ ان کا مفاد ہو تو وہ خدا کا بھی انکار کردیں، اور ان کا مفاد ہو تو وہ ذرے کو خدا بنالیں۔
ہماری فوجی اور سول ’’اجلافیہ‘‘ نے پاکستان کے سیاسی نظام کو تہ در تہ کرپشن کا شکار کیا ہوا ہے۔ اسلام کہتا ہے کہ تمہارے لیے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات اور آپؐ کا اسوۂ حسنہ ہی بہترین نمونہ ہے۔ اس کے معنی یہ ہیں کہ اسلامی ریاست میں قیادت کا اہل وہی ہے جس کی زندگی زیادہ سے زیادہ سیرت مرکز ہو۔ امام غزالیؒ نے صاف لکھا ہے کہ مسلمانوں کی سیاست کو اسلام مرکز ہونا چاہیے۔ ابن خلدونؒ نے اپنے مشہورِ زمانہ مقدمے میں کہا ہے کہ اسلام میں سیاست مذہب کے تابع ہے۔ اقبالؒ اور مولانا مودودیؒ کی پوری زندگی اس خیال کو عام کرنے میں بسر ہوگئی کہ سیاست اسلام کی پابند ہے۔ مگر پاکستان کی فوجی اور سیاسی اجلافیہ نے سیاست کو دین کے تابع کرنے کے بجائے دین کو سیاست کے تابع کیا ہوا ہے۔ یہاں تک کہ آئین کی دفعہ 62 اور 63 پر بھی آج تک عمل نہیں ہوسکا ہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہے کہ پاکستانی سیاست کی رضیہ غنڈوں میں پھنس کر رہ گئی ہے۔ اسلام کہتا ہے: فضیلت صرف دو چیزوں کو حاصل ہے، تقویٰ کو یا علم کو۔ مگر پاکستان کے اکثر سیاست دانوں اور منتخب نمائندوں کے پاس نہ تقویٰ ہے نہ علم۔ وہ نہ ہماری تہذیب کے نمائندے ہیں نہ تاریخ کے۔ نہ وہ ہماری اقدار کی علامت ہیں نہ ہمارے Ideals کی۔ نہ وہ ہمارے خوابوں کے امین ہیں نہ ہماری قومی امانتوں کے امانت دار ہیں۔

پاکستان کے جرنیلوں نے ہماری قومی سیاسی زندگی کو کیسے کیسے تحفوں سے نوازا ہے اس کا اندازہ اس بات سے کیجیے کہ جنرل ایوب نے خود کو ڈیڈی کہنے والے ذوالفقار علی بھٹو قوم کو دیے۔ جنرل ضیا الحق نے میاں نوازشریف اور الطاف حسین جیسے ’’فرشتے‘‘ قومی سیاست کو دیے۔ بدقسمتی سے عمران خان نے بھی خود کو اسٹیبلشمنٹ کے سیاسی کھیت کی مولی بنالیا۔ یہ بات تاریخ کے ریکارڈ پر ہے کہ ہر جنرل نے سیاسی جماعتوں سے نفرت کی، اور ہر جنرل نے قوم کو ایک سیاسی جماعت عطا کی۔ جنرل ایوب نے قوم کو کنونشن لیگ کا ’’تحفہ‘‘ دیا۔ جنرل ضیا الحق نے قوم کو جونیجو لیگ ’’عطا‘‘ کی۔ جنرل پرویزمشرف نے قوم کے گلے میں ق لیگ کا ’’ہار‘‘ ڈالا۔ لوگ سمجھتے ہیں کہ وڈیرے صرف پنجاب اور سندھ میں پائے جاتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ ہمارے جرنیل ’’فوجی وڈیرے‘‘ کہلانے کے مستحق ہیں۔ اس کی سب سے بڑی دلیل یہ ہے کہ جس طرح سیاسی وڈیرے اپنے علاقے کی سیاست کو کنٹرول کرتے ہیں، اسی طرح جرنیل پورے پاکستان کی سیاست کو کنٹرول کرتے ہیں۔ ملک میں قومی اسمبلی کے ایسے 70 سے 75 حلقے ہیں جہاں صرف نام نہاد Electables ہی منتخب ہوسکتے ہیں۔ اس طرح پاکستان کی ہر قومی اسمبلی میں اسٹیبلشمنٹ کے 75 لوگ ہمیشہ موجود ہوتے ہیں۔ اسٹیبلشمنٹ کبھی یہ Electables نوازشریف کے حوالے کردیتی ہے، کبھی عمران خان کے۔ یہ سیاسی کرپشن کی بدترین مثال ہے۔ اس حقیقت سے کوئی معقول شخص انکار نہیں کرسکتا کہ پاکستان کے تمام انتخابات دھاندلی زدہ ہیں۔ انتخابات بعد میں ہوتے ہیں اور ان کے نتائج پہلے سے ’’فوجی وڈیروں‘‘ کے ہاتھ میں ہوتے ہیں۔ وہ جس کو جب چاہتے ہیں جتا دیتے ہیں، جس کو جب چاہتے ہیں ہرا دیتے ہیں۔ انتخابات کے پورے عمل میں سیاسی کرپشن عروج پر ہوتی ہے۔ اقبال نے مغربی جمہوریت پر اعتراض کرتے ہوئے کہا تھا: ۔

جمہوریت اک طرزِِ حکومت ہے کہ جس میں
بندوں کو گنا کرتے ہیں تولا نہیں کرتے
مگر پاکستان کے فوجی وڈیروں نے جمہوریت کو ’’گنتی کا عمل‘‘ بھی نہیں رہنے دیا۔ مغربی جمہوریت ’’کانی‘‘ تھی، ہمارے فوجی وڈیروں نے اسے ’’اندھا‘‘ بنادیا۔ مطلب یہ کہ پاکستان میں انتخابی عمل ہر سطح پر دھاندلی کا شکار ہوتا ہے۔ پہلی دھاندلی ووٹر لسٹوں میں گڑبڑ سے شروع ہوتی ہے۔ دوسری دھاندلی انتخابی مہم کے عدم توازن سے سامنے آتی ہے۔ تیسری دھاندلی ووٹوں کی گنتی میں ہوتی ہے۔ اس کے باوجود بھی کوئی نہ ہار رہا ہو تو نتیجہ بدل دیا جاتا ہے۔ دنیا بھر میں ’’شفاف ایمان داری‘‘ ہوتی ہے۔ ہمارے یہاں ’’شفاف دھاندلی‘‘۔ یہ سیاسی کرپشن کی انتہا ہے۔
جرنیل کہتے ہیں کہ ہمارے سیاسی رہنما اور سیاسی جماعتیں بدعنوان ہیں۔ اور وہ غلط نہیں کہتے۔ پاکستان کی چار بڑی جماعتوں یعنی نواز لیگ، پیپلز پارٹی، تحریک انصاف اور ایم کیو ایم نے خود پر بدعنوانی کو ’’حلال‘‘ کیا ہوا ہے۔ ان جماعتوں کے نزدیک سیاست کرپشن ہے اور کرپشن سیاست ہے۔ مگر مسئلہ یہ ہے کہ پاکستان کے فوجی وڈیروں کو کرپٹ سیاسی رہنما اور کرپٹ سیاسی جماعتیں ہی ’’سُوٹ‘‘ کرتی ہیں۔ فوجی وڈیرے انہیں جب چاہیں بدنام کرسکتے ہیں، جب چاہیں لات مار کر اقتدار سے باہر کرسکتے ہیں۔ اگر جماعت اسلامی یا اس جیسی کوئی جماعت اقتدار میں آجائے تو نہ اس پر ملک دشمنی کا الزام لگایا جاسکے گا نہ کرپشن کا، اس طرح ایمان دار قیادت اور ایمان دار جماعت فوجی وڈیروں کی بالادستی کو چیلنج کردے گی، اور فوجی وڈیروں کے لیے یہ بات ناقابلِ برداشت ہوگی۔ چناں چہ فوجی وڈیروں کی پسندیدہ قیادت اور پسندیدہ جماعتیں وہی ہیں جو کرپشن میں ڈوبی ہوئی ہیں۔ فوجی وڈیروں کو اعلیٰ کردار کی ایمان دار قیادت درکار ہوتی تو وہ ملک کے سیاسی نظام کی کبھی کی اصلاح کرچکے ہوتے، اور بدعنوان سیاسی عناصر کا راستہ بند کیا جاچکا ہوتا۔ پاکستان کی سیاست میں کرپٹ عناصر کے لیے تمام راستے کھلے ہیں تو اس کا مطلب یہی ہے کہ فوجی وڈیروں کو کرپٹ سیاست دان اور کرپٹ سیاست ہی پسند ہے۔
یہ بات تاریخ کے ریکارڈ پر موجود ہے کہ جنرل ضیا الحق کے زمانے میں سیاست دانوں کے 200 ارب روپے سے زیادہ کے قرضے معاف کیے گئے۔ اتنے ہی بڑے قرضے جنرل پرویز کے عہد میں معاف ہوئے۔ اس کے معنی یہ ہیں کہ ہمارے جرنیلوں نے اپنے سیاسی مفاد کے لیے ہزاروں سیاسی شخصیات کو شعوری طور پر کرپٹ بنایا۔ ہمارے فوجی وڈیروں نے ملک کے سیاسی نظام کو اس حد تک کرپٹ کردیا ہے کہ اس نظام میں ایمان داری ’’نااہلیت‘‘ ہے، اور کرپشن ’’اہلیت‘‘۔
ہمارے سیاسی نظام کی نفسیاتی کرپشن یہ ہے کہ ہماری سیاست کا کوئی نظریہ ہی نہیں ہے۔ یہ سیاست شخصیات اور خاندانوں کے گرد گھومتی ہے۔ ہماری سیاست 20 سال تک پرو بھٹو اور اینٹی بھٹو، یا پرو پیپلز پارٹی اور اینٹی پیپلز پارٹی کے جذبات کا شکار رہی ہے۔ جس طرح کولہو کا بیل ایک دائرے میں گردش کرتا رہتا ہے اور وہ سیکڑوں کلو میٹر چلنے کے باوجود کہیں نہیں جاتا، اسی طرح ہماری سیاست شخصیات اور خاندانوں کا طواف کرتی رہی ہے اور وہ کہیں بھی نہیں جاسکی ہے۔ نہ مکہ، نہ مدینہ، نہ واشنگٹن، نہ لندن۔
غور کیا جائے تو مارشل لا بھی سیاسی کرپشن کی ایک صورت ہے۔ اس لیے کہ مارشل لا کی کوئی اخلاقی، آئینی اور سیاسی بنیاد نہیں ہوتی، اس کے باوجود ملک پر چار بار فوجی آمر حکمرانی کرچکے ہیں۔ دنیا میں ایسے کئی ممالک ہیں جہاں آمریتوں نے سیاسی اور معاشی کمالات دکھائے ہیں۔ چین اس کی سب سے بڑی مثال ہے۔ مگر پاکستان کا المیہ یہ ہے کہ یہاں ہر فوجی آمریت بدترین ناکامی سے دوچار ہوئی ہے۔ وہ نہ ملک و قوم کو مضبوط بنا سکی، نہ پائیدار معاشی ترقی کی راہ ہموار کرسکی۔ دنیا کے کئی ممالک ہیں جہاں جمہوریت نے درکار نتائج پیدا کیے ہیں، مگر پاکستان میں جمہوریت بھی ناکام ہوئی ہے۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ ہمارے یہاں نہ آمریت کا کوئی میرٹ ہے، نہ جمہوریت کا کوئی میرٹ ہے۔
قومیں اپنی آزادی اور خودمختاری سے پہچانی جاتی ہیں، اور جو قوم جتنی آزاد اور جتنی خودمختار ہوتی ہے وہ اتنی ہی کرپشن سے لڑنے کے قابل ہوتی ہے۔ مگر بدقسمتی سے پاکستان کی فوجی اور سول اجلافیہ نے ہمیشہ ملک و قوم کی آزادی اور خودمختاری کا سودا کیا ہے۔ اس کا ثبوت یہ ہے کہ ہمارا دفاع پچاس سال سے امریکہ مرکز ہے، ہماری معیشت آئی ایم ایف اور عالمی بینک کی مٹھی میں ہے، ہم نجکاری کرتے ہیں تو مغرب کے کہنے پر، ہم بجٹ بناتے ہیں تو آئی ایم ایف کی ہدایات کے مطابق۔ ہمارے حکمرانوں کا قصہ یہ ہے کہ وہ قوم کے لیے شیر ہیں اور امریکہ اور یورپ کے لیے بھیگی بلی۔ ہمارا حکمران طبقہ قوم پر ہتھیار اُٹھاتا ہے اور امریکہ اور بھارت کے آگے ہتھیار ڈالتا ہے۔ تجزیہ کیا جائے تو یہ روحانی، ذہنی، نفسیاتی اور جذباتی کرپشن کی ایک صورت ہے۔
ہر بڑا رہنما سر اٹھا کر جینے والی قوم پیدا کرتا ہے، مگر ہمارے حکمران اتنے چھوٹے ہیں کہ انہوں نے ہمیشہ سر جھکا کر جینے والی قوم کو ’’مثالی قوم‘‘ باور کرایا ہے۔ بلاشبہ ہمارے حکمرانوں کا یہ طرزِ فکر و عمل بھی ان کی روحانی، اخلاقی، ذہنی اور نفسیاتی کرپشن کا شاخسانہ ہے۔ اس تناظر میں دیکھا جائے تو کہا جاسکتا ہے کہ اگر کرپشن پر نوبیل انعام ملا کرتا تو پاکستان کا حکمران طبقہ اب تک کئی بار کرپشن کا نوبیل انعام حاصل کرچکا ہوتا۔

کیا واقعی کرپشن ،بدعنوانی کے خلاف احتسابی عمل سے ملک کا سیاسی اورجمہوری نظام ناکام ہوگا اورملک اس کے نتیجے میں داخلی عدم استحکام سمیت معاشی بدحالی کا شکار ہوگا؟ یہ وہ سوال ہے جو یہاں بہت سے اہل دانش یا سیاسی اکابرین کی جانب سے اٹھایا جاتا ہے اور اسی نکتہ کو بنیاد بنا کر دلیل دی جاتی ہے کہ ہمیں مفاہمت کی سیاست درکار ہے اور ماضی کی غلطیوں سے نکل کر ہمیں آگے بڑھنا چاہیے ۔ یہ عجیب منطق ہے کہ احتساب کا عمل سیاست اور جمہوریت کو کمزور کرتا ہے ۔یہ دلیل عمومی طور پر ان لوگوں کی جانب سے سامنے آتی ہے جو یا تو احتساب کے عمل سے گزر رہے ہیں یا ان کو ڈر ہے کہ وہ بھی اس کا حصہ بن سکتے ہیں ۔ اس کام کے لیے ان کے حامی اہل دانش بھی کافی پیش پیش اور سرگرم نظر آتے ہیں ۔

بنیادی طور پر پاکستان میں اہل دانش، سیاست اور اقتدار یا طاقت کی سیاست پر حاوی طبقہ اس بنیادی نکتہ پر زور دیتا تھا کہ پاکستان میں کرپشن اور بدعنوانی کوئی بڑا مسئلہ نہیں ۔مگر اگر ہم پاکستان کے بنیادی مسائل کا جائزہ لیں تو اس میں ایک بڑا مسئلہ کرپشن اور بدعنوانی کے تناظر میں غالب نظر آتا ہے ۔ مسئلہ محض یہاں پر کرپشن یا بدعنوانی کا نہیں بلکہ اس تناظر میں ریاستی ، حکومتی نظام ، اداروں اور مافیا کے درمیان اس مضبوط گٹھ جوڑکا معاملہ ہے جو ریاستی ، حکومتی وسائل اور اختیار کو بنیاد بنا کر ذاتی مفادات کو تقویت دیتے ہیں۔ سیاست ،جمہوریت ، انصاف اور شفافیت کا کرپشن یا بدعنوانی کا باہمی گٹھ جوڑ واقعی سنگین نوعیت کا مسئلہ ہے ۔

لیکن ایک اچھی بات یہ ہے کہ اب ہمارے سیاسی، قانونی نظام میں کرپشن یا احتساب ایک قومی مسئلہ کے طور پر ابھرا ہے ۔سیاسی حکومت، ریاستی نظام ، عدلیہ ، نیب، ایف آئی اے سمیت دیگر ادارے کافی حد تک فعالیت کا کردار بھی ادا کررہے ہیں ۔اگرچہ اس میں شفافیت کے حوالے سے ابھی بھی کافی مسائل ہیں لیکن اس کے باوجود یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ معاملات بہتر انداز میں آگے کی طرف بڑھ رہے ہیں اور ماضی کے مقابلے میں احتساب کا عمل زیادہ مضبوط نظر آتا ہے ۔
یہ ایک تلخ حقیقت ہے ہمارا ریاستی و حکومتی نظام اداروں کو مضبوط بنانے کے بجائے افراد کے سہارے کھڑا ہوتا ہے ۔ افراد میں بھی ہم ایسے فرد کا چناؤ کرتے ہیں جو قانون سے زیادہ حکمران طبقات کے مفادات کو تحفظ دے ۔یہاں سیاسی بنیادوں پر کرپشن کو تحفظ دینے، سمجھوتے یا ایسی پالیسیاں بنائی جاتی ہیں جن کا مقصد ادارہ جاتی عمل کو کمزور کرنا ہوتا ہے ۔کرپشن اور بدعنوانی کی سیاست کا خاتمہ ایک مضبوط ادارہ جاتی عمل اور اس کے داخلی شفافیت پر مبنی نظام یا خود مختاری سے جڑا ہوتا ہے ۔ جب سیاسی مداخلتوں کے ساتھ انتظامی یا ادارہ جاتی نظام کو چلایا جائے گا تو اس سے بہتری اور شفافیت کے امکانات اور زیادہ محدود ہوجاتے ہیں۔ اس طرزکے نظام کی خرابی یہ ہوتی ہے کہ کرپشن، بدعنوانی اور اقربا پروری اوپر سے سرایت کرکے نیچے تک آتی ہے اور ہر سطح پر اس کی شکلیں قومی بگاڑ کی صورت میں دیکھنے کو ملتی ہیں اور یہ ہی شفافیت پر مبنی نظام میں بڑی رکاوٹ ہے ۔

عمومی طور پر جب ہم ملک کے مختلف شعبہ جات یا طاقت ور طبقات کی کرپشن اور بدعنوانی کی کہانیاں سنتے ہیں یا جو اس تناظر میں عدالتوں میں انکشافات ہوتے ہیں تو یہ سب کچھ سیاسی تنہائی میں نہیں ہوتا بلکہ ریاستی، حکومتی نظام اور مافیا کے درمیان گٹھ جوڑ کی بنیاد پر یہ سب کچھ ہم کو دیکھنے کو ملتا ہے ۔چیف جسٹس سپریم کورٹ جسٹس ثاقب نثار اور ہماری عدلیہ کو واقعی داد دینی ہوگی کہ کس طرح سے پچھلے کچھ عرصہ سے طاقت ور طبقات کی کرپشن، بدعنوانی اور مافیا پر مبنی حکمرانی میں طاقت ور طبقات کو بے نقاب کیا ہے ۔جو مقدمات عدالتوں میں چل رہے ہیں وہ اس نکتہ کو سمجھنے کے لیے کافی ہیں کہ کیسے اس ملک میں سیاست ، جمہوریت اور قانون کی حکمرانی کے نام پر مافیا پر مبنی حکمرانی ہے ۔ یہ مسئلہ محض اہل سیاست ، سیاست دانوں کا ہی نہیں بلکہ اس میں معاشرے کے تمام طاقت ور طبقات جن میں کچھ سیاست دان، بیوروکریسی اور کاروباری طبقہ شامل ہیں ۔

کرپشن اور بدعنوانی کی سیاست کے کچھ فکری مسائل بھی ہیں جو کافی توجہ طلب ہیں ۔ اول جب بھی ملک میں کرپشن ، بدعنوانی کا خاتمہ یا بلا تفریق احتساب کی بات ہو تو سب سے پہلے اس دلیل کو سامنے لایا جاتا ہے کہ ملک سیاسی اورمعاشی عدم استحکام کا شکار ہوگا اوراس سے ملک میں سیاست ، جمہوریت اورحکومت کو خطرات لاحق ہونگے ۔ دوئم کرپشن اور بدعنوانی آج کے سرمایہ دارانہ نظام میں کوئی بڑا مسئلہ نہیں اوراس کو قبول کیے بغیر ہم سیاسی اور معاشی طور پر آگے نہیں بڑھ سکیں گے۔ سوئم ملک کے سیاسی او رمعاشی استحکام کے لیے ہمیں مفاہمت کی طرف بڑھنا ہوگا اور احتساب کے بجائے عام معافی کا اعلان کرنا ہوگا ۔چہارم جب بھی کسی کی کرپشن اور بدعنوانی کی بات ہوتی ہے تو وہ فوری طور پر اپنی صفائی دینے کے بجائے دوسروں کو بھی کرپٹ ثابت کرتا ہے یا احتساب کے عمل کو طاقتور اداروں کے گٹھ جوڑ یا سیاسی انتقام سمجھ کر اس کی ہر سطح پر مخالفت کی جاتی ہے۔ احتساب شفاف اور بلا امتیاز ہونا چاہیے تاکہ مخالفوں کو اس پر انگلی نہ اٹھانا پڑے۔

بنیادی بات یہ سمجھنی ہوگی کہ سیاست ، جمہوریت اورکرپشن کو کیسے ایک ساتھ جوڑ کر کوئی مضبوط سیاسی نظام کی بنیاد رکھی جاسکتی ہے ۔اگر مسئلہ واقعی سیاسی ،سماجی ، معاشی نظام سے کرپشن کی سیاست کا خاتمہ کرنا ہے تو اس میں حکمران یا بالادست طبقات کے لیے کیا رکاوٹ ہے ۔ اگر اس تناظر میں کوئی موثر قانون سازی، پالیسی درکار ہے تو اس کے لیے بھی کسی نے کسی بھی حکمران طبقہ کو نہیں روکا، آج بھی جب نیب پر سوال اٹھائے جاتے ہیں تو اس کی اصلاح کے لیے کیونکر قانون سازی سے گریز کیاجاتا ہے ۔مسئلہ قانون سازی کا نہیں بلکہ ایک ایسی مضبوط سیاسی کمٹمنٹ کے فقدان کا ہے جو شفافیت میں رکاوٹ بنتی ہے ۔جب سیاست محض دولت اور اختیارات سمیٹنے کا نام بن کر رہ جائے یا سیاست اور جمہوریت کو کارپوریٹ یعنی مالی منافع کی بنیاد پر چلایا جائے گا تو یہ ہی کچھ خرابیاں اور بداعمالیاں ہونگی جو ہمیں اس وقت اپنی قومی سیاست پر غالب نظر آتی ہے۔

سیاست اور جمہوریت کے اصولوں میں ایک بڑی بنیاد اس کی اخلاقی ساکھ ہوتی ہے ۔ اس اخلاقی ساکھ کی بڑی کنجی شفافیت پر مبنی نظام بھی ہوتا ہے ۔لیکن ہماری سیاست میں سے اخلاقیات کا پہلو بہت پیچھے چلا گیا ہے ۔یہ محض سیاسی نعرے بن گئے ہیں اور جو سیاسی نظام بنایا گیا ہے اس کی بنیاد اصول، فکر ، سوچ اور نظریہ پر مبنی نہیں بلکہ ان کو سیاست میں اہل سیاست ایک بڑی ڈھال کے طور پر استعمال کرتے ہیں ۔ سیاست اور سیاست دان جمہوریت میں ایک رول ماڈل کی حیثیت اختیار کرتے ہیں ،لیکن جب ہم اپنے ان رول ماڈل کی کرپشن اورلوٹ مار کی کہانیاں سنتے ہیں تو لوگوں میں سیاست اورجمہوریت کے بارے میں کوئی اچھا تاثر نہیں ابھرتا ۔ یہ برا تاثر جہاں جمہوریت اور سیاست کو کمزور کرتا ہے وہیں لوگوں میں اس نظام سے لاتعلقی کو بھی بڑھاتا ہے ۔یہ سمجھنا ہوگا کہ آپ جتنے اچھے سیاسی اورمعاشی اصول یا پالیسیاں ترتیب دے لیں ،لیکن اگر اس میں کرپشن اور بدنیتی کا پہلو ہوگا تو کچھ بھی مثبت انداز میں حاصل نہیں ہوگا اور معاملات مزید بگڑ سکتے ہیں۔

اس وقت اچھی بات یہ ہے کہ پورے ملک کا سیاسی ماحول کرپشن اور بدعنوانی کی سیاست کے خلاف ایک بے لاگ احتساب کی حمایت میں نظر آتا ہے ۔ حکومت ،عدلیہ اور نیب سمیت کئی ادارے اس کی حمایت میںکھڑے اور فعال نظر آتے ہیں ۔ اب اس وقت ضرورت اس امر کی ہے کہ معاشرے کے افراد اوربالخصوص رائے عامہ بنانے والے افراد یا ادارے جن میں میڈیا، اہل دانش، استاد، علمائے کرام ، شاعر، ادیب ، دانشور، صاف ستھری سیاست کے حامل افراد، سول سوسائٹی اور بالخصوص نوجوان طبقہ اس بحث کو اور زیادہ شدت سے بیدار کرے کہ ملک میں احتساب ہو ،لیکن یہ احتساب منصفانہ ، شفاف اور بے لاگ یا بلاتفریق ہو۔یہ جو دلیل دی جاتی ہے کہ احتساب صرف سیاسی مخالفین کا ہی کیوں ۔حکومت میں شامل لوگ کیوں اس دائرہ کار میں نہیں آتے ۔

اس کے لیے بھی رائے عامہ کے اداروں اورافراد کو ریاست اورحکومتی اداروں پر دباؤ بڑھانے کی پالیسی میں شدت پیدا کرنا ہوگی کہ و ہ لوگ جو حکومت کی چھتری کے نیچے سیاسی پناہ لیے ہوئے ہیں ان کو بھی اس احتساب کے دائرہ کار میںلاکر کرپشن اور بدعنوانی کی سیاست کا خاتمہ یا اسے لگام دیا جائے ،کیونکہ منصفانہ معاشرہ اور شفاف جمہوریت پر مبنی سیاسی نظام کرپشن کی حمایت کے ساتھ آگے نہیں بڑھ سکتا۔

پاکستان کی سیاسی اشرافیہ پاکستان کے حالیہ سیاسی بحران میں دو حصوں میں تقسیم نظر آتی ہے۔ ایک طبقہ پاکستان میں جاری جمہوری سیاست میں موجود بدعنوانی اور کرپشن کی سیاست کا خاتمہ اور ان معاملات میں بلاتفریق ملوث افراد کے خلاف قانونی کارروائی کو پہلی ترجیح دیتی ہے۔ دوسرے طبقے کے بقول ہمیں کرپشن اور بدعنوانی کے خاتمے میں اپنے جمہوری فریم ورک، قانونی دائرہ کار سے باہر نکلنے یا جمہوری نظام کی بساط لپیٹنے سے گریز کرنا چاہئے جب کہ کہا جاتا ہے کہ کرپشن اور بدعنوانی کا علاج ہمیں اپنے جمہوری نظام میں ہی تلاش کرنا چاہئے تو یہ درست نقطہ نظر ہے لیکن کیا وجہ ہے کہ ہماری جمہوری سیاست اور اس سے وابسطہ جمہوری افراد اس کرپشن اور بدعنوانی کا علاج جمہوری نظام میں تلاش کرنے کی بجائے خود اس کرپٹ نظام کا حصہ بن کر کرپشن پر مبنی سیاست کو تقویت فراہم کرتے ہیں یہ عجیب منطق ہے کہ جب کوئی کرپشن اور بدعنوانی کی سیاست کو چیلنج کر کے ا یک بڑیکارروائی کا مطالبہ کرتا ہے تو ہم جمہوری نظام کا سہارا لیکر بچنے کی کوشش کرتے ہیں۔ یہ سمجھنا ہو گا کہ مسئلہ یہ جمہوری نظام کی اہمیت اور افادیت سے انکار نہیں جمہوری نظام ہی ہمارے مسائل کا حل ہے لیکن جمہوریت کے نام پر کچھ لوگوں نے ملک، معاشرہ اور قومی ترقی کے نام پر ملک کی معیشت کو تباہ و برباد کر دیا ہے۔ جمہوری نظام کی بنیاد کرپشن اور بدعنوانی کی سیاست نہیں بلکہ صاف ستھرا نظام اور قانون کی حکمرانی کے تابع ہوتی ہے جبکہ ہم نے جمہوری سیاست کے جو اصول اختیار کئے ہوئے ہیں وہ عملی طور پر جمہوریت کی نفی ہے ایک دلیل یہ دی جاتی ہے کہ جمہوری نظام کے تسلسل سے نہ جمہوری نظام مضبوط ہو گا بلکہ کرپشن اور بدعنوانی کی سیاست ختم یا کمزور ہو گی لیکن ہمارے یہاں جو جمہوریت کا نظام چل رہا ہے اس میں کرپشن بدعنوانی، بری طرز حکمرانی اور آمرانہ مزاج کم ہونے کی بجائے بڑھ رہا ہے اس کی ایک وجہ سیدھی سی ہے کہ ہمارا جمہوری طبقہ وہ فیصلے کرنے کیلئے بالکل تیار نہیں جو جمہوریت کے نظام کو کمزور کرنے اور عدم شفاعیت میں مبتلا کرنے کا سبب بنتا ہے اس لیے پاکستان میں وہ افراد جو واقعی ، حقیقی، منصفانہ اور شفافیت پر مبنی جمہوری نظام چاہتے ہیں انہیں اپنے اندر موجود تضاد سے باہر نکلنا ہو گا سیاسی وابستگیوں کے قطع نظر ہمیں اس بنیادی نقطہ کو ایک بڑی سیاسی طاقت فراہم کرنی ہو گی کہ ہماری ترجیح شفاف حکمرانی کا نظام ہے جو لوگ بھی جمہوریت کی چادر لپیٹ کر یا اس نظام کا سہارا لیکر کرپشن، بدعنوانی اور مافیا سمیت غیر جمہوری حکمرانی کے نظام کا سیاسی جواز پیش کریں اس کی مزاحمت ہونی چاہئے اسی طرح ہمیں یہ آواز بھی اٹھانی چاہئے کہ کرپشن اور بدعنوانی کی سیاست ایک یا دو جماعتوں تک محدود کرنے کی بجائے تمام سیاسی، انتظامی ، کاروباری اور قانونی اداروں تک پھیلا کر اس کے خلاف ایک مضبوط رائے عامہ کی مدد سے رکاوٹ پیدا کی جائے اس سوال کا جواب ہمیں تلاش کرنا چاہئے یا کم از کم حکمران طبقات سے ضرور پوچھنا چاہئے۔ ماضی میں انہوں نے ایسے کون سے اقدامات کئے جو کرپشن اور بدعنوانی کی سیاست کو کمزور کرنے کا سبب بنے۔ سیاسی جماعتوں میں مجرمانہ ذہنیت اور سرگرمیوں میں ملوث افراد کے خلاف کیونکر سیاسی جماعتیں کارروائی نہیں کر سکیں اور کیوں ان کے لیے سیاسی ج ماعتوں کے دروازے بند نہ کئے گئے معذرت کے ساتھ سیاسی جماعتوں نے ان مجرمانہ لوگوں کی سرپرستی کر کے اپنی مفاداتی سیاست کو فائدہ پہنچایا۔ صرف جرائم پیشہ افراد ہی نہیں بلکہ سیاسی جماعتوں میں موجود سیاسی رہنمائوں نے بھی وہی گل کھلائے ہیں جو بدعنوان سیاست کو طاقت فراہم کرتے ہیں المیہ یہ ہے ابھی جو کچھ ہمارے سامنے آ رہا ہے۔ سیاسی جماعتیں اور ان کی قیادت یہ ماننے کے لیے تیار ہی نہیں کہ ان میں جرائم پیشہ افراد موجود ہیں یا وہ انکی سرپرستی کرتے ہیں اس منافقت کے ساتھ ہم جمہوری نظام کو مضبوط بنانا چاہتے ہیں جو محض ایک خوش فہمی پر مبنی سیاست ہے اگر ہمیں جمہوری عمل چلانا ہے تو کچھ بنیادی باتوں، اصولوں سمیت قانونی نکات کے ساتھ جوڑ کر مستقبل کے طرف جانا ہو گا چلنا ہو گا یہ مثال منطق دی جاتی ہے کہ جمہوری نظام میں ووٹ کی طاقت ہوتی ہے اور یہ لوگ عوامی مینڈیٹ رکھتے ہیں اور عوام کو ہی ان کو مسترد یا قبول کرنے کا اختیار ہے لیکن ہارے والے لوگوں نے الیکشن کو تسلیم ہی نہیں کیا آخر کیوں۔ کیا وہ خود بے ایمانی کی طاقت سے جیتے رہے ہیں یا جیتے ہو گے کیا وجہ ہے کہ اگر ان کے عوامی مینڈیٹ میں قانون شکن افراد یا کرپشن اور بدعنوانی میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی کی جائے یا اس کا مطالبہ کیا جائے تو اس کا جواب ہمیںمینڈیٹ کے طعنہ کی صورت میں سننا پڑتا ہے شاید اسی لئے کچھ لوگوں نے الیکشن جیت کر اس کو ڈھال کے طور پر استعمال کرتے ہیں۔ سیاسی جماعتوں نے اپنی اپنی جماعتوں جو آمرانہ نظام یا طریقہ اختیار کیا ہوا ہے اس کو کیسے توڑا جائے اس کا جواب بھی عوام کو سوچنا چاہئے اگر ہم اپنے اندر جموری اور شفافیت کا عمل لانے کے لیے تیار نہیں تو باہر کیسے تبدیلی آ سکتی ہے۔ اصولی طور پر یہ ہونا چاہئے کہ ہم سیاسی جماعتوں پر شفافیت پر مبنی نظام کے لئے دبائو ڈالیں لین ہمارا اپنا کردار یا طرز عمل بھی سیاسی جماعتوں یا ان کی قیادت میں موجود خرابیوں کو سیاسی طاقت فراہم کرنے کا سبب بنتا ہے یہ کرپٹ اور بدعنوان طبقہ جمہوریت کا سہارا لیکر ہمیں ڈرانے کی کوشش کرتا ہے بلکہ کر رہا ہے اگر اس نظام کو نہیں بچایا گیا تو پھر جمہوری نظام کی چھٹی ہو جائے گی اس میں وہ لوگ شامل ہونگے جو لوگ اپنے ذاتی مفادات کو ملکی مفادات پر ترجیح دیتے ہیں ہمیں جمہوری نظام کو بچانا چاہئے اور جمہوری نمائندوں کو ذاتی مفادات کو کم سے کم کرنے کی تلقین ضروری ہے 60/70 سال کے ملبے کو اٹھانے کے لیے بہت محنت کی ضرورت ہے تین نسیں تو جمہوری کرپشن میں چل رہی ہیں اسی لیے پاکستان میں کرپشن اور بدعنوانی کو روکنا مشکل ترین لگ رہا ہے اور شاید جمہوری نظام پاکستان میں اس شرط پر پورا اتر نہیں رہا بدقسمتی سے رائے عامہ کی تشکیل میں شامل ایک خاص طبقہ خود بھی حکمرانوں اور مفادات پر مبنی سیاسی گروہ کا نمائندہ بن کر لوگوں میں سچ دبانے ک کوشش کر کے منفی اعتمال پر پردہ ڈالتا ہے اس طبقہ کے بقول اگر بڑے بڑے افراد مفادات کی سیاست میں مگن ہیں تو ہم کیونکر اس محاذ میں پیچھے رہیں موجودہ حکومت میں شامل افراد کی اکثریت سابقہ حکومتوں میں شامل رہنے والے افراد کی ہے اور سابقہ حکومتوں کا ریکارڈ کرپشن اور بدعنوانیوں میں سرِفہرست ہے ان معزز افراد کو بھی عوام اور سول بیورو کریسی کو مکمل یقین دلانا ہو گا کہ وہ اگر کسی سابقہ حکومتوں میں شامل تھے لیکن ہم نئے حالات کے مطابق ایمانداری دل جمی کے ساتھ موجود حکومت کے ساتھ چلیں گے لیکن اگر کچھ لوگوں نے نئے حالات کے مطابق اپنی سوچ اور روش نہ بدلی تو پھر شائد پاکستان میں کوئی دوسرا نظام آ جائے ۔ خالی جمہوریت، جمہوریت سے عوام کا پیٹ نہیں بھرتا عوام کو زندگی گزارنے کیلئے سہولیات امن و امان کی سخت ضرورت ہے۔ ٹیکس ٹیکس کے نام بھی درمیانی طبقہ اور غریبوں کا بھرکس نکالا جا رہا ہے ۔ مہنگائی، یوٹیلٹی بلز نے عوام کا جینا مشکل ترین کر دیا ہے۔ نظام بدلنا ہو گا۔
اگر سینیٹ انتخابات کا جائزہ لیا جائے تو کئ بے قاعدگیاں و ںے ضابطگیاں کھل کر سامنے آجائیں گی ۔ ہمارے سینیٹ انتخابات میں “ہارس ٹریڈنگ ” نتائج پر سب سے زیادہ اثر انداز ہوتی ہے۔ گویا ایم این ایز اور ایم پی ایز کے ووٹ خریدنے کےلیے منڈی لگتی ہے , بولیاں ہوتی ہیں ۔ اور یہ ہی اس مرتبہ بھی ہوا , بعض ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ نوازشریف نے چودہ ارب جبکہ آصف زرداری نے دس ارب روپے مبینہ طور پر قومی اور صوبائی اسمبلیوں کے اراکین کے ووٹ خریدنے کے لیے خرچ کیے۔ دوسرا توجہ طلب مسئلہ یہ ہے کہ عدالت میں ثابت شدہ قومی چور اسحٰق ڈارجیسےلوگ بھی اپنی تمام تر بدعنوانی کے باوجود سینیٹ میں پہنچ گئے۔ پھر بھی کہا جاتاہے کہ پارلیمان پر تنقید کیوں کی جاتی ہے؟ اور آئین کے آرٹیکل 62, 63 اور 218 کےعملی طور پر نفاذ کا مطالبہ کیوں کیا گیا ؟ ناقدین یاد رکھ لیں کہ پارلیمان کا تقدس وہاں بیٹھے لوگوں کی مرہونِ منت ہوگا اور آرٹیکل 62 , 63 اور 218 کےعملی نفاذ کے بغیر بدعنوان عناصر کو انتخابی عمل سے باہر نہیں نکالا جا سکتا۔ موجودہ پارلیمان بتائے کہ اب تک عوام کے لیے پانچ برس کے دوران کتنی قانون سازی ہوئی؟ انتخابی اصلاحات 2017 کے نام پر سنگین مذاق ہوا , مقصد صرف فردواحد کو تقویت پہنچانا تھا۔ ملک کو حقیقی معنوں میں انتخابی اصلاحات کی ضرورت ہے۔ اس کےلئے چند نکات پر مشتمل ایک مختصر خاکہ پیش خدمت ہے : نمبر ایک آئین کے آ رٹیکل 62 , 63 اور218کی بنیاد پر نئی انتخابی اصلاحات نافذ کی جائیں ۔ نمبر دو بدعنوان سیاسی مافیا کو انتخابی عمل سے باہر نکالنے کےلیے صرف ان ہی امیدواروں کے کاغذاتِ نامزدگی منظور کیے جائیں جو خود کو صادق وامین ثابت کر سکیں۔ نمبر تین اس مقصد کے لیے چیف الیکشن کمیشن آف پاکستان کا تقرر سپریم کورٹ آف پاکستان خود کرے اور باقی ارکان کے لیے چیف الیکشن کمیشن سے مشاورت لے کر سپریم کورٹ آف پاکستان ہی تقرر کرے ۔ نمبر چار سینیٹ کو حقیقی معنوں میں مئوثر نمائندہ ادارہ بنانے کےلیے اراکین کا انتخاب براہ راست عوام کے ووٹوں سے کیا جائے تاکہ ہارس ٹریڈنگ کا کلچر ختم ہو اور ایوانِ بالا کے وقار میں اضافہ ہو۔ نمبر پانچ پولنگ کے عمل کی شفافیت کو یقینی بنانے کے لیے بائیو میٹرک ووٹنگ سسٹم کا نفاذ عمل میں لایا جائے۔ نمبر چھ مجوزہ انتخابی اصلاحات اور ضروری آئینی ترامیم کے لیے مخصوص مدت کےلیے نگران قومی حکومت قائم کی جائے ۔ نمبر سات نگران حکومت مقررہ مدت کے اندر انتخابی اصلاحات کرکے اپنی زیر نگرانی عام انتخابات کے انعقاد کی پابند ہو ۔ نمبر آٹھ نگران قومی حکومت اپنی مقررہ مدت ختم ہونے پر از خود ختم متصور ہو۔ میں یہ سمجھنے سے قاصر ہوں کہ نگراں قومی حکومت کے سوال پر جن لوگوں کی چیخیں نکلتی ہیں یا سازش کی بو آنے لگتی ہے , وہ سالہاسال سے پارلیمان میں بیٹھے کیا کررہے ہیں؟ ایسے مطالبات کا سامنے آنا قومی تقاضا بن چکا ہے کیونکہ مققنہ میں بیٹھے لوگ قانون سازی نہیں کررہے کیونکہ وہ اصلاحات کو اپنے سیاسی مفادات کے لیے خطرہ سمجھتے ہیں۔ ووٹ کی طاقت ثابت کرنے کے شوقین جمہورے بذاتِ خود جمہوری استحکام کے خلاف ایک بہت بڑی سازش ہیں۔ حالیہ ضمنی انتخابی معرکوں کے نتائج پی ٹی آئی کویہ سمجھنے کےلیےکافی ہیں کہ قبل از اصلاحات عام انتخابات ایک لا حاصل مشق ثابت ہوں گے۔ ماضی میں قبل از اصلاحات انتخابات کا پی اے ٹی کی جانب سے بائیکاٹ بھی ہوا , جس سے سیاسی مافیا نے انتخابی میدان خالی رہ جانے سے فائدہ بھی اٹھایا, برسراقتدار بھی آگئے اور اصلاحات بھی نہیں ہونے دیں۔ اب جبکہ حزبِ اختلاف کا اتحاد ٹوٹ چکا ہے ۔ پی ٹی آئی , پی پی پی اور پی اے ٹی کی راہیں جدا ہوچکی ہیں۔ ایسی صورتحال میں اگر قبل از اصلاحات عام انتخابات ہو گئے تو نتائج سینیٹ انتخابات جیسے ہوں گے۔ اول تو کوئی سیاسی جماعت قومی مینڈیٹ لے کر حکومت نہیں بنا سکے گی ۔ لہٰذا سیاسی جوڑ توڑ ہوں گے اور ایک کمزور مخلوط حکومت بنے گی۔ میرے خیال میں پنجاب میں اگر ن لیگ , سندھ میں پیپلزپارٹی , اور خیبر پختونخوا میں پی ٹی آئی اکثریت حاصل کرتی ہیں تو میں اسے قومی قیادت کا فقدان بھی قرار دوں گی۔ تو لازماً یہ سوال پیدا ہوگا کہ ایسا کیوں ہے؟ تو اس کا جواب بھی یہ ہی ہے کہ موجودہ انتخابی نظام ہی اس کا ذمہ دار ہے۔ کیونکہ یہ انتخابی نظام میرٹ پرقومی قیادت کے چناو میں حائل ایک بڑی رکاوٹ ہے۔ مستقبل میں اس کے سنگین نتائج برآمد ہوں گے کیونکہ جس وفاقی نظام میں قومی جماعتوں اور قومی قیادتوں کا فقدان ہو جائے ۔ وہاں لازماً صوبائیت کی جڑیں گہری ہوجاتی ہیں اور وفاق کمزور ہونے لگتا ہے۔

جن معاشروں میں سیاست‘ جرائم اور کرپشن میں گٹھ جوڑ ہو جائے۔ وہاں کھیتوں میں بھوک کا اگنا‘ غربت اور فاقہ کشی‘ امانت میں خیانت‘ جہالت کا فروغ‘ بے غیرتی‘ گروھی تضادات اور فسادات عام بات ہوتی ہے۔ پاکستانی معاشرہ بھی ایسی ہی کیفیت کا شکار ہے۔ اس مملکت خدا داد میں اب نہ کوئی داد ہے اور نہ فریاد پوری قوم امریکی قید میںتڑپتی‘ سسکتی ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی رہائی کے لیے وزیر اعظم سے اپیلیں کرتی رہی کہ ایک چھوٹا سا میمو یا درخواست امریکہ کے سبکدوش صدر بارک اوباما کو ارسال کردیں تو قوم کی یہ بیٹی امریکی قید سے رہائی پاکر پاکستان آجائے گی لیکن بر سر اقتدار آنے سے قبل میاں نواز شریف نے جو وعدہ ڈاکٹر عافیہ کی والدہ عفت صدیقی سے کیا تھا کہ اقتدار میں آتے ہی وہ پہلا کام عافیہ کی رہائی کے لیے کوششیں کریں گے‘ ان سے اتنا بھی نہ ہوسکا کہ اوباما کی عام رہائی والی پیشکش اور رعایت سے ہی فائدہ اٹھالیتے جس کے تحت سینکڑوں قیدیوں کو اوباما کی سبکدوشی سے قبل رہا کیا گیا ہے۔ اطلاعت کے مطابق ڈاکٹر عافیہ کا نام بھی رہائی پانے والے قیدیوں میں شامل تھا۔ صرف حکومت پاکستان کی جانب سے ایک رسمی خط کی ضرورت تھی جس کیلئے نواز حکومت تیار نہ ہوئی اور ڈاکٹر عافیہ کی رہائی کا سنہری موقع گنوا دیا گیا۔ ہمارے حکمرانوں کو 17سالہ مسلم سپہ سالار محمد بن قاسم کی یاد بھی نہیں آئی جن کا دن تو ہر سال 10رمضان المبارک کو بڑے تزک و احتشام سے منایا جاتا ہے لیکن ان کا وہ کارنامہ دوہرانے کی کسی کو توفیق نہ ہوئی کہ وہ ایک مسلمان عورت کی فریاد پر اسے بچانے کے لیے ہی حجاز سے بحری جہازوں میں اپنی سپاہ کے ہمراہ دیبل کی بندرگاہ (سندھ) آئے تھے اور یہاں کے راجہ داھر کو شکست دی تھی۔ اس وقت سیاست‘ جرائم اور کرپشن میں’’مک مکا‘‘ نہیں ہوا تھا۔ غیرتِ ایمانی جاگ رہی تھی۔ 1990ء کی دھائی کا ذکر ہے۔ برطانیہ میں عالمی فٹبال کپ کا میچ تھا۔ انگلینڈ کی ٹیم نے ترکی کی ٹیم سے شکست کھائی تو چند گورے نوجوان بپھر گئے‘ بے قابو ہوکر میدان میں داخل ہوئے‘ ترک کھلاڑیوں سے بد تمیزی کی اور ترکی کا پرچم پیروں تلے روند ڈالا۔ یہ تمام مناظرترک حکمران اور عوام نے ٹیلی ویژن پر دیکھے تو قومی غیرت نے جوش مارا ترک حکومت نے برطانیہ سے مطالبہ کیا کہ ہمارا قومی پرچم روندنے والوں کو ہمارے حوالے کیا جائے۔ برطانوی حکومت نے غیر رسمی معذرت سے کام چلانے کی کوشش کی لیکن ترک حکومت اپنے موقف پر ڈٹ گئی۔ برطانیہ نے ان نوجوانوں کو پکڑ کر فرانس میں داخل کردیا اور کہا کہ وہ ہماری سر زمین پر نہیں ہیں ترک حکومت نے جواباً برطانوی بحری جہازوں کو اپنی بندرگاہ پر لنگر انداز ہونے اور گزرنے سے روک دیا۔ دوسری طرف فرانس پر دباؤ ڈالا کہ مذکورہ نوجوان ہمارے حوالے کیے جائیں ۔ فرانس نے مطلوبہ افراد کو اٹلی پہنچا دیا۔ ترک حکومت نے فرانس کے بحری جہازو پر بھی پابندی لگادی اور اٹلی کو دھمکی دی کہ اس کے ساتھ بھی یہی سلوک کیا جائے گا۔ اطالوی حکومت نے ترکوں کے تیور دیکھے تو ملزمان کو پکڑ کرترکی کے حوالے کردیا۔ ان نوجوانوں کو ایک فٹبال میچ کے دوران اسٹیڈیم میں لایا گیا اور انہیں اسٹیج پر کھڑا کرکے ترکی کے پرچم کو سلامی دلوائی گئی۔ اس کے بعد انہیں رہا کردیا گیا۔ یہ تھا قومی غیرت کا وہ شاندار اور تاریخی مظاہرہ‘ جو یورپی ملکوں کو آج بھی اچھی طرح یاد ہے۔ عرب ملک شام میں ہونے والی حالیہ خانہ جنگی اور امریکی‘ روسی بمباری کے نتیجے میں ہجرت کرنے والوں کے لیے سب سے پہلے ترکی نے اپنے دروازے کھولے۔ 50ہزار یتیم بچوں کی رہائش اور خوراک کا بندوبس کیا جارہا ہے۔ ان بچوں کو مفت تعلیم اور ساری سہولتیں فراہم کی جارہی ہیں۔ ہر بچے پر 32ڈالر ماہانہ خرچ کیا جارہا ہے۔ ترک شہریوں نے اپنے گھروں کے دروازے ان کے لیے کھول دیے ہیں۔ ہر گھرانہ 600بچوں کی کفالت کررہا ہے اورانہیں اپنے گھروں میں پناہ دی ہے۔ کوئی ترک شہری نہ تو منتخب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ڈرا ہے اور نہ ہی امریکہ کی دہشت نے انہیں مہاجر بچوں اور خاندانوں کی کفالت سے روکا ہے۔ پاکستانی حکومت ایک نہتی اور بے بس قیدی لڑکی ڈاکٹر عافیہ کی رہائی کے لیے ایک خط نہ لکھ سکی اور اوباما صدارت چھوڑ کر رخصت ہوگئے۔ نئے صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے تو اس کی توقع ہی عبث ہے‘ جنہوں نے حلف اٹھاتے ہی اپنی پہلی تقریر میں یہ اعلان کیا ہے کہ دنیائے اسلام سے دہشت گردی ختم کردیں گے حالانکہ دہشت گردی تو دنیا کے غیر اسلامی ملکوں میں بھی موجود ہے۔ کیا بھارت دہشت گردی سے پاک ہے جہاں 17سے زیادہ صوبوں اور ریاستوں میں مختلف تحریکیں چل رہی ہیں لیکن صدر ٹرمپ کو بھارت نواز سمجھا جاتا ہے۔ انہیں بھارت یا اور غیر اسلامی ممالک میں دہشت گردی نظر نہیں آتی۔ انہوں نے اسلام دشمن پادری کی دعاؤں تلے حلف اٹھایا ہے اور اسلامی ملکوں کے خلاف ایک نیا اتحاد بنانے کا اعلان کیا ہے۔ ان سے اچھا چین ہے جو پاکستان کا دیرینہ اور پختہ دوست ہے۔ چین نے مولانا مسعود اظہر کے خلاف بھارت کی قرار داد ویٹو کی ہے ۔2000ء میں چین اور بھارت کی تجارت صرف دو ارب ڈالر تھی جو اب بڑھ کر 80ارب ڈالر ہوگئی ہے لیکن چین نے اس کی بھی پرواہ نہیں کی۔ پاکستان کے ڈرپوک حکمران کیا نئے چیلنجوں کا سامنا کرسکیں گے۔ اس کے لیے سب سے پہلے سیاست کو کرپشن اور جرائم سے پاک کرنا ہوگا۔ مجرموں اور بدعنوان سیاستدانوں کے لیے سینیٹ اور اسمبلیوں کے دروازے بند کرنا ہوں گے۔

ریاست کادوسرا ستون ۔ انتظامیہ اور کرپشن

دنیا میں بیورو کریسی کا کردار ہمیشہ زیر بحث رہا ہے۔ مملکت کو احسن طریقے سے چلانے، موثر حکمت عملی وضع کرنے اور اسکے نفاذ میں اس مکالمے کو بنیادی حیثیت حاصل ہے۔ مروجہ نظام حکومت سے قطع نظر بیوروکریسی، امور مملکت چلانے کےلئے ضروری ہے مگر اس کا انحصار حکومتی ڈھانچے پر ہے کہ وہ کیا کردار تفویض کرتا ہے۔ ترقی یافتہ ممالک میں تو بیوروکریسی ا چھا کردار ادا کر رہی ہے مگر ترقی پذیر ممالک میں صورتحال بالکل برعکس ہے۔

پوری دنیا میں بیورو کریسی کا اصل کام حکومت وقت کے قواعد و ضوابط کو بھرپور لگن اور دیانتداری سے نافذ کرنا ہوتا ہے۔ عوام کے وسیع تر مفاد میں سول ملازم کی حیثیت سے نظام حکومت چلانا بیورو کریسی کے فرائض میں شامل ہے۔ سیاستدان لمبے عرصہ کےلئے حکومت میں نہیں رہ سکتے اس لئے بیوروکریسی بہتر انداز میں زیادہ عرصے کےلئے حکومتی نظا م کی دیکھ بھال کر سکتی ہے۔ قواعد و ضوابط وضع کرنے کی ذمہ داری بیورو کریسی کی نہیں ہو تی البتہ وہ اس عمل میں حکومت وقت کی معاون ضرور ہو سکتی ہے۔ عوام کا منتخب نمائندہ ہونے کی حیثیت سے سیاستدانوں کو قواعد و ضوابط وضع کرنے چاہئے مگر نااہل سیاسی قیادت نے بیورو کریسی کو سول ملازم سے حکمران بنا دیا ہے۔

پاکستان میں کرونا کے وار جاری ‘ مزید 4 افراد زندگی کی بازی ہار گئے
بیورو کریسی کے مزاج میں سختی اور غیر لچکدار رویہ بہت نمایاں ہوتاہے ۔کام کرنے کا غیر منطقی انداز اور اندھی تقلید قائدانہ صلاحیتوں کو مفلوج کر دیتی ہے۔ اسی وجہ سے بیوروکریسی ترقی اور اصلاح کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ کے طور پر موجود ہے۔ منتخب عوامی نمائندے کا براہ راست عوام سے تعلق ہوتا ہے اور اس نے واپس انہی کی طرف لوٹ کر جانا ہوتا ہے اسکے برعکس بیوروکریسی عوامی جذبات اور امنگوں سے نابلد ہوتی ہے ، اس لئے بیوروکریسی کی جانب سے قواعد و ضوابط وضع کرنے کی کوشش ناکامی کا شکار ہی ہو گی کیونکہ یہ ان کا دائرہ کار نہیں ہے۔ مشہور جرمن ماہر عمرانیات Max Weberکی نظر میںبیوروکریسی عوامی جذبات کو اہمیت نہیں دیتی اس لئے قواعد و ضوابط وضع کرنے کا اختیار اسے نہیں دیا جا سکتا۔ چونکہ بیوروکریسی کے مفادات عوامی مفادات سے متصادم ہوتے ہیں اس لئے بنیادی پالیسی بنانے میں اسکا کردار مثبت نتائج لانے میں مانع رہے گا۔

پنجاب کے مختلف علاقوں میں دھند کے سبب ٹریفک متاثر، موٹرویز کئی مقامات سے بند رہی
م¶ثر حکمت عملی وضع کرنے کےلئے سول سروسز میں اصلاحات کی ضرورت ہے تا کہ یہ ادارہ متغیر عصری تقاضوں سے عہدہ برآ ہو سکے، حکومتوں کا ردعمل حکومتی نظام کو درپیش مسائل کی شدت کی مناسبت سے ہونا چاہئے۔ حکمت عملی وضع کرنے میں اداروں کا بنیادی کردار ہوتا ہے۔ وہ مختلف ذرائع سے معلومات اکٹھی کرتے ہیں، اسکا سائنسی اور پیشہ ورانہ تجزیہ کرنے کے بعد خالصتاً منطقی انداز میں کسی نتیجے پر پہنچتے ہیں، عوامی ردعمل کی مدد سے نتائج کی تصحیح کرتے ہیں اور یہ ساری کوشش بالآخر ایک متفقہ حکمت عملی پر منتج ہوتی ہے۔ بدقسمتی ہے کہ ہمارے ہاں قانون سازی کا عمل غیر مربوط، سطحی اور شخصی مفادات کے بہت زیادہ تابع ہے اسی لئے مختلف شعبہ ہائے زندگی میں ہمارا ملک اسکی بھاری قیمت چکا رہا ہے۔ ایک منظم اور مربوط قانون سازی کےلئے بہت سرعت کے ساتھ آگے بڑھنے کی ضرورت ہے۔

نیپرا کا بجلی تقسیم کار کمپنیوں کیلئے ہدایات نامہ جاری
ریاست کے تین بنیادی ستون مقننہ، عدلیہ اور انتظامیہ ہیں۔ مقننہ کاکام قانون سازی، عدلیہ کے ذمہ قانون کی شرع اور توضیح جبکہ انتظامیہ قوانین کے عملی نفاذ کی ذمہ دار ہے۔ مثالی جمہوری معاشروں کی روایت تو یہی ہے کہ مقننہ قانون سازی کرے اور انتظامیہ اسے نافذ۔ مگر تیسری دنیا کے معاملات ہی نرالے ہیں۔

اداروں کی حکمت عملی وضع کرتے ہوئے متنوع نقطہ ہائے نظر کا خیال رکھنا ہی جمہوریت کا حسن ہے ۔ یہ رویہ عدل و انصا ف کے نظام کےلئے ضروری ہے۔ اداروں میں جمہوریت سے جہاں مسائل کا حل آسان ہو جاتا ہے وہاں احتساب بھی ممکن ہو پاتا ہے۔

پی پی کا پشاور میں دھاندلی کا الزام، الیکشن کمیشن سے نوٹس کا مطالبہ
بیوروکریسی کے کردار کو ملکی ترقی کےلئے موثر اور نتیجہ خیز بنانے کےلئے ضروری ہے کہ پارلیمنٹ کی تشکیل کے عمل میں انقلابی اقدامات کئے جائیں۔ نظام انتخاب میں ایسی مثبت تبدیلیاں لائی جائیں جس سے حقیقی عوامی نمائندے اہلیت اور کردار کی بنیاد پر منتخب ہو کر پارلیمنٹ میں پہنچیں، انہیں پالیسیاں بناتے ہوئے بیوروکریسی کی بیساکھی کا سہارا نہ لینا پڑے۔ وہ عوامی اور ملکی مسائل کے تناظر میں قانون سازی کے عمل کو جاری رکھیں اور بیورو کریسی کو سیاسی اور پارٹی مفادات کےلئے استعمال کرنے کی بجائے اسکی صلاحیتوں سے عوام کوسہولیات بہم پہنچائی جائےں۔ ملکی اور عوامی مفادات کے تناظر میں قانون سازی کے عمل کو وہی پارلیمنٹ بہتر انداز میں آگے بڑھا سکتی ہے جو عوام کے مسائل کا نہ صرف ادراک رکھتی ہو بلکہ انہیں حل کرنے کی صلاحیت سے بھی مالا مال ہو۔ اس لئے بیوروکریسی کے کردار کو بہتر بنانے کےلئے مضبوط اور م¶ثر پارلیمنٹ کا وجود بہت ضروری ہے۔کامیاب ریاست کےلئے ضروری ہے کہ مقننہ، عدلیہ اور انتظامیہ ایک دوسرے سے متصادم ہونے کی بجائے معاون ہوں۔ ان اداروں کا باہمی تعاون ہی بیوروکریسی کو عوام کےلئے سرخ فیتے کی بجائے ایک مددگار ادارے میں بدل سکتا ہے۔

پاکستان میں بیورو کریسی کی تاریخ روزِ اول سے انوکھے انداز کی تاریخ ہے۔ بیورو کریسی نے جمہوریت کی کوکھ سے جنم لیا۔ سیاستدانوں کو کاروبارِ حکومت چلانے کے لئے جس مشینری کی ضرورت تھی وہ کابینہ نہیں، بیورو کریسی تھی۔ دوسرے لفظوں میں اصل اور فنکشنل حکمرانی، سیاستدانوں کے پاس نہیں بیورو کریٹس کے پاس تھی(اور ہے)۔ سیاستدانوں کا تعلق عوام سے تھا کہ عوام جن نمائندوں کو منتخب کرتے تھے وہ خود عوام میں سے ہوتے تھے۔ یہی وجہ تھی کہ جمہوریت کی اس تعریف (Definition) نے جنم لیا جو بڑی دلفریب اور پرکشش تو تھی لیکن حقیقت سے دور تھی۔ ”عوام کی حکومت، عوام کے لئے اور عوام کی طرف سے“ ایک دلکش لفاظی تھی جس نے عوام کی توجہ اپنی طرف کھینچی۔

ستاروں کی روشنی میں آپ کا آج (منگل) کا دن کیسا رہے گا؟
لیکن جب ان لفظوں کو عمل میں ڈھالنے کا چیلنج درپیش ہوا تو ”عوام“ کی بجائے ”خواص“ کو آگے لانا پڑا۔یہی خواص تھے جو عوام سے بالاتر تھے اور جو بیورو کریٹ کہلائے۔ یعنی جمہوری طرزِ حکمرانی میں نام عوام کا استعمال ہوا لیکن کام خواص کرتے رہے۔ کابینہ تشکیل ہوئی تو ہر وزیر کو ایک سجا سجایا دفتر مل گیا، دفتر کا عملہ مل گیا جس میں چپڑاسی تھا اور ریڈر تھا۔ ریڈر چونکہ زیادہ لکھا پڑھا تھا اس لئے کلرک کہلایا۔ برطانوی ہند میں اول اول جس کلرک نے رفتہ رفتہ کلرکی کے حصار سے نکل کر حکمرانی کی منازل طے کیں اس کا نام کلائیو تھا۔ یہی کلائیو بعد میں لارڈ کلائیو کہلایا۔ میں نے کالج کی لیکچراری کے زمانے میں اس کلرک کلائیو کی تدریجی حکمرانی پر ایک سادہ سی نظم کہی تھی، اسے آج بھی یاد کرتا ہوں تو قرینِ حقیقت پاتا ہوں۔ یہ بھی یاد پڑتا ہے کہ میں نے بہت عرصہ پہلے بھی انہی صفحات میں اسے کوٹ کیا تھا، میرا خیال ہے بارِدگر اس کا حوالہ ناموزوں نہیں ہو گا۔ نظم یہ تھی:

یوای ٹی میں پی ایچ ڈی کے اسلامیات کا پیپر لیک آوٹ ہونے کا معاملہ، ہائرایجوکیشن کمیشن نے بڑا قدم اٹھالیا
(1)

اک کافر لارڈ کلائیو تھا

انگلینڈ کا رہنے والا تھا

مکار، فریبی، متکبر

نہ گھر، نہ گھاٹ زمین کوئی

نہ نام و نسب، نہ دین کوئی

(2)

نہ شکل نوابوں جیسی کوئی

نہ ادب آداب بزرگوں کا

نہ گبھرو مان جوانوں کا

پوشاک عجب بے ڈھنگی سی

ہر بات اس کی افرنگی سی

(3)

ہر شام کلبوں میں جاتا

ہر رات بہکتا، بہکاتا

نہ خوفِ خدا کچھ سینے میں

نہ عقل نہ موت کمینے میں

نہ چرچ میں آتا جاتا تھا

بحری ڈاکو کہلاتا تھا

خطے کے تیزی سے بدلتے منظر نامے میں پاکستان بین الاقوامی سطح پر خصوصی اہمیت اختیار کر چکا : سردار تنویر الیاس
(4)

پھر ایک جہاز پہ بیٹھ کے وہ

جب واردِ ہندوستان ہوا

تو اس افرنگی، متکبر

بے دین، کمین، کلائیو نے

مغلوں، مرہٹوں، جاٹوں کو

نوّابوں اور نظاموں کو

کم ذات، ملیچھ، ہریجن کو

سید، سلطان، برہمن کو

سب اہلِ کتاب و سنت کو

گیتا کے گیانی پنڈت کو

ملاّکو، صوفی و سالک کو

نانک کے گرنتھی بالک کو

(5)

بس چار دنوں میں رام کیا

اور سب کا کام تمام کیا

(6)

اے کاش ہمارا بھی یارو

ہم کیش کوئی، ہم قوم کوئی

زرعی اراضی پر قبضے کے خلاف نواب شاہ میں قومی شاہراہ پردھرنا جاری
پابندِ صلوٰۃ و صوم کوئی

تہذیب و شرافت کا پتلا

جانباز، بہادر، شیرافگن

حضرت، مولانا، شاہ صاحب

اس کافر لارڈ کلائیو کو

ہاتھوں میں لئے شمشیرِ اجل

انگلینڈ کا رستہ دکھلاتا

تاریخ میں غازی کہلاتا!

یہ کلرک کلائیو جو بعد میں کرنل کلائیو اور اس کے بعد لارڈ کلائیو بنا، برٹش بیورو کریسی کے تدریجی ارتقا کا منہ بولتا ثبوت تھا جو ایسٹ انڈیا کمپنی میں ایک جونیئر کلرک بن کر آیا اور اپنی ذاتی صلاحیتوں سے بہرہ مند ہو کر 1756ء کی جنگ پلاسی میں نواب سراج الدولہ کو شکست دی اور برصغیر میں برطانوی حکومت کا سنگِ بنیاد رکھا۔ اس کے پورے دو سو برس بعد 1956ء میں قیامِ پاکستان کو ابھی ایک عشرہ بھی نہیں گزرا تھا کہ برطانوی جمہوریت کی وارث، پاکستانی جمہوریت میں اس دور کے تین بڑے بیورو کریٹس نے پاکستان کی عنانِ اقتدار سنبھال لی۔ چودھری محمد علی، غلام محمد اور اسکندر مرزا نے ایوانِ سیاست میں قدم رنجہ فرمایا اور پاکستان کی قومی قیادت کا رول سنبھال لیا۔ غلام محمد نے جس طرح خواجہ ناظم الدین کو ڈسمس کیا، اسکندر مرزا نے جس طرح 1956ء کا دستور توڑا، مارشل لاء نافذ کیا اور پاک آرمی کو آنے والے دس برسوں میں مسندِ اقتدار پر فائز کرنے میں کلیدی کردار ادا کیا، وہ تاریخ کا حصہ ہے۔ لیکن باایں ہمہ آپ اس دور کی سینئر بیورو کریسی کو بہ تمام و کمال اس کایا پلٹ کا ذمہ دار بھی نہیں ٹھہرا سکتے۔ یہی وہ نوکرشاہی (یا افسر شاہی)تھی جس نے پاکستان کے اولین گیارہ برسوں (1947ء تا 1958ء) میں اس نوزائیدہ مملکتِ خداداد کو اپنے پاؤں پر کھڑا کیا۔

کورونا ویکسین کی خریداری کے لیے 72.5 ملین امریکی ڈالرز کے فنانسنگ معاہدے پر دستخط
ایوب خان کے مارشل لاء میں سیاستدانوں اور بیورو کریٹس پر بہت دباؤ آیا۔ سیاست ”کھڈے لائن“ لگا دی گئی اور سیاستدانوں کو کسی بامعنیٰ سیاست میں حصہ لینے سے روک دیا گیا۔ ایوب خان نے آتے ہی اپنے اقتدار کے پہلے برس میں درجن بھر سینئر ICS افسروں کو فارغ خطی دے دی۔ ]پاکستان کے قیام کے بعد انڈین سول سروس (ICS) کو پاکستان سول سروس (CSP) کہا جانے لگا[۔ سینئربیورو کریسی کے پَر کترنے کی وجہ وہ اولین بیورو کریٹس تھے (چودھری محمد علی، غلام محمد اور اسکندر مرزا)جنہوں نے اپنی پیشہ ورانہ چادر سے باہر پاؤں پھیلائے۔ آیا ایوب خان کو ان سے کوئی ذاتی پرخاش تھی اس کے بارے میں کوئی حکم نہیں لگایا جا سکتا۔ لیکن یہ کہا جا سکتا ہے کہ ایوب خان نے بیورو کریسی کو آرمی کے ماتحت کرنے کی ابتدا کی۔ 1962ء میں جب انہوں نے مارشل لاء اٹھایا تو سول سروس کا رول بالخصوص ڈویژنل اور ڈسٹرکٹ لیول پر بہت حد تک بحال ہو گیا۔ ڈویژن کے کمشنروں اور اضلاع کے ڈپٹی کمشنروں کو وہ اختیارات سونپ دیئے گئے جو دستور میں ان کا حصہ تھے۔ مجھے یہ کہنے میں بھی کچھ باک نہیں کہ ایوب خان اکثر سینئر بیورو کریٹس کی دانش و بینش کے قائل تھے۔ یہ وہی دور تھا (1959ء تا 1969ء) جس میں ملک میں میگا پراجیکٹس قائم کئے گئے اور اسے مضبوط بنیادوں پر استوار کرنے میں افسر شاہی نے اہم رول ادا کیا۔

اسلام آباد پولیس مقابلہ، ہلاک ڈاکوؤں نے کس سینیٹر کے گھر سے لوٹا ہوا اسلحہ استعمال کیا؟ اہم انکشافات
ایوب خانی دور کو تعمیر و ترقی اور خوشحالی و مرفع الحالی کا عشرہ قرار دیا گیا اور اس کا ڈھنڈورہ اتنے زور و شور سے پیٹا گیا کہ بیورو کریسی کی واہ واہ ہونے لگی۔ جیسا کہ قبل ازیں لکھ آیا ہوں اصل حکومت دراصل بیورو کریسی کے ہاتھوں میں ہوتی ہے۔ اس لئے اس منہ زور گھوڑے کو لگام ڈالنا ہر دور کے فوجی اور سویلین حکمران کا دردِ سر رہا ہے۔ یہ دردِ سر آج بھی پی ٹی آئی حکومت کے اولین ”15ماہی دور“ میں دیکھا جا سکتا ہے…… اور یہی مسئلہ آج کے کالم کا موضوع بھی ہے……

ایوب خان کے بعد یحییٰ خان کا مارشل لاء آیا تو انہوں نے اپنے ٹاپ بیورو کریٹس کو کرپشن اور بدعنوانی کا الزام لگا کر فارغ کر دیا۔ ان کی تعداد 303تھی یہ سب کے سب ایوب خان کے چہیتے بیورو کریتس گردانے گئے۔ یحییٰ خانی دور میں ملک دو لخت ہوا لیکن سقوطِ مشرقی پاکستان میں بیورو کریسی کا کوئی رول نہ تھا۔ اگر تھا تو وہ فوج کا ٹاپ براس تھا جس کی نااہلی نے قوم کو یہ روزِ بدر دکھایا۔

یحییٰ خان کے بعد ذوالفقار علی بھٹو آئے۔ اور فوجی مارشل لاء کو سویلین مارشل لاء میں تبدیل کر دیا۔بھٹو نے بھی اپنے اس مارشل لائی دور میں 1400سے زائد سول سرونٹس کو بیک بینی و دوگوش نکال باہرکیا۔ نہ صرف یہ کہ بھٹو نے سول سروس آف پاکستان (CSP) کو ختم کیا بلکہ سینئر عہدوں کے لئے لیٹرل انٹری (باز دی انڈکشن) کا نظام بھی رائج کیا…… مطلب یہ کہ قیام پاکستان کے بعد صرف 25برسوں میں (1947ء تا 1972ء) تین بار سول سروسز نے تھوک کے بھاؤ اپنے نکالے جانے کی سزا کیوں پائی اس کے لئے ایک سنجیدہ ریسرچ پیپر کی ضرورت ہے۔ اس تحقیق میں یہ نکتہ بھی شامل کرنے کی اشد ضرورت ہے کہ ضیاء الحق کے مارشل لائی دور اور اس کے بعد، فیڈرل پبلک سروس کمیشن کے چیئرمین کے تقرر میں سیاسی رہنماؤں نے بیورو کریسی کے اس انتہائی اہم ادارے کو بھی سیاست زدگی کا شکار بنا دیا۔فوجی آمروں نے فوجی جرنیلوں کو اور سیاسی رہنماؤں (وزرائے اعظم) نے اپنے پسندیدہ سیاسی لوگوں کو اس عہدۂ جلیلہ پر فائز کرکے سول سروسز کا جو حشر کیا، اس کا تذکرہ کرتے ہوئے ایک نہایت تجربہ کار CSP بیورو کریٹ سید منیر حسین نے اپنی خود نوشت Surviving the (Wreckمطبوعہ 2015ء)میں لکھا:

”آج قوم کو جو بڑی مشکل درپیش ہے وہ یہ ہے کہ پبلک سروس کے عہدیداروں کی کارکردگی روبہ انحطاط ہے، یہ بیورو کریسی، انتظامیہ کا ایک جزوِ لازم ہوتی ہے لیکن اس کی پرفارمنس اتنی گر چکی ہے کہ جس نے گورننس کے معیار کو بہت نقصان پہنچایا ہے۔ یہ امر بھی باعثِ تشویش ہے کہ قیام پاکستان کے بعد جس سروس نے ایک ڈگمگاتی صورتِ حال کو استحکام بخشا تھا اور بہت سی مشکلات کے باوجود ریاست کے معیارِ حکمرانی کو اوپر لے گئی تھی اسی سروس کی کارکردگی کا گراف آج بہت نیچے گر چکا ہے“……(دیکھئے کتاب کے صفحہ 262کا پہلا پیراگراف)

جیسا کہ اوپر عرض کیا گیا قیامِ پاکستان کی ابتدائی ربع صدی میں سول سروس پر جو گزری اور یکے بعد دیگرے ایوب خان، یحییٰ خان، بھٹو اور ضیاء الحق نے بغیر کوئی صائب وجہ بتائے سینکڑوں بیورو کریٹس کو جو سیک کیا تو اس سے اس سروس کے بلند امیج کو اپنی بقاء کے چیلنج کا سامنا بھی ہوا۔ شائد یہی وجہ تھی کہ سروس میں ایک طرح کی گروہ بندی شروع ہوگئی۔ ہر رکن اپنے گروپ کے دوسرے اراکین کے ساتھ ”اندر خانے“ یک جہتی کرنے لگا۔ پاکستان کے ساتھ یک جہتی کی جو سزا اس سروس نے پائی اس کا انتقام لینے کا عزم مرورِ ایام کے ساتھ زیادہ پختہ ہوتا چلا گیا اور نوبت بہ اینجا رسید کہ سینئر بیورو کریٹس نے اپنے مستقبل کو استحکام دینے کے لئے اپنا دامن کسی نہ کسی حکمران سیاسی جماعت سے وابستہ کر لیا۔

فیڈرل پبلک سروس کمیشن کو جب حکومتی سرپرستی مل گئی تو اس نے پاکستان کی بجائے سرپرست سیاسی حکمرانوں اور ان کے عزیز و اقربا کو نوازنا شروع کر دیا۔ اس طرح ”میرٹوکریسی“ کا زوال شروع ہوا اور اوپر سید منیر حسین کی خود نوشت کا جو حوالہ دیا گیا وہاں تک نوبت آ گئی۔ لیکن چونکہ یہ انحطاط یکدم نہیں آیا بلکہ آہستہ آہستہ اور متواتر گراوٹ نے اسے جنم دیا اس لئے اگر اس کا علاج کرنے کی آج کوشش کی جائے تو اس کے اثرات مستقبل قریب میں نہیں،شائد مستقبل بعید میں دیکھنے کو ملیں اور وہ بھی اس شرط سے مشروط ہوں کہ مقابلے کے امتحانوں میں صرف اور صرف میرٹ کو زیرِ نظر رکھا جائے گا۔

اب پنجاب میں اور مرکز میں بھی بڑے پیمانے پر بیورو کریٹس کے تقرر اور تبادلے کی جو ہوا چلی ہے وہ خالی از علت نہیں۔ حکومت نے بہت عرصہ تک غور و خوض سے کام لیا۔ کلیدی عہدوں پر یکے بعد دیگرے جلد جلد تقرریاں اور تبادلے کئے گئے لیکن جب حسبِ خواہش نتائج سامنے نہ آئے تو معاملے کو مزید چھانا اور پھٹکا گیا۔ معلوم ہوتا ہے کہ موجودہ چھان پھٹک بھی کوئی مستقل علاج نہیں۔ میرا خیال ہے حکومت کو ابھی اس قسم کے دو تین مزید سائیکل چلانے پڑیں گے چادر زیادہ میلی ہو تو کئی بار واشنگ مشین میں ڈالنی پڑتی ہے!
انگریزی لفظ بیورو کریسی کا ترجمہ۔ بیورو کریسی دراصل فرانسیسی نژاد لفظ ہے اور اس طنز آمیز لفظ کا اطلاق ایسی عاملہ یا انتظامیہ پر ہوتا ہے جس کا کام ضابطہ پرستی کے باعث طوالت آمیز ہو۔ اس اصطلاح کو اٹھارھویں صدی میں فرانس میں وضع کیا گیا جب کہ بعض افراد نوابی خطابات دے کر انھیں سرکاری عہدوں پر فائز کر دیا گیا تھا۔ نپولین کے دور حکومت میں سرکاری محکموں کو بیورو کہا جاتا تھا اور سرکاری عہدے داروں کو بیوروکریٹ۔

اس قسم کے نظام حکومت کے ناقدین کی رائے ہے کہ اس نظام سے کام میں طوالت، تنگ نظری اور عدم توجہ پیدا ہوتی ہے۔ اور عوام سے رعونت برتی جاتی ہے۔ مگر اس طریقہ کار کے حمایتی کہتے ہیں کہ اس سے فرض، باضابطہ پن، تسلسل کار اور اخلاق ٹپکتا ہے۔ ان مکاتب فکر کے علاوہ ایک نظریہ یہ بھی پایا جاتا ہے کہ جدید ریاستوں میں جہاں آئے دن حکومتیں پیچیدہ منصوبے تیار کرتی رہتی ہیں، وہاں ضابطہ پرست عاملہ کا قوت حاصل کر جانا ناگزیر ہے۔ اردو میں اسے نوکر شاہی بھی کہتے ہیں۔

جس طرح تمدن اور تاریخ کا باہم رشتہ و تعلق ہے ویسے ہی ریاست، سیاست، حکومت اور حکومتی مشینری ایک دوسرے کے لئے لازم و ملزوم ہیں۔ تمدن کو وسیع تر معنوں میں لیا جائے تو سیاست و معاشرت کی ترقی و ترویج کے لئے ریاست کا وجود اور نظام حکومت چلانے والے اداروں کا قیام اولین ترجیح ہے۔ ریاست میں بسنے والے انسانوں کو ضروریات اور وسائل کی تقسیم کے علاوہ قوانین کا نفاذ اور شہریوں کی زندگی کا تحفظ ریاست کی ذمہ داری میں شامل ہے۔ چونکہ ہر شہری اپنے الگ مزاج و میلان کی وجہ سے ریاست کا نظام چلانے کے قابل نہیں ہوتا اور نہ ہی ایسی صلاحیتوں کا حامل ہوتا ہے کہ وہ اپنی روزمرہ زندگی کے معاملات اور پیشہ ورانہ ضروریات کے ساتھ حکومتی معاملات بھی چلا سکے۔ یہی وجہ ہے کہ عوامی نمائندے یا پھر عوام میں سے اعلیٰ علمی، عقلی اور سیاسی صلاحیتوں کے حامل افراد ایک وضع کردہ نظام کے تحت حکومتی نظام کا حصہ بن کر ریاست کا نظام چلاتے ہیں۔
نظام حکومت و ریاست چلانے والے افراد کے لئے ضروری ہے کہ وہ نیک نیت، عوام دوست، عادل، بے لوث اور انتہائی ذمہ دار ہوں۔ خود غرض، لالچی، ہوس پرست، بدچلن اور بدکار آدمی کو یہ حق نہیں پہنچتا کہ وہ مخلوق خدا کی نمائندگی کرے۔ معاشرے کے نیک اور انتظامی صلاحیتوں کے حامل افراد میں بھی کلی یگانگت و ہم آہنگی نہیں ہوتی چونکہ ان کے علم، تجربے، مشاہدے، تربیت، خاندانی و قبائلی روایات اور عادات و خصلیات میں فرق ہوتا ہے۔ انسانی رویوں اور ضرورتوں کو مدنظر رکھتے ہوئے ضروری سمجھا گیا کہ وہ افراد جو ریاستی نظام چلانے کے اہل ہیں وہ باہم مل کر ایک لائے عمل تیار کریں جس کے تحت قوانین کا اجرأ ہو جس میں ہر شہری کے حقوق و فرائض کا تعین کیا جائے۔ ابتدائی انسانی معاشرے کی تاریخ دیکھی جائے تو ہمیں قبائلی ریاست کی ایک جھلک نظر آتی ہے۔ اس معاشرے اور ریاست کا حکمران سب سے طاقتور آدمی ہوتا تھا جو اپنے قبیلے کی حفاظت کے علاوہ ان کے باہمی جھگڑے اور اختلافات قبائلی رسم و رواج کے مطابق چلا یا کر تھا۔ قبائلی سردار یا حکمران بھی یہ کام اکیلے سر انجام نہ دیتا تھا بلکہ وہ قبیلے کے عقلمند، دلیر، طاقتور اور باصلاحیت مردوں اور عورتوں پر مشتمل ایک کابینہ کا چناؤ کرتا اور ان کے مشورے کے مطابق قبائلی ریاست کا نظام چلاتا۔ اگر کسی مجبوری یا مہم کے سلسلے میں مرد اپنے علاقے یا بستیوں سے باہر ہوتے تو عورتیں باہم مل کر کھیتی باڑی، گلہ بانی اور بوقت ضرورت دفاعی امور بھی سرانجام دیتیں۔
قدیم شہری ریاستوں کے مطالعہ سے پتہ چلتا ہے کہ یونانی، چینی، مصری اور بابلی شہری نظام سے صدیوں پہلے مکی شہری ریاست کا وجود قائم تھا۔ یہ ریاست ایک سو تیس مربع میل پر قائم تھی جس میں نو بڑے، طاقتور جنگجو اور تاجر پیشہ قبیلوں کے علاوہ درجنوں چھوٹے قبیلے آباد تھے جن کی حفاظت بڑے قبائلی سرداروں کی ذمہ داری تھی۔ مکہ دنیا کی پہلی ریاست تھی جہاں پالیمانی نظام حکومت رائج تھا۔ اس ریاست کا ہر عاقل و بالغ شہری چالیس سال کی عمر میں خودبخود پارلیمنٹ کا ممبر بن جاتا اور ریاستی امور چلانے والی حکومتی مشینری کا حصہ بن کر اپنی علمی، عقلی اور پیشہ ورانہ صلاحیتوں کے مطابق فرائض سرانجام دیتا۔ تاریخ کے علم کا اجرأ یونان سے ہوا جس میں طوفان نوحؑ کے بعد حضرت ابراہیمؑ کے دور کے حالات اور اس دور میں قائم معاشروں، ریاستوں، تہذیب و ثقافت، حکومتوں اور حکمرانوں کے حالات قلمبند کئے گئے۔ اس سے قبل انسانی معاشرے کے خدوخال کیا تھے اور ریاستی نظام کس اصول و ضابطے پر چلتا تھا اس کی کوئی تاریخ نہیں۔ تاریخ دانوں نے اسے زمانہ قبل از تاریخ قرار دے کر اپنی جان چھڑالی مگر وہ ربّ جس نے یہ کائنات تخلیق کی اور قلم کے ذریعے انسان کو علم دیا اور وہ کچھ سکھلایا جو وہ جانتا نہ تھا، کتاب حکمت، قرآن کریم کے ذریعے ابتدائے آفرینش سے لے کر قیام قیامت اور بعد از قیامت کے حالات و واقعات پر مبنی اٹل اور ناقابل تروید و تسخیر دستاویز اپنے محبوب بندے اور آخرالزمان پیغمبر حضور سرور کائناتؐ کے ذریعے نازل کی اور خود اس کتاب کی حفاظت کا ذمہ لیا۔
محققین اور دانشور جس علم کا کھوج لگانے سے قاصر تھے خالق کائنات نے انسانوں کی رہنمائی کے لئے خود اس علم کا اجرأ کیا مگر باوجود اس کے انسان اپنی کمتر عقلی اور علمی صلاحیتوں کے باعث اس سے بھرپور فائدہ نہ اٹھا سکا۔ تمدنی دور کے آغاز سے لے کر تا حال انسانی معاشرے اور ریاست کی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے حکومتی نظام میں ردوبدل ہوتا رہا جسے معاشرتی، سیاسی، ریاستی اور حکومتی ارتقائی عمل کہا جاتا ہے۔
محققین اس بات پر متفق ہیں کہ انسانی ریاستی اور حکومتی نظام الٰہی کائناتی نظام کا ہی پر تو ہے۔ اللہ خالق کل کے ارادے اور حکم پر عشرہ العقول نے یہ کائنات تخلیق کی اور پھر اللہ، واحد، حاکم، بادشاہ، خالق و مالک نے اس پر اپنا حکم جاری کردیا۔
دنیا کے سب سے بڑے فاتح اور سب سے بڑی ریاست کے حکمران امیر تیمور کے نام خط میں اس کے پیرومردش میر سید شریف نے لکھا “اے ابومنصور تیمور یاد رکھ کہ کارخانہ سلطنت بھی خدائی سلطنت کا ہی نمونہ ہے۔ جس طرح خدائی سلطنت کے ارکان اپنے اپنے کام میں مشغول رہتے ہیں اور اپنے مرتبے، اختیارات اور وضع کردہ قوانین سے تجاوز نہیں کرتے اور حکم الٰہی کے منتظر رہتے ہیں اسی طرح تمہاری سلطنت کے سپہ سالاروں، حاکموں، عمال، کارکنوں، وزرأ، شرفأ اور علمأ کو اپنی حدود سے قدم باہر رکھنے کی اجازت نہیں ہونی چاہیے۔ ہر کام تمہاری منشأ اور حکم کے مطابق ہونا چاہیے۔ یاد رکھ تواپنے حکم، ارادے اور منشأ میں آزاد و خود مختار نہیں۔ اللہ کا حکم اور رسولؐ کی سیرت اور شریعت تم پر لاگو ہے۔ تمہاری ریاست میں بسنے والے ہر ذی روح کی حفاظت، خدمت اور عزت تمہارے ذمے ہے۔ لہٰذا تمہیں چاہیے کہ ریاست میں ایسے قوانین کا اجرأ ہوتا کہ کوئی شخص بلحاظ عہدہ و مرتبہ اس سے تجاوز نہ کرے۔ ورنہ تیری سلطنت کے امور میں خلل و فساد پیدا ہوگا اور نظام درہم برہم ہوجائے گا جس کے ذمہ دار خود تم ہوگے۔ یہ احکامات ہر خاص و عام کے لئے ہی نہیں بلکہ تمہاری اولاد اور حرم پر بھی یکساں لاگو ہیں۔ ہر قوم، قبیلے اور گروہ کو اس کے مرتبے پر رکھ اور آنحضرتؐ کے مرتبے کو تمام مراتب سے برتر سمجھ۔ آپؐ کی سیرت کا مطالعہ قرآن کی روشنی میں کر اور اللہ اور اس کے رسولؐ کے احکامات کی تعظیم وتکریم کو ہر حکم اور قانون پر محترم و مقدس سمجھ کر اپنا سر سجدے میں رکھ کر اپنی کوتاہیوں پر معانی کا طلبگار رہ۔
تاریخ کے علم سے پتہ چلتا ہے کہ مقتدر اعلیٰ کا دفتر ہر انسانی معاشرے اور ریاست میں قائم تھا جس کی معاونت قبیلے کے سردار، عالم، وزیر، مشیر اور عمال یعنی نوکر شاہی یا بیوروکریسی کرتی تھی۔ بابلی اور سومیری ادوار کے آثار میں بیوروکریٹک نظام کا پتہ چلتا ہے کہ گل گامش، نمرود اور فرعونوں کے نظام حکومت میں نوکر شاہی کا ادارہ پوری طرح فعال تھا اور معاشرے کے سب سے زیادہ پڑھے لکھے، عقلمند، منصوبہ ساز اور عوامی معاملات کا علم رکھنے والے افراد پر مشتمل ایک ایسا طبقہ موجود تھا جو بادشاہوں اور وزیروں کی عوامی معاملات کے علاوہ مختلف ریاستی امور چلانے میں نہ صرف مدد کرتا تھا بلکہ اپنی صلاحیتوں کے مطابق مفید اور قابل عمل مشورے بھی دیتا تھا۔
اس ادارے سے منسلک افراد کی کڑی نگرانی کی جاتی تھی اور قوانین کی خلاف ورزی پر انہیں سخت سزائیں دی جاتی تھی۔ سرکاری ملازمین کی کفالت کے لئے انہیں جاگیریں دی جاتی تاکہ منصب کے لحاظ سے ان کا معیار زندگی بلند رہے۔ چینی دانشور، محقق، قانون دان اور منصب اعلیٰ کنفیوشس موجودہ بیوروکریٹک نظام کا گاڈ فادر ہے۔ کنفیوشس جاگیر دارانہ دور میں پیدا ہوا جس کی کوششوں سے کسانوں اور عوام کے حقوق کسی حد تک تسلیم کرلئے گئے۔ کسانوں اور مزدوروں کی محنت کا کچھ حصہ انہیں ملنے لگا اور عدل و انصاف کا باقاعدہ نظام وضع کیا گیا۔ بادشاہوں اور جاگیرداروں کی موت یا معزولی کے بعد ملک میں افراتفری پھیل جاتی یا پھر اقتدار کے حصول کے لئے شاہی خاندان ایک دوسرے کے خلاف صف آرأ ہوجاتے۔ جنگوں کی صورت میں بادشاہ، جاگیردار، صوبیدار، جرنیل اور دیگر اعلیٰ عہدے دار سرحدوں پر چلے جاتے جن کی غیر موجودگی سے فائدہ اٹھا کر چور، ڈاکو اور غنڈہ عناصر لوٹ مار کرتے۔ شہر، بستیاں اور کھیت کھلیان اجڑ جاتے جس کی وجہ سے معاشرہ بد حال اور ریاست غیر فعال ہوجاتی۔
کنفیوشس نے نوکرشاہی کا نظام متعارف کروایا اور معاشرے کے پڑھے لکھے، عقلمند اور سنجیدہ نوجوانوں کے درمیان مقابلے کے امتحان کا قانون بنا کر بادشاہ اور کابینہ سے منظوری لی۔ کامیاب امیدواروں کی تربیت کے لئے ادارے قائم کئے جہاں انہیں پیشہ ورانہ تعلیم کے علاوہ اخلاق، آداب اور قانون کی تعلیم دی جاتی۔ دوران تربیت ان کے رجحان ومیلان کو پرکھنے کا الگ ادارہ تھا جو ان کی نشست و برخاست اور عام بات چیت سے ان کی خصلیات، جبلت اورخساست کا اندازہ لگا کر انہیں کسی ادارے میں تعیناتی کی سفارش کرتا۔ جو لوگ علم و عقل کے باوجود خساست کی وجہ سے غیر معیاری اور پست ذہنیت کے حامل ہوتے انہیں تربیت کے دوران ہی فارغ کر دیا جاتا۔
چین کے اس متبادل حکومتی نظام نے ساری دنیا کی حکومتوں اور حکمرانوں کو اسے اپنانے پر مجبور کردیا مگر بعض ممالک میں شاہی خاندانوں کے افراد کو ترجیح دی گئی یا پھر سلیکشن اور تربیت کا طریقہ بدل دیا گیا۔ اس نظام کی سب سے بڑی خوبی یہ تھی کہ عدل و انتظام کے ادارے مضبوط ہوئے اور سیاسی مداخلت کسی حد تک ختم ہوگئی۔ افسر قانون کی پابندی کرتے ہوئے اپنے فرائض سرانجام دینے لگے۔ ان کی تنخواہوں اور مراعات کا قانون اور نوکری کا تحفظ وضع کر دیا گیا جس کی وجہ سے وہ بے فکری اور دیانت داری سے کام کرنے لگے۔ حکومتیں اور حکمران بدلنے کی وجہ سے ریاست کے نظام پر کوئی اثر نہ پڑتا اور نظام حکومت اپنی قانونی قوت سے چلتا رہتا۔
مغل ہندوستان میں آئے تو ان کے ساتھ تیموری طریق حکمرانی کا نظام بھی تھا۔ مغلوں نے شاہان دہلی کے نظام کو نہ چھیڑا بلکہ تیموری نظام کی بعض شقوں کو شا مل کر کے جاری نظام میں بہتری کا رجحان پیدا کیا۔ شیرشاہ سوری نے ہمایوں کو شکست دے کر حکومت پر قبضہ کیا مگر حکومتی اداروں اور نظام حکومت پر کوئی قدغن نہ لگائی۔
شیرشاہ نے ہمایوں کے وزیر مال و خزانہ راجہ ٹوڈر مل کے علاوہ دیگر عمال اور عہدے داروں کو ان کے عہدوں اور رتبوں پر بحال رکھا۔ قانون گو لکھتا ہے کہ افغان صرف جنگیں لڑنا اور لوٹ مار کرنا جانتے تھے۔ ان میں انتظامی صلاحیتوں اور عدل و انصاف کرنے کی خوبیوں کا فقدان تھا۔ ان کی ہمدردیاں، دوستیاں اور دشمنیاں بدلتے دیر نہ لگتی تھی اور نہ ہی امن و امان برقرار رکھنے کی صلاحیت تھی۔
شیرشاہ سوری کا مثالی انتظامی، عدالتی اور ٹیکس کا نظام آج بھی ضرب المثل ہے۔ تحصیلداری اور پولیسنگ کا نظام ماؤرانہر، ہندوستان اور ترکستان میں پہلے سے جاری تھا۔ خراسان موجودہ ایران عراق کا حصہ تھا جہاں تیموری نظام حکومت کارفرما تھا۔ تیمور اپنی تزک میں لکھتا ہے کہ اس نے حضرت عمر خطابؓ کے طریق حکمرانی کو اپنایا جس کی وجہ سے ملک میں عدل و امن کے ساتھ خوشحالی کا دور رہا۔ عمال یعنی سول سرونٹ کو اس کے مرتبے کے مطابق مراعات دی گئیں اور بداعمالی پر مثالی سزائیں بھی دی گئیں۔
وہ لکھتا ہے کہ اعمال کی باز پرسی کا نظام ڈھیلا ہو تو ملک میں انتشار پیدا ہوجاتا ہے۔ تاریخ رشیدی کا مصنف مرزا حیدر دوغلات لکھتا ہے کہ بادشاہ کا حکم عدل سے مبّرا اور خواہش کا ترجمان ہو تو ظلم کہلاتا ہے۔ اعمال اپنی حدود اور قانون کے سائے سے نکل کر کوئی کام کریں تو ریاست اور حکومت کا وجود خطرے میں پڑ جاتا ہے

مارشل لاء کا دور ہو یا جمہوری حکومتوں کا ، بیورو کریسی خاص طور پر پی ایم ایس گروپ کے افسران کے اختیارات لا محدود ہی رہتے ہیں اور بنیادی طور پر زمینی بادشاہ یہی ہوتے ہیں۔ پاکستان ایڈمنسٹریٹو سروسز کے افسران میں حاکمیت اس قدر سرائیت کر چکی ہے کہ اپنے ساتھی بیوروکریٹس،انفارمیشن گروپ،فارن سروسز، آڈٹ اینڈ اکائونٹس ،کسٹم ،کامرس اینڈ ٹریڈ، ریلوے،پوسٹل سروس ،ملٹری لینڈ اینڈ کنٹونمنٹ، ان لینڈ ریونیو اور آفس مینجمنٹ کے افسران کی راہ میںبھی روڑے اٹکانے سے باز نہیں آتے جبکہ ’’ پرونشل مینجمنٹ سروسز‘‘ کے افسران کی ترقی کی راہ میں دیوار بن کر کھڑے ہوجاتے ہیں۔اس وجہ سے آئے روز سی ایس ایس اور پی ایم ایس افسران کے درمیان تنائو کا ماحول دیکھنے کو ملتا ہے۔سی ایس ایس افسران کی ترقی کا سفر تو ہوا کی سپیڈسے بھی زیادہ تیزی سے اپنی منازل طے کرتا ہے جبکہ پی ایم ایس افسران سمیت دیگر سرکاری ملازمین کی ترقی کے سامنے نہ صرف سوالیہ نشان موجود ہے بلکہ بڑا سا ’’فل سٹاپ،، لگا دیا جاتا ہے۔ پی ایم ایس افسران کو جیسے سرخاب کے پر لگے ہوتے ہیں کہ ساری اہم سیٹوں پر صرف انہی کا استحقاق ہے۔1999میں صوبائی سروس کا امتحان پاس کرنے والے پی ایم ایس افسران آج بائیس سال بعد بھی گریڈ 18سے آگے نہیں جاسکے جبکہ 1999میں ہی سی ایس ایس کرنے والے ناصرف گریڈ 20میں ترقی حاصل کرچکے ہیں بلکہ کلیدی پوسٹوں پر بھی براجمان ہیں۔1999پی ایم ایس گروپ کے احمد جاوید قاضی سیکرٹری ہیلتھ، عامر جان اس وقت پرنسپل سیکرٹری ٹو چیف منسٹر کی اہم ترین سیٹ پر ہیں اسی طرح صوبائی دارالحکومت لاہور کے کمشنر کیپٹن عثمان اور انٹی کرپشن پنجاب کے سربراہ بھی اسی بیج سے ہیں۔ان کی تعیناتی پر کوئی اعتراض نہیں اور نہ ہی ان افسران کی قابلیت اور لیاقت پر کوئی شبہ۔لیکن ان کے مقابل اسی سال صوبائی سروس کا امتحان پاس کرنیوالے ابھی تک نہ صرف گریڈ 18میں ہیں بلکہ دودرجن کے قریب افسران میں سے اس وقت صرف اکیلے رائو پرویز ہی ڈپٹی کمشنر جہلم ہیں ،بائیس سال میں نوید شہزاد مرزا، سیف انور جپہ اور رائو پرویز کو ہی ڈپٹی کمشنر شپ مل سکی جبکہ باقی افسران ڈپٹی اور ایڈیشنل سیکرٹری اپنی خدمات سرانجام دے رہے ہیں۔پی ایم ایس 4کے افسران 2سال سے اور پی ایم ایس 5گذشتہ ایک سال سے پرموشن ٹریننگ کے باوجود ترقی سے محروم گریڈ 17میں کام کرنے پر مجبور ہیں جبکہ پی ایم ایس 5کا آدھا بیج اور پی ایم ایس 6والے ٹریننگ کی راہ تک رہے ہیں۔پی ایم ایس افسران کاپروموشن بورڈکرانے اورڈی ٹی ایل سیٹیں بحال کرنے کامطالبہ بالکل جائز ہے۔ روٹیشن پالیسی پر عمل نہیں کیا جارہا سینئر افسران خاص طور پر خواتین دہائیوں سے پنجاب چھوڑنے کو تیار نہیں۔پنجاب کو سونے کی چڑیا سمجھنے والے سی ایس ایس افسران کی ساری لاقانونیت کا مرکز پنجاب ہی ہے ۔ دوسرے صوبوں میں پنجاب کی نسبت صوبائی افسران کو نہ صرف ترقی کے یکساں مواقع موجود ہیں بلکہ اہم پوسٹوں پر بھی تعینات ہیں۔ پی ایم ایس کی طرح پی ایس پی افسران نے محکمہ پولیس میں اپنی اجارہ داری قائم کر رکھی ہے اور صوبائی پولیس افسران کا استحصال کررہے ہیں۔ اے ایس آئی،سب انسپکٹر، انسپکٹر اورڈی ایس پیز رینک کے افسران کو دس سے بارہ سال کا عرصہ گزر جانے کے باوجود اگلے گریڈ میں ترقی نہیں مل پاتی۔ریٹائرمنٹ کا وقت آن پہنچتا ہے لیکن اے ایس آئی اور سب انسپکٹر بھرتی ہونے والوں کی اکثریت انسپکٹر اور ڈی ایس پی سے آگے نہیں جا پاتے۔ رینکر پولیس افسران میں سے اگر دوچار پرموٹ ہو بھی جائیں تو انکو ساری زندگی اچھی پوسٹنگ نہیں ملتی۔پی ایس پی آفیسر ایس پی گریڈ 18کے باوجود گریڈ انیس کی سیٹ پر بطور ڈی پی او براجمان ہوتے ہیں جبکہ رینکر ایس ایس پی ہو کر بھی اس سیٹ کیلئے اہل نہیں سمجھا جاتا۔کچھ افسران خدا کی زمین پر خدائی فوجدار بنے بیٹھے ہیں۔طبع نازک پر ذرا سی بات کیا ناگوار گزری فوری طور پر تھانے دار معطل ،اور تو اور ظلم کی انتہا دیکھئے معمولی سی وجہ اور حکم عدولی پر چھوٹے افسران کی دو دو سال کی سروس ضبط کرلی جاتی ہے۔ عیدین و دیگر تہواروں پر بھی چھٹی نہ ملنے، میرٹ کے باوجود ترقی نہ ملنے کے غم میں پریشان حال چھوٹے پولیس ملازمین پر سروس ضبطی کا فیصلہ کسی آفت سے کم نہیں ہوتا۔ ناحق سروس ضبط ہونے کے غم میں سینکڑوں افرادپولیس ڈیپارٹمنٹ کو خیرباد کہ چکے ہیں ،کچھ بیچارے تو دلبرداشتہ ہوکر خود کشی کرلیتے ہیں۔ اگرچہ حاکمیت پسند اوراختیارات سے تجاوز کرنے والے مذکورہ پی ایم ایس اور پی ایس پی افسران کی تعداد بہت کم ہے لیکن اس اقلیت نے فرض شناس اکثریت کا امیج بھی دائو پر لگا دیا ہے۔سی ایس پی افسران کی ایک طویل فہرست ہے جو نہ صرف فرض شناسی اور دیانتداری سے اپنی ڈیوٹی سر انجام دیتے ہیں بلکہ اتوار ،عیدین اور دیگرتعطیلات پر بھی انتظامی ذمہ داریاں نبھاتے نظر آتے ہیںاور عام افراد کی خوشی غمی میں شرکت کرتے ہیں ۔ سینٹرل سپرئیر سرسز کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ مختلف صوبوں کے افسران دوسرے صوبوں میں جاتے ہیں وہاں کے رہن سہن اور کلچر کے باعث عصبیت کا خاتمہ ہوتا ہے اور قومی یکجہتی کو فروغ ملتا ہے۔یہ افسران پاکستان کی اکائی کا کردار ادا کررہے ہیں ۔چیف جسٹس آف پاکستان سے درخواست ہے کہ ہر کسی کی امیدوں کا مرکز عدلیہ ہے اور بطور منصف انصاف کا ترازواس بات کا متقاضی ہے کہ انصاف کے تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے سب کو ترقی کے مساوی مواقع فراہم کیے جائیں تاکہ اداروں کے درمیان کھینچا تانی اور اقتدار کی جنگ کا خاتمہ ہو اور سب ملکر وطن عزیز کی خدمت کر سکیں۔

اگر حکومت کی مالیاتی صحت پر تنخواہوں کی وجہ سے پڑھنے والے منفی اثرات کو دیکھا جائے، تو یہ واضح ہوجاتا ہے کہ سول سروس میں اصلاحات کی ضرورت کیوں ہے۔ پبلک سیکٹر میں ملازمین کی تعداد ضرورت سے زیادہ ہے۔ یہ وہ کام بھی کر رہی ہے، جو کسی بھی حکومت کی مرکزی ذمہ داریوں کے دائرہ کار سے باہر ہونے چاہییں۔ پھر اس کو چلانے والی بیوروکریسی میں نااہل لوگ بھی ہیں، کرپشن اور سیاست کی زیادتی جبکہ احتساب کی شدید کمی ہے۔

ہمارے ملک میں حکومت ایک ایمپلائمنٹ ایجنسی کا کردار ادا کر رہی ہے، حالانکہ حکومت کا کام ملازمتیں فراہم کرنا نہیں، بلکہ ملازمت کے مواقع پیدا کرنا ہے۔ سرکاری اداروں کی راہداریوں میں چپڑاسیوں، چوکیداروں، اور کلرکوں کی فوجیں پائی جاتی ہیں۔ غیر ضروری بھرتیوں کا یہ عالم ہے، کہ صرف ٹوائلٹ صاف کرنے کے لیے تین قسم کے ملازم رکھے جاتے ہیں، ایک فرش صاف کرنے کے لیے، ایک واش بیسن صاف کرنے کے لیے، اور ایک کھڑکیاں صاف کرنے کے لیے۔

کئی ادارے ایسے ہیں، جو ایک دوسرے کے اختیارات اور مینڈیٹ رکھتے ہیں، اور ایک ہی جیسے کاموں میں مصروف رہتے ہیں۔ بلو ایریا کا صرف ایک چکر لگائیں، اور آپ کو بے شمار بلڈنگز نظر آئیں گی، جن کے بڑے ہی خوشنما نام ہوں گے، لیکن اسلام آباد کے بہت کم ہی لوگوں کو ان اداروں کی ذمہ داریوں کا علم ہے۔

اوور اسٹافنگ کا مسئلہ اس لیے بھی شدید ہوگیا ہے، کیونکہ موجودہ پوسٹوں کو اپ گریڈ کیا جارہا ہے، غیر ضروری بھرتیوں کو فٹ کرنے کے لیے نئی پوسٹین بنائی جارہی ہیں، اور کنٹریکٹ اسٹاف کو مستقل کیا جرہا ہے۔

اس کے علاوہ سرکاری اہلکاروں کے احتساب کے مکینزم، جیسے کہ پبلک اکاؤنٹس کمیٹی، یا شکایتوں کے ازالے کے سسٹم غیرفعال یا غیر اطمینان بخش ہیں۔ مثال کے طور پر پنجاب میں 1985 سے لے کر 2000 تک صرف 102 حکومتی اہلکاروں کو بے ضابطگیوں پر سزا دی گئی، جو کہ داخل کی گئی درخواستوں کے 20 فیصد سے بھی کم ہے، جبکہ قانونی تقاضوں کو پورا کرنے میں کئی سالوں کا عرصہ لگا۔ سسٹم حکومتی اہلکاروں کو تحفظ فراہم کرتا ہے۔ جو لوگ ڈیوٹی پر سرے سے حاضر ہی نہیں ہوتے، ان کے خلاف اقدامات کرنا مشکل ہے، تو جو لوگ آ کر بھی کام نہیں کرتے، ان کے خلاف کیا ہوگا۔

قانونی اور انسٹیٹوشنل سیٹ اپ ان اداروں کو کئی حقوق دیتا ہے، جس سے وہ شہری بہت متاثر ہوتے ہیں جن کی خدمت کے لیے انہیں بھرتی کیا گیا ہے۔

وقت کے ساتھ ساتھ سسٹم بھی سیاسی اسٹرکچر میں ایسا گھل مل گیا ہے، کہ اب قابلیت، غیر جانبداری، اور آزادی پر سمجھوتہ کر لیا گیا ہے۔ ٹرانسفر کے سسٹم نے بھی سیاستدانوں کو بیوروکریٹس پر اچھا خاصہ اختیار دے رکھا ہے، جس کی وجہ سے اکثر ایسا اتحاد بنایا جاسکتا ہے، جو کسی بیوروکریٹ کے پورے کریئر تک چل سکتا ہے، جس میں سیاستدان کسی بھی چیز کی خود ذمہ داری لیے بغیر مختلف چیزوں کی سرپرستی جاری رکھ سکتے ہیں۔

کسی بھی سسٹم میں پالیسی تجزیہ ٹاپ پوزیشن پر موجود لوگوں کی ذمہ داری ہوتی ہے، لیکن پاکستان کا سسٹم کچھ اس طرح کا ہے، کہ پالیسی سازی کا فن کچھ خاص ترقی نہیں پا سکا ہے۔ یہ اس لیے ہے، کہ ٹاپ پوزیشنوں پر زیادہ تر لوگ جنرل کیڈر کے ہیں، جو اس پوسٹ کی مہارت نہیں رکھتے۔ اسپیشلائیزیشن کے اس دور میں انگریزی ادب کی ڈگری رکھنے والے شخص کو صبح میں سیکریٹری تعلیم، دوپہر میں سیکریٹری صحت، اور شام میں سیکریٹری فنانس بنا دیا جاتا ہے۔

یہ بالکل چنی ہوئی نسل کی طرح ہیں، اور ان کو ڈاکٹروں، سائنسدانوں، اور حکومت کے دوسرے نچلے اداروں کے ملازمین سے برتر سمجھا جاتا ہے، اور ان کو وقتاً فوقتاً ترقیوں کی گارنٹی ہوتی ہے۔ ملک ایسے نظام کو بچانے کی بھاری قیمت ادا کرتا ہے، جس میں کوئی بھی سول سروس کے اونچے عہدوں پر فائز نہیں ہوسکتا۔

فیصلہ ساز عہدوں پر جنرل کیڈر کے لوگوں کی تعیناتی سے پیدا ہونے والے مسائل بار بار کے تبادلوں کی وجہ سے اور بھی شدید ہوچکے ہیں، جس کی وجہ سے نہ صرف سسٹم میں کمزوریاں پیدا ہوتی جارہی ہیں، بلکہ سول سرونٹس کا کبھی بھی پرفارمنس کی بناء پر احتساب نہیں کیا جاسکتا۔

اس کے علاوہ تنخواہوں کے ایک جیسے گریڈز نے اور بھی مسائل پیدا کیے ہیں۔ اس سسٹم کے تحت گریڈ 20 کے کسی بھی شخص کی تنخواہ اتنی ہی ہوگی، جتنی کہ اس سے کہیں زیادہ ذمہ داری رکھنے والے فنانس سیکریٹری کی۔ یہ بے منطق کا اسٹرکچر تبدیل ہونا چاہیے۔ کنٹریکٹ بیس پر بھرتیوں سے اس مسئلے کو حل کیا جاسکتا ہے۔

پبلک سیکٹر میں زیادہ تر ملازمین کو کنٹریکٹ بیس پر رکھنا چاہیے تاکہ ٹرانسفروں سے جان چھڑائی جاسکے، اور ان کو ان کی قابلیت کے حوالے سے موزوں محکمے میں ہی تعینات کرنا چاہیے۔ مثال کے طور پر ڈاکٹروں کو صرف ہیلتھ سیکٹر ہی میں تعینات کرنا چاہیے، اور ان کی ٹرانسفر پر پابندی ہونی چاہیے۔ صرف کچھ لوگوں کو اسپیشلائزیشن کی بناء پر مستقل کیڈر اور پرکشش تنخواہیں ملنی چاہییں، لیکن وہ بھی مراعات مثلاً گاڑیوں، اور رہائش کے علاوہ۔

حکومت کی کئی اچھی اور بہتر سمت والی پالیسیوں کے نفاذ میں بھی اکثر اوقات صرف اس لیے کمی رہ جاتی ہے، کیونکہ قدیم ریگولیشنز اور انتظامی سسٹم ان نئی پالیسیوں سے ہم آہنگ نہیں ہوتے۔ مختلف انتظامی طریقہ کاروں پر کوئی معلومات دستیاب نہیں ہوتیں، جبکہ قواعد و ضوابط کو غیر شفاف انداز میں نافذ کیا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ سسٹم میں ہر طرف ویٹو پاور کی مثال نظر آتی ہے، جہاں کوئی بھی کسی بھی مرحلے پر کام میں رخنہ ڈال سکتا ہے۔

سول سروس ریفارمز:تباہی پر مہر تصدق
اوریا مقبول جان ویب ڈیسک 20 فروری 2020
شیئر کریں

ڈیڑھ سال کے بعد عمران خان صاحب کی سول سروسز ریفارمز کمیٹی کی پٹاری سے جو برآمد ہوا ہے اس نے ہر بددیانت، چور، کرپٹ سیاستدان اور ہر طالع آزما، ہوسِ اقتدار میں غرق، مسند اقتدار پر موجود شخص کے ہاتھ میں ایک ایسا چابک تھما دیا ہے، جس کے خوف سے اعلیٰ سے اعلیٰ اور ادنی سے ادنیٰ سرکاری ملازم،ایک سدھائے ہوئے خوف زدہ ریچھ کی طرح انکے حکم پر ناچے گا۔ خان صاحب کی ٹیم کی ان ریفارمز میں ایمانداری کی حفاظت، غلط احکامات سے انکار، اور بددیانت وزراء وزرائے اعلیٰ اور وزرائے اعظم کے سامنے سینہ سپر ہونے والے شخص کے لیے کوئی تحفظ موجود نہیں ہے۔ ان ریفارمز کے بعد سول سرونٹ ایک ایسی گاڑی بن جائے گا جس کی اسٹیرنگ پر اگر ایک بددیانت شخص بیٹھے گا تو وہ اسے بھی تیز رفتاری کے ساتھ کرپشن کی منزل مقصود پر پہنچائے گا اور اگر اس بد دیانت حکمران نے اس کے بالا دست بیوروکریٹس ٹولے کو بھی قابو میں کیا ہوا ہے تو پھر ہر جھوٹے بد دیانت سول سرونٹ کی پرموشن کو پر لگ جائیں گے۔اسکے مقابلے میں اگر آپ سول سروس کو ٹھیک کرنا چاہتے ہو تو پہلے دیانت دار سیاستدان ڈھونڈو، پھر دیانتدار اعلیٰ بیوروکریٹ ڈھونڈو، اور جب تک وہ میسر آئیں گیاتنے عرصے میں خان صاحب کی ریفارمز پوری بیوروکریسی کو کرپشن، ناہلی اور بددیانتی کی دلدل میںدھکیل چکی ہو گی۔پاکستان کی سول سروس کو تباہ و برباد کرنیاور اسے نا اہل اور بددیانت بنانے کے جس سفر کا آغاز زوالفقارعلی بھٹو نے 1973ء کے آئین میں سے سول سروس کیلئے آئین میں موجود آئینی تحفظ کو ختم کرکے کیا تھا آج عمران خان صاحب کی ٹیم نے اس میں آخری کیل ٹھونک دی ہے۔ کیا بددیانتی، نااہلی اور کرپشن کا رونا سول سروس میں پہلی دفعہ رویا گیا ہے؟ اور کیا یہ رونا صرف پاکستان میں رویا جاتا ہے؟ پوری دنیا میں بیوروکریسی ایک ایسا ادارہ تصور ہوتی ہے جو خود اپنی اصلاح سے عاری، تبدیلی کا مخالف، سٹیٹس کو (Status Quo) کا حامی اور خودپسندی کا شکار ہوتا ہے۔ دنیا بھر میں پبلک ایڈمنسٹریشن پر اتھارٹی سمجھے والے اور بیوروکریسی، سول سروس کے بارے میں دنیا بھر کے لئے علمی اور تحقیقی کتب کا ذخیرہ چھوڑ جانے والوں کے نزدیک بیوروکریسی کا یہی خلاصہ ہے۔ان لکھاریوں میں دنیا کے ہر ملک اور ہر بڑی یونیورسٹی کے سکالرز شامل ہیں۔ بیوروکریسی انسانی تاریخ میں حکمرانوں کی اس وقت ضرورت بنی جب 3500 قبل مسیح میں دجلہ و فرات کے درمیان آباد بابل کی تہذیب میں انسان نے لکھنا شروع کیا۔ مٹی کی تختیوں پر فصلوں کا حساب و کتاب ہوتا اور پھر ان پر لگان لگایا جاتا۔ وہ چند لوگ جو پڑھنا لکھنا اور حساب کتاب جانتے تھے،اب بادشاہ کی حکمرانی کے لیے اہم ترین ضرورت بن گئے۔یوں بیوروکریسی کا گروہ وجود میں آگیا۔ فراعینِ مصر کے زمانے میں یہ سول سروس چند خاندانوں کی مہارت تصور ہوتی تھی جو نسل در نسل منتقل ہوتی رہتی۔ دریائے نیل کے کنارے آباد اس تہذیب میں روزمرہ انتظامی معاملات حل کرنے والے افراد ان ہی خاندانوںمیں سے چنے جاتے تھے۔ قدیم روم میں بیوروکریسی کے عہدے دار کو پرو کونسل (Proconsul) کہا جاتا تھا۔وہ عہدیدار جو کونسل یعنی سینٹ کے عطاء کردہ اختیارات کے مطابق عمل کرتا ہو۔ رومن تہذیب نے انسانی تاریخ میں سب سے پہلے سول اور ملٹری کمانڈ کے درمیان تفریق کی تھی۔ پرو کونسل ایک طرح کا سول گورنر ہوتا جس کے ماتحت فوج نہیں ہوتی تھی۔ فوج اپنے سپہ سالار کے ماتحت ہوتی جو بادشاہ کو جوابدہ ہوتا۔ انسانی تاریخ میں بادشاہ کو شیشے میں اتار کر اپنی مراعات میں اضافے اور کیڈر کو وسعت بھی رومن بیوروکریسی نے دلائی۔ رومن بادشاہ ڈائیو کلیٹیان (Dioclection) جو 284 عیسوی سے 305 عیسوی تک برسرِ اقتدار تھا، اس نے بیوروکریسی کے کہنے پر انتظامی اضلاع دگنے کردیے اور یوں بیوروکریٹس کی تعداد میں بے پناہ اضافہ ہوگیا۔ اضلاع اب اتنے چھوٹے ہوگئے تھے کہ لوگوں سے اکٹھا کیا جانے والا ٹیکس، انتظامیہ کے اخراجات کیلئے ناکافی ہوگیا۔ٹیکس مزید لگے، معاشی صورتحال خراب ہوئی اور یوں اس معاشی بدحالی اور انتظامی نااہلی نے رومن بادشاہت کی تباہی پر مہر تصدیق ثبت کر دی۔مرکزی روم سے علیحدہ ہوکر 395 عیسوی میں بازنطینی سلطنت نے قسطنطنیہ میں ایک اور مرکزِ اقتدار قائم کرکے قدیم عالمی طاقت کے حصے بخرے کر دیے۔ اس دور کے مشہور عیسائی مصنف لیکٹنیٹس (Lactantius) جوسب پہلے عیسائی ہونے والے رومن بادشاہ کانسٹنٹین (Constantine) کا مشیر تھا اور جسے رومن عیسائی ”سسرو” کہتے ہیں، اس نے تحریر کیا ہے کہ رومن سلطنت کی بربادی، زوال اور تباہی کی اصل بنیاد یہی سول سروس ریفارمز تھیں۔ بیوروکریسی کا خوف ہی تھا کہ بازنطینی بادشاہوں نے ایک انتہائی پیچیدہ اور اشرافیہ پر مبنی سول سروس کا نظام تخلیق کیا جس میں لاتعداد سول اور ملٹری کیڈر ہوتے تھے۔ بادشاہ کو سینیٹ اور فوج دونوں مل کر منتخب کرتے تھے۔ بڑے شہروں کی بیوروکریسی اور فوج علیحدہ ہوتی اور صوبوں کی انتظامیہ اور فوج مختلف۔ آج بھی دنیا بھر میں لکھنے والے جب کسی ملک کی بیوروکریسی کی پیچیدگیوں اور خرابیوں کا ذکر کرتے ہیں اسے ”بازنطینی” کا نام دیتے ہیں۔ آج کی جدید بیوروکریسی کا زیادہ تر تصور چین کی کوئین (Qin) خاندان کے دور یعنی 206 قبل مسیح کے زمانے میں قائم سول سروس سے مستعار لیا گیا ہے۔ اس دور میں پہلی دفعہ پورے چین کو ایک قانونی نظام کے تحت متحد کیا گیا تھا۔ اس سے پہلے چین میں بڑے بڑے خاندانوں کے بچوں کو سول سروس میں لیا جاتا یا انتظامی ذمہ داریاں سونپی جاتی تھیں اور یہ سول سرونٹ اپنے اپنے علاقوں میں بہت زیادہ خودمختار ہوتے تھے۔ سول سروس کے اس طریق کار کو ختم کر کے ایک مرکزی بیورو کریسی قائم کی گئی، جس میں ملک بھر سے ذہین افراد کوانٹرویو کے ذریعے بھرتی کیا جاتا تھا۔ اسکے بعد جب ہن (Han) خاندان برسراقتدار آیا تو انہوں نے مشہور چینی فلاسفر کنفولشیش کی تعلیمات کے مطابق ایک نئی سول سروس کا آغاز کیا۔اس خاندان کے بادشاہ وین (Wen) نے 165 قبل مسیح میں سول سروس میں بھرتی ہونے کے لئے مقابلے کے امتحانات کا آغاز کیا اور نوکری کیلئے اس میں کامیابی کی شرط رکھ دی۔یہ امتحان 618 عیسوی تک آتے آتے تنگ (Tang) خاندان کے زمانے میں پرموشن، اور یہاں تک اعلیٰ اور ذمہ دار عہدوں پر تعیناتی کے لیے بھی لازم کردیا گیا اور یوں امتحانات کا ایک مربوط نظام قائم ہو گیا۔ لیکن ابھی تک اعلیٰ عہدوں پر تعیناتی کے لیے بادشاہ یا حکمرانوں کی مرضی کو بہت اہمیت حاصل تھی۔ مگر جب سونگ (Song) خاندان برسراقتدار آیا تو انہوں نے اس کو بدل کر رکھ دیا اور اب صرف سول سروس کے امتحانات میں حاصل ہونیوالی اسناد کوہی اعلیٰ عہدوں پر تعیناتی کیلئے اہمیت دی جانے لگی۔ اس کیساتھ ساتھ سانگ خاندان نے انسانی تاریخ میں پہلی دفعہ مقابلے کے امتحان (Competitive Examinations) کا آغاز کیا۔پہلے صرف پاس ہونا ضروری سمجھا جاتا تھا مگر اس نظام کے تحت بہترین پوزیشن لینے والے افراد ہی بیوروکریسی کے اعلیٰ عہدوں کے مستحق ٹھہرائے جاتے۔ انسانی تاریخ کایہ بہترین نظام 1905ء تک قائم رہا۔اسکا زوال بھی عالمی طاقتوں کے درمیان معاشی رسہ کشی کی وجہ سے ہوا۔ دس مئی 1905ء کو چین نے امریکی مال کا وسیع پیمانے پر بائیکاٹ کردیا۔اسکی وجہ یہ تھی کہ اس لیے ان دنوں امریکہ نے بھی بالکل آج کے کرونا وائرس کی طرح 1903ء سے 1905ء تک امریکہ میں پھیلنے والی طاعون کو چینیوں کے کھاتے میں ڈال کر امریکہ میں موجود چینیوں کی آبادیوں پر کریک ڈاؤن شروع کردیے، یہاں تک کہ 1905ء کی سان فرانسسکو میں پھیلنے والے طاعون کے بعد چینیوںکی امریکہ میں امیگریشن پر پابندی کا قانون نافذ کردیا۔امریکی سی آئی اینے چینی علاقے تبت میں باقاعدہ منصوبہ بندی سے بغاوت کروادی۔ پورے چین میں افراتفری کا سماں پیدا ہوا اور اس کے ساتھ یہ پر امن ملک ایمرجنسیوں کی زد میں آگیا جس کیساتھ ہی اسکی شاندار سول سروس کا بھی خاتمہ ہوگیا (جاری ہے)

سول سروس ریفارمز :تباہی پر مہر تصدیق …قسط 2
اوریا مقبول جان ویب ڈیسک 21 فروری 2020
شیئر کریں

پاکستان کی سول سروس ابھی تک انہی خطوط پر استوار ہے، جن پر اسے برطانوی سامراج نے اپنے اقتدار کی مضبوطی اور استحکام کے لیے قائم کیا تھا۔ برطانیہ نے بھی اپنا انتظامی ڈھانچہ ان بنیادوں پر استوار کیا تھا جوپہلے سے مغلیہ دور میں موجود تھیں۔ پورے ہندوستان کو ضلع، پرگنہ اور صوبہ وغیرہ کی تقسیم سے ایک انتظامی اختیاراتی درجہ بندی میں بانٹا گیا تھا۔ چانکیہ کی ارتھ شاستر، البیرونی کی تاریخِ ہند اور آئین اکبری سے لے کر ماثر عالمگیری تک ہر بڑی تاریخی کتاب میں برصغیر کے اس شاندار انتظامی ڈھانچے اور انتہائی کامیاب سول سروس کا پتہ ملتا ہے۔ اس سول سروس کو دو اہم ذمہ داریاں سونپی گئی تھیں، (1) امن وامان کا قیام اور (2) انصاف کی فراہمی۔ اس کے علاوہ بھی اس انتظامی سربراہ اس وقت کے حکمران کے مزاج کے مطابق کچھ اضافی ذمہ داریاں ادا کرتے تھے ، مثلا اگر وہ علاقے فتح کرنا چاہتا ہے تو جنگ کیلئے افراد کی فراہمی یا پھراگر شیر شاہ سوری جیسا عوامی فلاح والے حکمران کیلئے کلکتہ سے پشاور تک ایک ایسی سڑک کی تعمیر، جو سایہ دار درختوں سے ڈھکی ہوئی تھی، ہر کوس پر ایک سرائے، کنواں اور خط و کتابت کی ترسیل کے لئے ایک ڈاک چوکی تک قائم کی گئی تھی۔ برصغیر کی اس قدیم سول بیوروکریسی کا کمال یہ تھا کہ انصاف کی فراہمی، مالیہ کی وصولی اور امن عامہ کے قیام کیلئے پورے ہندوستان میں یکساں قوانین نافذ تھے۔ شمس الدین شمس نے 1230ء میں پورے ملک میں اسلامی قوانین کا نفاذ کرتے ہوئے فقہ حنفیہ نافذ کر دی، جو پورے ہندوستان میں بحیثیت قانون اس وقت تک نافذ رہی جب تک انگریز نے 1860ء میں تعزیرات ہند کا قانون نافذ نہیں کر لیا۔ یہ چھ سو سالہ دور برصغیر پاک و ہند کا سب سے سنہرا دور ہے۔ اس دور میں پوری دنیا کی جی ڈی پی میں ہندوستان کا حصہ تیس فیصد تھا، ملک میں خواندگی کی شرح نوے فیصد سے زیادہ تھی اور امن و امان کا عالم یہ تھا کہ لارڈ میکالے 1835ء میں اپنے تحریر کردہ نوٹس میں لکھتا ہے کہ، اسے پورے ہندوستان میں کوئی چور اور فقیر نظر نہیں آیا۔ ایسے حالات میں بے روزگاری، ناداری اور مفلسی کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔آج ہندوستان کے ماتھے کا جھومر جو عالمی ورثہ ہے، خواہ وہ قطب مینار ہو یا تاج محل یا اسی قبیل کی ہزاروں خیرہ کن عمارات سب اسی دور کی یادگار ہیں۔ یہ وہ زمانہ ہے جب اس خطے میں امن اور خوشحالی تھی اور لوگوں کی تخلیقی صلاحیتیں اپنے عروج پر تھی۔ایسٹ انڈیا کمپنی نے جو ٹوٹی پھوٹی سول سروس یہاں قائم کی اس کا بنیادی مقصدخالصتا کاروباری تھا۔ سراج الدولہ کو 1757ء میں شکست دینے کے بعداس سروس کے افراد کو بنگال میں انتظامی ذمہ داریاں بھی سونپ دی گئیں۔ اسکے بعد مدراس اور میسور میں بھی یہی لوگ زیرنگیں علاقوں کا انتظام لینے لگے۔ بادشاہ جیمز اول کی 1609ء میں قائم کردہ ایسٹ انڈیا کمپنی کے لئے جس قسم کی تجارتی سروس قائم کی گئی تھی، اس کے افراد کوئی انتظامی تربیت اور تجربہ نہیں رکھتے تھے بلکہ صرف دو کاموں کیلئے بھرتی کئے گئے تھے ‘مال کی تجارت اور جنگ۔ مگر جیسے ہی اس سروس کے افراد کو امن عامہ، انصاف اور ٹیکس وصولی جیسی اہم ذمہ داریاں سونپی گئیں تو صرف دس سالوں کے اندر ان میں اتنی بددیانتی اور کرپشن پیدا ہو گئی کہ 1764ء میں برطانوی بادشاہ نے یہ فیصلہ کرلیا کہ ایسٹ انڈیا کمپنی توڑ دی جائے۔ چونکہ کمپنی مسلسل نقصان میں جا رہی تھی اس لئے ہندوستان میں مزید رہنے کا کوئی فائدہ نہ تھا۔ لیکن 1765ء میں لارڈ کلائیو وائسرائے بن کر آیا اس کی درخوست پر اسے ایک موقع دیا گیا کہ وہ سول سروسز ریفارمز کرکے اسے بہتر بنائے اور ایسٹ انڈیا کمپنی کو منافع بخش بنائے۔ لارڈ کلائیو اس نتیجے پر پہنچا کہ کرپشن کی بنیادی وجہ ملازمین کی کم تنخواہیں ہیں، جو ان کی مناسب اور باعزت زندگی گزارنے کیلئے کافی نہیں ہیں۔ کمپنی کے ملازمین کو تجارت کرنے کی اجازت دی گئی تھی تاکہ وہ اپنے لئے بھی کچھ کماسکیں۔ وہ کمپنی کا مال بھی انگلینڈ لے جاتے اور ساتھ ساتھ اپنے لئے بھی یہاں سے مال لے جاکر انگلینڈ میں بیچتے۔ مفادات کے اسی ٹکراؤ نے ایسٹ انڈیا کمپنی کا بیڑہ غرق کردیااور انگریز یہاں سے بوریا بستر گول کرنے کا سوچنے لگا۔ لارڈ کلائیو نے تمام کاروبار کو صرف اور صرف کمپنی کے لیے مختص کر دیا۔ ملازمین کے کاروبار پر پابندی لگا دی ، لیکن تجارت سے ہونیوالے منافع میں سے 65 فیصد کمپنی کے ملازمین میں درجہ بدرجہ تقسیم کر دیا جاتا اور کمپنی صرف 35 فیصد منافع اپنے پاس رکھتی۔اس فیصلے نے اس سول سروس کی کایا ہی بدل دی۔ اس فیصلے کے بعد ملازمین کے لیے ایک ضابطہ اخلاق مرتب کیا گیا جسے عہد و پیمان کہا جاتا ہے۔ اس ضابطہ اخلاق کے تحت کسی بھی ہندوستانی شہری سے معمولی تحفہ بھی قبول کرنا جرم تھا جس کی سزا نوکری سے برطرفی تھی۔ اسی عہد وپیمان کی وجہ سے ہندوستان کی سول سروس کو Covenanted سول سروس کہا جاتا رہا۔ برصغیر میں سول سروس کی تطہیر اور ریفارمز کی یہ پہلی کامیاب کوشش تھی جس نے آنیوالے دنوں کیلئے ایک کلیہ چھوڑ دیا کہ جب تک آپ وسیع اختیارات رکھنے والے انتظامی عہدیداروں کو معاشی طور پر اس قدر بے فکر نہیں کر دیتے کہ وہ اپنی تنخواہ سے ایک بھرپور عزت دار زندگی گزار سکیں تو آپ انہیں اہل، کامیاب اور دیانتدار افسر نہیں بنا سکتے۔ دوسرا اہم نکتہ یہ تھا کہ اگر آپ ملک میں ٹیکس یا آمدن بڑھانا چاہتے ہیں تو اسکے لئے سول سروس کے افراد کو بھی حصہ دار بناؤ۔ایسا کرنے سے وہ زیادہ ٹیکس وصول کرینگے اور حکومت کے محصولات میں اضافہ کریگا۔ان کامیاب ریفارمز کے بعد ایک سو سال تک برطانوی ہندوستان میں سول سروس کی کہانی ایک شاندار، کامیاب، ایماندار اور اہل سول سروس کی داستان ہے۔ وارن ہسیٹنگ نے 1773ء میں اس کے خدو خال واضح کیے اور اسے ایک مرکزی ڈھانچے میں مربوط کیا۔ اس کے بعد لارڈ کار نیویلس نے ان کی تعداد میں اضافہ کیا، انہیں مجسٹریٹ کے اختیارات دیئے اور اختیارات کے حساب سے انہیں اس قدر بااختیار کر دیا کہ ایک انتظامی سربراہ، ڈپٹی کلکٹر یا ڈپٹی کمشنر اپنے وجود میں ایک چھوٹا سا وائسرائے نظر آتا۔ ان اختیارات کے بعد بھی ایک دفعہ پھر کرپشن کی شکایات آنا شروع ہوئیں تو کارنیویلس نے ایک بار پھر ان کی تنخواہوں میں ان کے مرتبے اور اختیار کے حساب سے اضافہ کر دیا گیا۔اس نے سروس کے دو کیڈر بنادیئے۔ ایک کیڈر ان افسران کا تھا جسے عہد و پیمان (Covenant) سول سروس کہتے تھے۔یہ بہت کم تھے لیکن ان کے نیچے کام کرنے والوں کا ایک وسیع کیڈر بھی تخلیق کیا گیا۔با لائی کیڈر کے افراد کو اسقدر مضبوط ، معاشی طور پر مستحکم اور اختیارات کے حساب سے بالادست بنایا گیا کہ ان پر دباؤ ڈال کر غلط کام کرنے کا تصور ہی نہیں کیا جا سکتا۔ یہ تجربہ اس قدر کامیاب تھا کہ اس نے ایک غیر ملکی قوت برطانیہ کو یہاں قدم جمانے کا موقع فراہم کیا۔اگر یہ سول سروس ناکام، نااہل، کرپٹ افراد پر مشتمل ہوتی تو عوامی غیض وغضب اس حد تک بپھر جاتا کہ وہ انگریز جن کی ہندوستان میں ایک وقت میں تعداد کبھی بھی تیس ہزار سے زیادہ نہیں تھی، بہت پہلے بوریا بستر لپیٹ کر ہندوستان سے رخصت ہو جاتے۔ 1773ء میں بننے والی اس سول سروس نے پورے ایک سو دس سال یعنی 1887ء تک اپنی اہلیت، قابلیت، دیانت داری اور انصاف سے تاج برطانیہ کو یہاں مضبوط کیا اور لوگوں کو انصاف ، امن و امان اور سروسز کی فراہمی کا ریکارڈ قائم کیا۔ یہی وہ دور ہے جب ہندوستان میں ریلوے، ڈاکخانہ، تعلیمی ادارے، نہری نظام، صحت عامہ، جانوروں کی صحت کے ہسپتال ، جنگلات، بلدیات، عدالتیں اور وہ تمام ادارے قائم ہوئے جن پر اس وقت پاکستان، بنگلہ دیش، سری لنکا، برما اور نیپال کے ممالک کی پوری انتظامی مشینری کی عمارت قائم ہے ۔(جاری ہے )

///////

سول سروس ریفارمز:تباہی پر مہر تصدیق ……(قسط 3)
فروری 22, 2020 0 تبصرے
قیام پاکستان کے بعد پورے ملک کا انتظام و انصرام اسی سول سروس کے ذمہ تھا، جس کی وجہ سے ایک گھنٹے کے لیے بھی امورِ سلطنت کی انجام دہی میں خلل نہیں پڑا۔ تمام کاروبار سلطنت بالکل ویسے ہی چلتا رہا، حالانکہ جیسی افتاد اس زمانے میں ٹوٹیں اور جس طرح کی بے سر و سامانی کا عالم تھا اگر سرکاری مشینری مضبوط نہ ہوتی تو یہ نو زائیدہ ملک آغاز میں ہی ہمت ہار جاتا۔ دس لاکھ لوگ سرحد کے آر پار جان سے ہاتھ دھو بیٹھے تھے اور لاکھوں مہاجرین کے قافلے کیمپوں میں پڑے ٹھکانوں کے منتظر تھے۔ خزانے میں سے پاکستان کے حصے کی رقم روک لی گئی تھی اور ملک کے پاس تنخواہیں دینے کے لیے بھی رقم موجود نہ تھی۔ یہ مشکل ترین دور اس بات کا گواہ ہے کہ چٹاگانگ سے لے کرجیسور تک اور کراچی سے لے کے خنجراب تک پورے ملک میں ایک دن کے لیے بھی کسی قسم کا نظام معطل نہیں ہوا۔ یہی سرکاری ملازمین تاریخ پاکستان کے وہ گمنام کارکن ہیں جن کی کہانیاں آج تک کسی نے مرتب نہیں کیں۔ حکومتی قیادت سیاسی حکمرانوں کے پاس ہوتی ہے، لیکن زمینی حقیقت یہ ہے کہ مملکت کا کاروبار دراصل چپڑاسی سے لے کر اعلیٰ سطحی افسرتک، ڈاکٹرز، انجینئرز، ڈرائیور، ڈسپنسر، کلرک اور دیگر سرکاری کارندوں کا مرہون منت ہوتا ہے۔ اس ملک کے آغاز سے ہی سیاسی طوفان آتے رہے، حکومتیں بدلتی رہیں، اسمبلیاں معطل ہوتی رہیں، صرف چند مہینوں کے وقفے سے وزیراعظم تبدیل ہوتے رہے۔ لیکن پاکستان کے پہلے دس سالوں میں اس کی ترقی کا پہیہ نہیں رکا اور صرف دس سال کے عرصے میں یہ ملک دنیا کے نقشے پر ایک ابھرتی ہوئی معیشت اور طاقت کے طور پر سامنے آ گیا۔ صرف ایک مثال دیتا ہوں کہ 1947ء میں اس ملک میں سات لاکھ پچیس ہزار افراد پر ایک ڈاکٹر تھا لیکن صرف دس سال بعد یہ تعداد صرف گیارہ ہزار رہ گئی۔ یہ سب اسی گمنام سول سروس اور سرکاری ملازمین کی وجہ سے ہی ممکن ہو سکا۔ یہی دور تھا جب اس سول سروس کی تباہی کی بنیاد بھی رکھ دی گئی تھی۔ قائداعظم نے سول سروس کو پاکستان کے لیے ریڑھ کی ہڈی قرار دیا اور انہیں ”حکومت نہیں ریاست” کا ملازم قرار دیا۔ قائداعظم نے بار بار سرکاری افسران سے خطاب فرمایا۔ حیرت کی بات ہے کہ ہر خطاب کا آغاز تقریبا ایسے ہوتا ہے ” میرا پختہ یقین ہے کہ ہماری کامیابی اور فلاح اسلام اور حضرت محمد ﷺجو عظیم قانون دان تھے کے مرتب کردہ سنہری اصولوں کو اپنانے میں پنہاں ہے”۔ یہ الفاظ گیارہ اکتوبر 1947 کو کہے گئے۔ اس کے بعد چودہ فروری 1948 کو قائد اعظم نے کہا ” میں چاہتا ہوں کہ آپ خدا کے حضور پیش ہوں تو آپ پورے اعتماد سے کہہ سکیں کہ میں نے اپنا فرض انتہائی ایمانداری، وفاداری اور صمیم قلب سے ادا کیا۔ اسلامی قوانین کی بالادستی اور اللہ کے سامنے جواب دہی کا احساس دلانے والے قائداعظم نے 14 اپریل 1948 کو پشاور میں انہی افسران سے کہا ” آپ کو کسی قسم کے سیاسی دباؤ میں نہیں آنا چاہیے۔ آپ کو کسی سیاسی جماعت یا کسی سیاستدان کا اثر قبول نہیں کرنا چاہیے۔ اگر آپ واقعی پاکستان کا وقار بلند کرنا چاہتے ہیں تو کسی طرح کے دباؤ کا شکار نہ ہوں اور عوام و مملکت کے سچے خادم کی حیثیت سے اپنا فرض بے خوفی اور بے غرضی سے ادا کریں”۔ آج یہ ریڑھ کی ہڈی مکمل طور پر ٹوٹ چکی ہے۔ قیام پاکستان کے بعد اس سول سروس کو لاتعداد چھوٹے چھوٹے مرض لاحق ہونا شروع ہوگئے تھے جن میں کرپشن کا ناسوربھی اپنی جگہ بنانے میں کامیاب ہوگیا۔ اس کی بنیادی وجہ ہندوؤں کی چھوڑی ہوئی وہ جائیدادیں تھیں جن کی الاٹمنٹ کے لیے مہاجرین کلیم داخل کر رہے تھے۔ ان مہاجرین کی آبادکاری نے اس طرح اس نوزائیدہ ملک کی سرکاری مشینری کو کرپشن کی دیمک سے اسقدر کرم خوردہ کیا کہ 1959ء میں اس سروس کی اصطلاحات کا جب پہلا کمیشن جسٹس کارنیلس کی سربراہی میں بنا تو اس نے 1962ء میں اپنی رپورٹ کے آغاز میں ہی یہ حقیقت لکھی کہ ” اس وقت سب سے بڑا مسئلہ کرپشن ہے اور ہم اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ کوئی محکمہ بھی اس سے بچا ہوا نہیں۔ برطانوی دور میں یہ دعویٰ درست تھا کہ انڈین سول سروس کرپشن سے پاک ہے۔ لیکن حیران کن بات یہ ہے کہ موجودہ سی ایس پی آفیسر ان میں سے بھی تین کے خلاف اینٹی کرپشن کے مقدمے قائم ہیں جن کا اس سے پہلے تصور بھی ممکن نہ تھا”۔ جسٹس کارنیلس کی 478 صفحات پر مشتمل رپورٹ مرض کی تشخیص کرتی تھی،اور اس کا علاج بھی بتاتی تھی۔ لیکن چونکہ اس وقت تک پاکستان کی سول سروس کو ایک سیاسی اکھاڑہ بنا لیا گیا تھا اور کوئی اسکی سمت درست کرنے میں مخلص نہ تھا، اسی لیے یہ رپورٹ الماریوں کی زینت بنا دی گئی اور اس پر عملدرآمد نہ ہو سکا۔ ایوب خان کا مارشل لاء لگ چکا تھا اور اب سیاست میں سول بیوروکریسی کے ساتھ ساتھ ملٹری بیوروکریسی بھی داخل ہوچکی تھی، بلکہ اب یہ ایک سینئر پارٹنر تھی۔ ان دونوں نے مل کر نہ صرف سیاست دانوں سے وقتی آزادی حاصل کی بلکہ انہیں اپنے اشاروں پر چلانا بھی شروع کر دیا۔ یہ ملک اب ایک ایسی دلدل میں جا گرا تھا جہاں سیاستدان، فوج اور بیوروکریسی مفادات کی جنگ لڑ رہے تھے اور ملک کا مفاد اوجھل تھا۔ بیوروکریسی چونکہ کام جانتی تھی، بلکہ صرف وہی کام جانتی تھی اور اس کے بغیر ملک کی گاڑی چلانا مشکل تھا اس لیے یہ سیاستدانوں اور جرنیلوں کی ایک ایسی محبوبہ بن گئی جو ہر آنے والے حکمران کے لئے سیج سجاتی، عشوہ و ا دا دکھاتی اور اسے شیشے میں اتار کر اپنا مفاد حاصل کرنے کی کوشش کرتی۔یہ ہر دور میں ہر حکمران کی آنکھوں کا تارا بنی رہی۔ اسے قابو میں کرنے، زیر دام لانے اور مستقل وفادار بنانے کے لیے کبھی اسے ڈرایا گیا اور کبھی لالچ دیے گئے۔ یحییٰ خان نے اقتدار میں آتے ہی اعلی ترین 303 آفیسران فارغ کر دیئے جن میں قدرت اللہ شہاب اور مصطفی زیدی جیسے لوگ بھی تھے۔ بھٹو برسراقتدار آیا تو اس نے چودہ سو آفیسران نکال دیے جن میں الطاف گوہر جیسے افراد بھی تھے۔ لیکن اس سب کے باوجود ایک ڈھانچہ ابھی تک قائم تھا، جسے قائداعظم نے ریڑھ کی ہڈی کہا تھا۔ اس لیے کہ اس سول سروس میں ایماندار رہنے، حکمرانوں کے ناجائز کاموں سے انکار کرنے اور سر اٹھا کر نوکری کرنے کے لئے انہیں آئینی تحفظ حاصل تھا۔ ذوالفقارعلی بھٹو نے نئے پاکستان کے نئے آئین میں اس تحفظ کو ختم کرکے بیوروکریسی کو ایک زرخرید لونڈی میں تبدیل کر دیا جس کو جس طرف چاہے موڑ دیا جائے اور جب چاہیں نکال دیا جائے۔ اس کے بعد کے سینتالیس سال سول سروس کے زوال کے سال ہیں۔ ضیاء الحق نے اسے واپس درست کرنے کی کوشش کی لیکن اس نے بھی انہیں آئینی تحفظ دینے سے انکار کیا، کیونکہ اسی تحفظ کی عدم موجودگی کی وجہ سے ہی تو آج سول سروس اسکی غلام تھی۔ بینظیر اور نواز شریف نے ان غلاموں کو دو سیاسی پارٹیوں میں بدل کر رکھ دیا۔ مشرف نے انہیں مکمل طور پر بے اختیار کرنے کی کوشش کی، ناظم کا نظام لایا گیا،اور بیوروکریسی کی حیثیت ایک گھریلو ملازمہ جیسی بنا دی گئی۔ لیکن چونکہ اس سول سروس کے بغیر سرکار کا کاروبار چلنا مشکل تھا۔اسی لیے یہ واپس گھریلو ملازمہ سے دوبارہ منظورنظر محبوبہ بن گئی۔ عمران خان صاحب کے ریفارمز بھی اس عشوہ طراز محبوبہ کی نوک پلک سوار کر اسے تابع فرمان لونڈی کی حیثیت دینا چاہتی ہیں۔ ایک ایسی بیوروکریسی جو ان کے اشاروں پر رقص کرتی ہو۔ ان اصلاحات میں سے ایک بھی ایسی نہیں ہے جو نئی ہو۔ ایسی اصلاحات کئی بار نافذ ہوئیں اور بری طرح ناکام ہو چکی ہیں۔ لیکن اس دفعہ شاید انکی ناکامی انتہائی شدید ہو۔ اس لیے کہ پہلی اصلاحات کے وقت سول سروس میں کچھ اخلاقیات و اصول باقی تھے۔ اب توان اصلاحات نے دلدل میں غرق اس سول سروس کو تباہی کے دہانے پر پہنچانے کا مکمل بندوبست کر لیا ہے۔ (جاری ہے)

//////////////

ول سروس ریفارمز:تباہی پر مہر تصدیق (آخری قسط)
فروری 23, 2020 0 تبصرے
پاکستان کی سول سروس میں گذشتہ ساٹھ سال میں کی جانے والی تبدیلیوں پر نظر ڈالنے کی اس لیے بھی ضرورت نہیں ہے،کیونکہ عمران خان صاحب کی ”تبدیلی ٹیم” نے جو تازہ ترین اصلاحات پیش کی ہیں۔ ان تمام گذشتہ ناکام اصلاحات کا بھونڈا چربہ ہیں انہی میں سے مواد حاصل کرکے ایک بارہ مصالحے کی چاٹ بنانے کی کوشش کی گئی ہے۔ ان میں ہر وہ تبدیلی جسے ایک نئی کوشش اور تجویز بنا کر پیش کیا جا رہا ہے، وہ بار بار نافذ ہوئی، ناکام رہی اور پھرسابقہ حکومتوں نے انتہائی بے شرمی سے اسے واپس لے لیا۔مثلا، دوسرے صوبوں میں نوکری کرنے کی لازمی شرط، پہلے ضیاالحق نے لگائی، اس پر چند سال عملدرآمد کروایا، پھر اسے ختم کردیا،دوبارہ مشرف نے یہی پابندی لگائی،کچھ عرصہ عملدرآمد کروایا، پھر واپسی ہو گئی۔ اثاثوں کے گوشوارے گذشتہ پچاس سال سے داخل ہو رہے ہیں مگر یہ ایک بند کمرے میں ردّی کی صورت جمع ہیں جنہیں کوئی دیکھ نہیں سکتا۔ سلیکشن بورڈ کو پندرہ فیصد سے تیس فیصد نمبر پہلے بھی کئی بار دیے گئے اور اس کا انہوں نے جس طرح غلط اور ناجائز استعمال کیا، اس پر سپریم کورٹ کے لاتعداد فیصلے اتنے بڑے فورم کی بددیانتی پر مہر تصدیق ثبت کر چکے ہیں۔ ذوالفقار علی بھٹو نے ہر گریڈ میں سپیشلسٹ لینے کے لئے ”بعد میں داخلہ”(Lateral Entry) کے نام پرایک تجربہ کیا جو بری طرح ناکام ہوا۔ پاکستان کے ہر صوبے میں صحت اور تعلیم کے محکموں میں خصوصا اور دیگر محکموں میں عموما سپیشلسٹ افراد کو بیوروکریسی نے لاکر اعلیٰ عہدوں پر بٹھایا لیکن ناکامی میں وہ بھی کسی سی ایس ایس آفیسر سے کم نہ تھے، بلکہ زیادہ ہی تھے،یہاں تک کہ انکے اپنے ساتھیوں نے ہی ان کے خلاف صدائے احتجاج بلند کی اور انہیں ہٹانا پڑا۔ کسی خاص شعبہ کو اپنے لیے مخصوص کرنے کا اور مہارت حاصل کرنے کا تصور نافذالعمل ہے۔ سب جانتے ہیں کہ سوائے فنانس اور پلاننگ کے شعبوں کے تمام شعبوں میں سیکرٹریٹ کی سطح پر کام ایک جیسا ہی ہوتا ہے۔ اسی لئے فنانس اور پلاننگ کے محکموں میں افسران گذشتہ ستر سال سے مخصوص مہارت والے ہی چلے آرہے ہیں اور کوئی انہیں کسی دوسرے محکمے میں پوسٹ کر کے کارکردگی تباہ نہیں کرنا چاہتا۔کیونکہ ایسا کرنے سے بجٹ کی تیاری تک رک جائے ۔یہ مذاق بھی عجیب ہوگا کہ ایک امراض قلب کا ماہر، ایک مکینیکل انجینئر، فزکس، کا پروفیسر یا کوئی ایسا ماہر اپنا اصل کام چھوڑ کر سیکرٹری لگے،عمارتوں کے ٹینڈر کھولے، چھٹیوں کی منظوری دے، پروموشن بورڈ بنائے اور دیگر انتظامی کام کرے،جس کا اس کی تعلیم اور تجربے سے دور کا بھی واسطہ نہ ہو۔ ایسا بھی کئی بار کیا گیا اور یہ تجربہ بھی ناکام ہوا۔ صوبائی افسران اور مرکزی افسران میں کوٹے کی تقسیم صرف اور صرف پنجاب کا مسئلہ ہے۔ بلوچستان میں تو صوبائی افسران مرکز کے آفیسران سے زیادہ بہتر پوسٹوں پر تعینات ہوتے ہیں اور زیادہ تیزی سے پرموشن لیتے ہیں۔ اسے قومی مسئلہ بنا کر صرف رپورٹ خوبصورت کی گئی ہے۔ ایک اور دور کی کوڑی لائی گئی کہ ماتحتوں کے کام کی جائزہ رپورٹیں جنہیں ACRS کہا جاتا ہے ان میں سے صرف 20 فیصد ”سب سے اچھی”، 30 فیصد” بہت اچھی”، 30 فیصد”اچھی”،10 فیصد ”درمیانہ” اور دس فیصد” درمیانے سے بھی کم” لکھی جانی چاہییں۔ پہلی بات تو یہ ہے کہ اسوقت پاکستان کی پوری بیوروکریسی کی دراصل درمیانے (Mediocre) سطح کے لوگوں پر مشتمل ہو چکی ہے۔ گذشتہ پچاس سالوں سے ان میں سے اکثر کی ACRS ان کے آفیسران نے کثرت کے ساتھ ”سب سے اچھی” لکھی ہیں۔ یہ جھوٹ اور مسلسل جھوٹ کیوں بولا گیا۔ اس کی لاتعداد وجوہات ہیں، جن میں اپنے گروپ کے افسران کے ساتھ تعصب، رشوت اور کمیشن کا بندوبست کرنے والے ماتحت کو نوازنا، ذاتی تعلق، سیاسی دباؤ، اگر کچھ اور نہ ہو تو اچھی ACRS لکھوانے کے لیے نقد رقم بطور رشوت بھی وصول کی جاتی رہی ہے۔ اس گروہ اور قبیل کے افسران پر جب صرف 20 فیصد ”سب سے اچھی”لکھنے کی پابندی لگائی جائے گی تو ایسا کرنے سے صرف اچھی ACR لکھنے کا ریٹ بڑھے گا ۔ پاکستان کی سول سروس جن اقدامات سے تبدیل ہو گی اسکی جانب عمران خان صاحب کو کوئی نہیں جانے دے گا۔ اس لیے کہ ایسا کرنے سے بیوروکریسی کا وہ تمام سٹیٹس کو (Status Quo) ٹوٹ جائے گا اور وہ ایک دیانتدار اور عوام دوست سول سروس بن کر برآمد ہو گی۔ ایسا کرنے کے لئے مندرجہ ذیل اقدامات ضروری ہیں، ورنہ یہ تبدیلی بھی ایسی ہے جیسے سات سو کی بجائے سات لاکھ ڈول پانی بھی نکالو، کنواں پاک نہیں ہوگا۔ oابھی تک سول سروس میں داخلے کی شرائط ایسی ہیں کہ اس میں ننانوے فیصد وہ لوگ امتحان پاس کرتے ہیں جن کے والدین انہیں اعلیٰ انگریزی میڈیم اداروں میں تعلیم حاصل کروا سکتے ہیں۔ یہ سب پہلے سے بااثر ہوتے ہیں اور اپنے ساتھ سفارشوں کے پلے کارڈ بھی اٹھائے ہوتے ہیں۔ سیاستدانوں، جرنیلوں، سرمایہ داروں کے بیٹے بھتیجے اور داماد۔ یہ صرف اس وجہ سے سول سروس میں اعلیٰ پوزیشن لیتے ہیں کیونکہ سول سروس کا امتحان انگریزی میں ہے۔ یہ ”انگریزی زدہ” طبقہ جو اپنی آئندہ 35 سالہ نوکری میں کبھی انگریزی کا استعمال نہیں کرتے کیونکہ انہوں نے عام آدمی پر حکمرانی کرنا ہوتی ہے۔ لیکن مقابلے کے امتحان میں انگریزی صرف اس لئے لازم کی گئی کہ سول سروس میں صرف اشرافیہ کے بچے داخل ہوسکیں اور عام آدمی کا بچہ محروم رہے۔ جب تک سول سروس کا امتحان اردو میں نہیں ہوتا، جس کے نتیجے میں ایک عوامی بیوروکریسی وجود میں نہیں آتی کوئی تبدیلی نہیں آسکتی۔ oایک دیانتدار اہل اور صاحب کردار بیوروکریٹ کے لیے تحفظ بنیادی شرط ہے۔ اس لیے کہ اس کے اردگرد اور اس کے بالا آفیسر، اگر کرپٹ بددیانت اور نااہل ہوں اورواقعی ایسا ہی ہے،تویہ افسران اس کی ساری نوکری عذاب بنا سکتے ہیں ، بلکہ وہ نوکری سے نکالا بھی جا سکتا ہے۔ ایسا بار بار ہوا ہے کہ جب سیاسی آقاؤں کو خوش کرنے یا پھر اپنے مفاد کے تحفظ کے لئے بیوروکریٹ کسی ایماندار آفیسرکے خلاف متحد ہو گئے اور اس کو مسلسل کھڈے لائن لگایا، پرموشن سے محروم رکھا اور پھر بالآخراسے نوکری سے بھی نکال دیا۔ اسی لئے ایک ایماندار سول سروس کے لیے آئینی تحفظ انتہائی ضروری ہے جو ایماندار کو ناجائز احکامات ماننے سے انکار کرنے پر تحفظ دے۔ oسول سروس کی بہتری کے لیے یکساں مراعات کے سوا کوئی چارہ نہیں۔ وہ سہولیات جو اسوقت صرف چند لوگوں اور چند پوسٹوں کو میسر ہیں۔ یہ مراعات ہی کرپشن اور ناجائز کاموں کی بنیاد بنتی ہے۔ ایک ڈپٹی کمشنر یا ڈی پی او اپنے کئی ایکڑ کے گھر گاڑیوں اور نوکروں کی فوج ظفر موج کو چھوڑ کر سکرٹریٹ میں نہیں آنا چاہتا، جہاں گھر میسر ہو اور نہ گاڑی۔ اسی طرح جن کو لاہور، کراچی، کوئٹہ، پشاور یا اسلام آباد میں بڑے بڑے گھر میسر آجائیں، اور دیگر مراعات بھی مل رہی ہوں تو پھر آپ ان سے سہولیات چھن جانے کے خوف سے جو چاہیں کروا سکتے ہیں۔ oسول سروس کے افسران کے اثاثہ جات کے تعین کے لیے ایک بالکل علیحدہ ادارہ ہونا چاہئے جس کا بیوروکریسی سے کوئی تعلق نہ ہو۔ جہاں ایک آفیسر نوکری کے آغاز میں اپنے اثاثوں کی فہرست جمع کروائے اور ہر پرموشن سے پہلے اس کے اثاثوں کو عوامی جائزے کے لیے مشتہر بھی کیا جائے اور وہ آزاد ادارہ پروموشن سے پہلے اپنی رپورٹ بھی جمع کروائے۔ oاس وقت موجودہ سول سروس دو سیاسی پارٹیوں کے ونگ بن چکے ہیں۔ انکی گذشتہ نوکریوں میں بہترین تعیناتیوں کو دیکھ کر ان کی وفاداریوں کا جائزہ لیا جاسکتا ہے اور اس کی بنیاد پر ایک وسیع تطہیر کی ضرورت ہے۔ یہ تمام لوگ اپنی سیاسی وابستگیوں کی وجہ سے بہت کچھ کما چکے اور بہت زیادہ لطف اندوز ہوچکے۔ ان کا سایہ سول سروس کو صرف خراب کر سکتا ہے۔ بہتر یہ ہے کہ ایک بہت بڑا ایماندارانہ جائز لیا جائے اور سول سروس کو ازسر نو ترتیب دیا جائے۔ میں نے ایک طویل جائزہ تحریر کر دیا ہے آخر میں صرف ایک درخواست ہے کہ عمران خان صاحب، آپ اپنی پوری ٹیم جو اس تبدیلی کی سفارشی ہے، اسے پورے میڈیا کے سامنے عوام کے روبرو پیش کر دیں تاکہ وہ سوالات کا سامنا کریں۔میرا دعویٰ ہے ،دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو جائے گا۔

وزیرِ اعظم عمران خان نے رواں ماہ 22 ستمبر کو ایک طرف تو تمام وفاقی وزرا کے ساتھ انہیں سونپی گئی وزارتوں کی کارکردگی جانچنے کے لیے ایک معاہدے پر دستخط کیے ہیں تو دوسری جانب یہ بھی خبریں آرہی ہیں کہ وفاقی حکومت نے اعلیٰ ترین عہدوں پر فائز درجنوں افسران کو کارکردگی بہتر نہ ہونے کی بنا پر شوکاز نوٹس جاری کر دیے ہیں اور ایسے افسران کو قابل اطمینان جواب نہ دینے پر جبری ریٹائرمنٹ کا بھی سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

حکومت یہ قدم ‘سول سرونٹس رولز’ میں کی گئی ترامیم کی روشنی میں اٹھا رہی ہے جو گزشتہ سال ہی منظور کی گئی ہیں۔وفاقی وزارتوں کی کارکردگی جانچنے کی مشقیں اس سے قبل 2019 اور 2020 میں بھی محدود پیمانے پر آزمائشی بنیادوں پر کی جا چکی ہیں۔اس معاہدے کے تحت وفاقی حکومت کے تمام ڈویژنز کو دو سال کے اقدامات دیے گئے ہیں۔ان میں سے 426 اقدامات جون 2022 تک، 488 اقدامات جون 2023 اور بقایا 176 اقدامات دو سال سے زائد کے عرصے میں مکمل کیے جانے ہیں۔حکام کا کہنا ہے کہ ان اقدامات کو طے کرنے کے بعد ان کا سہہ ماہی بنیادوں پر جائزہ لیا جائے گا جس سے معلوم ہو سکے گا کہ کس وزارت کی کارکردگی بہتر اور کس کی خراب رہی ہے۔اس کے علاوہ تمام وزارتوں میں 1300 سے زائد اصلاحات، پالیسی میں تبدیلیاں، ترقیاتی اور انتظامی اقدامات بھی شروع کیے جانے ہیں۔
حکام کا مزید کہنا ہے کہ اس پرفارمنس ایگرمینٹ سے حکومت کو اپنی کارکردگی کا ٹریک ریکارڈ رکھنے میں بھی آسانی ہوگی جب کہ یہ معاہدہ ملک میں سول سروسز میں کی جانے والی اصلاحات کا ایک حصہ ہے۔ جس کا مقصد وفاقی حکومت کے اداروں اور وزارتوں کی کارکردگی کو بہتر بنانا ہے۔پاکستان میں حکومتی اداروں میں اصلاحات نافذ کرنے اور اس کے لیے مختلف سطح پر پالیسی لانے کے لیے گزشتہ کئی برس سے کوشش کی جا رہی ہے۔سابق سیکریٹری خزانہ اور فیڈرل پبلک سروس کمیشن کے رکن عبد الواجد رانا نے 2019 میں پیش کیے گئے اپنے ریسرچ پیپر ’سول سروسز ریفارمز اِن پاکستان‘ میں لکھا ہے کہ 2018 کے اعداد و شمار کے مطابق پاکستان ورلڈ بینک کے گورننس انڈیکٹرز میں دنیا کی ابھرتی ہوئی معیشتوں کی فہرست میں، جیسے ترکی، جنوبی کوریا، انڈونیشیا، بھارت، چین اور بنگلہ دیش کے مقابلے میں، سب سے نیچے رہا ہے اور طرز حکمرانی بہتر بنانے کے لیے سب سے اہم چیز اہل اور پیشہ وارانہ بیور کریسی ہوتی ہے۔ان کا مزید کہنا ہے کہ دنیا کے دیگر ممالک کے برخلاف پاکستان میں بیوروکریسی میں اصلاحات کا عمل تاخیر کا شکار رہا ہے حالاں کہ یہاں 2006 میں قومی کمیشن برائے حکومتی اصلاحات قائم کیا جا چکا تھا۔انہوں نے اپنے مقالے میں کہا ہے کہ طاقت کا عدم توازن، حد سے زیادہ مرکزیت رکھنے والے بیوروکریسی کے ادارے اور کمزور جمہوری ادارے اس کی سب سے بڑی وجوہات ہیں۔ اس کے بعد بعض غیر ریاستی عناصر کی جانب سے ریاستی فرائض انجام دیے جانے، ضرورت سے زیادہ اور غیر ہنرمند ملازمین کی بھرتی، نو آبادیاتی قوانین، سیاسی مداخلت، شفافیت کی کمی، احتساب کا کمزور نظام اور اصلاحات و تبدیلی کی مزاحمت اس کی بڑی وجہ قرار دی گئی ہیں۔
بہت سے ایماندار بیورو کریٹس کے خیال میں حکومت کی جانب سے بیوروکریسی میں اصلاحات کا نظام متعارف کرانا تو ایک بہتر عمل ہے۔ان کے خیال میں اگر ایک صاف اور قابل اعتماد نظام ہو جس میں سفارش کی گنجائش نہ ہو، اگر اس قسم کا کوئی نظام بن جائے تو بہتر ہے۔ لیکن ان کے بقول اصل مسئلہ یہ ہے کہ اس طرح کا نظام اب تک بیوروکریسی میں بن نہیں پایا۔جس طرح فوج میں ترقی کا دار و مدار مکمل طور پر ان کے بہتر ریکارڈ اور کارکردگی پر ہوتا ہے لیکن بیوروکریسی میں ایسی روایات اب تک نہیں بن سکی ہیں۔ حکومت کی جانب سے نئے نظام کے تحت بیوروکریسی میں ایک بہتر نظام لایا جاسکے گا لیکن اس کی کامیابی کا انحصار اس پر ہے کہ اس پر کس قدر عمل درآمد ہوتا ہے۔ گورننس کی پیمائش کرنا بڑا مشکل ہوتا ہے۔ کیوں کہ گورننس یا طرز حکمرانی کئی چیزوں کا مجموعہ ہے۔ وزیرِ اعظم کے شکایات پورٹل کے نظام کی بھی تعریف کی جاستی ہے کہ اس سے بہرحال کہیں نہ کہیں فائدہ ہو رہا ہے۔ کیوں کہ اس سے سرکاری افسر پر شکایت کو دور کرنے سے متعلق دباؤ ضرور پیدا ہوتا ہے۔ لیکن اس میں بھی بالآخر دیکھنا یہ ہوگا کہ بیوروکریسی کسی دھمکی پر کام نہ کریں بلکہ وہ ایک جذبے کے تحت کام کریں۔ اپنی کامیابی کے لیے کرے۔ اگر وہ ماحول نہیں دیا جائے گا تو ہوسکتا ہے کہ تھوڑی دیر کے لیے بہتری تو آجائے مگر طویل مدت کے لیے بہتری کی توقع نہیں کی جاسکتی۔ بعض اوقات ایسی اصلاحات کے نفاذ میں خود بیوروکریسی بھی رکاوٹ بنتی ہے اور مزاحمت کرتی ہے جب انہیں معلوم ہوتا ہے کہ اس سے ان پر زیادہ بوجھ آئے گا یا ان پر سختی ہوسکے گی۔ لیکن اس میں پیمانہ یہی ہونا چاہیے کہ عام لوگوں کے کام نہ رُکیں۔ انہیں سہولت ہو اور شہریوں کو وہ سمت بتائی جائے کہ وہ اپنا کوئی مخصوص مسئلہ کیسے حل کرسکتے ہیں۔ بیوروکریسی میں اصلاحات انتہائی پیچیدہ اور مشکل مرحلہ ہے۔ اس کے سادہ حل تلاش کرنے کی کوشش کی جائے تو یہ اخبارات کی شہہ سرخیاں تو بنا دیتے ہیں۔ حقیقت میں یہ اصلاحات تبھی ثمر آور ثابت ہوسکتی ہیں جب عام شہری کہیں کہ اس سے ان کا فائدہ ہورہا ہے۔
اداراہ جاتی اصلاحات میں اس بات کا خیال رکھا گیا ہے کہ ان اداروں کو کس طرح فعال بنایا جائے، ان کی مالی کارکردگی کو بہتر بنانے کے لیے اصلاحات لائی جارہی ہیں۔ پہلی بار ایسا اسٹرکچر بنایا گیا ہے کہ ہر وزارت کے مقاصد، اہداف، کیا ہوں گے، ان کے نمایاں پرفارمنس انڈیکٹرز کیا ہوں گے، پھر ان کا سہہ ماہی بنیادوں پر جائزہ لیا جائے گا۔ جب کہ سال کے آخر میں وزیرِ اعظم ہر وزیر کے ساتھ ان کی وزارت کے اہداف اور کارکردگی کا جائزہ لیں گے۔بیوروکریسی میں کوئی اچھا کام کر رہا ہے اور کسی کی کارکردگی خراب ہے تو ان دونوں میں کوئی تفریق نہیں تھی لیکن اب اس نظام کو ختم کیا جا رہا ہے۔ ترقی کے وقت صرف ان لوگوں کے کیسز پر غور کیا جائے گا جن کی کارکردگی بہت ہی اچھی رہی یا ان کی کارکردگی قابل اطمینان ہوگی۔ پرفارمنس کے 40 فی صد نمبر، ٹریننگ کے 30 فی صد اور سلیکشن بورڈ کے 30 نمبر ہوں گے۔ اصلاحات کا یہ نظام بہت ہی انقلابی ہو گا جس سے اداروں کی کارکردگی بہتر ہوگی۔ان اصلاحات کے تحت وفاقی اداروں کی تعداد 441 سے کم کر کے 307 کردی گئی ہے۔ جس سے اخراجات پر کنٹرول کرنے کے ساتھ اداروں کی استعدادکار بڑھے گی۔ماہرین کا کہنا ہے کہ ان اصلاحات کے نتائج چند ماہ یا چند برس میں نہیں بلکہ کئی برسوں کے بعد نظر آئیں گے۔
کچھ آراء کے مطابق سول بیورو کریسی میں اصلاحات فوری تبدیلیوں کے بجائے مجموعی نوعیت کی مگر ٹائم فریم کے ساتھ نافذ کی جائیں۔ اس کا دائرہ کار وفاقی، صوبائی اور مقامی تینوں سطح تک کیا جائے۔

ریاست کا تیسرا ستون ۔عد لیہ اور کرپشن

عدلیہ کے لغوی معانی تو فیصلے کرنے کے ہیں یا دو چیزوں میں باہم فرق کرنا لیکن اصطلاح میں مستحقینِ انصاف اہلیانِ ریاست کو مختلف النوع امورِ مطلوبہ میں انصاف کی بروقت فراہمی عدلیہ کہلاتی ہے جیسا کہ ہم عرض کر چکے کہ انسانی رویہ کو ضبط میں رکھنے کے لئے قانون کا سہارا لیا جاتا ہے لیکن چونکہ انسان فطری طور پر ضبط شکن واقع ہوا ہے، اس لئے معاشرے میں غیر متوازن رویوں کے سبب اخلاقی و آئینی اضمحلال رونما ہو جاتا ہے۔ پس اس اخلاقی اضمحلال اور آئین شکنی کا سدِ باب کرنے کے لئے فصلِ باہم(عدالت) کا قیام عمل میں لایا جاتا ہے کسی بھی خالص جمہوری ریاست کے بنیادی چار ستونوں میں عدلیہ کو تیسرے بنیادی ستون کی حیثیت حاصل ہے۔

ہمارے جمہوری مملکت کے تین ستون جس زبوں حالی کا شکار ہیں اہل دانش و بصیرت خوب خوب آگاہی رکھتے ہیں کہ چوتھے ستون عدلیہ کی بدحالی کے اسباب وہی ہیں جنھوں نے انتظامیہ کو کام چور اور بدعنوان، مقننہ کو بازیچہ اطفال اور صحافت کو زیربار اور روبہ زوال کر رکھا ہے۔

شومئی قسمت سے قیام پاکستان سے لے کر آج تک سوائے حامد خان کے کسی بھی دانشور یا وکیل نے عدلیہ کی بدحالی کے اسباب پر قلم نہیں اٹھایا۔ پاکستان کے پہلے چیف جسٹس عبدالرشید نے آزاد عدلیہ کی بنیاد رکھی اور اسے درست سمت فراہم کی مگر چیف جسٹس محمد منیر نے ’نظریہ ضرورت‘ ایجاد کرکے عدلیہ کا رخ ہی تبدیل کر دیا۔ چیف جسٹس کارنیلس نے مشکلات کے باوجود عدلیہ کا وقار بحال کیا۔
پاکستانی عدلیہ کی تاریخ میں نیک نام منصفین انگلیوں پر گنے جا سکتے ہیں جنھوں نے کسی بھی دباؤ کو خاطر میں نہیں لایا مگر ان کا انجام اچھا نہیں ہوا۔ نیک نام منصفین کو دوران ملازمت ہی عبرت کا نشان بنا دیا جاتا۔ اگر کوئی اپنی مدت ملازمت پوری کر جاتا تو ازاں بعد اسے کسی ٹربیونل کا سربراہ بنا کر اس پر غصہ اتارا جاتا۔
جسٹس ایس اے رحمن 1968ء میں چیف جسٹس آف پاکستان کے منصب سے ریٹائرڈ ہوتے ہیں وہ نیک نام منصف ہوتے ہیں کسی بھی دباؤ کو خاطر میں نہیں لاتے۔ ریٹائرمنٹ کے بعد اگر تلہ سازش کیس کے ذمہ داروں کو تعین کرنے کے لیے سابق وفاقی وزیر قانون و ممتاز وکیل ایس ایم ظفر کی وساطت سے انھیں ٹریبونل کی سربراہی کرنے کی درخواست کی جاتی ہے وہ انکار کرتے ہیں کہ یہ انتہائی پیچیدہ اور نازک سیاسی معاملہ ہے بہتر ہے کہ جج صاحبان ڈھاکہ ہائی کورٹ سے لیے جائیں اس پر ظفر صاحب دلیل پیش کرتے ہیں کہ سابق چیف جسٹس آف پاکستان اگر اسپیشل ٹریبونل کے چئرمین ہوں گے تو اس کے وقار و اعتبار میں اضافہ ہو گا۔ جسٹس صاحب نے اس دلیل سے اتفاق کرتے ہوئے سربراہی قبول کرتے ہیں۔
جسٹس ایس اے رحمان مقدمے کی سماعت کے سلسلے میں ڈھاکہ جاتے ہیں اور کئی روز قیام کرتے ہیں۔ 1968ء میں ایوب خان اپنی دس سالہ ترقی کا جشن منایا عوام کے اندر شدید ردعمل ہوتا ہے۔ اگر تلہ سازش کیس کے مرکزی کرداروں تک پہنچا نہیں جاتا کہ 17 فروری 1969ء کو اگر تلہ سازش کیس کے ملزم سارجنٹ کے ملزم ظہور الحق کو فرار ہونے کی کوشش پر گولی مار دی جاتی ہے۔
جسٹس ایس اے رحمان ڈھاکہ ریسٹ ہاؤس میں ٹھہرے ہوتے ہیں ریسٹ ہاؤس پر پٹرول چھڑک کر آگ لگا دی جاتی ہے اور جج صاحب کو قمیض، پاجامے اور چپل میں جان بچانے کے لیے ملازمین کے کوارٹر میں پناہ لینا پڑی۔ اس حادثہ کے بعد پورا منظرنامہ تبدیل ہو جاتا ہے۔ ’حوالہ الطاف حسین قریشی کی کتاب ملاقاتیں کیا کیا۔‘
منصفین جب کسی مصلحت کا شکار ہوتے ہیں تو پھر وہ اپنے فرائض کماحقہ سرانجام نہیں دے سکتے۔ انسان فطری طور پر لالچی ہوتا ہے دوران ملازمت یا ملازمت کے بعد اعلیٰ پوسٹ پر تعنیاتی بھی ذہن کے کسی گوشے میں اٹکی ہوتی ہے۔
جسٹس منیر جب ایوب خان کے وزیر قانون بنے وہی جسٹس منیر جنھوں نے بطور چیف جسٹس نظریہ ضرورت ایجاد کیا اور ایوب خان کے مارشل لاء کے حق میں فیصلہ سنایا۔ ایوب خاں نے اپنا شخصی آئین نافذ کرنے کا فیصلہ کیا تو اس نے جسٹس منیر سے اس کی آئین میں بنیاد اور جواز کے متعلق پوچھا تو اس پر جسٹس منیر نے کہا یہ تو کوئی مسئلہ نہیں ہے آپ موچی گیٹ لاہور میں ایک جلسہ کریں پھر اسی طرح قصہ خوانی بازار پشاور اور ایک جلسہ پلٹن میدان ڈھاکہ میں کریں اور شرکاء سے ہاتھ کھڑا کروا کر اس آئین کی منظوری لے لیں اور کہا جا سکے گا کہ عوامی ریفرنڈم نے اس آئین کی توثیق کر دی ہے۔ کہا جاتا ہے کہ ایوب خاں جیسا ڈکٹیٹر بھی اس تجویز پر زوردار قہقہہ بلند کئے بغیر نہ رہ سکا۔ یہ وہ ذہنیت تھی جس سے نظریہ ضرورت نے جنم لیا اور آئینی جادوگر شریف الدین پیرزادہ نے ضیاء الحق سے لے کر پرویز مشرف کو آئین میں ترامیم کا حق سپریم کورٹ سے دلوایا۔ ممتاز قانون دان حامد خان اپنی کتاب ‘A history of judiciary in Pakistan‘ میں لکھتے ہیں کہ پاکستانی عدلیہ کی تاریخ میں منصفین کس طرح استعمال ہوتے رہے۔
مصنف نے بھٹو قتل کیس کے بارے میں پس پردہ محرکات بےنقاب کیے ہیں کہ کس طرح عدلیہ پر دباؤ ڈال کر اسے مفلوج کیا گیا۔ جسٹس انوار الحق اور جسٹس مولوی مشتاق نے دباؤ قبول کیا۔ جسٹس سجاد علی شاہ نے سینئیر ججوں کی حق تلفی کرتے ہوئے چیف جسٹس بننے کے لیے آصف زرداری کی کار کا دروازہ کھولا اور اس کے گھٹنوں کو چھوا۔ چیف جسٹس ارشاد حسن خان نے نہ صرف جنرل مشرف کے مارشل لاء کو جائز قرار دیا بلکہ اسے آئین میں ترمیم کا اختیار بھی دے دیا۔
یہ وہ منصف تھے جو فیصلے پوچھ کر کرتے تھے۔ جسٹس شوکت صدیقی نے عدلیہ میں مداخلت کا ذکر کیا تو انھیں مقام عبرت بنا دیا گیا۔ جسٹس فائز عیسی کا انجام بھی شوکت صدیقی سے مختلف نہیں ہو گا۔ جو جج آئین اور قانون کی بات کرتے ہیں انھیں یا تو تبدیل کر دیا جاتا یا پھر انجام بنا دیا جاتا ہے۔
آئین اور قانون کے مطابق بلاتفریق عدل و انصاف جس معاشرے میں ہو رہا ہو اس معاشرے میں صحت مندانہ سرگرمیاں پنپتی ہیں۔ ہم ماضی کی گئی غلطیوں سے سبق حاصل کریں اور ہر ادارہ اپنی حدود و قیود میں رہ کر اپنے فرائض انجام دے تو ہمارا ملک ترقی کی اوج ثریا پر پہنچ سکتا ہے۔

مصر میں مرسی کا مقدمہ گوانتانامو بے میں بننے والے مقدمات سے کسی طور مختلف نہیں۔ وہاں پر بھی عملاً سزا یافتہ ملزمان پر خود ساختہ مقدمات بنا کر انصاف کی پیچیدہ ضرورتوں کو پورا کیے بغیر سیدھے سادے فیصلے صادر کیے جاتے رہے۔ تمام تر بحث کے باوجود امریکیوں نے انصاف کی اس مقتل گاہ کو کسی نہ کسی قانونی حیثیت میں قبول ضرور کیا۔

قانون کی طاقتور ہاتھوں کے ذریعے درگت ہمیشہ سے ایسے ہی بنتی چلی آ رہی ہے۔ آپ کو برطانوی راج میں آخری مغل شہنشاہ بہادر شاہ ظفر کا دلی میں مقدمہ تو یاد ہوگا۔ جس میں ہندوستان کے اس اصل وارث کو ”سابق بادشاہ“ کے طور پر کٹہرے میں کھڑا کر کے ذلیل کیا گیا۔ اور پھر سزا سنا کر رنگون میں جلا وطن کر دیا گیا جہاں پر وہ کسمپرسی کی حالت میں اپنی آل اولاد جس کے کٹے ہوئے سر اس کے سامنے رکھے گئے تھے یاد کرتے ہوئے دنیا سے رخصت ہوگیا۔

بہادر شاہ ظفر کے جنازے میں بھی اتنے ہی لوگ شریک تھے جتنے ذولفقار علی بھٹو اور محمد مرسی کی آخری رسومات میں۔ کہنے کو مصر، دہلی، اسلام آباد اور لاہور میں عدالتیں بھی لگیں تھیں۔ گواہان بھی پیش ہوئے تھے۔ دستاویزات کے انبار اور منصفین کی قانونی ادائیں تمام تر حجم اور آرائش کے ساتھ سب کے سامنے موجود تھیں۔ لیکن انصاف کے ساتھ ساتھ سازش بھی جاری تھی۔ عدالت بھی تھی اور مقتل گاہ بھی۔ منصف بھی وہیں تھے جو جلاد تھے۔

تاریخ کا یہ رخ اپنی تمام تر بد صورتی کے ساتھ ہم جیسے ان ممالک میں ابھی بھی موجود ہے جنہوں نے تاریخ سے نہ سیکھنے کا ایک غیر متزلزل ارادہ کیا ہوا ہے۔ قانون کو ظاہری وضع قطع، کھوکھلی فصاحت اور بے عمل دانش مندی تک محدود کر کے وقتی جبر کے سامنے سر نگوں کرنے والے یہ نظام بظاہر انصاف مہیا کرنے پر ڈٹے ہوئے ہیں۔ مگر حقیقت میں یہ ایک سوانگ ہے جو ہر اہم موڑ پر اپنا ستر کھو دیتا ہے اور پھر شرمندہ ہونے کے بجائے عینی شاہدین کی آنکھیں پھوڑنے پر جُت جاتا ہے۔ حقیقی انصاف کی قدر و منزلت منصف کے اپنے ادا کیے ہوئے الفاظ نہیں بناتے۔ نہ ہی مستعار لی شاعری اور خوب صورت نثر انصاف کی کشش کی بنیاد ہے۔ جن ممالک میں انصاف ہوتا ہے وہاں کے ہر کوچے کی وہ کیفیت نہیں ہوتی جس کا ذکر ہمارے چیف جسٹس نے اپنے اس بیان میں کیا کہ اچھی خبر ڈھونڈنے سے نہیں ملتی۔ جہان انصاف کے ترازو ٹیڑھے ہوں وہاں قسمت کیسے سیدھی ہو سکتی ہے؟

عدالتوں کی تباہی، ریاستوں کی تباہی
محمد رضا الصمد جمعرات 1 اکتوبر 2020
شیئرٹویٹشیئرای میلتبصرے
مزید شیئر
مزید اردو خبریں
جس سرزمیں پر انصاف قائم نہ رہے، وہاں یا تو عدالتیں ختم ہوجاتی ہیں یا پھر ریاستیں۔ (فوٹو: انٹرنیٹ)
جس سرزمیں پر انصاف قائم نہ رہے، وہاں یا تو عدالتیں ختم ہوجاتی ہیں یا پھر ریاستیں۔ (فوٹو: انٹرنیٹ)

گزشتہ چند صدیوں میں جب بھی قوموں پر، خصوصاً مسلمانوں پر زوال آیا، ان سب میں دو چیزیں مشترک تھیں۔ پہلی، حکمرانوں کی آپسی لڑائی اور دوسری، انصاف کی عدم دستیابی۔ آج وطن عزیز ان دونوں معاملات میں خود کفیل ہے۔

مسلمانوں نے جو بھی ریاست قائم کی، عدل و انصاف اس کا بنیادی جز تھا۔ آٹھویں صدی عیسوی میں جب مسلمانوں نے سمرقند (ازبکستان) کو فتح کرلیا اور وہاں اسلامی حکومت قائم کی، تو عیسائی پادری نے اسلامی عدالت میں دعویٰ کیا کہ مسلم فوج نے اسلامی جنگی اصولوں سے ہٹ کر سمرقند کو فتح کیا ہے۔ جب مسلم سپہ سالار قتیبہ بن مسلم سے عدالت نے دریافت کیا تو اس نے قاضی (جج) کے سامنے اس بات کا اعتراف کرلیا کہ پادری سچ کہہ رہا ہے۔ نتیجتاً قاضی نے تمام مسلمان خاندانوں اور فوجیوں کو سمرقند سے باہر نکال کر سمرقند کو واپس عیسائیوں کے حوالے کرنے کا حکم جاری کردیا اور مسلمانوں نے اس فیصلے پر سرِ تسلیم خم کیا۔

اسی صدی میں اسلامی فوج مغرب میں اندلس (اسپین) پر حملے کررہی تھی، مگر ہر بار شکست کا سامنا کرنا پڑ رہا تھا۔ دوسری طرف مسلمانوں کا عدل، اندلس میں شہرت حاصل کرتا جارہا تھا۔ کاؤنٹ جولین نے، جو کہ خود اندلسی شہر سبتہ (Ceuta) کا مسیحی حکمران تھا اور مسلمانوں کو دو جنگوں میں شکست فاش دے چکا تھا، یورپ کے دیگر حکمرانوں کی عیاشیوں اور ظلم سے تنگ آکر، خود مسلمانوں کے سپہ سالار موسیٰ بن نصیر کو اسپین پر حملہ کی دعوت دے دی، اور بحری جہاز بھی فراہم کیے۔ یوں طارق بن زیاد کی قیادت میں اندلس میں اسلامی حکومت قائم ہوئی۔
اسی صدی میں محمدبن قاسم نے سندھ (ہندوستان) میں راجہ داہر کی حکومت کو ختم کرکے عدل و انصاف پر مبنی اسلامی حکومت قائم کی۔ جس کے بعد یہاں کے مقامی ہندو قاسم کو بھگوان کا اوتار ماننے لگے اور اس کی پوجا شروع کردی۔ ہندوستانی مغلیہ سلطنت میں گو کہ چند مشہور عاشق مزاج بادشاہ گزرے ہیں مگر ان کے یہاں بھی ’’عدل جہانگیری‘‘ نظر آتا تھا۔ مشہور واقعہ ہے نورجہاں نے ایک بدنگاہ دھوبی کو گولی مار کر قتل کردیا۔ جب معاملہ بادشاہ کی عدالت میں پیش ہوا تو ملکہ پر قتل ثابت ہوگیا۔ جہانگیر نے فیصلہ دیا ”نورجہاں کو پھانسی پر لٹکا دیا جائے“۔ جلاد نورجہاں کو مقتل میں لے گئے مگر دھوبن نے شوہر کا قصاص لے کر ملکہ کو معاف کردیا۔

سلطنت عثمانیہ میں شیخ الاسلام (چیف جسٹس) ہر کام اسلامی قوانین کے مطابق سرانجام دیتا تھا اور اپنے عدالتی فیصلوں پر صرف خدا کو جوابدہ تھا۔ جبکہ باقی تمام افسران سلطان کے سامنے جوابدہ تھے۔ سلطنت کی دھاک ایسی تھی کہ اس کے قوانین اور عدل سے، تھومس جیفرسن (تیسرا امریکی صدر) بھی متاثر تھا۔ یہاں تک کہ جیفرسن نے 1765 میں اپنا ذاتی قرآن پاک لیا، جس سے اسلامی قوانین کو سمجھ کر امریکی قانون سازی میں اسے بہت مدد ملی۔ گو کہ مسلمانوں نے جہاں بھی ریاست قائم کی، عدل و انصاف اس کا بنیادی جز تھا۔ یہ تمام مسلماں حکمران کوئی صحابی (رسول اللہ کے دوست) نہ تھے بلکہ محض آج کے انسانوں جیسے عام انسان تھے۔
عدالتوں کی تباہی، ریاستوں کی تباہی ہے

بغداد پر مسلمانوں نے تقریباً 600 سال حکومت کی، جس کا اختتام سقوط بغداد پر ہوا۔ اندلس پر 780 سالہ حکومت کا مکمل خاتمہ سقوط غرناطہ پر ہوا۔ بنگال پر مسلمانوں کی 550 سال حکومت رہی، مغلوں نے ہندوستان پر تقریباً 300 سال حکومت کی۔ عثمانیوں نے ایشیائے کوچک اور جنوب مشرقی یورپ پر تقریباً 600 سال حکومت کی۔

ریاستیں نہ ایک دن میں بنتی ہیں نہ ہی ایک دن میں ختم ہوتی ہیں۔ بغداد کا عدالتی نظام 10 ویں صدی سے بتدریج گراوٹ کا شکار ہوا۔ جب ریاستی اور عدالتی عملہ مال دولت اور عہدوں کی لالچ میں لگ گیا۔ اندلس میں جب مسلمانوں نے یہودیوں اور عیسائیوں کی حق تلفی شروع کی تو زمام اقتدار مسلمانوں پر تنگ ہونا شروع ہوگئی۔ یہاں تک کہ قانون بن گیا کہ کسی عیسائی کا گھر مسلمان کے گھر سے اونچا نہ ہو۔

ہندوستان میں انگریزوں نے اپنا تسلط طاقت کی بنیاد پر مسلط کیا، مگر اسے قائم انتظامی طاقت اور درست عدالتی نظام کے ذریعے رکھا۔ یہاں تک کے انگریزوں کے چلے جانے کے باوجود آج بھی برصغیر میں ان ہی کا ٹوٹا پھوٹا نظام چل رہا ہے۔ یہ انصاف کی عدم دستیابی ہی ہے کہ سابق مشرقی پاکستان (بنگلادیش) اور مغربی پاکستان نے ایک ہی نظریے کے تحت 42 سال تک ایک ساتھ ایک ہی حریف سے نظریاتی جنگ لڑی اور جانیں قربان کیں، مگر آزادی کے صرف 24 سال بعد ان دونوں کے راستے جدا ہوگئے۔

آج وطن عزیز میں انصاف کی حالت یہ ہے کہ ساہیوال میں پوری فیملی پولیس کے ہاتھوں قتل کردی جاتی ہے، جس کا ویڈیو ثبوت بھی موجود ہوتا ہے اور گواہ بھی۔ مگر پھر بھی عدالت سزا نہیں دے پاتی۔ ماڈل ٹاؤن میں شہریوں کو پولیس کے ہاتھوں قتل ہوتے براہ راست دیکھا جاتا ہے مگر کسی کو انصاف نہیں ملتا۔ لاہور موٹروے پر زیادتی ہوتی ہے تو حکومت اس سیاست میں لگ جاتی ہے کہ جب مجرم پکڑ میں آئے گا تو کون سی سزا دیں گے (جبکہ سب سزائیں پہلے سے قانون میں لکھی ہیں)۔ کوئٹہ سارجنٹ قتل کیس میں ویڈیو ثبوت ہونے کے باوجود مجرم کو چھوڑ دیا جاتا ہے۔ کہیں کہیں تو حکومت خود مجرم کو فرار کرواتی ہے اور پھر عدالت پر الزام ڈالتی ہے (نواز شریف کیس)، جبکہ دوسری طرف جب کسی طاقتور پر یا منصف پر کیس بنتا ہے تو فوراً انصاف ہو نہ ہو مگر فیصلہ ضرور ہوجاتا ہے۔

جس سرزمیں پر انصاف قائم نہ رہے، وہاں یا تو عدالتیں ختم ہوجاتی ہیں یا پھر ریاستیں۔ زمین اللہ کا باغ ہے، باغ میں گند ڈالنے والوں کو خدا پسند نہیں کرتا۔ یہ دنیا اللہ نے انسانیت کو معاشرتی سطح پر ذلیل کرنے کےلیے ہرگز نہیں بنائی۔ ریاستیں نظام کی سربلندی اور عدل و انصاف کی بقا کےلیے ہی وجود میں آتی ہیں۔ وطن میں اکثر بااختیار شہری ہی بےاختیار شہری کو کچلنے میں لگا ہے۔ آج! عراق، اسپین، بنگلادیش، ہندوستان، ترکی سب جگہ انسان موجود ہیں اور مسلمان بھی… مگر آج وہ سب ریاستیں ختم ہوچکی ہیں جو کبھی اس حسین دنیا پر بدنما داغ بن چکی تھیں۔

گزشتہ کچھ دہائیوں سے وطن عزیز میں انتظامی و عدالتی نظام جس تیزی سے گراوٹ کا شکار ہے، یہ وقت انہی زمانوں جیسا معلوم ہوتا ہے جو آخری وقتوں میں بغداد اور اندلس میں مسلمانوں کا ہوگیا تھا۔ ایسی صورتحال میں جب ریاست میں انصاف ناپید ہوجائے، تو آسمانوں سے انصاف نازل ہوتا ہے۔

!آج پاکستان میں ہر فساد کی جڑ یہ ہے کہ یہاں عدالتی نظام 1860 ءکا وہ نو آبادیاتی نظام ہے کہ جو اس وقت کے حاکم انگریزوں نے مقامی لوگوں کو غلام رکھنے کیلئے بنایا تھا۔

انگریزوں کا بنایا ہوا پونے دو سو سال پرانا انگلیو سیکسن عدالتی نظام اور قوانین ظلم اور استبداد کی وہ بدترین مثال ہیں کہ جس کی سفاکی اور غلاظت کی کوئی انتہائی نہیں ہے۔یہ نظام عدل کیلئے نہیں، جبر کیلئے بنایا گیا تھا۔انگریزوں کے بنائے ہوئے اس سفاکانہ عدالتی نظام کی بنیاد وکالت کے پیشے پر ہے۔ جب ایک پیشہ ہی ایسا بنایا دیا جائے کہ جس کا ذریعہ آمدن جھوٹ بول کر مقدمات کو طول دینے میں ہو، تو انصاف کا جنازہ تو یہیں نکل جاتا ہے۔اس نظام کی بنیاد ایسے رکھی گئی ہے کہ جج، وکیلوں کے دلائل اور شہادتوں کی بنیاد پر ہی فیصلے کرتا ہے۔ جج بذات خود تحقیق نہیں کرسکتا، بلکہ جھوٹی گواہیوں اور وکیلوں کے پیچیدہ دلائل کو بنیاد بنا کر فیصلہ کرنے پر مجبور ہوتا ہے۔ عدل کے بجائے قانونی پیچیدگیوں پر زور ہوتا ہے۔ ظلم و استبداد کا یہ نو آبادیاتی عدالتی نظام نہ صرف کفر ہے بلکہ پاکستان کے پورے معاشی نظام کو درہم برہم کرنے کا بھی ذمہ دار۔

چاہے وراثت کا مقدمہ ہو یا قتل کا، زمین کا تنازعہ ہو یا ملک و قوم کے خلاف غداری کا، انصاف کئی کئی برس بعد بھی نہیں ملتا۔قاتل، ڈاکو اور راہزن قیمتی سے قیمتی وکیل کرکے، قانونی پیچیدگیوں کو استعمال کرتے ہوئے، اپنے مقدمات کو سیشن کورٹ، ہائی کورٹ اور پھر سپریم کورٹ میں برسوں گھسیٹ کر سزا سے بچ جاتے ہیں۔ غریب آدمی تو صرف تھک کر ہی ترستا رہ جاتا ہے۔سب سے کم تجربہ کار اور اکثر نا اہل ترین جج سیشن کورٹ میں لگائے جاتے ہیں۔ پھر ان کی اپیلیں برسوں ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ میں چلتی ہیں۔ مقدمے کی نکل نکلوانے کیلئے بھی عدالتی عملہ پیسے لیتا ہے۔ پورے کا پورا نظام ہی فرعونیت اور ظلم و استبداد پر مبنی ہے۔

پاکستان میں گو کہ ہر نظام ہی گلا سڑا اور بوسیدہ ہے، مگر ان سب میں عدالتی نظام سب سے زیادہ غلیظ اور کینسر شدہ ہے۔ شریف انسان تو عدالت کا نام سن کر خوف میں مبتلا ہوجاتا ہے، کہ یہاں عدالت ظلم و استبداد کا دور دورہ ہے۔ اسلام تو دور کی بات، یہاں تو عام درجے کی انسانیت بھی نصیب نہیں ہے۔یہ بات بالکل واضح ہے کہ پاکستان ”پرانا“ ہو یا ”نیا“۔۔۔ اگر یہی عدالتی نظام چلتا رہا تو ملک میں ظلم و استبداد اور کفر ہمیشہ قائم رہے گا۔ نہ عدل ہوگا، نہ انصاف فوری ہوگا، نہ مفت ہوگا، نہ گھر کی دہلیز پر ہوگا، اور پورا معاشرہ فساد میں مبتلا رہے گا۔ تحریک ”انصاف“ بھی تحریک ”ظلم“ ہی رہے گی!!!

اسلامی عدالتی نظام کی بنیاد عدل پر ہے۔ انصاف فوری ہوتا ہے، ہوتا ہوا نظر آتا ہے، قاضی خود تحقیق و تفتیش کرتا ہے، انصاف مفت ہوتا ہے اور اس میں وکیلوں کے جھوٹ اور ان کی بھاری فیسوں کی کوئی گنجائش سرے سے ہے ہی نہیں!یہ انتہائی انقلابی عدالتی نظام ہے!

ہماری پوری اسلامی تاریخ میں ہمیں یہ لاکھوں مثالیں ملتی ہیں کہ قتل جیسے مقدموں کے فیصلے بھی ایک ایک گھنٹے میں کیے گیے ہیں، مجرموں کو فوری سزا دی جاتی ہے، عدل مفت ہوتا ہے، سائل عدالت میں آکر خود کو محفوظ تصور کرتا ہے، وکیلوں کا کوئی وجود نہیں ہوتا۔

کیوں آج ہم پاکستان میں اسلامی شرعی عدالتی نظام قائم نہیں کرسکتے؟اسلامی شرعی عدالت میں نہ قاتلوں اور ڈاکوؤں میں بھاری فیس لیکر وکیل بچا سکتے ہیں، نہ قانونی پیچیدگیاں عدل و انصاف کی راہ میں حائل ہوسکتی ہیں۔ اگر قتل کیا ہے تو یا قصاص ہوگا یا معافی یا سولی!نہ کوئی اپیل، نہ کوئی تاخیر!

پاکستانی قانون میں صدر پاکستان کو قاتل کی سزا معاف کرنے کا اختیار حاصل ہے۔ یہ قطعاً حرام اور غیر شرعی عمل ہے۔ قاتل کو معاف کرنے کا حق صرف مقتول کے ورثاءکو ہوسکتا ہے۔اگر انصاف حاصل کرنے کیلئے لاکھوں روپے خرچ کرنے پڑیں، سالوں انتظار کرنا پڑے، تو یہ نظام کفر اور ظلم کا کہلائے گا۔آج بھی پاکستان میں کئی طرح کی عدالتیں چل رہی ہیں۔ انگریزی عدالتیں بھی ہیں، فوجی عدالتیں بھی ہیں، شرعی عدالت کے نام پر ایک مذاق بھی ہے، جرگے بھی ہیں۔۔۔ تو پھر کیا حرج ہے کہ ریاست اصلی اسلامی شرعی عدالتیں بنا کر اپنی نگرانی میں لوگوں کو انصاف فراہم کرے؟

ایک مرتبہ کرکے تو دیکھیں۔ جب قاتل پکڑا جاتا ہے، ثبوت موجود ہیں، خود اقرار کررہا ہے، گواہ موجود ہیں، تو پھر قتل کے مقدمے کا فیصلہ 15 منٹ میں کیوں نہیں کیا جاسکتا؟کیا ضروری ہے کہ انصاف کیلئے، سیشن کورٹ، ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ کے بیس سال کے سفر کو لاکھوں روپے دے کر طے کیا جائے؟

ہمیں پاکستان میں ہر حال میں قصاص کو نافذ کرنا ہے۔ہر حال میں چور کے ہاتھ کاٹنے ہیں۔ہر حال میں ڈاکو کو سولی چڑھانا ہے۔ہر حال میں وراثت کو فوری تقسیم کرنا ہے۔ہر حال میں انصاف کو مفت، فوری اور گھر کی دہلیز تک پہنچانا ہے۔پاکستان میں 90 فیصد مقدمات بہت آسانی سے چند گھنٹوں یا چند دنوں میں شرعی عدالتوں میں نبٹائے جاسکتے ہیں۔

صرف حکومتی، معاشی یا کاروباری مقدمات کچھ ایسے ہونگے کہ جن کیلئے بین الاقوامی قوانین کی پابندی مجبوری ہو۔ ورنہ معاشرے میں عدل قائم کرنے کیلئے انصاف مفت اور فوری کرنا ہوگا۔

اگر تحریک انصاف کی حکومت یہ جرا ¿ت نہیں کرسکتی، تو پھر ”انصاف“ اور ”تبدیلی“ کا ڈرامہ بند کرے، اور کھل کر کہے کہ ہم بھی انگریزوں کے نظام کو جاری رکھنے کیلئے ہی آئے ہیں۔ملک میں جو لاکھوں وکیل ہیں، بدقسمتی سے شریعت اور انصاف کی راہ میں یہی سب سے بڑی رکاوٹ ہیں۔یہ بات بالکل طے ہے کہ ہمیں معاشرے میں اگر عدل و انصاف کو نافذ کرنا ہے تو اس کیلئے پورے عدالتی نظام میں فوری طورپر ہماری بتائی ہوئی انقلابی تبدیلیاں لانی ہونگی۔ پہلی عدالت میں ہی قابل ترین قاضی لگا کر محکم فیصلے کرنے ہونگے کہ جو فوری اور مفت انصاف یقینی بنائیں۔

اس بات پر غور کریں کہ اسلامی عدالتی نظام میں جیلوں کا تصور نہیں ہے۔ یا مجرم کو سزا دی جاتی ہے، یا دیت لی جاتی ہے، یا معاف کردیا جاتا ہے۔ مگر جیلوں میں رکھ کر سڑانے کا کوئی حکم نہیں ہے۔ذرا سوچیں کہ اگر شریعت نافذ ہوجائے تو ملک کی جیلیں خالی ہوجائیں گی۔۔۔

کسی بھی ملک، ریاست کے بنیادی ستونوں میں اہم ترین ستون انصاف کا ہے۔ اسلام بھی دنیا میں عدل و انصاف کی بنیاد پر پوری دنیا میں پھیلا جسے خود پیارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حجہ الوداع کے موقع پر فرمایا کسی کالے کو گورے پر کسی عربی کو عجمی پر کوئی فوقیت حاصل نہیں۔ اللہ پاک کے ہاں فوقیت صرف تقویٰ کی بنیاد پر ہے۔

نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زندگی کا اہم واقع بھی اسی طرف اشارہ کرتا ہے .”ایک فاطمہ نامی عورت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت اقدس میں پیش کی جاتی ہے جس نے چور کی ہوتی ہے تو اس کے لیے بہت سفارشیں آتی ہیں کہ اس کا تعلق اچھے خاندان سے ہے ان کو معاف کر دیا جاۓ اور اس کا ہاتھ نہ کاٹا جاۓ لیکن اللہ کے نبی صل اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس کی جگہ میری بیٹی فاطمہ بھی ہوتی تو میں اس کے ہاتھ بھی کاٹ دیتا اور فرمایا زمانہ جاہلیت میں بھی لوگ اس طرح کرتے تھے کہ امیر کو چھوڑ دیتے اور غریب کو سزا دیا کرتے تھے”

اس وقت پاکستان میں عدالتی اصلاحات نا گزیر ہو چکی ہیں۔ ہمارے معاشرہ میں امیر اور غریب کے لئے الگ الگ قانون ہے۔ اول تو غریب اور کمزور کو انصاف ملتا ہی نہیں اور اگر مل جاۓ تو اس میں اتنی تاخیر ہوتی ہے کہ مظلوم عدالتوں کی خاک چھانتے دنیا ہی چھوڑ جاتا ہے. غریب بیچارہ بے قصور بھی ہو تو کئی کئی سالوں تک عدالتوں کے دھکے کھاتا ہے اور اس کا کوئی پرسان حال نہیں ہوتا اور طاقتور اربوں روپے لوٹنے کے باوجود دے دلا کے چند ہی دنوں میں بری ہو جاتا ہے۔

ایک طرف غریب روٹی یا چپل چوری کرتے پکڑا جاۓ تو ساری عمر جیل میں چکی پیستا ھے اور دوسری طرف لیاری گینگ وار کے عزیر بلوچ اور دن دھاڑے ٹریفک وارڈن کو کچلنے والے رکن بلوچستان اسمبلی مجید اچکزئی جیسے لوگ انہی عدالتوں سے نا کافی ثبوتوں کی بنیاد پر رہا ہو جاتے ہیں..

کوئی بھی معاشرہ انصاف کے بغیر زندہ نہیں رہ سکتا کیوں کے کفر کا نظام تو چل سکتا ہے پر ظلم کا نہیں۔ یاد رکھیں جہاں انصاف نہ ہو وہاں کبھی امن نہیں ہوتا اور غربت خیرات سے نہیں انصاف سے ختم ہوتی ہے۔اللّه پاک بھی انصاف کرنے والوں کو پسند کرتا ہے۔ یہ بات یاد رکھیں کہ اللّه کی عدالت میں صرف انصاف ہوتا ہے اور ظالم پر رحم کرنا مظلوم پر ظلم کرنے جیسا ہے۔ قدرت کا یہ قانون ہے جیسا کرو گے ویسا بھرو گے یہی مکافات عمل ہے۔

آزاد اور خود مختار عدالتیں ہی حق اور سچ پر مبنی فیصلہ دے سکتی ہیں۔ آج پاکستانی عدالتوں میں قریب 21 لاکھ سے زائد مقدمات انصاف کے منتظر ہیں- اس پرانے اور فرسودہ نظام کو اب بدلنے کا وقت ہے۔ ‏عدالتی اصلاحات وقت کی اہم ضرورت ہیں۔ موجودہ حکومت کے چند وعدوں میں سے ایک وعدہ عدالتی نظام میں اصلاحات اور تبدیلیاں تھی جو اب تک پورا نہیں ہو سکا۔

حکومت کو تمام متعلقہ اداروں اور حکام کے ساتھ مل کر عدالتوں میں پڑے تمام زیر التوا مقدمات کے جلد از جلد فیصلوں کے حوالے سے اقدامات اٹھانے چاہئے تا کہ سب لوگوں کو فوری اور بروقت انصاف مل سکے۔ اس کے ساتھ ساتھ جھوٹے مقدمات اور جھوٹی شہادتوں کو روکا جانا چاہئے اور مقدمات کے غیر ضروری التواء کے ذمہ دار ججز اور وکلاء کے خلاف عملی کروائی ہونی چاہئے۔ پارلیمنٹ کو عدالتی اصلاحات پر توجہ دینی چاہئیے۔

اللّه تبارک و تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتے ہیں:

{إِنَّ اللّٰہَ یُحِبُّ الْمُقْسِطِیْنَ o} [المائدہ:۴۲]
” بے شک اللہ انصاف کرنے والوں کو پسند کرتا ہے۔ ”

إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ الْمُقْسِطِينَ
(الحجرات 9)
“اللہ قسط سے انصاف کرنے والوں سے محبت کرتا ہے.”

(حدیث قدسی ، مسلم : 2577 )
اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کا ارشاد ہے :
” مظلوم کی بد دعا سے بچو ، اس لیے کہ اس کے اور اللہ کے درمیان کوئی حجاب نہیں ہوتا _” (بخاری : 1469 ، مسلم : 19)

حضور صلی اللہ علیہ وسلم بیماری کی حالت میں تشریف لاتے ہیں اور ارشاد فرماتے ہیں:

”اے لوگو! اگر میں نے کسی کی پیٹھ پر کبھی درّہ مارا ہے تو یہ میری پیٹھ حاضر ہے، وہ مجھ سے بدلہ لے سکتا ہے۔ اگر میں نے کسی کو برابھلا کہا تو یہ میری آبرو حاضر ہے، وہ اس سے انتقام لے سکتا ہے۔ اگر میں نے کسی کا مال چھینا ہے تو میرا مال حاضر ہے، وہ اس سے اپنا حق لے سکتا ہے اور تم میں سے کوئی یہ اندیشہ نہ کرے کہ اگر کسی نے انتقام لیا تو میں اس سے ناراض ہوں گا، یہ بات میری شان کے لائق نہیں۔”

ایک بین الاقوامی رپورٹ کے مطابق اس پاکستان کی عدلیہ کا انصاف فراہم کرنے میں 126واں نمبر ہے جبکہ پاکستان کی عدلیہ کو جو مراعات دی جا رہی ہیں وہ دسویں نمبر پر ہیں۔یہاں سوال تو اٹھتا ہے کہ ایک ریاست جس کا نام ہی اسلامی جمہوریہ پاکستان ہو جس کا نعرہ ہو پاکستان کا مطلب کیا لا ا لہ اللہ اس ریاست میں تو انصاف کی فراہمی پہلے نمبر پر ہونی چاہئے لیکن افسوس کہ ایسا نہ ہو سکا اور انصاف کی فراہمی کے نام پہ ساری دنیا میں ہماری عدالتوں کی جگ ہنسائی ہو رہی ہے ۔آخر ایسا کیوں ہے اور اس کا ذمہ دار کون ہے اس کا اب تعین کرنا ہو گا اور یہ خرابی کس نے دورکرنی ہے۔علی احمد کرد کی عدلیہ پر تنقید کو مثبت طور پر دیکھتے ہوئے یہ فیصلہ کرنا ہو گا کہ ماضی کو دفن کر کے ہم آگے کیسے بڑھ سکتے ہیں ۔یقینا اگر عدلیہ طے کر لے کہ اس نے اب انصاف کی فراہمی میں پہلے نمبر پر آنا ہے تو اسے کون روک سکتا ہے عدلیہ کے پاس اختیارات کی تو کوئی کمی نہیں بس آنے والے ہر مبینہ دبائو کو مسترد کرنا ہو گا نظریہ ضرورت کے نام کو دفن کرنا ہو گا ۔لیکن ایسے میں تمام اداروں اور حکومت کو بھی اپنا کام کرنا ہو گا کہ اگر عدلیہ انصاف فراہم کرنا چاہے تو اسے نہ کوئی چٹ بھیجی جائے اور نہ نوکری سے گھر بھیجنے کا دبائو ڈالا جائے۔
ماضی کا جائزہ لیا جائے تو نظریہ ضرورت ایک ایسا لفط تھا جو ہماری عدلیہ میں ایجاد ہوا اور پھر اس سے بہت سے لوگوں نے فائدہ اٹھایا۔اس کی تاریخ یہ ہے کہ فیڈریشن آف پاکستان بمقابلہ مولوی تمیز الدین خان (1955) ڈومینین آف پاکستان کا ایک عدالتی مقدمہ ہے۔ پاکستان کی وفاقی عدالت (اب سپریم کورٹ آف پاکستان) نے پاکستان کی پہلی آئین ساز اسمبلی کو برطرف کرنے کے گورنر جنرل آف پاکستان کے حق میں فیصلہ دیا۔ اس برطرفی کو اسمبلی کے صدر مولوی تمیز الدین خان نے قانونی طور پر چیلنج کیا تھا۔ ایک اختلافی رائے کے علاوہ، عدالت کی اکثریت نے نظریہ ضرورت کی بنیاد پر برطرفی کی حمایت کی۔ اس فیصلے کو جمہوری اصولوں کے لیے ایک دھچکا سمجھا جاتا تھا، جس کے اثرات آج تک موجود ہیں ۔1954 میں جب گورنر جنرل غلام محمد نے پاکستان کی آئین ساز اسمبلی کو تحلیل کر کے وزیر اعظم خواجہ ناظم الدین کو برطرف کر دیا جبکہ انھیں آئین ساز اسمبلی کا اعتماد حاصل تھا۔ آئین ساز اسمبلی کے صدر اور مشرقی بنگال کے نمائندے مولوی تمیز الدین خان نے گورنر جنرل کے اقدامات کو سندھ ہائی کورٹ میں چیلنج کیا۔ لیکن وفاقی عدالت کے فیصلے نے پاکستان کی پارلیمانی بالادستی کو ختم کر دیا اس فیصلے نے مستقبل کی عدلیہ کے لیے فوجی بغاوتوں جیسے غیر آئینی اور غیر جمہوری اقدامات کی حمایت کرنے کی راہ ہموار کی۔
کچھ تاریخی ناانصافیوں کے ازالے کی ضرورت آج موجود ہے ۔ مکافات عمل دیکھئے کہ آج جومسلم لیگ ن اداروں پر دخل اندازی کا الزام لگا رہی ہے وہ ماضی میں کیا کرتی رہی ہے ۔ابھی ماضی قریب کی ہی بات ہے کہ اصغر خان مرحوم نے ریٹائرڈ جنرل نصیر اللہ بابر کے ان الزامات کی بنیاد پر انسانی حقوق کی پٹیشن دائر کی تھی جس میں کہا گیا تھا کہ آئی ایس آئی نے 1990 کے عام انتخابات میں آئی جے آئی کے لئے ہیرا پھیری کے لیے بعض سیاستدانوں کی وفاداریاں خریدی تھیں۔ ان الزامات کی تصدیق سابق ڈی جی آئی ایس آئی ریٹائرڈ جنرل اسد درانی نے عدالت عظمیٰ میں بیان حلفی میں کی۔
اس میں اس نے انھوں نے اس معاملے میں اپنے کردار کا اعتراف بھی کیا۔ اس چونکا دینے والے انکشاف کے باوجود، یہ مقدمہ 2012 تک لٹکتا رہا جب سپریم کورٹ نے ایک تاریخی فیصلہ سنایا جس میں سیاسی اور ادارہ جاتی منظر نامے کو جمہوری خطوط پر دوبارہ ترتیب دینے کی صلاحیت تھی۔ اس کے باوجود ابھی تک کوئی احتساب نہیں ہوا، نہ تو ان لوگوں کا جنہوں نے سلش فنڈ کا انتظام کیا اور نہ ہی اس کے وصول کنندگان کا۔ انتہائی احتساب کے دور میں، اس محاذ پر بھی خاموشی پہرا کر رہی ہے۔
قارئین کرام : ہم اگر آج جمھوری حکومتوں کے دور میں ہونے والی عدلیہ کے خلاف سازشوں کا ذکر کر رہے ہیں مارشل لاء دور کو تو چھوڑ ہی دیں جس میں بھٹو کیس کا فیصلہ بھی ہوا جس بارے میں بعد ازاں سابق چیف جسٹس سید نسیم حسن شاہ نے اعتراف بھی کیا کہ بہت کچھ غلط ہوا تھا یعنی اس دور میں تو باوا آدم ہی نرالا تھا ۔
محترمہ بے نظیر بھٹو نے اپنے اختیارات کا استعمال کیا جب ڈاکٹر نسیم حسن شاہ 1994 میں چیف جسٹس آف پاکستان کی حیثیت سے ریٹائر ہوئے تو جسٹس سعد سعود جان کو سنیارٹی کی بنیاد پر ان کی جگہ لینا چاہیے تھی۔ لیکن وزیر اعظم بے نظیر بھٹو نے روایت کو بالائے طاق رکھ دیا، جب انہوں نے دو سینئر ججوں کو بائی پاس کر کے سجاد علی شاہ کو چیف جسٹس آف پاکستان مقرر کیا۔سید سجاد علی شاہ 4 جون 1994 سے 2 دسمبر 1997 تک پاکستان کے چیف جسٹس رہے۔ وہ نواز شریف کیخلاف کیس سن رہے تھے شاید مسلم لیگ ن کا خیال تھا کہ فیصلہ ان کے خلاف آئے گا ۔معاملات 1997 میں اس وقت سامنے آئے جب نواز شریف کرپشن کے الزامات کے خلاف سپریم کورٹ میں اپنا دفاع کر رہے تھے۔ بے قابو ہجوم نے سپریم کورٹ میں گھس کر چیف جسٹس سجاد علی شاہ کو وزیر اعظم نواز شریف کے خلاف کیس کی سماعت ملتوی کرنے پر مجبور کر دیا۔ نوازشریف کے سینکڑوں حامیوں نے عدالت کے اطراف پولیس کا گھیرا توڑ دیا اور چیف جسٹس کو اپنی حفاظت کے لیے بھاگنا پڑا۔ پولیس عدالت کے اندر اور باہر دونوں طرف لاٹھی چارج کے بعد ہی نظم بحال کرنے میں کامیاب ہوئی۔لیکن شاید یہ جمہوری دور کا سیاہ ترین دن تھا جس دن سپریم کورٹ پر حملہ ہوا ۔اس کے بعد ججوں کو جسٹس رفیق تارڑ مرحوم کے ذریعے کوئٹہ میں بریف کیسوں کے الزام لگے ۔صدر لغاری نے نواز شریف کی حمایت کر رہے تھے ۔ وہ حکومت کی طرف سے اٹھائے جانے والے اقدامات سے خوفزدہ تھے کیونکہ آٹھویں ترمیم کے منسوخ ہونے کے بعد ان کے پاس کوئی اختیار نہیں تھا۔ انہیں خاص طور پر اس وقت تشویش ہوئی جب حکومت کی طرف سے انہیں سجاد علی شاہ کو برطرف کرنے اور ایک قائم مقام چیف جسٹس آف پاکستان کی تقرری کے لیے کہا گیا۔ اس لیے انہوں نے 2 دسمبر 1997 کو استعفیٰ دے دیا۔ اس کے فوراً بعد، محمد رفیق تاتار، پی ایم ایل (پاکستان مسلم لیگ) ان کی جگہ منتخب ہوئے۔ 23 دسمبر کو اجمل میاں کو مستقل چیف جسٹس مقرر کیا گیا۔ سجاد علی شاہ کو برطرف کر دیا گیا تھا۔لیکن اس سب مسائل میں ایک کام ضرور ہوا کہ عدلیہ نے خود فیصلہ کیا کہ آئندہ سینئر ترین جج ہی چیف جسٹس بنے گا جس پر عدلیہ آج بھی عمل پیرا ہے۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ عدلیہ نے بہت سے اچھے فیصلے بھی کئے اور تمام دبائو کو مسترد کر دیا و ہ فیصلے آج بھی عدلیہ کا جھومر ہیں ۔ان فیصلوں میں ایک فیصلہ عاصمہ جیلانی کیس کا ہے جس کاذکر نہ کرنا نا انصافی ہو گی۔
عاصمہ جیلانی کے مشہور مقدمہ میں برطانوی دور میں مارشل لاء کی تفصیلی تاریخ بیان کی گئی تھی اور اس کا ماضی کے دنوں سے موازنہ کیا گیا ۔ اس کیس میں دو اپیلیں مس عاصمہ جیلانی کی جانب سے پنجاب ہائی کورٹ میں اپنے والد ملک غلام جیلانی کی رہائی کیلئے دائر کی گئی تھیں اور دوسری مسز زرینہ گوہر نے سندھ ہائی کورٹ میں اپنے شوہر الطاف گوہر کی آرٹیکل کے تحت رہائی کے لیے دائر کی تھیں۔ ملک غلام جیلانی اور الطاف گوہر کی نظر بندی 1971 کے مارشل لاء ر یگولیشن نمبر 78 کے تحت کی گئی تھی جسے بالترتیب لاہور اور سندھ ہائی کورٹس میں چیلنج کیا گیا تھا۔ دونوں ہائی کورٹس نے کہا کہ ان کا اس پر کوئی دائرہ اختیار نہیں ہے ۔ عاصمہ جیلانی نے سپریم کورٹ آف پاکستان میں اپیل کی جہاں انہوں نے کہا کہ یہ ملک کوئی بیرونی ملک نہیں ہے جس پر کسی فوج نے حملہ کیا ہو جس کے سربراہ جنرل یحییٰ خان تھے اور نہ ہی یہ کوئی اجنبی علاقہ تھا جس پر کسی نے قبضہ کیا تھا۔ سپریم کورٹ نے کہا کہ ان حالات میں مارشل لا نہیں لگ سکتا تھا۔ پاکستان کا اپنا قانونی نظریہ، قرآن پاک اور قرارداد مقاصد تھا۔ اس لیے مارشل لاء کبھی بھی آئین سے بالاتر نہیں تھا۔ سپریم کورٹ نے مزید کہا کہ یحییٰ خان نہ تو فاتح تھے اور نہ ہی پاکستان ایک مقبوضہ علاقہ تھا اور اس طرح انہیں ‘غصہ کرنے والا’ قرار دیا گیا اور ان کے تمام اقدامات کو بھی غیر قانونی قرار دیا گیا۔ جب عاصمہ جیلانی کیس کا فیصلہ جاری ہوا تو یحییٰ خان اقتدار میں نہیں تھے اور اس وقت بھٹو کا مارشل لا تھا اور وہ سویلین چیف مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر اور صدر تھے۔ عاصمہ جیلانی کے کیس نے ملک میں جمہوریت کی بحالی کی راہ ہموار کی۔ اس کیس کی پیروی 1972ء کے عبوری آئین اور پھر 1973ء کے مستقل آئین کے ذریعے کی گئی۔ عاصمہ جیلانی کے کیس میں عدالتی فیصلے کی وجہ سے ذوالفقار علی بھٹو مارشل لاء ہٹانے پر مجبور ہوئے۔
ویسے تو عدلیہ کی تاریخ اور بھی بہت سے اچھے فیصلوں سے بھرپور ہے جسٹس کارنیلیس اور جسٹس بھگوان داس جیسے جج بھی ہماری عدلیہ میں ہی تھے جبکہ جسٹس مشتاق ،جسٹس قیوم ،اور جسٹس منیر جیسوں کی بھی کمی نہیں رہی ۔بھاگ بھاگ کر پی سی او کے تحت حلف اٹھانے والے بھی موجود ہیں اور ایسے میں نوکری کو ٹھوکر مارنے والوں کی بھی کمی نہیں ۔لیکن افسوس کہ آج تک موجودہ حکومت سمیت ہماری کسی بھی حکومت چاہے وہ مارشل لاء ہو یا سول حکومت کسی نے بھی نظام عدل کو درست کرنے کے لئے کوئی کام نہیں کیا کسی حکومت کے دور میں ججوں کو پرچیاں گئیں اور کسی حکومت نے ججوں کی مراعات اور تنخواہیں بڑھا کر ہمدردی لینے کی کوشش کی ۔کوئی برطانوی انصاف کی مثالیں دیتا رہا اور کوئی ریاست مدینہ کی لیکن آج تک باتیں صرف مثالوں تک محدود ہیں ۔عملی اقدامات صفر ہیں ۔
اگر ماضی میں جھانکا جائے تو ہیومن رائٹس واچ نے اپنی ویب سائٹ پر جسٹس (ر)قیوم ملک کا “پس منظر” رکھا ہے۔اس میں کہا گیا ہے کہ ملک قیوم نے بدانتظامی کے الزامات کے بعد 2001 میں بینچ سے استعفیٰ دے دیا تھا۔ 15 اپریل 1999 کو، مسٹر قیوم کی سربراہی میں لاہور ہائی کورٹ کے دو ججوں کے پینل نے بے نظیر بھٹو اور شوہر آصف علی زرداری کو بدعنوانی کے ایک مقدمے میں مجرم قرار دیا۔ انہیں پانچ سال کی سزا سنائی گئی۔جیل میں، ہر ایک کو 8.6 ملین ڈالر جرمانہ، پانچ سال کے لیے پارلیمنٹ کے ممبر کے طور پر نااہل قرار دیا گیا، اور ان کی جائیداد ضبط کرنے پر مجبور کیا گیا۔فروری 2001 میں، برطانیہ کے سنڈے ٹائمز نے 32 آڈیو ٹیپس کے ٹرانسکرپٹس پر مبنی ایک رپورٹ شائع کی، جس میں انکشاف کیا گیا کہ مسٹر قیوم نے محترمہ بھٹو اور مسٹر زرداری کو “سیاسی وجوہات” کی بنا پر سزا سنائی۔اخبار کی طرف سے نقل کی گئی نقلوں سے پتہ چلتا ہے کہ جسٹس (ر)قیوم ملک نے اس وقت کے وزیر اعظم نواز شریف کے اینٹی کرپشن چیف سیف الرحمان سے سزا کے بارے میں مشورہ طلب کیا: “اب آپ مجھے بتائیں کہ آپ اسے کتنی سزا دینا چاہتے ہیں؟”اپریل 2001 میں اس ثبوت کی بنیاد پر سپریم کورٹ کے سات رکنی بنچ نے سزا کو کالعدم قرار دیتے ہوئے جوڑے کی اپیل کو برقرار رکھا۔ سپریم جوڈیشل کونسل کی جانب سے پیشہ ورانہ بدانتظامی کے مقدمے کا سامنا کرتے ہوئے، جسٹس (ر)قیوم ملک نے جون 2001 میں اپنے عہدے سے استعفیٰ دینے کا انتخاب کیا۔لیکن بدقسمتی سے ہر بات ثابت ہونے کے باوجود انہیں کوئی سزا نہ دی گئی وہ نہ صرف باعزت زندگی بسر کرتے رہے بلکہ اٹارنی جنرل بھی بنایا گیا۔
عدلیہ سے متعلق افراد کی ٹیپ آنے کا سلسلہ جو جسٹس قیوم سے شروع ہوا تھا وہ آجکل عروج پر پہنچ چکا ہے حال ہی میں جسٹس ثاقب نثار کی ٹیپ بھی آئی ہے۔ قبل ازیں نواز شریف کیس میں ہی ارشد ملک کا بیان ساری دنیا سن چکی ہے ۔ جسٹس شوکت صدیقی کے الزامات پر بھی کوئی سو موٹو نہیں ہوا۔یہ درست ہیں یا غلط کیا ان کا فیصلہ عدلیہ نے نہیں کرنا؟ اسی عدلیہ کے پاس سو موٹو کا اختیار موجود ہے لیکن ان معاملات پر خاموشی بہت سے سوالات کو جنم دیتی ہے۔اگر جسٹس قیوم والے معاملے میں عدلیہ کوئی اقدام اٹھا لیتی اور انہیں سزا دا دیتی تو بہت سے واقعات جنم ہی نہ لیتے۔ آج ہم نے ان باتوں کا پوسٹ مارٹم نہ کیا تو تاریخ ہمیں کبھی معاف نہیں کرے گی اور اگر ہم پوسٹ مارٹم کر کے اصل حقائق تک پہنچنے میں کامیاب ہو گئے تو پھر آئندہ کسی حکومت کی جرأت نہ ہو گی کہ وہ ایسا کوئی کام کرے جو عدلیہ کے وقار کے لئے نقصان دہ ہو، اس سے عدلیہ کا وقار بھی بلند ہو گا ۔ اگر ایسا نہ کیا گیا تو ورنہ شاید انصاف فراہم کرنے والے ممالک کی فہرست میں آخری نمبر ہمارا منتظر ہو گا۔
عام شہریوں کو اپنے کسی مسئلے پر مقدمہ درج کرانے کے لیے بھی جان جوکھم میں ڈالنا پڑتی ہے، کیوں کہ تھانوں میں ستم زدہ افراد کی شنوائی نہیں ہوتی۔۔۔ یہ صورت حال اُس صورت میں ہوتی ہے، جب کسی عام فرد کے خلاف پرچا کرایا جا رہا ہو۔ اگر کسی بااثر شخص یا کسی بھی روپ میں چھپے ہوئے بدقماش یا بدمعاش کے خلاف مقدمہ کرانا ہو، تو ہمارے ہاں عام شہری کے لیے یہ ایک امرمحال سمجھا جاتا ہے۔ بعد کے مراحل عدالت میں مقدمے کی طویل سماعتوں اور فیصلہ ہونے تک دراز ہوتے ہیں۔۔۔ بقول شاعر ’کون جیتا ہے تری زلف کے سر ہونے تک‘ یہ بدقسمتی ہے کہ لوگ کانوں کو ہاتھ لگا کر ’کورٹ کچہری‘ سے پناہ طلب کرتے ہیں۔

قومی عدلیہ پر نگاہ ڈالی جائے، تو 9 مارچ 2007ء میں ہماری عدلیہ کے ایک نئے دور کا آغاز ہوا، جب اُس وقت کے صدر جنرل پرویز مشرف نے چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کیا، ان کے انکار پر انہیں معطل کر کے اُن کے خلاف ایک ریفرنس بھیجا۔ افتخار چوہدری مختلف اہم مسائل پر ایسے فیصلے دے چکے تھے، جو حکومت وقت کے لیے ناپسندیدہ تھے۔۔۔ انہوں نے بہت سے سلگتے ہوئے مسائل پر ازخود نوٹس کے ذریعے ایسے حکام سے جواب طلبی بھی کی، جو خود کو کسی بھی جواب طلبی سے مستثنا سمجھتے تھے۔ چناں چہ ملک بھر کے وکلا افتخار چوہدری کی حمایت میں سڑکوں پر آگئے اور انہوں نے اس ’حرف انکار‘ پر بھرپور خراج تحسین پیش کیا۔
افتخار چوہدری کو ’عدالتی فعالیت‘ کے سبب عوامی حلقوں میں پذیرائی حاصل تھی، اس لیے مختلف شہروں میں اُن کے استقبالی جلوسوں کا سلسلہ شروع ہوگیا، جس میں مختلف سیاسی جماعتیں بھی شامل ہو گئیں، جب کہ حزب اقتدار کی سیاسی جماعتیں مسلم لیگ (ق)، متحدہ قومی موومنٹ اور دیگر اس عمل کی سخت مخالف تھیں۔ جولائی 2007ء میں ریفرنس میں فیصلہ افتخار چوہدری کے حق میں ہوا اور وہ اپنے عہدے پر بحال ہو گئے۔

اس کے بعد 3 نومبر 2007ء کو جنرل پرویز مشرف نے ملک میں ہنگامی حالت نافذ کر کے ’پی سی او‘ (Provisional Constitutional Order) نافذ کیا، افتخار محمد چوہدری اور دیگر ججوں نے اس پر حلف اٹھانے سے انکار کیا اور جسٹس عبدالحمید ڈوگر نئے چیف جسٹس بنے۔ 2008ء کے عام انتخابات کے بعد پیپلز پارٹی کی حکومت نے پی سی او کے تحت حلف اٹھانے والے ججوں کی بحالی سے انکار کیا، جس پر مسلم لیگ (ن) نے تحریک چلائی، پھر 21 مارچ 2009ء کو وزیراعظم یوسف رضا گیلانی نے جسٹس افتخار محمد چوہدری اور نومبر 2007ء کے پی سی اور پر حلف نہ اٹھانے والے دیگر ججوں کو بحال کرنے کا اعلان کیا۔

اس کے بعد پیپلز پارٹی کے خلاف مقدمات کی سماعت شروع ہوئی، آصف زرداری نے آئینی استثنا کو استعمال کیا اور عدالت میں پیش نہ ہوئے اور وزیراعظم یوسف رضا گیلانی توہین عدالت کے جرم میں عہدے سے فارغ کردیے گئے۔ اس طرح عدلیہ بحالی تحریک کی سرگرم جماعت پیپلزپارٹی کی شکایات شروع ہوئیں، اس کے بعد 2013ء میں مسلم لیگ (ن) کی حکومت آئی، تو تحریک انصاف عدلیہ کی سخت ناقد بن گئی اور انہوں نے عدالتی فیصلوں پر جانب داری کے الزامات لگائے۔ پھر پاناما کے مقدمے میں نوازشریف کو وزارت عظمیٰ سے نااہل قرار دیا گیا، تو مسلم لیگ (ن) عدلیہ پر تنقید کرنے والوں میں شامل ہوگئی۔ یوں 2007ء میں زوروشور سے ’آزاد عدلیہ‘ کا نعرہ بلند کرنے والی تینوں بڑی جماعتیں ایک کے بعد ایک عدلیہ کی ناقد ہوئیں!

ہماری عدالتوں میں مقدمہ درج ہونے سے لے کر عدالت تک پہنچنے کے معاملات بھی اصلاح طلب ہیں، سیاسی بنیاد پر بھرتی کی گئی پولیس کس طرح غیرجانب داری سے مسائل ٹھیک کر سکتی ہے۔ اسی طرح پولیس کی جانب سے یہ دعوے بھی سامنے آتے ہیں کہ ہم نے اتنے ملزمان پکڑ کر دیے، لیکن وہ عدالتوں سے چھوٹ جاتے ہیں، اس ضمن میں بھی قانونی شگاف پر کرنے کی ضرورت ہے۔ یہ ایک بہت سنگین الزام ہے، جس کا مداوا ہونا چاہیے، اس الزام کی آڑ لے کر بدقماش ظالم پولیس افسر ماورائے عدالت قتل کی وارداتیں کرتے ہیں اور معاشرے کی آنکھوں میں دھول جھونک کر صاف بچ نکلتے ہیں۔

اسی طرح ملزمان کا ریمانڈ لینے کا معاملہ بھی خاصا تنقید کی زد میں رہتا ہے۔ ملزمان کو عدالت میں پیش کرکے ان کا ریمانڈ لے لیا جاتا ہے، اس ضمن میں قانونی ماہرین کوئی ایسی حکمت عملی ترتیب دے سکتے ہیں، جس میں ریمانڈ دینے کے حوالے سے کوئی واضح اصول طے کیا جائے، کیوں کہ شکایات ہوتی ہیں کہ بے گناہوں کا ریمانڈ لے کر ان سے ’اعتراف‘ کرالیا جاتا ہے۔بہت سے مقدمات کی شنوائی سے فیصلہ سنانے تک ججوں کو مختلف دباؤ اور دھمکیوں کا سامنا رہتا ہے۔ بالخصوص انسداد دہشت گردی کی عدالت میں ججوں کو بہت زیادہ خطرات لاحق ہوتے ہیں۔ جولائی 2013ء میں کراچی میں دہشت گردوں کی جانب سے سندھ ہائی کورٹ کے جج جسٹس مقبول باقر کے قافلے پر حملہ کیا گیا، جس میں نو افراد جاں بحق ہوئے۔ اس ضمن میں ججوں کو زیادہ سے زیادہ تحفظ فراہم کرنا ضروری ہے، تاکہ وہ کسی بھی دباؤ یا خطرے سے آزاد ہوکر اپنا کام کر سکیں۔

عدلیہ کی اصلاحات کے باب میں ججوں کی کمی بھی ایک بڑے مسئلے کے طور پر سامنے آتا ہے، آئے دن ایسے مقدمات سامنے آتے ہیں، جو متواتر سماعت کے باوجود کسی نتیجے پر نہیں پہنچے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جن مقدموں کو جج مل بھی رہے ہیں، بوجوہ ان کے فیصلے بھی بروقت نہیں ہو پا رہے۔ اگر سماعت کیے جانے والے مقدمات جلد نمٹائے جائیں، تو پھر شاید ججوں کی کمی کی شکایت بھی دور ہو جائے، یا کم سے کم صورت حال زیادہ واضح ہو سکے گی۔

بہت سے مقدمات کی تاریخ ملنے کے بعد وکلا کی ہڑتال یا عدالتی امور معطل ہونے کے سبب سائلین شدید ذہنی اذیت اور کوفت سے دوچار ہوتے ہیں، کیوں کہ پھر مقدمے کے لیے نئے سرے سے تاریخ لینی پڑتی ہے اور یوں مقدمات میں تاخیر در تاخیر کا سلسلہ جاری رہتا ہے۔ اس کے ساتھ بہت سے وکیلوں کی فیس بہت زیادہ ہے، یہ امر بھی حصول انصاف کی راہ میں ایک بڑی رکاوٹ ہے، کیوں کہ بعض اوقات بہتر وکیل نہ ہونے کے سبب انصاف حاصل نہیں کر پاتے۔ یہ بھی دیکھا جاتا ہے کہ بہت سی عدالتی فیصلوں کے خلاف حکم امتناع لے لیے جاتے ہیں۔ عدالتیں یقیناً اس ضمن میں قانون کے مطابق ہی چارہ جوئی کرتی ہیں، لیکن ایسے قوانین وضع ہونے چاہییں، جن سے ایسا محسوس نہ ہو کہ اپنے خلاف فیصلہ آنے پر فریق حکم امتناعی لے کر صورت حال یا تنازعے کو اپنے حق میں کر لے۔

ہماری 70 سالہ تاریخ میں عدلیہ کا کردار جہاں خاصا متنازع رہا ہے، وہیں اسی ایوان سے قانون کے رکھوالوں نے جرأت اور ہمت کا مظاہرہ کرتے ہوئے بہت سے اجالوں کی بنیاد بھی رکھی۔ جب جب فوجی آمروں نے جمہوری حکومتوں پر شب خون مارا، تب تب انہیں ریاست کے اس مقدس ایوان سے تائید دی جاتی رہی، تو ہر بار طاقت وَر شخصیات کو اسی مسند پر بیٹھے ججوں نے انکار کر کے آئین وقانون کی پاس داری کا حق بھی ادا کیا، اور اپنے بلند عہدے کی جاہ وچشم پر باعزت گُم نامی کو ترجیح دی۔ متعدد بار پی سی او کے تحت حلف اٹھانے سے انکار کیا۔ یہی نہیں جبر واستبداد کے ادوار میں یہی ایوان اس ملک کے عام شہریوں کی امید کا واحد مرکزومحور بھی رہا۔۔۔ بہتیرے عوامی مسائل کے حل کی امیدیں بھی اسی چوکھٹ پر بر آئیں۔

عدلیہ کو مقنّنہ اور انتظامیہ کے ساتھ ریاست کے بنیادی ستونوں میں شامل کیا جاتا ہے۔ عدلیہ کے بغیر ریاست کے وجود پر ہی سوالیہ نشان لگ جاتا ہے۔ اس لیے جس طرح مقنّنہ اور انتظامیہ کی کارکردگی ریاست کی مضبوطی پر اثرانداز ہوتی ہے، اسی طرح عدلیہ کا کام بھی کسی طور نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔

مولاناابو الکلام آزاد نے کہا تھا،’’تاریخ عالم کی سب سے بڑی ناانصافیاں میدان جنگ کے بعد عدالت کے ایوانوں میں ہوئی ہیں۔‘‘ برطانوی وزیراعظم ونسٹن چرچل نے ٹھیک ہی کہا تھا کہ اگر ہماری عدالتیں انصاف کر رہی ہیںِ، تو ہمیں پریشان نہیں ہونا چاہیے، ہم سرخرو ہوں گے۔۔۔ ایک انگریزی مقولے کے مطابق ’انصاف میں جلدبازی کرنا انصاف کو دفن کرنے کے مترادف ہے‘ (Justice hurried is justice buried) لیکن دوسری ایک مثل یہ بھی ہے کہ ’انصاف میں تاخیر کا مطلب انصاف سے انکار ہے‘ (Justice delayed is justice denied) ۔ ریاست اور معاشرے میں عدل کی اس اہمیت کو ہمارے ہاں بھی تسلیم کیا جاتا ہے، لیکن عملاً ہم ابھی اس منزل سے بہت دور ہیں جہاں انصاف ہر شہری کی دسترس میں ہوتا ہے، اس کا حصول آسان ہوتا ہے اور اس کے ایوانوں کے فیصلے اعتبار کا حصار لیے ہوتے ہیں۔ وہ کیا وجوہات ہیں جن کی بنا پر ہم اس صورت حال سے دوچار ہیں اور کس اصلاحات کے ذریعے ہم اپنے عدالتی نظام کو مثالی بناسکتے ہیں؟ اس حوالے سے مندرجہ نکات پر غور کیا جا سکتا ہے۔
اہمارے قوانین اب تک وہیں ہیں۔ پرانے وقتوں میں جرائم کی شرح اور نوعیت کچھ اور تھی۔ 1857ء میں ہیروئن سمیت دوسری منشیات نہیں تھیں۔ اب آبادی بڑھ گئی ہے۔ سائنسی دور ہے۔ آج کے حالات میں عدالتی قوانین میں تبدیلی ضروری ہے۔ قانون سازی پارلیمنٹ کا کام ہے، عدلیہ اس پر عمل درآمد کراتی ہے۔ اب ٹرائل کیس کو ہی لے لیں جب ٹرائیل کورٹ سے ملزم کو سزا ہوتی ہے تو اس کی اپیل پر عمل درآمد نہیں ہوتا جب کہ سپریم کورٹ فوری طور پر اس کی اپیل سنتا ہے تو وہ بری ہوجاتا ہے۔ ہمیں ایسی اصلاحات لانی چاہئیں کہ لوگوں کو فوری انصاف مل جائے اگر کسی کے خلاف جھوٹا کیس چل رہا ہے تو کیس کرنے والے کے خلاف بھی کارروائی ہونی چاہیے۔ مقدمات میں تاخیر کے ذمہ دار پولیس، عدالت اور وکلاء ہیں۔ یہاں سسٹم ایسا بنا ہوا ہے جس میں لوگوں کو فوری انصاف نہیں مل پاتا۔ مقدمات میں تاخیر دور کرنے کیے لئے بھی قانون سازی کی ضرورت ہے۔ اس میں وقت کا تعین ضروری ہے کہ آپ نے اتنے عرصے میں کیس کا فیصلہ کرنا ہے۔ اگر نہیں کرسکتے تو ملزم کو بیل آؤٹ کردیں تاکہ وہ بلاوجہ جیل میں نہ رہے۔ اسی تاخیر کی وجہ سے بہت سے لوگ جیلوں میں پڑے رہتے ہیں۔
جہاں تک پولیس کی جانب سے تاخیری حربے ہیں اس کی ایک بڑی وجہ کرپشن ہے، جب تک آپ پولیس کے ساتھ گٹھ جوڑ نہیں کرتے معاملہ سست روی کا شکار رہے گا، پولیس پر بھی چیک اینڈ بیلنس ہونا چاہیے۔ پولیس 15 دن میں بھی چالان پیش نہیں کرتی۔ یہ لوگ کسی نہ کسی بہانے کی تلاش میں رہتے ہیں۔ ملزم کو سزا کا اختیار عدالت کے پاس ہے۔ پولیس اور عدالت دونوں کو ایک ہی قانون کے تحت نظام میں تبدیلی لانے کے لئے کاربند کیا جاسکتا ہے۔ مقدمات جلد نمٹانے کے لئے بھی اصلاحات کی ضرورت ہے۔ عدالتوں میں دفتری اور کاغذی کارروائی کے حوالے سے شاہ محمد جتوئی کہتے ہیں کہ ہمارا تمام سسٹم بگڑ چکا ہے۔ کاغذی کارروائی ہوتی کچھ نہیں صرف کرپشن کے لئے اس کو طول دیا جاتا ہے۔ یہ سسٹم ہی غلط ہے۔ اس کے لئے تجویز کیا دوں۔ اس کے لئے تو انقلاب کی ضرورت ہے۔ اعلیٰ عدلیہ کی ذمہ داری بنتی ہے کہ کاغذی کارروائی اور دفتری اُمور پر بھی نظر رکھے اور اس میں بہتری لائے تاکہ عام سائل کو اس کا فائدہ ہو۔
آج کل ٹیکنالوجی کا دور ہے تمام عدالتوں میں کمپیوٹرائزڈ سسٹم چل رہا ہے۔ اس میں ہم باقی دُنیا کے مقابلے میں صرف20 سے25 فیصد ہیں۔ دُنیا بہت آگے اور ہم پیچھے ہیں۔ ہمارے یہاں تمام عدالتی ریکارڈ کو کمپیوٹرائزڈ ہونا چاہیے۔ اب فائلیں بوریوں میں بند نہیں رکھنی چاہئیں۔
جہاں تک ویڈیو کو شہادت ماننے کی بات ہے تو کسی حد تک درست ہے لیکن اس کے لئے خود شہادت کی ضرورت پڑتی ہے کہ ویڈیو اصلی ہے یا کسی اور مقصد کے لئے بنوائی گئی ہے۔ یہاں بہت کم ایسا ہوا ہے کہ ویڈیو کو بطور شہادت لیا گیا ہو عام طور پر اس کو نہیں لیا جاتا۔ سی سی ٹی وی فوٹیج جینئن ہیں۔ ان کیمروں کی قانونی حیثیت ہے۔ آج کل جیسے خودکش دھماکے ہورہے ہیں یا اسی طرح دوسرے جرائم ہیں، سی سی ٹی وی فوٹیج کے ذریعے بہت سے ملزموں تک پہنچا جاسکتا ہے۔ کوئٹہ میں دہشت گردی کے دو تین بڑے واقعات میں انہی کیمروں کے ذریعے ملزموں تک پہنچے ہیں۔ ڈی این اے ٹیسٹ بھی جدید ٹیکنالوجی ہے پوری دُنیا اور پاکستان میں بھی بہت سے واقعات ڈی این اے ٹیسٹ کے ذریعے حل ہوئے ہیں۔

٭ججز کے متنازعہ ریمارکس اور تقاریر
ججز کو متنازع بات نہیں کرنی چاہیے۔ ججز کی بات صرف اس کے فیصلے میں ہو، پبلک میں ان کی بات نہیں آنی چاہیے، چاہے سول کیس ہو یا کریمنل کیس ہو یا سیاسی کیس۔ میرے خیال میں سیاسی کیسز کے بجائے زیادہ وقت پبلک کیسز کو دینا چاہیے۔ لوگ جیلوں میں پڑے ہوئے ہیں۔ لوگوں کی جائیدادوں پر قبضے کر لئے گئے ہیں۔ یہ کیسز انتہائی ضروری ہوتے ہیں، اس پر توجہ سے عام آدمی کو زیادہ ریلیف مل سکتا ہے۔دوسرے ممالک میں عدالت کے فیصلوں کے لئے قانونی راستے اختیار کئے جاتے ہیں۔ عدالتی فیصلوں کو بھی پبلک مقامات پر نہیں لانا چاہیے۔ آپ عدالتی فیصلے سے اختلاف رکھ سکتے ہیں لیکن اس کو ماننا بھی چاہیے۔

بلوچستان میں ججز کی تعداد حال ہی میں بڑھائی گئی ہے لیکن اس کے باوجود ججز کی تعداد بہت کم ہے۔ اعلیٰ عدالتوں سے لے کر ماتحت عدالتوں تک ججز کی تعداد بڑھانی چاہئے۔ ڈسٹرکٹس سے لے کر ماتحت عدالتوں اور تحصیل کی سطح پر بھی عدالتیں قائم ہونی چاہئیں تاکہ لوگوں کو فوری اور سستا انصاف مل سکے۔

ججز کی تقرری اور انہیں ہٹانے کے لئے بہت سی اصلاحات کی ضرورت ہے۔ ہائر عدالتوں سے بھی پوچھ گچھ ہونی چاہیے۔ ججمنٹ کے حوالے سے سپریم جوڈیشل کونسل کو زیادہ سے زیادہ بااختیار بنانا چاہیے تاکہ سپریم جوڈیشل کونسل زیادہ فعال کردار ادا کرسکے۔

مقدمات میں تاخیر کے وکلاء پولیس اور عدلیہ برابر کے شریک ہیں یہ اگر چاہیں تو مقدمات میں تاخیر ختم ہوسکتی ہے۔ اس کے لئے بھی اصلاحات کی ضرورت ہے۔
عدالتی فیصلوں پر تنقید کیے لئے فورم ہونا چاہیے۔ اعلیٰ عدلیہ کے چیک اینڈ بیلنس کو دیکھنا چاہیے۔ اس کے لئے بھی قانون سازی ہونی چاہیے۔ بہت سے معاملات ایسے ہوتے ہیں جن میں پولیس پارٹی بنی ہوتی ہے۔ حکومت اور انتظامیہ بھی فریق ہوتی ہیں۔ ایسے کیسز کا از خود نوٹس لینا چاہیے۔ اگر نقیب اﷲ کیس میں سپریم کورٹ نے از خود نوٹس نہ لیا ہوتا تو راؤ انوار سامنے نہیں آتا۔ کراچی میں سادہ کپڑوں والا کیس ہے تو از خود نوٹس لینے سے عام آدمی کی داد رسی ہوتی اور بڑے چہرے بھی بے نقاب ہوجاتے ہیں۔ ہمارے یہاں زیر التواء مقدمات ہزاروں کی تعداد میں ہیں۔ ججز اور عدالتوں کی کمی کی وجہ سے فیصلوں میں بڑا وقت لگ جاتا ہے۔ یہاں اگر ایک دو سال میں کسی کیس کا فیصلہ ہوجائے تو وہ بندہ خوش ہوجاتا ہے۔
ہمارے ملک میں پرانا عدالتی نظام چل رہا ہے۔ دُنیا میں قوانین کی تبدیلی کے لئے قانون سازی ہوتی رہتی ہے، جب کہ یہاں تبدیلی کچھ بھی نہیں۔ یہاں ججز کی تعداد کم ہے۔ عدالتیں کم ہیں ریفارمز کے حوالے سے چیف جسٹس(ر) افتخار محمد چوہدری کے دور میں جوڈیشل پالیسی بنائی گئی، اس پر مکمل عملدرآمد کیا جائے۔ اسے عارضی طور پر چلایا گیا۔ عدالتی نظام عارضی اصلاحات کی بنیاد پر نہیں چلایا جاسکتا۔ اس کے لئے باقاعدہ قانون سازی ہونی چاہیے۔ بلوچستان میں ججز اور عدالتوں کی تعداد ہر سطح پر بڑھائی جانی چاہیے۔ اس صوبے میں ایسے علاقے بھی ہیں جہاں عدالتیں نہیں ہیں۔ جوڈیشل مجسٹریٹ، سول فیملی ججز، ایڈیشنل سیشن ججز کی تعداد میں اضافہ ہونا چاہیے۔ ہمارے یہاں ٹیکنالوجی کو عدالت کا مکمل حصہ نہیں بنایا گیا۔ دُنیا کے مقابلے میں ہم بہت پیچھے ہیں۔ ویڈیو کی شہادت کو قانونی حیثیت دینی چاہیے۔ قانون شہادت ایکٹ کے تحت اگر کوئی دوسرے علاقے سے شہادت کے لئے نہیں آسکتا تو ویڈیو کے ذریعے اسے لینا چاہیے۔ دُنیا میں ٹیکنالوجی بہت آگے جاچکی ہے۔

٭ججز کے متنازع ریمارکس
اول تو ججز کو متنازع ریمارکس ہی نہیں دینے چاہئیں، ان کے ریمارکس صرف ججمنٹ میں ہوں۔ سارک کانفرنس کے دوران انڈیا کے جج سے پوچھا گیا کہ کیسے فیصلے کرتے ہیں تو اُنہوں نے بتایا کہ ہم بولتے نہیں صرف فیصلے کرتے ہیں۔ اس لئے ججز کو صرف فیصلے میں ہی ریمارکس دینے چاہئیں۔ جہاں تک فیصلوں پر تنقید کی بات ہے تو اخلاقی طور پر تنقید کرسکتے ہیں لیکن قانون کے دائرے میں ہو ایڈوانس ممالک میں ایسی پالیسیز موجود ہیں۔ ہمیں وہ چیزیں اپنانی چاہئیں۔ حال ہی میں انڈیا کے4 ججز نے سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کے خلاف پریس کانفرنس کی اگرکوئی جج ریمارکس دیتا ہے تو اس پر بات ہونی چاہئے۔ لیکن توہین عدالت اور آزادی رائے کی تضحیک نہیں ہونی چاہئے۔ اگر ججز کی تعیناتی پر اعتراض ہے تو آئین کے آرٹیکل175A کے تحت پاکستان کی تمام بار کونسلز نے اکثریتی رائے ترمیم دی تھی کہ جوڈیشل رولز کو لاگو کیا جائے کیوںکہ جوڈیشل کمیشن میں ججز کی تعداد زیادہ ہے وہ فیصلہ کردیتے ہیں، لیکن بارکونسلز کی رائے رہ جاتی ہے۔

اسی طرح ہمارا کہنا ہے کہ ججز کی نام زدگی کے لئے جو نام بھجوائے جائیں اس میں ایک پوسٹ کے لئے تین نام ہونے چاہئیں، تاکہ تقرری میرٹ پر ہو۔ اسی طرح ججز کو ہٹانے کا طریقہ بھی جوڈیشری کے اندر ہے، لیکن آج تک کسی جج کے خلاف کارروائی نہیں کی گئی۔ اس وقت سپریم جوڈیشل کونسل ججز کے خلاف54 کے قریب ریفرنسز دائر ہیں۔ 4ججز کے خلاف کیسز پر کارروائی میں2سال لگے، سابق چیف جسٹس اقبال حمید الرحمان کے خلاف جب ریفرنس آیا تو وہ مستعفی ہوگئے تھے۔ ججز کے خلاف کیسز کو نمٹانا چاہئے۔ اصلاحات کاغذوں میں نہیں عملی طور پر ہونی چاہئیں۔ اگر کوئی اپنے ڈیپارٹمنٹ کے اندر رولز کی خلاف ورزی کرے گا تو تنقید ہوگی۔ ازخود نوٹس کیس میں سپریم کورٹ کو آرٹیکل184-3 کے تحت اختیار حاصل ہے جس کے تحت از خود نوٹس لیا جاسکتا ہے لیکن سوموٹو کا رزلٹ آنا چاہئے۔ اس میں بعض ایسے کیسز بھی ہیں جن پر خاموشی اختیار کرلی گئی۔ کیس کی طوالت کی ایک وجہ کبھی ایک وکیل کا نہ ہونا کبھی دوسرے کا نہ ہونا ہے۔ کبھی کوئی وکیل کیس چھوڑ دیتا ہے۔ ہمیں تو قبائلی سسٹم کے تحت فیصلے اچھے لگتے ہیں کیوں کہ اس میں وقت کا ضیاع نہیں ہوتا اور جلد فیصلہ آجاتا ہے۔

حمید اللہ دستی
(پولیس انوسٹی گیشن لیگل ڈی ایس پی)
کیس میں تاخیر اس وجہ سے ہوتی ہے کہ مدعی مقدمہ میں 100فی صد بیان نہیں دیتا۔ شواہد اکٹھے کرنے کے لئے وقت چاہیے ہوتا ہے۔ کوئی جرم ہوتو لوگ اطلاع دیتے ہیں اور نہ ہی گواہی۔ بااثر لوگ اثرانداز ہوتے ہیں۔ زیادہ تر ان کا زور راضی نامے پر ہوتا ہے۔ بلوچستان پولیس کے پاس جدید ٹیکنالوجی نہیں ہے۔ ڈیٹا اکٹھا کرنا ہوتا ہے۔ دوسری چیزوں کے حصول میں وقت لگتا ہے۔ دیگر صوبوں کی طرح جدید سہولیات ملنی چاہیئں۔ 14دن ہسپتال کی رپورٹس میں صرف ہوتے ہیں۔ 2010ء میںبلوچستان حکومت نے اپنا پولیس ایکٹ بنالیا۔ 18ویں ترمیم کے تحت اختیار جوڈیشل مجسٹریٹ کی بجائے اے سی کو دے دیئے۔ پہلے 20ہزار کی آبادی کے لئے 100کانسٹیبل، 25حوالدار، 13آفیسر، ایک انسپکٹر، ایک پولیس اسٹیشن ہوتا تھا۔ اب 450افراد پر صرف ایک کانسٹیبل ہے۔ دہشت گردی سمیت دوسرے بڑے کیسز کی تحقیقات کے لئے سوائے ایک کمرے کے کوئی سہولت نہیں ہے۔ ہمیں پروٹیکشن نہیں۔ ہم رسک لے کر کام کرتے ہیں۔ پراسیکیوشن کو الگ کرنے سے بھی تاخیر ہوجاتی ہے۔ جوڈیشری سے شناخت پریڈ کرانی ہوتی ہے۔ یہ تمام وہ چیزیں ہیں جو مرحلہ وار طے کی جاتی ہیں۔ لیکن ایک ضروری چیز ہے وہ ہے جدید ٹیکنالوجی، اس کے بغیر بھی معاملات سست روی کا شکار ہوتے ہیں۔

تاریخی تشبیہات اور افسانوی حوالے
سپریم کورٹ کے پانچ رکنی بینچ نے پاناما لیکس سے متعلق 20 اپریل 2017ء کو اپنا فیصلہ سنایا، جس میں بینچ کے سربراہ جسٹس آصف سعید کھوسہ کا اختلافی نوٹ میں 1969ء میں شایع ہونے والے ماریو پوزو(Mario Puzo) کے مشہور زمانہ ناول ’’گاڈ فادر‘‘ کے اس مشہور فقرے سے کی گئی کہ ’’ہر عظیم کام یابی کے پیچھے ایک جرم چھپا ہوتا ہے۔‘‘ حکم راں جماعت کے سینیٹر نہال ہاشمی کی طرف سے اداروں کی تضحیک پر سپریم کورٹ نے ازخود نوٹس لیا، تو اس کی سماعت کے دوران عدالت کافی جارحانہ موڈ میں نظر آئی اور سپریم کورٹ کے ایک جج جسٹس عظمت سعید نے اس معاملے پر حکومت کو سسیلیئن مافیا سے تشبیہہ دی۔
ی رہے کہ سسیلیئن مافیا کا تعلق اٹلی سے تھا، جو مجرمانہ سرگرمیوں کے سبب دنیا بھر میں ایک خوف کی علامت تھی۔ معروف قانون داں اعتزاز احسن اس حوالے سے کہتے ہیں کہ ججوں کو صرف فیصلے لکھنے چاہئیں اور اس طرح کے ریمارکس فضا کو آلودہ کرتے ہیں۔ اسلام آباد ہائی کورٹ بار کے سابق صدر طارق محمود جہانگیری کہتے ہیں کہ اگر کسی کو ججز کے ریمارکس پر اعتراض ہے تو اس کی دادرسی کا طریقہ بھی موجود ہے۔ اس بارے میں ایک درخواست سپریم کورٹ میں دائر کی جا سکتی ہے، جس میں کسی بھی جج کے ریمارکس کو عدالتی کارروائی سے حذف کرنے کی درخواست کی جا سکتی ہے۔

سپریم جوڈیشل کونسل کا ججوں کے لیے ضابطۂ اخلاق
ضابطہ اخلاق میں ججوں کو ماسوائے مجبوری عام لوگوں سے ملنے، ہوٹلوں بازاروں اور گلیوں میں بے مقصد گھومنے پھرنے سے گریز کرنے کو کہا گیا ہے۔ انہیں یہ بھی ہدایت کی گئی ہے کہ وہ غصہ کرنے اور غصے میں فیصلہ کرنے سے احتراز کریں۔
جج کو خدا ترس، قانون کا احترام کرنے والا، قول کا سچا، ذہین، محتاط اور الزام سے پاک ہونا چاہیے۔ جج پر کسی لالچ کا اثر نہیں ہونا چاہیے۔ اور اسے اپنے فیصلے یا رویے میں کسی بھی فریق یا اس کے وکیل سے جانب داری نہیں دکھانی چاہیے۔ جج کو فیصلے میں مستقل مزاج ہونا چاہیے۔ اسے ہمیشہ مقدمے جلد نمٹانے اور فوری انصاف کی کوشش کرنی چاہیے۔ جج کو یونیفارم پہن کر مودبانہ طریقے سے کرسی پر بیٹھنا چاہیے۔ لیکن اس سے غرور کا تاثر نہیں ملنا چاہیے۔ ججوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ چیمبر میں مقدمات کی کارروائی نہیں چلائیں اور نہ ہی وہاں دوستوں اور مہمانوں سے ملیں، ماسوائے مجبوری کے بار بار کمرہ استعمال نہ کریں اور دوسرے فریق کی عدم موجودگی میں مقدمہ کی کارروائی نہ چلائیں۔
جج ایسے مقدمات بھی نہ چلائیں جس میں ان کے کسی عزیز رشتہ دار یا دوست کا مفاد ہو۔ کسی بھی فریق کو ذاتی حیثیت میں کوئی ایسا مشورہ نہ دیں جو کہ دوسرے فریق کے لئے نقصان دہ ہو۔
جج کو فیصلے دیتے وقت کھردرے رویے کے بغیر مضبوط اور کم زور ہوئے بغیر شائستہ ہونا چاہیے، جج کو بارعب اور اپنے الفاظ سے وفادار ہونا چاہیے۔ اسے متوازن اور ہر چیز سے بالاتر مکمل غیرجذباتی ہو کر قانون کے مطابق فیصلے دینے چاہییں۔
جج کا مقدمے کے کسی فریق سے کوئی تعلق ہو تو وہ اس کی سماعت سے خود کو علیحدہ کرلے۔ فیصلوں سے صرف انصاف نہ ہو، بلکہ انصاف ہوتا ہوا دکھائی بھی دے۔ کوئی جج بالواسطہ یا بالواسطہ کوئی ذاتی رائے یا حکم نہ دے۔ کسی عوامی تنازعے کا حصہ نہ بنے۔ کسی بھی قسم کی انتخاب میں امیدوار بننے سے گریز کرے۔ تحائف بھی صرف بہت قریبی رشتے داروں اور دوستوں سے لے سکتے ہیں۔ غیررسمی تحفوں کے ذریعے ان پر اثرانداز ہونے کی کوشش کو مسترد کردیں۔
پیشہ ورانہ امور میں دیگر ججوں سے تعلقات عدالتی کام سے مطابقت رکھتے ہوں اور عدالت کی مضبوطی کے لیے ہوں۔ جج کو اپنے حلف کی پاس داری کرنی چاہیے اور کم سے کم وقت میں مقدمہ نمٹانے کے لیے اقدام کرنے چاہییں۔ کوئی جج غیرآئینی طریقے سے اقتدار حاصل کرنے والے شخص کو تحفظ فراہم نہیں کرے گا اور نہ ہی آئین میں دیے گئے حلف کے سوا کوئی حلف اٹھائے۔

عدلیہ کے دو حیرت انگیز واقعات!
جسٹس کارنیلئس مشہور زمانہ مولوی تمیز الدین کیس میں اختلافی نوٹ لکھنے والے واحد جج تھے، لیکن حیرت انگیز امر ہے کہ جنرل ایوب خان نے انہیں چیف جسٹس بنایا اور وہ 13 مئی 1960تا 29 فروری 1968ء ملک کے چیف جسٹس رہے۔ اسی طرح جنرل ضیاالحق نے عدالت عظمیٰ میں بھٹو کو بری کرنے کا اختلافی نوٹ لکھنے والے جسٹس محمد حلیم کو چیف جسٹس بنایا اور وہ 23 مارچ 1981ء تا 31 دسمبر 1989ء اس عہدے پر رہے۔ دونوں فوجی آمروں کا یہ اقدام بہ ظاہر اُن کی ’قانون پسندی‘ کا پتا دیتا ہے۔

کچھ تذکرہ ’ریمارکس‘ کا
گذشتہ برس جب ہم نے سابق چیف جسٹس (ر) اجمل میاں سے انٹرویو کے لیے اصرار کیا، تو وہ ریٹائرمنٹ کے 18 برس بعد بھی اسی اصول پر کاربند نظر آئے کہ جج کو فیصلوں سے بولنا چاہیے۔ دوٹوک انداز میں انٹرویو دینے سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ آپ کو کچھ جاننا ہے تو میرے فیصلے پڑھ لیجیے، لیکن بہت سے جج عدالتی فیصلوں کے علاوہ سماعت کے دوران ریمارکس کے ذریعے بھی بولتے ہیں۔ یوں تو ریمارکس کا موجودہ سلسلہ 1990ء کی دہائی سے شروع ہوا اور کسی نہ کسی طور چلتا رہا، لیکن جسٹس افتخار محمد چوہدری کے زمانے میں یہ زیادہ زور پکڑ گیا۔ مختلف مقدمات کے دوران ریمارکس کے سبب لوگ ممکنہ فیصلوں کے اندازے لگانے لگتے ہیں۔

بعض اوقات ریمارکس کا یہ سلسلہ خاصا غیرمناسب لگنے لگتا ہے، جس سے ایک مقدس ایوان کی سنجیدگی پامال ہوتی محسوس ہوتی ہے۔ ججوں کے ان ریمارکس کو اخبارات میں ہی نہیں، چینلوں کے خبرناموں میں بھی یہ ریمارکس چسکیاں لے لے کر پیش کیا جاتا ہے۔ ان ریمارکس پر تبصروں کے ذریعے ججوں پر جانب داری یا ان پر تنقید وتوصیف کے سلسلے شروع ہو جاتے ہیں، جیسے یہ کہ ’’ایسا فیصلہ دیں گے جو صدیوں یاد رکھا جائے گا۔‘‘ اسی طرح ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا گیا کہ ’’اس خطے میں دو قومیں تھیں، ایک مسلمان اور دوسری کا میں نام بھی نہیں لینا چاہتا۔‘‘ ایک اور جگہ یہ کہا گیا کہ ’’تقریر کو کسی عورت کے اسکرٹ جیسا ہونا چاہیے، جو زیادہ لمبی ہو تو دل چسپی ختم ہو جاتی ہے اور بہت مختصر ہو تو اصل مدعا ہی حل نہیں ہوتا۔‘‘ جس کے بعد اس پر معذرت بھی کی اور کہا کہ انہوں نے ونسٹن چرچل کی بات سے مثال دی تھی۔

عدلیہ کی تاریخ کے اہم واقعات ومقدمات
پہلے چیف جسٹس کی اصول پسندی
جسٹس سر عبدالرشید نے قائداعظم محمد علی جناح سے پاکستان کے پہلے گورنر جنرل کے عہدے کا حلف لیا۔ وہ متحد ہندوستان کے سینیر ترین مسلمان جج تھے۔ 1949ء میں ’فیڈرل کورٹ آف پاکستان‘ قائم ہوئی، تو جسٹس سر عبدالرشید اس کے پہلے چیف جسٹس مقرر ہوئے۔ حکومت کے خلاف مقدمات کی سماعت کے دوران اس وقت کے وزیراعظم لیاقت علی خان نے اُن سے ملاقات کی خواہش کا اظہار کیا ، مگر جسٹس سرعبدالرشید نے انہیں اپنے گھر آنے سے منع کر کے اصول پسندی کی ایک قابل تقلید نظیر قائم کی، لیکن بدقسمتی سے ان کے بعد چیف جسٹس بننے والے جسٹس محمد منیر نے عدلیہ کے ماتھے پر کلنک کا ٹیکا لگا گئے۔

جسٹس محمد منیر کا ’نظریۂ ضرورت‘
24اکتوبر 1954ء کو گورنر جنرل غلام محمد نے ملک کی پہلی قانون ساز اسمبلی تحلیل کر دی، جس پر اسپیکر مولوی تمیز الدین نے چیف کورٹ آف سندھ میں درخواست دی، چیف جسٹس سندھ جسٹس کانسٹنٹائن کی عدالت نے اس اقدام کو غیرقانونی قرار دے دیا، جس پر گورنر جنرل غلام محمد نے فیڈرل کورٹ میں اس فیصلے کے خلاف اپیل کی، جہاں جسٹس محمد منیر نے نظریۂ ضرورت کے تحت اسمبلی کی تحلیل کو جائز قرار دے دیا۔ اس فیصلے کو آج بھی ہماری عدلیہ کی تاریخ کا سیاہ ترین باب کہا جاتا ہے۔ 1958میں ایوب خان کے مارشل لا کے خلاف ایک مقدمے میں حکومت کا تختہ الٹنے کے اصول کو بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ قرار دیا گیا، اور اسی اصول کو بنیاد بناتے ہوئے، ملک میں نافذ مارشل لا کو جائز قرار دے دیا گیا۔ جسٹس اے آر کارنیلئس، مولوی تمیز الدین کیس میں اختلافی نوٹ لکھنے والے واحد جج تھے۔ 13 مئی 1960ء کو جسٹس ایلون رابرٹ کارنیلئس نے چیف جسٹس آف پاکستان کا عہدہ سنبھالا۔ وہ اب تک پاکستان کی تاریخ کے واحد غیرمسلم چیف جسٹس ہیں۔ ان کے علاوہ، جسٹس بھگوان داس 2007 میں قائم مقام چیف جسٹس تعینات ہوئے تھے۔

جنرل یحییٰ خان کی حکومت غاصب
جسٹس حمود الرحمان 18 نومبر 1968کو چیف جسٹس کے عہدے پر فائز ہوئے۔ یحییٰ خان کی اقتدار سے رخصتی کے بعد جسٹس حمودالرحمان کی سربراہی میںقائم ایک بینچ نے عاصمہ جیلانی کیس میں جنرل یحییٰ خان کے اقتدار کو غیرقانونی قرار دیتے ہوئے انہیں غاصب قرار دیا، مگر یہ فیصلہ ذوالفقار علی بھٹو کے دور میں سنایا گیا۔

جسٹس محمد یعقوب علی کی سبک دوشی!
جسٹس محمد یعقوب علی اْس بنچ کا حصہ تھے، جس نے جنرل یحییٰ خان کے اقتدار کو غیرقانونی قرار دیا۔ 1975ء میں وہ ملک کے آٹھویں چیف جسٹس بنے۔ 5 جولائی 1977ء کو جنرل ضیا الحق نے ذوالفقار بھٹو کی حکومت کا تختہ الٹ کر مارشل لا نافذ کردیا۔ اس کے بعد بیگم نصرت بھٹو نے مارشل لا قوانین کے تحت ذوالفقار علی بھٹو کی گرفتاری کو سپریم کورٹ میں چیلینج کیا اور یہ درخواست سماعت کے لیے منظور کرلی گئی، جنرل ضیا الحق نے نہایت چستی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اگلے روز ہی ذوالفقار علی بھٹو دور میں عدلیہ اور ججوں کی ریٹائرمنٹ کی عمر کے حوالے سے کی گئی آئینی ترامیم کو منسوخ کردیا، جس کے نتیجے میں جسٹس یعقوب علی کو 22 نومبر 1977ء کو چیف جسٹس آف پاکستان کے عہدے سے سبک دوش کردیا گیا۔

ذوالفقار علی بھٹو کی سزا
جنرل ضیاالحق کے مارشل لا کے بعد معزول وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کو نواب محمد احمد قصوری کے قتل کے مقدمے میں انہیں سزائے موت سنائی گئی۔ اس مقدمے کی سماعت کرنے والے بنچ میں شامل جسٹس نسیم حسن شاہ نے بعد میں متعدد مرتبہ اس کی سماعت اور فیصلے کے دوران دباؤ کا اعتراف کیا۔ اس کے بعد وہ چیف جسٹس آف پاکستان کے عہدے پر بھی فائز ہوئے اور ریٹائرمنٹ کے بعد انہیں کرکٹ بورڈ کی سربراہی بھی سونپی گئی۔ اس اعتراف کے باوجود جسٹس نسیم حسن شاہ کسی بھی قسم کی قانونی گرفت سے آّزاد رہے۔ یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس لرزہ خیز انکشاف کے بعد آخر انہیں کٹہرے میں کیوں نہیں بلایا گیا، ان سے کیوں نہ پوچھا گیا کہ انہوں نے اپنے عہدے سے بددیانتی کیوں کی اور کیوں عدلیہ کے مقدس ایوان کا وقار مجروح کیا۔

جسٹس انوار الحق کا ’’نظریۂ ضرورت ‘‘
جسٹس محمد منیر کے پہلے نظریۂ ضرورت کے بعد ایک اور چیف جسٹس انوار الحق نے بھٹو حکومت کی برطرفی اور جنرل ضیا کے اقتدار کو نظریۂ ضرورت کے تحت جائز قرار دیا اور بھٹو کے خلاف لاہور ہائی کورٹ سے سنائی جانے والی پھانسی کی سزا برقرار رکھی۔ یوں ایک عشرے کی فوجی حکومت اور ملک دو لخت ہونے کے بعد دھرتی کے سینے پر ایک اور مارشل لا کے گھاؤ پر ’قانون‘ کی مہر ثبت کردی گئی، یہ سیاہ دور 17 اگست 1988ء کو ضیاالحق کی فضائی حادثے میں موت تک جاری رہا۔ اس آئینی خلاف ورزی پر کوئی مقدمہ درج ہوا اور نہ ہی کسی کمیشن کے ذریعے اس آئین شکنی کے ذمے داروں اور ان کے سہولت کاروں کا تعین کیا گیا۔

جسٹس محمد حلیم ’پی سی او‘ پر چیف جسٹس بنے
24مارچ 1981ء کو جنرل ضیا نے عبوری آئین نفاذ کیا، جس کے تحت 1977ء کے بعد کیے گئے، تمام فیصلوں کو قانونی قرار دے دیا گیا۔ جسٹس محمد حلیم نے جنرل ضیا الحق کے پی سی او کے تحت 1981میں چیف جسٹس آف پاکستان کی حیثیت سے حلف اٹھا لیا، قابل ذکر بات یہ ہے کہ یہ وہی جسٹس محمد حلیم تھے، جنہوں نے عدالت عظمیٰ میں بھٹو کی سزائے موت کے خلاف اپیل کی سماعت کی اور تین ججوں کے ساتھ یہ اقلیتی فیصلہ دیا تھا کہ ذوالفقار بھٹو کو بری کردیا جائے، جب کہ چار ججوں نے سزا برقرار رکھی جن میں جسٹس ایس انوارالحق، جسٹس محمد اکرم، جسٹس نسیم حسن شاہ اور جسٹس کرم الٰہی چوہان شامل تھے، بری کرنے کا نوٹ لکھنے والے دیگر دو جج جسٹس دوراب پٹیل اور جسٹس غلام صفدر شاہ تھے۔ ذوالفقار بھٹو کو بری کرنے کی سوچ رکھنے والے جسٹس محمد حلیم، جنرل ضیا الحق کے دور میں طویل ترین مدت کے لیے چیف جسٹس رہے۔ وزیراعظم محمد خان جونیجو کی حکومت کے خاتمے کے خلاف دائر کی گئی درخواست پر جسٹس حلیم کی سربراہی میں قائم بنچ نے اس اقدام کو غیر آئینی قرار دیا، مگر طے شدہ انتخابات بھی کرانے کا حکم دیا۔

نواز حکومت کی بحالی 1993ء
1993ء میں صدر اسحق خان نے وزیراعظم نوازشریف کی حکومت برطرف کی ، تو وہ عدالت عظمیٰ چلے گئے، جہاں جسٹس نسیم حسن شاہ نے ان کی حکومت کی برخاستگی کو غیر قانونی قرار دے کر انہیں وزارت عظمیٰ پر بحال کردیا۔ یہ ملکی عدلیہ تاریخ میں اپنی نوعیت کا ایک منفرد واقعہ ہے، جس میں ایک معزول وزیراعظم عدالت سے بحال ہوا۔ اگرچہ اس بحالی کے بعد آرمی چیف جنرل عبدالوحید کاکڑ نے مداخلت کرکے وزیراعظم نوازشریف ہی نہیں، صدر اسحاق خان سے بھی استعفا لے لیا اور نئے عام انتخابات کرائے گئے۔

سجاد علی شاہ کی چیف جسٹس کے عہدے پر ترقی
5جون 1994ء کو جسٹس سجاد علی شاہ نے چیف جسٹس آف پاکستان کی حیثیت سے حلف اٹھایا، انہیں بے نظیر حکومت نے آؤٹ آف ٹرن ترقی دیتے ہوئے، چیف جسٹس مقرر کیا، اختلافی نوٹ تھا، جس میں جسٹس سجاد علی شاہ نے لکھا تھا کہ سندھ کے وزرائے اعظم کی حکومتیں بحال نہیں کی گئیں، تو پنجابی وزیراعظم کے معاملے میں تعصب کیوں برتا جا رہا ہے۔ وہ 1996ء میں ہونے والے مشہور ججز کیس کا فیصلہ سنانے والی بنچ کے سربراہ تھے، جس کے مطابق ججوں کی تقرری میں سنیارٹی کے اصول کو بنیاد بنایا گیا۔

1997ء کا عدالتی بحران
عدالت عظمیٰ میں نواز حکومت کی بحالی کے اس فیصلے سے اختلاف کرنے والے چیف جسٹس سجاد علی شاہ کے زمانے میں 27 نومبر 1997ء کو وزیرِاعظم نوازشریف کی ایک مقدمے میں چیف جسٹس کی تین رکنی عدالت میں پیشی تھی، مگر نواز لیگی کارکنوں کی جانب سے شدید ہنگامے کی بنا پر سماعت مکمل نہ ہوسکی، چیف جسٹس نے تیرہویں آئینی ترمیم معطل کر کے صدر کا اسمبلی تحلیل کرنے کا اختیار بحال کر ڈالا، مگر دوسرے کمرے میں عدالت عظمیٰ کے دس رکنی بینچ نے جسٹس سعید الزماں صدیقی کی سربراہی میں اس تین رکنی بینچ کے حکم کو معطل کردیا۔ یوں ایک بڑا عدالتی بحران پیدا ہوا، جس کا نتیجہ جسٹس سجاد علی شاہ کی معزولی کی صورت میں برآمد ہوا اور جسٹس اجمل میاں نئے چیف جسٹس بنے۔ یوں دسمبر 1997ء میں یہ عدالتی بحران ختم ہوا۔

شہباز شریف اور جسٹس قیوم کا کال اسکینڈل
سابق وزیراعظم نواز شریف کے دوسرے دور حکومت (1997-1999) کے دوران نیب کے چیئرمین سیف الرحمن اور شہباز شریف کی لاہور ہائی کورٹ کے جج جسٹس قیوم کو کالیں کی گئیں، ایک فون کال کی ریکارڈنگ منظر عام پر آئی، جس کے بعد جسٹس قیوم کو اپنے عہدے سے مستعفی ہونا پڑا۔ اس کال میں شہبازشریف، نوازشریف کا پیغام جسٹس قیوم کو پہنچاتے ہیں اور جسٹس قیوم اْس میں اِن کی مرضی کا فیصلہ دینے کا وعدہ کرتے ہیں۔ عدلیہ پر حکومتی دباؤ اور فیصلوں میں جانب داری کے حوالے سے یہ ہماری تاریخ کا ایک اور سیاہ باب ہے۔لیکن اس پر جسٹس قیوم کا کوئی مواخذہ نہیں ہوا۔

جسٹس ارشاد حسن کا ’نظریۂ ضرورت‘
1999ء میں جنرل پرویز مشرف نے نوازشریف کی حکومت ختم کی، پھر جب اس بر طرفی کے خلاف درخواستیں عدالت میں آئیں، تو ججوں کو پابند کر دیا گیا کہ وہ عبوری آئین (پی سی او) کے تحت حلف اٹھائیں۔ چیف جسٹس سعید الزماں صدیقی نے انکار کردیا، یوں 26 جنوری 2000ء کو جسٹس ارشاد حسن خان پی سی او کے تحت نئے چیف جسٹس مقرر ہو گئے، اور حکومت کی برطرفی کو جائز قرار دے دیا، ساتھ ہی جنرل پرویزمشرف کی فوجی حکومت کو تین برس میں انتخابات کرانے کا حکم دیا۔ سپریم کورٹ نے جنرل پرویز مشرف کو آئین میں مرضی کی ترمیم کرنے کا اختیار بھی دے دیا۔ یہ امر ’نظریہ ضرورت‘ سے بھی ایک قدم آگے بڑھ کر تھا۔

مختاراں مائی کیس
2002ء میں صوبہ پنجاب میں پنچایت کے حکم پر خاتون مختاراں مائی کو اجتماعی عصمت دری کا نشانہ بنایا گیا۔ انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت نے چھے ملزمان کو سزائے موت سنائی۔ لاہور ہائی کورٹ نے پانچ ملزمان کو بری کر دیا، جب کہ ایک ملزم کی سزا کو عمر قید میں تبدیل کر دیا، جو اپریل 2017ء میں سزا کاٹ کر رہا ہو گیا۔ مختاراں مائی نے کہا سب سے بڑی اللہ کی عدالت ہے، مجھے وہاں سے انصاف ملے گا۔ یہ وہی مقدمہ ہے، جس کی بابت جنرل پرویز مشرف نے شرم ناک انداز میں یہ الزام عائد کیا تھا کہ خواتین بیرون ملک کا ویزہ لینے کے لیے اس عمل کا ارتکاب کرتی ہیں۔

’اصغر خان کیس‘ کا طویل التوا
تحریک استقلال کے سربراہ ائیر مارشل (ر) اصغر خان نے سپریم کورٹ میں 1990ء کے انتخابات میں اسٹیبلشمنٹ کی جانب سے رقوم تقسیم کرنے کے معاملے پر ایک عرضی داخل کی، یہ مقدمہ عدالت عظمیٰ میں سماعت کے لیے منظور تو ہوگیا، لیکن 15 برس تک زیرالتوا رہا۔ بالآخر 2012ء میں اس مقدمے کی سماعت شروع ہوئی، مختلف فریقین پیش ہوئے اور پھر اس مقدمے کا فیصلہ سنا دیا گیا، جس کے مطابق 1990ء میں بے نظیر بھٹو کے خلاف انتخابی اتحاد میں نواز شریف، شہباز شریف، جاوید ہاشمی، پیر پگارا، مصطفیٰ جتوئی، محمدخان جونیجو، جام صادق، جام یوسف، جماعت اسلامی اور دیگر جماعتوں کو رقوم بانٹی جانے کی تصدیق ہو گئی۔

جنرل پرویز مشرف پر غداری کا مقدمہ
2013ء میں حکومت نے نومبر 2007ء میں ہنگامی حالت کے نفاذ پر جنرل پرویز مشرف کے خلاف غداری کا مقدمہ شروع کیا۔ اس سے قبل کسی آمر پر ایسے کسی بھی مقدمے کی نظیر موجود نہیں۔ مقدمے کی سماعت کے دوران پرویزمشرف نے کمر درد کو جواز بنا کر ملک سے باہر جانے کی اجازت حاصل کرلی اور 18 مارچ 2016ء کو وہ دبئی روانہ ہوگئے۔ جاتے ہوئے وہ چند مہینوں میں وطن واپس آکر مقدمات کا سامنا کرنے اور سیاست میں متحرک کردار ادا کرنے کا اعلان کر گئے، لیکن تاحال واپس نہیں لوٹے۔ بیرون ملک روانگی کے بعد ان کی ایک تقریب کی ویڈیو بھی منظر عام پر آئی جس میں وہ شاداں وفرحاں محو رقص دکھائی دیتے تھے، اس ویڈیو کے سامنے آنے بعد ان کے ’کمر درد‘ کے بارے میں چہ می گوئیاں بڑھ گئیں کہ کمردرد تو ویسے بھی کوئی ایسا مہلک عارضہ تو نہیں، جس کا علاج اندرون ملک ممکن ہی نہ ہو اور ملزم معمولی بیماری کو جواز بنا کر عدالت میں پیش نہ ہو اور ملک سے باہر چلا جائے۔ کہا جاتا ہے کہ فوجی اسٹیبلشمنٹ نے ان کی سفارش کی تھی۔

100سال پرانے مقدمے کا فیصلہ
30جنوری 2018ء کو عدالت عظمیٰ میں جائیداد کی تقسیم کا ایک صدی پرانے مقدمے کا فیصلہ سنایا، جو 1918ء سے زیرسماعت تھا۔ صوبہ پنجاب کے جنوب میں واقع شہر بہاول پور کے علاقے خیر پور ٹامے والی کے رہائشی محمد نصراللہ کی پڑدادی روشنائی بیگم نے جو اس وقت انڈین صوبے راجستھان میں رہائش پذیر تھیں، جائیداد کی تقسیم کے حوالے سے اپنے بھائی شہاب الدین کے خلاف ایک درخواست 1918ء میں سول عدالت میں دائر کی تھی۔ قیام پاکستان کے بعد اس جائیداد کے بدلے میں پاکستان میں ضلع بہاولپور اور ضلع مظفر گڑھ میں زرعی اراضی کے 36 ہزار یونٹ فراہم کیے گئے جو کہ 56 مربع بنتے ہیں۔ اس وقت اس جائیداد کے قانونی ورثا کی تعداد 500 سے تجاوز کرچکی ہے۔ قانونی ماہرین کے مطابق ان قانونی ورثا میں جائیداد کی مساوی تقسیم ایک مشکل عمل ہوگا۔
عدالتی ضابطۂ اخلاق کے تحت جج کو جذباتی نہیں ہونا چاہیے، متلون مزاج نہیں ہونا چاہیے اور سب سے بڑی چیز یہ کہ عدالتوں کے کام میں شفافیت ہونی چاہیے۔ اب میں آپ کو اس کی ایک مثال بتاتا ہوں۔ آرٹیکل باسٹھ ون ایف کے تحت کچھ لوگوں کو نااہل قرار دیا گیا۔ اور عدالت میں یہ تبصرے کیے جا رہے ہیں کہ آرٹیکل باسٹھ ون ایف کے تحت جو بندہ صادق و امین نہیں رہا اس کی سزا کی کوئی میعاد ہے یا نہیں ہے۔ اب پہلی چیز یہ کہ ہمارے چیف جسٹس صاحب نے پانچ رکنی بینچ بنادیا وہ کیس تیس تاریخ کو لگنے والا تھا لیکن انہوں نے اس سے پہلے ہی بھری عدالت میں کہا کہ ہم کو یہ دیکھنا ہے کہ یہ سزا ایک سال کی ہے۔
تین سال کی ہے، یا پانچ سال کی ہے۔ اب یہ بتائیے کہ آپ نے اس معاملے کو اوپن کرنے پہلے ہی اس بات کا اظہار کردیا کہ سزا کی میعاد ایک سال ہے، تین سال ہے یا پانچ سال ہے، جب کہ آرٹیکل باسٹھ ون ایف تو کسی مدت کی بات ہی نہیں کر رہا۔ 2013 میں سپریم کورٹ کے کم از کم دو فیصلے ایسے ہیں جس میں انہوں کہا کہ باسٹھ ون ایف کے تحت ملنے والی سزا لامتناہی ہے، اس میں مدت کی کوئی قید نہیں ہے۔ پھر اس کے بعد آپ نے نوازشریف کے بارے میں فیصلہ سنانے والے کیس میں شامل دو سنیئر ترین ججز آصف سعید کھوسہ اور جسٹس گلزار کو اس بینچ میں شامل نہیں کیا۔ اس پانچ رکنی بینچ میں معاملہ احتساب عدالت میں بھیجنے والے صرف دو ججوں کو رکھا گیا۔
آپ نے سنیئر جج صاحبان کو بینچ میں شامل کیوں نہیں کیا؟ ایک جج صاحب جو ہر وقت آپ کے ساتھ رہتے ہیں، عمر عطا بندیال، انہیں آپ نے بینچ میں شامل کرلیا۔ پھر آپ نے جو پانچواں جج رکھا ہے وہ سپریم کورٹ کا موسٹ جونیئر جج ہے، تو بھئی آپ یہ کر کیا رہے ہیں، یہ ہو کیا رہا ہے؟ اگر آپ نے پہلے سے ایک کیس کے بارے میں اپنے خیالات کا اظہار کردیا تو اپ نے خود کو ڈس کوالیفائی کردیا۔ ویسے بھی نوازشریف کا کیس سننے کے لیے پہلے ہی ڈس کوالیفائی ہیں، کیوں کہ نوازشریف کے پچھلے دور حکومت میں تو آپ وفاقی سیکریٹری قانون تھے۔ جب عدالتوں میں شفافیت نہیں ہوگی تو ظاہر ہے لوگ کہیں گے کہ ووٹ کا تقدس پامال کردیا۔ اور دوسری بات یہ ہے کہ جب یہ کیس احتساب عدالت میں زیرالتوا ہے اور مہینے کے اندر اندر فیصلہ آجانا ہے، تو آپ کو اس وقت یہ کیس لینے کی ضرورت کیا تھی؟ آپ پہلے سے ہی اس بات کا تعین کیوں کرنا چاہتے ہیں کہ مدت سال بھر کی ہے دو سال کی ہے یا تین سال کی ہے، آپ تو اسے چار ماہ کی بھی کرسکتے ہیں، تاکہ نوازشریف اگلے انتخابات میں حصہ لے لیں، یہ کیا مذاق چل رہا ہے بھئی؟
حکومت کے ساتھ ساتھ عدالتی عملے کو بھی صحیح ہونا چاہیے انہیں راہ نمائی کرنی چاہیے۔ آپ کبھی کورٹ جائیں تو پتا چلتا ہے کہ پچاس کیس لگے ہوئے ہیں، سب جاکر ریڈر کے پیچھے لگے ہوتے ہیں، وہاں رشوت بھی چلتی ہے، جان پہچان بھی چلتی ہے وہ (ریڈر) آپ کو کہتا ہے کہ آدھے گھنٹے بعد آئو تاریخ لگ جائے گی۔ تاریخ دینے کا ایک منظم طریقہ کار ہونا چاہیے۔ میں سمجھتا ہوں کہ عدالتی فیصلے پر تنقید ضرور ہونی چاہیے لیکن یہاں ججمنٹ کا سوال ہے اگر آپ دوران سماعت کسی کیس پر تنقید کرتے ہیں تو اس کے کیس پر اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ یہ سمجھنا کہ ججز اخبار نہیں پڑھتے غلط ہے، حالاںکہ کیس چلنے کے دوران انہیں اخبار نہیں پڑھنا چاہیے۔
انگلینڈ کا مجھے معلوم ہے وہاں جیوری بیٹھتی ہے جو حقائق پر اور قانون پر فیصلہ جج کرتا ہے، یعنی اس آدمی نے یہ قتل کیا ہے یا نہیں یہ فیصلہ جیوری اور سزا کیا ملنی چاہیے اس بات کا فیصلہ جج کرتا ہے۔ بارہ افراد پر مشتمل جیوری سے صبح آنے کے بعد حلف لیا جاتا ہے، اس کے بعد جیوری کے ارکان کسی سے بات نہیں کرسکتے، کسی سے مل نہیں سکتے، ٹی وی، ریڈیو نہیں سن سکتے، اخبار نہیں پڑھ سکتے۔ اس کے بعد سب مل کر حقائق پر فیصلہ کر دیتے ہیں اور جج صاحب فیصلہ سنا دیتے ہیں۔ لیکن ہم یہاں یہ نظام نہیں چلا سکتے کیوں کہ ایک تو یہ منہگا بہت ہے، دوسرا یہاں عام آدمی پر کوئی بڑا آدمی، جاگیردار حاوی ہوجائے گا۔

٭ 52سال سے زیر التواکیس
کراچی کے علاقے بنارس چوک کے رہائشی ’’ن‘‘ (مدعی کی درخواست پر نام نہیں دیا گیا) کے دادا کی زمینوں پر ایک دوسرے فریق نے قبضہ کرلیا، جس پر ان کے دادا نے 1966میں سندھ ہائی کورٹ میں اپنی زمین واگزار کرانے کے لیے مقدمہ درج کرایا۔ زمین پر ملکیت کے دعوے دارفریقین زمین پر اپنی ملکیت کا خواب دیکھتے دیکھتے رزق زمین ہوگئے۔ یہ کیس ہائی کورٹ اپیل میں بھی گیا، سپریم کورٹ میں بھی گیا اس کے بعد ریمانڈ ہوگیا اور سپریم کورٹ نے اس کیس کو واپس ہائی کورٹ بھیج دیا کہ جی اس کی دوبارہ سماعت کرکے دوبارہ فیصلہ دیں۔
پھر 51سال بعد 15 اگست 2017 کو سندھ ہائی کورٹ نے اس کیس پر فیصلہ دے دیا۔ لیکن اب ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف مخالف فریق نے پھر اپیل دائر کردی ہے۔ اب یہ کیس دوبارہ سے چلے گا۔ ہمیں اپنی ہی زمین پر ملکیت کا حق ثابت کرنے میں نصٖف صدی لگ گئی ہے اور یہ بھی نہیں پتا کہ اپیل پر فیصلہ ہونے میں ایک سال لگے، دو سال لگے، ہوسکتا ہے کہ اس اپیل پر فیصلہ ہونے کے بعد دوسرا فریق بھی اپیل دائر کردے، اس طرح اس کیس کے فیصلے میں ساٹھ سال بھی لگ سکتے ہیں۔
یہ ایک کیس تو محض’ مشتے نمونے ازخر وارے‘ کے طور پر دیاگیا ورنہ ایسے ہزاروں مقدمات ہیں، جو پچاس، پچاس ساٹھ، ساٹھ سالوں سے زیر التوا ہیں۔ دادا کی جانب سے دائر کیے گئے کیس کی پیروی میںاب پوتا پڑپوتا اپنے جوتے گھسیٹ رہا ہے۔ کتنے ہی سائلین نظام عدل سے انصاف کی امید لیے اس جہان فانی سے رخصت ہوچکے ہیں، لیکن انصاف ابھی تک ان کے لیے شجرِ ممنوعہ بنا ہوا ہے۔ عدالتوں نے حالیہ برسوں میں ایسے کئی فیصلے سنائے جس میں سزائے موت کے ملزم کو بے گناہ قرار دیا گیا لیکن ہمارا جیل کا ’ فرض شناس‘ عملہ اسے فیصلے سے دو سال قبل ہی تختہ دار پر لٹکا چکا تھا۔
مقدمات کے فیصلوں میں تاخیر کتنے ہی نوجوانوں کا مستقبل تاریک کرچکی ہے۔ دس ، پندرہ سال جیل میں رکھنے کے بعد آپ اسی نوجوان کو بے گناہ قرار دے دیتے ہیں جو اپنی زندگی کے قیمتی سال آہنی سلاخوں کے پیچھے گذار دیتا ہے۔ پنجاب کے ایک گائوں میں مختاراں مائی کو اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنایا گیا اور بعدازاں ایک ملزم کو سزائے قید دے کر باقیوں کو چھوڑ دیا گیا۔ بلوچستان میں مریضوں کی مسیحائی کرنے والی ڈاکٹر شازیہ کو درجنوں محافظوں میں گھرے قدرتی گیس کے پلانٹ میں اس کے اپنے ہی گھر میں جنسی اور جسمانی تشدد نشانہ بنایا گیا، لیکن وہ آج تک انصاف کی منتظر ہے اور عدالت نے بھی شاید کچھ نا گزیر وجوہات کی بنا پر ملزمان کے خلاف سوموٹو ایکشن نہیں لیا! آخر انصاف کے لیے دوہرا معیار کب تک!
ایک دھرنے میں چیف جسٹس آف پاکستان کو درجنوں میڈیا کیمروں کے سامنے گالیاں دی جاتی ہیں، لیکن اسے توہین عدالت کا مرتکب قرار نہیں دیا جاتا! بڑے کیسز میں ازخود نوٹس کیوں نہیں لیا جاتا! سرے محل سے رائے ونڈ تک، حسین حقانی، سیف الرحمان سے واجد شمس الحسن تک بدعنوانیوں، اقربا پروری اور عوامی حقوق کی پامالی کی ایک طویل فہرست ہے۔ایک عام آدمی کے ذہن میں آج بھی یہی سوال گردش کرتا ہے کہ آخر کن وجوہات کی بنا پر ان طاقت ور افراد کے خلاف سو موٹو ایکشن نہیں لیا گیا؟ کیا ازخود نوٹس لینے کی حد، زیادتی ، قتل کے مقدمات تک محدود ہے؟ کیا ہمارا طبقئہ اشرافیہ قانون سے ماورا ہے؟ اگر نہیں تو پھر ملک کی دولت لوٹنے والے کرپٹ عناصر کے خلاف بھی ایک ازخود نوٹس لیا جانا چاہیے۔

مختلف عدالتوں زیرالتوا مقدمات
زیرسماعت مقدمات کے بارے میں سائلین شکایت کرتے ہیں کہ مبینہ طور پر تاریخ بڑھوا کر وکیل دیگر مقدمات میں مصروف رہتے ہیں۔ اسلام آّباد ہائی کورٹ بار کے سابق صدر طارق محمود جہانگیر مقدمات کی سست روی میں وکلا کو برابر کا ذمہ دار قرار دیتے ہیں۔ لا اینڈ جسٹس کمیشن آف پاکستان (Law and Justice Commission of Pakistan) کے اعدادوشمار کے مطابق ملک میں لاکھوں کی تعداد میں مقدمات زیرالتوا ہیں۔ جن میں عدالت عظمیٰ میں 38 ہزار 539 اور ملک کی پانچ ہائی کورٹوں میں 2 لاکھ 93 ہزار 947 مقدمات زیر التوا ہیں، جس کی تفصیل کچھ یوں ہے: لاہور ہائی کورٹ میں 1 لاکھ 47 ہزار 542، سندھ ہائی کورٹ میں 93 ہزار 335 ، پشاور ہائی کورٹ میں 30ہزار 764، بلوچستان ہائی کورٹ میں 6 ہزار 30 اور اسلام آباد ہائی کورٹ میں 16 ہزار 278 مقدمات زیرالتوا ہیں۔ اسی طرح ملک کی ضلعی عدالتوں میں زیرالتوا مقدمات کا شمار کچھ اس طرح ہے۔ پنجاب میں 11 لاکھ 84 ہزار 551، سندھ میں 97 ہزار 673 ، خیبر پختونخوا میں 2لاکھ 4 ہزار 30، بلوچستان میں 12ہزار 826 اور اسلام آباد میں 37ہزار 753 مقدمات زیرالتوا ہیں۔

ریٹائرمنٹ کے بعد عہدے
عدلیہ کے ناقدین کہتے ہیں کہ اہل اقتدار اور سیاست دان ججوں سے من مانے فیصلے کرانے کے بدلے انہیں مبینہ طور پر بعد از ریٹائرمنٹ اعلیٰ عہدوں پر تعینات کرنے کا لالچ دیتے ہیں۔ ہمارے ہاں سبک دوش ججوں کی مختلف عہدوں پر تعینات کی مثالیں موجود ہیں، تاہم یہ ضروری نہیں ہے کہ تمام ججوں کو ریٹائرمنٹ کے بعد عہدے کی صورت میں کسی جانب داری کا ہی صلہ دیا گیا ہو، بہت سے معزز ججوں کی تعیناتی اُن کے احترام اور بلند کردار کے سبب بھی ہوئی۔
1997ء میں جب صدر فاروق احمد لغاری مستعفی ہوئے، تو مسلم لیگ (ن) نے سپریم کورٹ کے سابق جج جسٹس (ر) محمد رفیق تارڑ کو صدرمملکت بنایا، رفیق تارڑیکم نومبر 1994ء کو اپنے عہدے سے ریٹائر ہوئے تھے۔ اس سے قبل ساتویں چیف جسٹس حمود الرحمان ریٹائرمنٹ کے بعد جنرل ضیا الحق کے مشیر برائے قانونی امور رہے۔ چیف جسٹس نسیم حسن شاہ اپنی ریٹائرمنٹ کے بعد پاکستان کرکٹ بورڈ کے سربراہ بنے۔ چیف جسٹس ارشاد حسن خان 6 جنوری 2002ء کو چیف جسٹس آف پاکستان کے عہدے سے ریٹائر ہوگئے، جس کے بعد وہ چیف الیکشن کمشنر بن گئے۔ سابق چیف جسٹس، جسٹس (ر) سعید الزماں صدیقی کو 2008ء میں نواز لیگ نے اپنا صدارتی امیدوار نام زَد کیا، لیکن وہ سرخرو نہ ہوسکے، پھر 2016ء میں انہیں گورنر سندھ بنایا گیا۔ 2013ء میں پاکستان تحریک انصاف نے سابق چیف جسٹس سندھ ہائی کورٹ جسٹس (ر) وجیہہ الدین احمد کو بھی امیدوار نام نام زَد کیا، لیکن ان کے مقابل ممنون حسین کام یاب ہوئے۔

ریاست کا چوتھا ستون ۔ میڈیا اور کرپشن

ذرائع ابلاغ سے مراد دراصل وہ ریاستی و نجی ادارے ہیں جو ایک خالص جمہوری ریاست میں سماجی، اخلاقی اور آئینی مسائل کی نشر و اشاعت کا اہتمام کرتے ہیں۔ قریبی وقت میں یہ ادارے اخبار اور رسائل تک محدود تھے۔ چنانچہ اس وقت ذرائع ابلاغ کی صرف ایک ہی صورت موجود تھی جسے معروف اصطلاح میں صحافت سے تعبیر کیا جاتا تھا جبکہ فی زمانہ ذرائع ابلاغ کا دائرہ غیر یقینی طور پر وسیع ہو گیا ہے۔ جدید تکنیکی ترقی کے سبب اب خبر قرطاس سے اڑ کر برقی آلات میں مزیّن ہو گئی ہے چنانچہ آج اخبار و رسائل کی جگہ انٹرنیٹ اور ٹی وی نے لے لی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج اصطلاحات بھی تبدیل ہو گئیں، چنانچہ قدیم ابلاغی اصطلاح ’صحافت‘ کی جگہ آج ’میڈیا‘ نے لے لی ہے۔ پس اس کی بھی تین اہم بنیادی جزئیات وقوع پذیر ہو گئی ہیں۔ سوشل میڈیا (سماجی محاذ) پرنٹ میڈیا(اشاعتی محاذ)اور الیکٹرانک میڈیا(برقی محاذ )، سوشل میڈیا کی جزئیات میں آج کل فیس بک، ٹویٹر وغیرہ جبکہ پرنٹ میڈیا میں اخبارات و رسائل اور الیکٹرانک میڈیا میں مختلف ٹی وی چینلز اس وقت اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔ کسی بھی خالص جمہوری ریاست میں ان چار ستونوں کا صحت مند اور آزاد ہونا بہت ضروری ہوتا ہے تاکہ اعلیٰ ترین نظمِ اجتماعی کا وقوع لاء اینڈ آرڈر کی برقرار صورت، انصاف کی بروقت فراہمی اور ذرائع ابلاغ کا مثبت اور بہترین اخلاقی کردار قائم ہو سکے۔
موجودہ دور میں میڈیا دو طرح کا ہے ایک الیکٹرانک میڈیا دوسرا سوشل میڈیا ، اس سے پہلے اخبارات کے ذریعے یا ریڈیو کے ذریعے سے لوگوں کے گھروں تک خبریں پہنچتی تھیں پھر 2002 میں الیکٹرونک میڈیا میدان میں آئی اور ساتھ میں سوشل میڈیا نے بھی قدم جمائے۔
جب اخبارات کا دور تھا اس زمانے میں بڑے سے بڑا صحافی کھدر کا کرتا اور شلوار پہنے، گردن میں کپڑے کا ایک تھیلا لٹکائے ، ہاتھ میں ایک کاپی اور پینسل لئے بسوں میں سفر کرتا تھا اور پاکستان کے اداروں کی کرپشن اور ان کے غیر قانونی کام کو لوگوں تک پہنچا۔پھر جب 2002 کے دور میں میڈیا چینلز و نیوز چینلز کا آغاز ہوا تو صحافتی اصول پس پشت چلے گئے ، جس کی بنیاد ہی غلط طور ڈالی گئی اور میڈیا مالکان دولت مند ہوتے ہوئے بھی اشتہاری چینلز بن گئے اور سیاستدانوں نے ملکی خزانے کے منہ کھول دیئے جس کی وجہ ان ریاستی ستونوں کی غیر قانونی حرکات و سکنات تھیں جن پر پردہ ڈالنے کیلئے اور میڈیا کو خاموش کرنے کیلئے عوامی خزانے سے ان کے منہ بند رکھنے کا عمل شروع ہوا اور ہر ادارے نے اس معاملے میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا یوں دیکھتے ہی دیکھتے راتوں رات نیوز اینکرز کڑوڑ پتی بن گئے اور ان کی خبریں ریاستی اداروں کی منشاء پر چلنے لگیں جھوٹ کو سچ ثابت کرنا اور سچ کو جھوٹ ثابت کرنا ان اینکرز کیلئے کوئی مشکل کام نہیں رہا اس طرح یہ ریاستی ستون بھی دوسرے کھوکھلے ستونوں کو آکسیجن فراہم کرنے لگا اور ریاست کا مکمل طور پر مفلوج کر دیا ۔
اب یہاں سوشل میڈیا کا کردار سامنے آتا ہے جہاں سچائی کے پہلو پر بات کرنے کیلئے گالی گلوچ کا سیلاب نظر آنے لگا ، گو کہ اب بھی سب سے طاقتور قوت سوشل میڈیا ہی ہے مگر ملک کی عوام نے اس کا بھی ستیاناس کر دیا ، پہلے لوگ علمی بحث میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے تھے اور کئی سماجی مسائل پر کھل کر بولتے تھے پھر سیاسی و مذہبی قلابازیوں نے اس میڈیا چینلز پر موجود عوام کو آپس میں بانٹ لیا اور عوام آپس میں دشمن بن گئے ۔
سماجی و معاشرتی مسائل پر لکھنے والوں نے اپنے قلم کی نوکیں توڑ دیں اور لکھنا چھوڑ دیا اب یہ حال ہے کہ اس سماجی ویب پر جو پوسٹس نظر آتی ہیں زیادہ تر سالگرہ مبارک اور میتوں کی خبروں تک محدود ہو کر رہ گئی ہیں جن کے پاس لکھنے کو کچھ نہیں ہوتا وہ تصاویر اور ویڈیوز وائرل کرنے لگ گئے ، کل سے مسلسل فحش ویڈیوز کی بھرمار ہے ، مسائل حل کرنے کے بجائے اسے تفریح کا ذریعہ بنا دیا گیا ہے۔
ماس میڈیا بڑے پیمانے پر لوگوں تک خبر اور اطلاعات پہنچانے کا غالباً سب سے طاقتور ہتھیار ہے اور اس میں رائے عامہ ہموار کرنے کی صلاحیت بھی بدرجۂ اتم موجود ہے۔ کوئی بھی تنظیم جو کسی ملک کے مرکزی ذرائع ابلاغ پر قابو پا لے، وہ لوگوں کے افعال اور زندگی گزارنے کے تصورات پر ناقابلِ یقین حد تک کنٹرول رکھتی ہے۔
صحافت کا سب سے اوّلین مقصد حقائق کی تلاش اور ان کی اطلاع دینا ہے لیکن واضح چیز یہ ہے کہ صحافی صرف خبروں کا احاطہ نہیں کرتے بلکہ ان سے جڑے ہوئے مفادات کو سمجھتے اور انہیں خبروں سے الگ بھی کرتے ہیں۔ ناؤم چومسکی روئے زمین پر موجود عظیم ترین دانشوروں میں سے ایک ہیں جو ایک قدم آگے بڑھ کر یہ کہتے دکھائی دئیے کہ ماس میڈیا خبریں دینے کی بجائے پروپیگنڈا کرکے لوگوں کے دماغ کو کنٹرول کرنے کیلئے بنیادی ہتھیار ہے۔ یہ جاننا حیرت کا باعث ہے کہ میڈیا کی آزادی کے علمبردار جمہوری معاشروں میں بھی کس طرح ریاست کا ستون سمجھے جانے والے ذرائع ابلاغ کو غلط معلومات اور جھوٹی خبریں پھیلانے کیلئے ایک مؤثر ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔
اگر اس تصور کی وضاحت مقصود ہو تو وہ میڈیا ہاؤسز کی ملکیت کے ارتکاز میں پوشیدہ ہے جس کے تحت کچھ افراد اور ادارے ذرائع ابلاغ کا کنٹرول سنبھال لیتے ہیں۔ آمرانہ یا جمہوری ریاستوں میں میڈیا یا تو ریاست کی ملکیت ہوتا ہے یا پھر اس کی سختی سے نگرانی کی جاتی ہے۔ موجودہ معاشرے میں میڈیا کوریج ایک اہم مسئلہ ہے کیونکہ اس سے میڈیا کی سالمیت داؤ پر لگ جاتی ہے اور ادارتی فیصلے متاثر ہوتے ہیں۔ امریکا میں 90 فیصد میڈیا ذرائع کی مالک صرف 5 کمپنیاں ہیں جن میں اے ٹی اینڈ ٹی (دنیا کی سب سے بڑی ٹیلی کام) جو وارنر میڈیا کی ملکیت رکھتی ہے جس میں سی این این، کوم کاسٹ (این بی سی یونیورسل)، ڈزنی (اے بی سی نیوز)، ویاکوم (سی بی ایس) اور حال ہی میں تشکیل پانے والی فوکس کارپوریشن (فوکس نیوز) شامل ہیں۔ آپ نے غور کیا ہوگا کہ خبروں کی صحافت چند ہاتھوں تک محدود ہے ، سو جب فوکس نیوز کسی چینی پانڈا پر توجہ مرکوز کرتا ہے یا جب بڑے پیمانے پرسفید فاموں کی جانب سے نسل پرستی پر مبنی قتل و غارت ہوتی ہے، یا سی این این اسرائیل پر داغے جانے والے راکٹس کی بات کرتا ہے اور فلسطینیوں پر ہونے والے ظلم و ستم کو نظر انداز کیا جاتا ہے تو یہ سب کچھ اپنی من مرضی کا ایجنڈا عوام پر تھوپنے کی بڑی منصوبہ بندی کے تحت کیا جاتا ہے۔
آپ اگر یہ کہیں کہ آپ ٹی وی نہیں دیکھتے یا خبریں نہیں پڑھتے، میڈیا آپ کا پیچھا پھر بھی نہیں چھوڑتا۔ ہم جہاں کہیں بھی جائیں ذرائع ابلاغ سے گھرے ہوئے ہیں۔ ٹی وی دیکھنے سے لے کر اپنی کار میں سفر تک ہمیں ایسے بے شمار پیغامات موصول ہوتے ہیں جو ہماری توجہ چاہتے ہیں۔ پیغامات کی مسلسل بھرمار کی جاتی ہے جس سے شعوری و غیر شعوری دونوں طرح کے پیغامات ہمارے ذہنوں میں جگہ بنانے میں کامیاب ہوجاتے ہیں۔ ہوسکتا ہے کہ ہم یہ پیغامات نظر انداز کرنا چاہیں مگر ہمارا لاشعور ان پیغامات کو پہچان لیتا ہے اور یہ کوئی حیرت کی بات نہیں کہ ایسے پیغامات بھیجنے پر خطیر رقوم خرچ کی جاتی ہیں۔ بہت سے ترقی پذیر ممالک سمیت یہ رقم خرچ کرنے کی روایت دنیا کے ہر ملک میں پائی جاتی ہے۔
حکومت اور خبری صحافت کے مابین ایک قریبی تعلق اور تنازعہ ہر وقت جاری رہتا ہے۔ حکومت عوام کے سامنے اچھی اور نیک پروین نظر آنے کیلئے میڈیا کنٹرول کرنا چاہتی ہے جس سے ایک بڑا سوال پیدا ہوتا ہے کہ میڈیا کنٹرول کون کرتا ہے؟ کیا میڈیا حقیقت میں آزاد ہے یا اس کے پیچھے کوئی ایجنڈا کام کرتا ہے؟ یہاں ایک پرانا قول صادق آتا ہے کہ اگر آپ بڑے بڑے جھوٹ بولیں اور انہیں دہراتے رہیں تو حتمی طور پر لوگ ان پر یقین کرنا شروع کردیں گے۔یہ وقت کی بہت بڑی سچائی ثابت ہوئی ہے۔
1609ء میں جرمنی سے پہلا مطبوعہ خبرنامہ (اخبار ) اویساریشن آرڈرزیٹنگ ( Avisa Relation order zeitung) شائع ہوا جبکہ انگریزی صحافت کی ابتدا 13 سال بعد ہوئی جب 1622ء میں لندن سے ویکلی نیوز کا اجراء ہوا۔ لیکن اردو صحافت کو پہلا قدم اٹھانے کے لئے ابھی دو سو سال کا انتظار کرنا ہی تھا۔
27 مارچ 1827ء کو کلکتہ سے شائع ہونے والے فارسی ہفت روزہ “جامِ جہان نما” کو منشی سدا سکھ مرزا پوری نے اردو کے قالب میں ڈھالا اور یوں پہلی بار اردو صحافت کاآغاز ہو گیا اور پھر اس نوزائیدہ زبان (اردو ) نے ادب اور شاعری کے علاوہ صحافت کے میدان میں بھی غضب ڈھالا۔
اگر سرسیّد اور مولانا محمد حسین آزاد کی نثر نے قیامت برپا کر دی تو میر اور غالب نے اردو شاعری کو فارسی کے برابر لا کھڑا کیا ظاہر ہے اردو صحافت کہاں پیچھے رہنے والی تھی۔ پہلے اخبار جام جہاں نما میں گنتی کی چند خبریں یا ایک دو شعر ہوتے جو غیر دلچسپ تھیں لیکن جب فروری 1837ء میںمولانا محمد حسین آزاد کے والد مولوی محمد باقر نے دہلی سے اپنا اخبار “دہلی اخبار “ جاری کیا تو اردو صحافت نے اپنی اہمیت جتانا شروع کردی۔ 1857ء کی جنگ آزادی میں ناکامی کے بعد یہ اخبار بند ہوا اور مولوی محمد باقر کو انگریز حکومت نے پھانسی دے دی، لیکن اس دوران اردو کے کئی معتبر صحافی اور اخبارات میدانِ صحافت میں کود چکے تھے۔
ان میں سرسیّد احمد خان، منشی نول کشور اور تاج الدین وغیرہ قابل ذکرہیں، جبکہ سید الا خبار اور کوہ نور وغیرہ اہم اخبارات تھے۔ تاہم بیسویں صدی کے آغاز میں زمیندار، کامریڈ اور الہلال جیسے بڑے اخبارات لوگوں کے ہاتھوں میں پہنچ گئے تھے اور ان اخبارات کو نکالنے والے مولانا ظفر علی خان محمد علی جوہر اور ابوالکلام آزاد جیسے نابغہ روزگار لوگ تھے۔
اردو کا پہلا کالم مولانا ظفر علی خان کے اخبار زمیندار میں افکار و حوادث کے نام سے چھپنے لگا جیسے عبدالمجید سالک لکھتے تھے، اور پھر تو بڑے لکھاریوں اور بڑے اخبارات کا ایک طویل سلسلہ ہے جو مولانا عبد الماجد دریا آبادی، چراغ حسن حسرت، محمود نظامی، احمد ندیم قاسمی اور باری علیگ سے ہوتا ہوا نذیر ناجی، مجیب الرحمٰن شامی، عباس اطہر اور منوبھائی تک چلا آتا ہے جبکہ اخباری سلسلہ سچ، ہند اور احسان سے ہوتے ہوتے نوائے وقت اور جنگ تک چلا آتا ہے۔
لیکن اب لگتا یوں ہے کہ وقت کا تغیّر اور زمانے کی تبدیلی اس شاندار ٹریک ریکارڈ کی حامل اردو صحافت (پرنٹ میڈیا ) کو دشتِ فراموشی کے موڑ پر لے آئی ہے کیونکہ الیکڑانک اور سوشل میڈیا کی قلاباز صحافت اخباری صحافت کے دوراندیش اور باوقار راستوں سے الگ قلانچیں بھرتی اور ملیامیٹ کرتی لشکروں کے شہ سوار بن چکے ہیں۔ ابھی دودن پہلے مجھے پشاور سے نکلنے والے ایک نئے روزنامےنے اپنے فورم پر انٹرویوکے لئے بلایا تو ایک سوال پوچھا گیا کہ پاکستان میں پرنٹ میڈیا کا مستقبل کیسا ہے؟
تو میں نے جواب دیا کہ ایک ایسے وقت میں جب آدم خور قبیلہ کے لوگ کالم نگار کی دہلیز سے نیوزروم کی چوکھٹ تک پہنچ جائیں تو پھر کیا اور کیسے لکھا جائے؟ اوپر سے مقابلہ جدید تراش خراش کے سوٹ پہنے لیکن کوڑھ مغز اور ذہنی طور پر بانجھ ان لونڈوں سے ہو جو چینل تو پکڑ لیتے ہیں لیکن کتاب اور قلم ہرگز نہیں پکڑتے پھر کہاں کی شاندار روایتوں کی امین اردو صحافت اورکہاں کی سچائی!
تاہم یہ ضروری نہیں کہ ڈرا جائے یا جاہلوں کے غول کے سامنے ہتھیار پھینک دیے جائیں کیونکہ ہم دیکھتے ہیں کہ بعض ممالک مثًلا اری ٹیریا میں ریاستی جبر اور ظالمانہ سنسر کے باوجود بھی صحافی اور دانشور ڈٹے ہوئے ہیں جبکہ ترقی یافتہ ممالک میں پرنٹ میڈیا کو الیکٹرانک میڈیا باوجود اپنی پذیرائی اور انتہائی کوشش کے اس لئے پیچھے دھکیلنے میں کامیاب نہیں ہوا کہ پرںٹ میڈیا نے صحافت کا اعلٰی ترین معیار برقرار رکھا ہے جو سینکڑوں سالوں سے پرنٹ میڈیا کا خاصہ ہے اور یہ ایک طویل ریاضت کے بعد اس کے ہاتھ لگا ہے!
سو اردو پرنٹ میڈیا کے لئے ضروری ہے کہ ریاستی جبر کے شکار ممالک کے صحافیوں سے ڈٹنا سیکھیں اور ترقی یافتہ ممالک کے پرنٹ میڈیا کی مانند معیار کو شعار بنائیں کیونکہ کوئی دوسرا آپشن موجود ہی نہیں سو اس نقار خانے میں بقاء کا آخری راستہ بھی یہی ہے!
ماضی میں قدآور قومی اور صحافتی شخصیتیں اور اخبارات و جرائد کے تجربے کار ایڈیٹر اپنے حکمرانوں کو بے خطر غلطیوں پر ٹوکتے بھی تھے اور ملکی حالات میں بہتری کے کارآمد مشورے بھی دیتے تھے۔ روزنامہ زمیندار، نوائے وقت، جنگ، احسان، ڈان اور آزاد نے شمال مغربی اور شمال مشرقی ہندوستان کے مسلمانوں میں مسلم قومیت کا جذبہ ابھارنے کے لیے سخت جدوجہد کی تھی، مگر قیام پاکستان کے ابتدائی برسوں میں بھی آزادی صحافت پر سخت وار ہوا۔
پنجاب میں جناب افتخار حسین ممدوٹ جو مسلم لیگ پنجاب کے صدر تھے، انہوں نے کابینہ بنائی جس میں جناب میاں ممتاز احمد دولتانہ اور سردار شوکت حیات بھی شامل ہوئے جو پہلی پوزیشن حاصل کرنے کے آرزومند تھے، چنانچہ سیاسی رسہ کشی آغاز ہی میں شروع ہو گئی اور پنجاب میں گورنر راج نافذ کرنا پڑا۔ نوائے وقت کے ایڈیٹر جناب حمید نظامی اس چپقلش میں افتخار ممدوٹ کے ہم نوا تھے۔ 1951 ء کے انتخابات میں دولتانہ صاحب کامیاب رہے جن کے بارے میں ’جھرلو‘ کی اصطلاح ایجاد ہوئی تھی۔
وزیراعلیٰ ممتاز دولتانہ نے نوائے وقت کی اشاعت بند کر کے آزادی صحافت پر پہلا وار کیا۔ اس کے بعد سیفٹی ایکٹ کے تحت یہ سلسلہ دراز ہوتا گیا۔ سیاست دانوں کی آپس کی سر پٹھول سے کمانڈر ان چیف جنرل محمد ایوب خاں نے اکتوبر 1958 ء میں مارشل لا نافذ کر دیا اور وہ دستوری معاہدہ تار تار کر ڈالا جو دونوں بازوؤں کے سینئر راہنماؤں نے بہت کاوش سے طے کیا تھا۔ اختلاف کی ہر آواز دبانے اور پریس کا گلا گھونٹ دینے کے لیے ایک طرف پی پی او (پریس پبلیکیشنز آرڈیننس) نافذ کیا گیا اور دوسری طرف جو اخبار و جرائد پروگریسو پیپرز کے زیراہتمام نکل رہے تھے، وہ قومی تحویل میں لے لیے گئے۔ سیاست اور صحافت کا دائرہ تنگ کرنے کا نتیجہ یہ نکلا کہ دسمبر 1971 ء میں مشرقی پاکستان علیحدہ ہو گیا اور پاکستان کی ریاست سمٹ کے رہ گئی۔
صحافت کے ساتھ طاقت آزمائی کے نتائج مسٹر بھٹو کے حق میں بھی تباہ کن ثابت ہوئے۔ انہوں نے عوامی مقبولیت کے گھمنڈ میں ماہنامہ اردو ڈائجسٹ، ہفت روزہ زندگی، پنجاب پنچ، روزنامہ جسارت اور آؤٹ لک بند کیے اور ڈان کے ایڈیٹر جناب الطاف گوہر، جسارت کے ایڈیٹر جناب صلاح الدین، ڈاکٹر اعجاز حسن قریشی، جناب مجیب الرحمٰن شامی، الطاف حسن قریشی، سجاد میر، حسین نقی، انور خلیل، مظفر قادر اور ذاکر علی گرفتار کر لیے گئے۔ ان کا پورا دورحکومت صحافیوں اور سیاست دانوں پر ظلم ڈھاتے گزرا اور اسی محاذ آرائی میں وہ اقتدار سے محروم اور غیر طبعی موت سے دوچار ہوئے۔
جنرل ضیاءالحق نے بھی اقتدار کی خاطر صحافیوں کے ساتھ بہیمانہ سلوک روا رکھا اور اس حوالے سے انہیں تاریخ میں اچھے نام سے یاد نہیں رکھا جائے گا۔ جنرل پرویزمشرف بھی آزاد پریس سے خوش نہیں تھے۔ نہایت گھٹیا اور اوچھے ہتھکنڈے استعمال ہوئے۔ ان تاریک ادوار میں بھی سرفروش صحافیوں نے مولانا حسرت موہانی کی استقامت اور جرات کی یادیں تازہ رکھیں اور پاکستان کا سر عالمی برادری کے سامنے خم نہیں ہونے دیا۔
آئین پاکستان کا آرٹیکل نمبر انیس ہر شہری کو ، بولنے کی آزادی، اظہار کی آزادی اور پریس (میڈیا)کی آزادی کی گارنٹی دیتا ہے لیکن یہ آزادی بھی قد غنوں اور بندشوں سے مبرا نہیں ہے۔ صحافت کی اہمیت کو ہر سطح پر تسلیم کیا جاتا ہے کہ یہ معاشرے کی ہر خوبی و خامی کی عکاس ہے ، صحافت پیشہ بھی ہے اور سماجی خدمت بھی، بشرطیکہ ایمانداری کے ساتھ اصولوں اور سچائی کے پیمانوں پر پورا اترتی ہو اور سماجی خدمت کے علاوہ کسی بھی ایجنڈے کی آمیزش سے پاک ہو۔ چونکہ دور حاضر میں ہم ففتھ جنریشن ریجیم اور ڈیجیٹل دور سے گذر رہے ہیں جہاں میڈیا کا کردار ناگزیر اورانتہائی اہمیت کا حامل قرار دیا جاتا ہے۔اور اسی اہمیت کی بدولت یہی میڈیا کبھی دانستہ اور کبھی نادانستہ طور کبھی بالواسطہ اور کبھی بلا واسطہ انداز میں’ پرائے ایجنڈے ‘کی تکمیل کے لیئے استعمال ہوتا آیا ہے اور ہو رہا ہے۔ میڈیا کی خرابیوں میں سب سے بڑی خرابی ہے کہ آپ صحافتی ایجنڈا چھوڑ کر کوئی ذاتی، سیاسی،معاشی، معاشرتی، عدالتی یا مذہبی ایجنڈے کے لیئے سہولت کار بن جائیں ۔ہماری حالیہ تاریخ میں ایسی بے شمار مثالیں موجود ہیں جب کسی صحافی یاصحافتی ادارے نے غیر متعصب اور سچائی جیسے بنیادی صحافتیاصولوں کو بالائے طاق رکھ کر کسی پرائے کے یا کرائے کے ایجنڈے کی تکمیل کی ہو۔ ایک مسلمہ اصول رائج ہے کہ کوئی مقدمہ عدالت میں زیر سماعت ہو تو اس پر میڈیا تو کیا پارلیمنٹ میں بھی بحث نہیں کی جاسکتی، اس کے برعکس ہماری صحافتی تاریخ ایسی مثالوں سے بھری پڑی ہے ۔ جس روز کسی مخصوص کیس کی سماعت ہونی ہو عین اسی روز یا اس سے پہلے اخبارات اور ٹی وی چینلز پر ایسی خبریں دی جاتی ہیں اور ایسے مباحثوں کا انعقاد ہوتا ہے جس میں کیس کے میرٹ کو زیر بحث لایا جاتا ہے تاکہ کیس سننے والے جج کے فیصلے کو متاثر کیا جا سکے۔ سابق چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کے دور میں جب از خود نوٹسز لینے کا کلچر اپنے جوبن پر تھا توایک مخصوص میڈیا گروپ عین سماعت والے دن کوئی ایسی خبر یا بیان شائع کرتا جس سے متاثر ہو کر چیف جسٹس از خود نوٹس لیتے۔ یہاں تک کہ صبح اخبار کی ہیڈ لائن دیکھ کر کورٹ رپورٹرز پہلے ہی بتا دیتے تھے کہ آج اس ہیڈلائن پر چیف صاحب نے ازخود نوٹس لینا ہے اور ایسا ہی ہوتا۔ پھر بدلتے وقت کے ساتھ صحافتی اصولوں میں بیرونی ایجنڈے کی آمیزش اتنی زیادہ ہو گئی کہ اب تو صحافتی شعبہ بھی polarizedہوگیا ہے۔کوئی دائیں بازو تو کوئی بائیں بازو کی صحافت کر رہا ہے۔صحافی تو شاید بہت ہوں لیکن صحافتی ادارے بہت کم ایسے ہونگے جنہیں غیر جانبدار درجے میں تسلیم کیا جا سکے۔یہی وجہ ہے کہ اسلام آباد ہائی کورٹ میں جو سابق چیف جسٹس ثاقب نثار سے متعلق بیان حلفی کا کیس زیر سماعت آیا تو چیف جسٹس جناب اطہر من اللہ اسی ایک نکتے پر معترض تھے کہ بیان حلفی کی خبر شائع کرنے کا بظاہر مقصد عدلیہ کو بدنام کرنا اور زیر سماعت اپیلوں کے فیصلوں پر اثر انداز ہونے کا ایجنڈا تھا۔ چیف جسٹس جانتے ہیں کہ ماضی میں ایسی خبروں کی اشاعت کے پیچھے کونسے محرکات چھپے ہوتے ہیں ۔ اگرچہ ہونا تو یہ چاہیئے تھا کہ اس بیان حلفی کی حقیقت جاننے کے لیئے تحقیقات ہوتیں تاکہ دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو جاتا، کون سچا ہے اور کون جھوٹا سامنے آ جاتا ، جسٹس اطہر من اللہ تمام صحافتی سرگرمیوں سے بخوبی آگاہیں ۔ خبر کا منظر اور پس منظر بیک وقت بھانپ لیتے ہیں، اسی لیئے انہوں نے بیان حلفی والی خبر پر فوری توہین عدالت کی کاروائی کا آغاز کیا ۔ کیونکہ بادی النظر میں یہ خبر ایسے وقت شائع کی گئی جب اس کیس سے جڑے متاثرین کی اپیلیں سماعت کے لیئے مقرر تھیں ۔بیان حلفی دینے والے گلگت بلتستان کے چیف جج رانا شمیم نے بھی تین سال تک ایک انکشاف اپنے سینے میں محفوظ رکھا اور عین اس وقت بیان حلفی دیا جب نون لیگ کے رہنماوں کی اپیلیں سماعت کے لیئے مقرر ہو چکی تھیں ۔ اور یہ بیان حلفی صرف اس ایک انگریزی و اردو اخبار میں بطور خبر شائع ہوا جن پر ماضی میں بھی ایجنڈا صحافت کے الزامات لگتے رہے ہیں اور ایک اخبار کے ایڈیٹر صاحب نے تو یہاں تک کہا تھا کہ صحافت کو بھول جائیں ، وہ بزنس کرتے ہیں اور صحافت کی وجہ سے کبھی اپنا کاروباری نقصان نہیں کرنا چاہیں گے۔ سچی اور جھوٹی خبریں تو دامن صحافت میں پروان چڑھتی رہتی ہیں لیکن کوئی صحافتی ادارہ ایک منظم انداز میں مہم کی صورت تواتر کے ساتھ عدالتی فیصلوں پر اثر انداز ہو ۔صحافت جیسے مقدس پیشے کو اپنانے والے اگر اپنا ،یا کرائے کا ایجنڈا لیکر اسکے لیئے راہ ہموار کریں تو یہ صحافت نہیں بلکہ کاروبار ہے اور ایسا کرنے والے یا تو ساہوکار ہیں یا پھر سہولت کار۔چیف جسٹس اطہر من اللہ نے اسی لیئے اس کیس میں توہین عدالت کی کاروائی شروع کی کیونکہ آزادی صحافت میں توہین عدالت کی قد غن ایک آئینی تقاضا ہے۔ آئین ہمیں freedom of pressتو دیتا ہے لیکن اسکے ساتھ ساتھ کچھ بندشیں بھی لگاتا ہے۔اسلام کی سربلندی ہو ، ملکی سلامتی ہو، مان وامان کا معاملہ ہو، اخلاقیات کا تقاضا ہو، بیرون ممالک سے تعلقات ہوں یا پھر توہین عدالت جیسے معاملات ہوں ، یہ حساس اشوزہیں اسی لیئے یہ حدود آئین پاکستان میں متعین کر دی گئی ہیں کہ یہاں میڈیا کی آزادی ایک حد تک پابند ہو گی۔ اگر آئین میں ایسی کسی بندش کا ذکر نہ ہوتا تو پھر عدلیہ کہ رہی سہی توقیر بھی آج خاک میں مل چکی ہوتی، چیف جسٹس اطہر من اللہ بھی توہین عدالت کی کاروائی نہ کرتے ۔
کچھ عرصہ قبل پاکستان کے معروف انگریزی اخبار “ڈان” کے مشہور ترین کالم نگار سرل المائڈہ نے ایک سنسنی خیز خبر دی۔ خبر میں ایک اعلیٰ سطح کے اجلاس میں کلعدم تنظیموں کے خلاف کاروائی کرنے سے مطعلق سولین اور فوجی قیادت کے درمیان اختلافات سامنے آئے۔ خبر کے مطابق سولین حکومت نے عسکری قیادت پر زور ڈالا کہ وہ مسعود اظہر اور جیشِ محمد، حافظ سعید اور لشکرِ طیبہ اور حقانی گروپ جیسے عسکریت پسند لیڈران اور جماعتوں کے خلاف بلاامتیاز کاروائی کریں۔
سرل المائڈہ کی خبر سے ایک تنازعہ چھڑ گیا، اور حکومت نے المائڈہ کا نام “ایگزٹ کنٹرول لسٹ” پر ڈال کر ان کے ملک سے باہر جانے پر پابندی لگا دی۔ وزیرِ اعظم کے دفتر نے بھی بیان جاری کیا کہ سولین اور فوجی قیادت کے بیچ اختلافات کی خبر جھوٹ ہے۔
اگرچہ اب سرل المائڈہ کا نام “ایگزٹ کنٹرول لسٹ” سے ہٹا دیا گیا ہے، پاکستان میں کئی مبصرین کی رائے ہے کہ سرل المائڈہ کے خبر کی تصدیق کرنے کے لئے حکومت کے یہ معاندانہ اقدامات ہی کافی ہیں۔ اس محاذ آرائی کی وجہ سے ایک مرتبہ پھر وزیرِ اعظم نواز شریف کے فوج کے ساتھ غیرمستحکم تعلقات روشنی میں آ رہے ہیں۔ نواز شریف اور “سیکورٹی اسٹیبلشمنٹ” کے بیچ پیچیدگیوں کی موجودگی کوئی راز نہیں، مگر یہ حالیہ تناوؤ ایک بہت اہم موڑ پر آ کر نمایاں ہوا ہے۔
پاکستان میں بیشتر لوگوں کا خیال ہے کہ مسلم لیگ نواز آرمی چیف راحیل شریف، جو کہ ملک میں بےانتہا مقبول ہیں، کو دشمنی کی نگاہ سے دیکھتی ہے۔ “ڈان” کی خبر سے یہ رائے عامہ مزید مظبوط ہوتی ہے۔ اس وقت حکومتی اور عسکری قیادت کے بیچ اختیارات پر جنگ جاری ہے۔ کئی مبصرین کا کہنا ہے کہ حکومت نے سرل المائڈہ پر پابندی صرف اس جنگ سے توجہ ہٹانے کے لئے لگائی۔ جنرل شریف کی جلد آنے والی “ریٹائرمنٹ” کے بعد نواز شریف کو نئے چیف کا انتخاب کرنا ہو گا۔ عوام اس اہم فیصلے میں حکومت کی طرف سے کسی بھی قسم کی ہیرا پھیری کے بارے میں اب انتہائی چوکس ہو گی۔
دوسری جانب، فوج کے لئے اس مبینہ پیچیدگی کے نتائج اور بھی زیادہ منفی ہیں۔ اس وقت پاک بھارت تعلقات نازک ہیں اور امریکہ پاکستان پر کلعدم تنظیموں کے خلاف کاروائی کرنے کے لئے زور ڈال رہا ہے۔ بین الاقوامی سطح پر یہ خیال پایا جاتا ہے کہ پاک فوج خطے میں اثر و رسوخ برقرار رکھنے کے لئے کچھ جہادی تنظیموں کی کفالت کرتی ہے۔ ان حالات میں”ڈان” کی خبر سے ایسے خیالات کو مزید تقویت ملتی ہے۔
اس ساری صورتِ حال میں شاید سب سے زیادہ نقصان پاکستان میں صحافت کی آزادی کو ہوا ہے۔ یہ ایسا پہلا واقعہ نہیں جب پاکستانی میڈیا کو ریاستی اداروں کے اندرونی نظام کے بارے میں خبریں افشاء کرنے پر سخت تنقید کا نشانہ بنایا گیا ہو۔ دو سال قبل، معروف صحافی حامد میر نے آئی ایس آئی پر افغان طالبان کی حمایت کرنے اور امریکہ کو ڈرون حملوں کے ہدف فراہم کرنے کے الظامات لگائے۔ فوج کی اس مخالفت کی وجہ سے جلد ہی حامد میر فوج کے بے شمار حامیوں، حریف میڈیا تنظیموں، اور منفی عوامی رائے کا نشانہ بن گئے۔ اپریل ۲۰۱۴ میں نامعلوم افراد کی فائرنگ سے حامد میر شدید زخمی ہو گئے، اس واقعہ کا ذمہ دار بھی انہوں نے آئی ایس آئی کو ہی ٹہرایا۔
ایک اور مثال “نیو یارک ٹائمز” کے اسلام آباد بیورو چیف ڈیکلن والش کی ہے، جنہوں نے بلوچ عوام کے ساتھ حکومت کی زیادتیوں پر کئی تفصیلی خبریں لکھیں۔ تنیجے میں مئی ۲۰۱۳ میں ہونے والے انتخابات سے صرف چند روز قبل پاکستانی حکام نے والش کو ۷۲ گھنٹوں کے انرر انرر پاکستان چھوڑنے کا نوٹس جاری کر دیا۔ نوٹس میں پاکستان سے نکالے جانے کی وجہ ڈیکلن والش کی “ناپسندیدہ سرگرمیاں” بتائی گئی تھی۔ اسی طرح متعدد پاکستانی صحافیوں نے پولیس، انٹیلیجنس اداروں، اور حکومت کے ہاتھوں دھمکیوں، “سنسرشپ،” اور تشدد کی اطلاعات دی ہیں۔
آزادیِ صحافت پر اس حالیہ حملے اور سرل المئڈہ کے ساتھ ہونے والے واقعات کے ذریعے پاکستانی میڈیا کو ایک مرتبہ پھر ایک واضح پیغام ملا ہے: میڈیا کو اپنی حدود میں رہنا ہو گا۔ تاہم “ڈان” نے اپنا موقف برقرار رکھتے ہوئے ایک بیان میں کہا: “صحافت میں اقتدار کے گلیاروں سے بے پناہ دباؤ ے باوجود اپنے سامعین سے وعدہ نبھانے کی ایک طویل اور عظیم روایت موجود ہے” اور “ڈان” “ریاست کی تنگ نظر، خود غرضی پر مبنی، اور مسلسل تبدیل ہوتی قومی مفاد کی تعریف” کے خلاف آواز اٹھاتا رہے گا۔
آج کے دور میں جب صحافت “وکی لیکس” جیسے انقلابی حربوں سے متاثر ہے، کیا پاکستانی حکام واقعی یہ تصور کرتے ہیں کہ وہ صحافیوں کے سفر کرنے پر پابندی لگا کر سچ کا گلا گھونٹ سکتے ہیں۔
گذشتہ دنوں بی بی سی سے منسلک ایک معروف پاکستانی صحافی نے کہا کہ ’’ہم صحافی کسی بیکری کی دکان پر بیٹھے ہوئے ایسے ملازم ہیں کہ جونہی ہمارا مالک ہمیں کہتا ہے کہ اب آپ کپڑا لے کر شیشے صاف کریں تو ہم فوراً حکم بجا لاتے ہیں‘‘۔ یہ چھوٹا سا جملہ پاکستانی صحافت یا میڈیا کی ساری کہانی اپنے اند سموئے ہوئے ہے۔ جرنلزم کی تعلیم حاصل کرنے والے اکثر طلبا نے راقم سے بھی یہ سوال کیا کہ ایسا کیوں ہے کہ ایک سینئر صحافی بھی یہ سمجھتا ہے کہ وہ پاکستانی میڈیا میں کوئی مثبت کردار ادا نہیں کرسکتا؟ بات یہ ہے کہ صرف پاکستان ہی نہیں پوری دنیا میں یہی مسئلہ ہے، یہی وجہ ہے کہ ہمارے ایک استاد محترم یہ کہتے ہیں کہ میڈیا معاشرے کی خد مت کر ہی نہیں سکتا، اس کا بنیادی مقصد کچھ اور ہی ہے۔ میڈیا کی اصل حقیقت کیا ہے؟ یہ جاننے کے لیے ہمیں تھوڑا سا تاریخ کا جائزہ لینا ہوگا۔
ایک امریکی مصنف گرانٹ ڈیوڈ لکھتا ہے کہ صنعتی انقلاب درحقیقت صنعتی انقلاب نہ تھا، بلکہ یہ صارف انقلاب (کنزیومر ریولیشن) تھا کہ جس سے صارفین کی بہت بڑی تعداد تیار کی گئی۔ اس بات کو یوں سمجھا جاسکتا ہے کہ صنعتی انقلاب سے قبل فرض کریں لوگوں کو جس قدر کپڑے کی ضرورت پیش آتی تھی، وہ روایتی کھڈیوں پر تیار ہوجاتا تھا، لیکن جب مشینیں ایجاد ہوگئیں اور کپڑا مشینوں پر تیار ہونے لگا تو لوگوں کی ضرورت کا جتنا کپڑا مہینوں میں تیار ہوتا تھا وہ مشینوں کے ذریعے چند دنوں میں ہوگیا، اب سرمایہ دار نے یہ سوچا کہ جس قدر کپڑا لوگوں کی ضرورت کا تھا وہ تو جلد ہی تیار ہوگیا اور منافع بھی حاصل ہوگیا، لہٰذا کیوں نہ مزید کپڑا تیار کیا جائے تاکہ اور منافع کمایا جاسکے۔
یوں مشینوں کو مسلسل چلاکر ایک بڑی تعداد میں کپڑا تیار کرلیا گیا، مگر اب مسئلہ یہ پیش ہوا کہ اس کپڑے کو لوگوں کو کس طرح فروخت کیا جائے؟ یہ بڑا مشکل کام تھا کہ کوئی شخص اپنی ضرورت کا کپڑا لینے کے بعد بلاضرورت مزید کپڑا کیوں خریدے؟ آخر کوئی بلا ضرورت اپنا پیسہ کیوں خرچ کرے؟ سرمایہ داروں کے اس مسئلے کو مارکیٹنگ، اشتہارات اور میڈیا والوں نے اپنی خدمات سے حل کردیا۔ ان تمام نے ماہرین نفسیات، عمرانیات اور دیگر سماجی علوم کے ماہرین کی ان تمام ریسرچ سے فائدہ اٹھایا کہ جس میں بتایا گیا تھا کہ کس طرح ایک انسانی ذہن متاثر کیا جاسکتا ہے۔ چنانچہ سرمایہ داروں کی وہ تمام اشیاء کو (جن کو لوگ اس لیے خریدنے کو تیار نہ تھے کہ وہ ان کی ضرورت نہیں ہے) اس طرح کے پیغامات کے ساتھ لوگوں کے سامنے پیش کیا گیا کہ سننے، دیکھنے اور پڑھنے والا یہ سمجھ بیٹھا یا دھوکا کھا بیٹھا کہ یہی اشیاء اس کی بنیادی ضرورت ہے، اور اس نے وہ اشیاء خرید لیں۔
یہی وجہ ہے مغرب میں جب یہ حقائق لوگوں کو معلوم ہوئے تو انھوں نے اشتہارات کے خلاف باقاعدہ تحریک چلائی، اشتہارات چونکہ میڈیا کے ذریعے عوام تک پہنچتے تھے لہٰذا میڈیا کو کنٹرول کرنے کے لیے پرنٹ میڈیا کے حوالے سے آڈٹ بیورو سرکولیشن (اے بی سی) کا ادارہ امریکا میں قائم کیا گیا۔ رفتہ رفتہ ان اشتہارات میں لوگوں کے ذہن کو متاثر کرنے یا انھیں اشیاء خریدنے پر مجبور کرنے کے لیے صرف ابلاغی اور نفسیاتی حربوں سے کام نہیں لیا گیا بلکہ جھوٹ اور دھوکا دہی کو بھی کثرت سے استعمال کیا جانے لگا تاکہ کسی بھی طرح سے اشیاء کو فروخت کیا جاسکے۔ اس عمل سے تینوں قوتوں کو فائدہ حاصل ہو رہا تھا اور ان کے سرمایہ میں زیادہ سے زیادہ اضافہ ہورہا تھا، یعنی ایک سرمایہ دار جس کی اشیاء فروخت ہورہی تھیں، دوسرے اشتہارات والے جو نہ صرف کروڑوں روپے کے اشتہارات بنا کر اس سے بھی زائد رقم کما رہے تھے اور تیسرے میڈیا والے جو ان اشتہارات کو پیش کرکے اپنا کاروبار جاری رکھے ہوئے تھے۔

بات سیدھی سی ہے کہ میڈیا کو اپنا وجود برقرار رکھنے یعنی زیادہ سے زیادہ منافع کمانے کے لیے اشتہارات کی ضرورت تھی اور اگر اشتہارات نہ ہوں تو میڈیا ایک دن بھی اپنے پیر پر چل نہیں سکتا۔ اشتہاری کمپنیوں کو بھی اپنا وجود برقرار رکھنے کے لیے ایسے حربے والے اشتہار بنانا ضروری تھے کہ عوام ہر قیمت پر وہ شے خریدیں جس کا اشتہار دیا جارہا ہے، تب ہی سرمایہ دار سے وہ اپنی اس خدمت کا صلہ یعنی منافع حاصل کرسکتے ہیں۔ دوسری طرف ایک سرمایہ دار خوشی خوشی ان دونوں (اشتہاری کمپنیوں اور میڈیا) کو کھل کر پیسہ فراہم کرتا ہے کیونکہ وہ اس سرمایہ دار کی اس شے کو سونے سے قیمتی بنا کر فروخت کروا رہے ہیں جو اشتہاری کمپنیوں اور میڈیا کی خدمت کے بغیر محض مٹی سے زیادہ قیمتی نہ تھیں۔

اب اصل سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ یہ سارا کھیل کیوں چل رہا ہے، کوئی اس کو روکتا کیوں نہیں؟ اور مغرب میں لوگوں کی جانب سے احتجاج اور تحریک چلانے کے باوجود کوئی فرق کیوں نہیں پڑا؟ بات یہ ہے کہ مغرب میں جان لاک، ہوم، والٹیئر، ڈارون، ایڈم اسمتھ، ڈیکارٹ، ڈلیوز، کانٹ، کارل مارکس، آئزہ برلن اور مارٹن لوتھر جیسے مفکرین نے مغرب میں وہ تصورات دیے کہ جس سے سماجی اقدار، خاندان اور مذہب کی اہمیت کو پس پشت ڈال کر صرف عقل کو اہمیت دی اور ان تمام پر ’میں‘ کو فوقیت دے دی، جیسا کہ جان لاک کہتا ہے کہ مائی باڈی از مائی پراپرٹی (میرا جسم میری ملکیت ہے) یا جیسا کہ برلن کے تصور آزادی کے تحت ہر شخص کو آزادی ہے کہ وہ جو چاہے نیکی اور بدی کا تصور قائم کرے۔ یعنی اب گناہ یا ثواب کے طے کرنے کا حق خدا کے بجائے فرد واحد کے پاس آگیا اور اس میں خاندان یا سماجی اقدار بھی پس پشت چلی گئیں۔ یوں اس معاشرے میں صرف مذہبی نہیں سماجی، اخلاقی اور خاندانی قدریں بھی ریاستی اور معاشرتی سطح سے نکل کر انفرادی سطح پر آگئیں کہ جس کا دل چاہے عمل کرے، جس کا دل چاہے نہ کرے۔

مذکورہ بالا نظریات کا تمام تر فائدہ سرمایہ دار کو پہنچا، کیونکہ کسی سرمایہ دار کے سرمائے کے حصول میں اگر کوئی اصول اور ضابطے طے کرنے والی قوتیں تھیں تو وہ مذہب، سماجی، خاندانی اور اخلاقی قدریں تھیں۔ چنانچہ ان نظریات کو نہ صرف سرمایہ داروں نے مضبوطی سے پکڑ لیا بلکہ میڈیا نے بھی قبول کرلیا، مثلاً کسی اشتہار میں (جو صرف مردوں کے استعمال کی شے کا ہو) کسی نیم برہنہ ماڈل گرل کو دکھایا جائے اور کوئی اس پر اعتراض اٹھائے کہ یہ کیوں دکھایا جارہا ہے؟ تو مذکورہ بالا نظریات کے تحت سیدھا سا جواب ہے کہ یہ آپ کے نزدیک غلط ہوسکتا ہے، اگر آپ کو پسند نہیں تو مت دیکھیے، دوسرے لوگوں کے نزدیک تو یہ کوئی برائی نہیں۔

یہی وجہ ہے کہ میڈیا صرف اشتہارات میں نہیں اپنے پروگراموں میں بھی ریٹنگ بڑھانے کے لیے تاکہ اسے زیادہ سے زیادہ اشتہارات ملیں، کچھ ایسا مواد پیش کرتا ہے کہ جس پر کوئی اعتراض کرے کہ یہ فحاشی و عریانیت ہے، یہ غیر اخلاقی ہے، یہ مناظر نفسیات پر منفی اثرات ڈالتے ہیں یا یہ کہ پروگرام یا خبر جانبدارانہ طریقے سے یا مرچ مسالا لگا کر دی جارہی ہے تو عموماً یہی جواب دیا جاتا ہے کہ اگر آپ کو نہیں پسند تو چینل بدل لیں۔ یعنی میڈیا والے کی نظر میں یہ سب درست ہے، ایسا سمجھنا اس کا حق ہے، اگر کسی کی نظر میں درست نہیں تو یہ اس کا حق ہے کہ وہ کوئی اور چینل دیکھیں، کس نے منع کیا ہے؟ یعنی یہاں کھل کر جان لاک اور برلن کے نظریے کی بات کی جاتی ہے، کیونکہ یہی نظریہ میڈیا کو آزادی دیتا ہے کہ وہ ایسے پروگرام پیش کرسکے کہ جس سے اس کو زیادہ سے زیادہ اشتہارات حاصل ہوں اور وہ زیادہ سے زیادہ مال کمائے۔
یوں دیکھا جائے تو میڈیا، اشتہارات اور سرمایہ دار کا یہ ایک سرکل ہے جو لوگوں سے زیادہ سے زیادہ مال کمانے کا فن رکھتا ہے۔ بات یہ ہے کہ اگر میڈیا یہ سب کچھ نہ کرے تو اسے اشتہارات نہیں ملیں گے اور جب اشتہارات نہیں ملیں گے تو میڈیا کیسے چلے گا؟ میڈیا پر مذہب، سماجی، اخلاقی اور خاندانی اقدار کا درس چلے گا تو لوگ سرمایہ دار کی اشیاء کیوں خریدیں گے؟ جھوٹ، دھوکا، جانبداری، مرچ مسالا، عریانی، فحاشی، چٹخارے دار بے مقصد کی گفتگو وغیرہ کسی کو میڈیا کا منجن لگتا ہے تو لگے، حقیقت تو یہ ہے کہ میڈیا پر یہ منجن نہیں ہوگا تو چلے گا کیسے۔ اس لئے میڈیا مالکان اپنے ادارے چلانے کےلئے اخلاقیات کی حدود و قیود سے آزاد ہو کر کسی اور ہی سمت چل پڑے ہیں۔

سوشل میڈیا

سوشل میڈیا کے حوالے سے پاکستان میں نمایاں تبدیلی کا سال 2013 تھا، اس سال دہشت گرد تنظیموں اور کالعدم تنظیموں کی جانب سے سوشل میڈیا پروفائلز نے حکومت اور سکیورٹی اداروں کو دوہری مشکل میں مبتلا کردیا تھا۔ ان دنوں ملک ایک جانب تو فرقہ واریت، لسانیت اور ٹارگٹ کلنگ جیسے مسائل سے نبردآزما تھا تو دوسری جانب شدت پسند تنظیموں کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس کی وجہ سے نوجوانوں کا مستقبل انتہا پسندی کی جانب جاتا دکھائی دے رہا تھا، جس کی فوری روک تھام ضروری تھی۔
ریاست کو انتشار کی جانب دھکیلنے میں صرف جہادی تنظیمیں ہی نہیں بلکہ بعض لسانی جماعتیں بھی متحرک رہی ہیں، ان کے پیڈ اکائونٹ آج بھی ایکٹو ہیں۔
آج سے 50سال قبل حالات حاضرہ کا علم اخبارات سے ہوا کرتا تھا، پھر ٹی وی نے اس کی جگہ لے لی اور اب انٹرنیٹ کے ذریعے اسمارٹ فونز ٹی وی اسکرین کو ماضی کا حصہ بنانے پر مامور ہیں۔ اعداد و شمار کے مطابق 2019 میں پاکستان میں کروڑوں کی تعداد میں صارفین سوشل یا ڈیجیٹل میڈیا کا باقاعدہ استعمال کرتے ہیں۔
سوشل میڈیا کے ذریعے عام آدمی کو بھی اپنی بات کہنے اور دوسروں تک پہنچانے کا مکمل موقع ملا جسے روایتی میڈیا نظر انداز کر دیا کرتا تھا۔ آج یہ صورتحال ہے کہ روایتی میڈیا کافی حد تک سوشل یا ڈیجیٹل میڈیا کا محتاج ہوگیا ہے۔ وہ باتیں جو ایڈیٹوریل پالیسی یا اخبارات و نیوز چینل کے مفاد کی مجبوری کے تحت شائع یا نشر نہیں ہوا کرتی تھیں،سوشل میڈیا پر ببانگ دہل کہی اور سنی جارہی ہوتی ہیں۔اگرچہ سوشل میڈیا پر جعلی خبروں اور کنفیوژن کا انبار ہے تاہم یہ روایتی میڈیا پر کڑی نظر رکھنے کا سیل بھی بن گیا ہے۔ اب کوئی بھی روایتی میڈیا کا نمائندہ بنا تحقیق کے بات کرنے یا لکھنے سے گھبراتا ہے کیونکہ وہ جانتا ہے کہ سوشل میڈیا اس پر کڑی نظر رکھے ہوئے ہے۔ اسے علم ہے کہ ادھر غلط بیانی ہوئی تو ادھر اس پر بلا امتیاز تنقید شروع ہوجانی ہے۔
اب سیاسی جلسے، انتخابی کیمپینز، دھرنے کے شیڈول، کشمیر کاز، میانمار میں روہنگیا مسلمانوں کا قتل عام، بھارت میں مسلمانوں کے ساتھ ناروا سلوک، کسی کو شہرت کی بلندی تک پہچانا یا کسی کی تذلیل کرنا، حد تو یہ ہے کہ جنگی محاذ تک کی مورچہ بندی سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر ہونے لگی ہے۔
سیالکوٹ کے دو بھائیوں، شاہ زیب خان، مشال خان ، معصوم زینب کا بے دردی سے قتل سمیت دیگر ناانصافیوں کے خلاف سوشل میڈیا آواز بلند کرتا رہا ہے، ماڈل ٹائون اور ساہیوال میں رونما ہونے والی بے حسی پر بھی سوشل میڈیا نے ہی لب کشائی کی۔
جدید دور کے تقاضوں کے تحت نامور سیاسی، سماجی و دفاعی شخصیات تک کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس ہیں، جن پر جاری کردہ ٹویٹ خبر کی اہمیت رکھتا ہے۔ اس تناظر میں عوامی بالخصوص صحافتی حلقوں میں سوشل میڈیا کو لے کر ایک نئی بحث چھڑ گئی ہے۔ بعض لوگوں کا خیال ہے کہ ڈیجیٹل میڈیا ریاست کا پانچواں ستون بننے جارہا ہے جبکہ کچھ میڈیا پرسن اس بات سے اختلاف کرتے نظر آتے ہیں۔ ماہنامہ ہلال سے گفتگو کرتے ہوئے تجزیہ کار،صحافی، مصنفہ اور کالم نگارجویریہ صدیقی نے کہا کہ سوشل میڈیا نے وقت کے ساتھ بہت اہمیت اختیار کرلی ہے اور ہم کہہ سکتے ہیں کہ اب یہ ریاست کا پانچواں ستون بنتا جا رہا ہے، کیونکہ اب تو خبر کا اجراء اور ترسیل تک سوشل میڈیا سے ہی ہونے لگی ہے۔ مختلف شعبۂ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والی ملکی و بین الاقوامی اہم شخصیات سماجی رابطے کی ویب سائٹس پر موجود ہیں اورتبادلہ خیال کرتی نظر آتی ہیں۔ صحافی، کالم نگار، بلاگرز، ولاگرز بھی اپنا نکتہ نظراسی کے ذریعے بیان کرتے نظر آرہے ہیں۔26 اور27 فروری 2019 کو یہ پہلو بھی دیکھ چکے ہیں کہ کیسے پاکستان کے خلاف منفی پروپگنڈے کو بے نقاب کیا جاسکتا ہے، جب پاک فضائیہ نے ہندوستان کی جانب سے فضائی حدود کی خلاف ورزی پر ان کے دو جہاز مار گرا کر بھارتی پائلٹ کو چائے پلا کر مہذب ریاست کے اصول پر کاربند ہوکر اس کے ملک کے حوالے کیا تو انڈین میڈیا اسے اپنی وکٹری گردان رہا تھا جبکہ درحقیقت تو اس کی ناک رگڑی گئی تھی مگر وہ دورغ گوئی سے کام لے رہا تھا جس کی سچائی پاکستانی سوشل میڈیا صارفین نے آشکار کی۔ بعد ازاں بھارت کی جگ ہنسائی ہوئی۔ پاکستانی ڈیجیٹل میڈیا صارفین نے جس طرح مقبوضہ کشمیر کے موضوع کو عالمی طور پر اجاگر کیا ہوا ہے وہ نہایت قابل تحسین ہے، اگرچہ اس مہم میں بہت سے صارفین اپنے ٹوئٹر اکاؤنٹس کوگنوا بیٹھے مگر بھارت کی ستم ظریفی سے دنیا کو آگاہ کرنے سے ہرگز پیچھے نہیں ہٹے۔ جس طرح پاکستانی سوشل میڈیا صارفین نے دنیا بھر میں بھارت کے منفی پروپیگنڈے اور اس کے مکروہ چہرے کو بے نقاب کیا ہے تو میں کہنا چاہوںگی کہ ڈیجیٹل میڈیا ریاست کا پانچواں ستون بنتا جارہا ہے، اگر اس کا استعمال مثبت طور پر کیا جائے تو یہ بہت اہم فورم ہے۔
سینیئر صحافی، اینکر اور تجزیہ کار امیر عباس کا کہنا ہے کہ میں سوشل میڈیا کو ریاست کا پانچواں ستون تو نہیں البتہ مین سٹریم میڈیا کی جدید شکل ضرور کہوںگا۔ ہم دیکھ رہے ہیں کہ مین سٹریم میڈیا، ڈیجیٹل میڈیا کو اہمیت دیتا نظر آرہا ہے، خبر، ٹاک شوز، تبصروں اور تجزیوں کا فیڈ بیک سوشل میڈیا کے ذریعے ہی ملتا ہے، جس کا ایڈریس مین اسٹریم میڈیا کی اسکرینز پر اجاگر یا اخبارات میں شائع ہورہا ہوتا ہے۔
اس بات سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ کئی معروف اخبارات اور رسائل و جرائد آن لائن ہو چکے ہیں اور مین اسٹریم میڈیا کے حالاتِ حاضرہ کے پروگرامز بھی یو ٹیوب پر دیکھے جار ہے ہیں۔سوشل میڈیا کا استعمال دنیا بھر میں عام ہو چکا ہے اور اس کا اثر بھی خاصا پراثر ہے، ہم نے دیکھا کہ عرب سپرنگ کے دوران سوشل میڈیا نیٹ ورک کے ذریعے عوام کو احتجاج کے لئے جمع کیا گیا تھا۔
سوشل میڈیا کے حوالے سے جدت لانے والی شخصیت امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ہیں۔ انہوں نے عوام اور دنیا بھر سے تعلق استوار کرنے کے لئے اپنے ٹویٹر اکاؤنٹ کا سہارا لیا۔ اب بہت سے ممالک کے صدور و وزرائے اعظم و اراکین کابینہ اور دیگر ادارے سوشل میڈیا پر متحرک نظر آتے ہیں۔دنیا بھر کی طرح پاکستان میں سوشل میڈیا کا استعمال بڑھ گیا ہے جو حکومتی معاملات اور ریاستی تقاضوں پر کسی حد تک اثر انداز بھی ہو رہا ہے۔
جہاں تک سوشل میڈیا پر اداروں کی تضحیک کی بات ہے تو ایسا نہیں کہ ہمارے یہاں سائبر کرائم کا قانون نہیں ہے مگر بدقسمتی سے وہ نافذ العمل نہیں ہے ۔ کیا کبھی دیکھا گیا ہے کہ بیرون ممالک میں سی آئی اے یا ایم آئی فائیو کو تنقید کا نشانہ بنا یاگیا ہو۔؟ ہمارے پڑوس میں ہی دیکھ لیں کوئی بھی ‘را’ کے خلاف لب نہیں کھول سکتا ہے تو کیا یہ سب دودھ کی دھلی ہیں ؟ ہرگز نہیں،بلکہ ان ممالک میںقانون مستحکم ہے۔ اس لئے وہاں دفاعی اداروں کا احترام ہے اور ریاست انہیں ان اداروں کا احترام کرنے کا پابند کرتی ہے۔یہ بات درست ہے کہ ڈیجیٹل میڈیا پر کسی حد تک اخلاق اور معیار سے گری زبان کا بھی استعمال کیا جاتا ہے، جس کی روک تھام کی ضرورت ہے، جب فواد چوہدری صاحب وزیر اطلاعات تھے تو انہوں نے پرنٹ، الیکٹرانک اور سوشل میڈیا کو ایک چھتری تلے لانے کا عندیہ دیا تھا، اگر ایسا ہوجاتا تو یہ بہترین اقدام ہوتا اس سے سوشل میڈیا کے قواعہ و ضبوابط بھی مرتب اور نافذ العمل ہوں گے اور غیر اخلاقی زبان یا الفاظ کے استعمال پر سختی سے پابندی ہوگی۔
سینیئر صحافی و اینکر فریحہ ادریس کے مطابق، آج سے چند سال قبل جب ہم کسی سینیئرصحافی سے سوشل میڈیا کے متعلق بات کرتے تھے تو وہ اس فورم کو سنجیدہ نہیں لیتے تھے، کہا جاتا تھا کہ یہ تو بچوں کی چیز ہے، اب بدلتے وقت کے ساتھ ہم نے دیکھا کہ وہ شخصیات تک اپنا اکاؤنٹ بنائے سماجی رابطے کی ویب سائٹس پر متحرک ہیں، میں مانتی ہوں کہ ڈیجیٹل میڈیا کے ذریعے سے معاشرے پر برے اثرات بھی مرتب ہوئے ہیں مگر ہم اس کے اچھے پہلوؤں کو بھی فراموش نہیں کرسکتے ہیں۔ بہت سی روایتی سیاسی و مذہبی جماعتیں تک اس فورم کا استعمال کرکے اپنے چاہنے والوں کے ساتھ جُڑی ہوئی ہیں لہٰذا سوشل میڈیا کی اہمیت سے انکاری ہونا ممکن نہیں ہے، اس کا ریاست پر گہرا اثر پڑا ہے، اگرچہ یہ اہم ستون کی صورت اختیار کرگیا ہے تاہم اس کے قواعد و ضوابط مرتب اور نافذ کرنا ہوںگے تاکہ اخلاقیات کے دائرے میں ایشو ہائی لائٹ ہو اور اس کا مناسب حل تلاش کیا جاسکے۔

سوشل میڈیا روایتی میڈیا کے ساتھ ساتھ ہماری زندگیوں پر بھی بہت حد تک اثر انداز ہو رہا ہے اگرچہ یہ ریاست کا پانچواں ستون تو نہیں بن رہا مگرتصور کر بھی لیا جائے کہ یہ پانچواں ستون بن سکتا ہے تو پھر اس کے استعمال کے کچھ قواعد و ضوابط ضرور ہونے چاہئیںجو ہماری زندگیوںکو سہل بنائیں اور ہمارے لئے مشکلات پیدا نہ ہوںاوراس کے ساتھ ساتھ یہ معلومات کا ذریعہ بنے ،لوگ اس سے فوائد حاصل کریں نہ کہ یہ غلط مقاصد کے لئے استعمال ہو۔

ممتاز صحافی، مصنف، اینکر اور کالم نگار اسد اللہ خان نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ صحافت ریاست کا چوتھا ستون ہے اور میرے نزدیک سوشل میڈیا روایتی میڈیا سے ہی منسلک ایک جدید فورم ہے۔میں اسے پانچواں ستون نہیں کہنا چاہوں گا البتہ اس کی اہمیت کو نظر انداز بھی نہیں کروںگا، یہ جدید دور کا بہترین فورم ہے جس پر معلومات کا خزانہ ہے، نئے آنے والے صحافی کے لئے بے حد سہل اور کشادہ پلیٹ فارم ہے، جہاں کم وقت میں آپ زیادہ بات کرسکتے ہیں، ایک کلک پر سیاق و سباق سمیت ڈھیر ساری معلومات اکٹھی کرسکتے ہیں۔
صحافی ولاگر عمر انعام نے گفتگو کا حصہ بنتے ہوئے کہا کہ میں سینیئر صحافی اور اینکراسد اللہ خان کی بات کی تائید کرتے ہوئے سوشل میڈیا کو ریاست کا پانچواںستون نہیں کہوںگا، تاہم ریاستی مشینری جیسے بین الاقوامی تعلقات، حزب اقتدار کے معاملات، حزب اختلاف کے تحفظات، عوامی ترجیحات، عدلیہ کے احکامات اور صحافتی نظریات کو مدنظررکھ کر میں ڈیجیٹل میڈیا کی اہمیت و افادیت سے ہرگز اختلاف نہیں کروں گا، سوشل میڈیا سول سوسائٹی اور پریشر گروپ کا کردار بھی ادا کر رہا ہے، اس فورم کی وجہ سے جس قسم کا پریشر آیا اس پر ازخود نوٹس تک لئے گئے،حکومت کے متعدد یوٹرن اور مثبت فیصلوں کی بنیاد بھی ڈیجیٹل میڈیا فورم ہی بنا ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ سوشل میڈیا ریاست اور عوام کے درمیان ایک پل کا کردار ادا کررہا ہے۔
ولاگر ملیحہ ہاشمی کے مطابق، سوشل میڈیا ریاست کا پانچواں ستون بن چکا ہے، آج روایتی میڈیا آدھے سے زیادہ سوشل میڈیا پر انحصار کرتا ہے، اب عوام الناس کو بیشتر خبریں سوشل میڈیا کے ذریعے ملتی ہیں، لوگ ٹی وی کے بجائے سمارٹ فونز پر خبریں، ڈرامے اور فلمیں دیکھنا پسند کرنے لگے ہیں۔ یہ ہی نہیں بلکہ اخبارت و کتابوں کا مطالعہ تک ڈیجیٹل میڈیا ایپس کے ذریعے ممکن ہوگیا ہے، سوشل میڈیا اس قدر اہم ہوچکا ہے کہ یہ حکومت بنا اور گرا بھی سکتا ہے، ڈونلڈ ٹرمپ کی مثال آپ کے سامنے ہے، امریکی صدر کا اقتدار سوشل میڈیا کی مستحکم کیمپین ہی کا مرہون منت ہے۔ اگر وہ امریکی صدر کے امیدوار کے طور پر سوشل میڈیا پر اتنا زیادہ متحرک نہ ہوتے تو کوئی سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ ایک ناتجربہ کار شخص صدر بن سکتا ہے وہ بھی امریکا جیسے ملک کا، جبکہ ان کے مدمقابل ہیلری کلٹن جیسی سیاسی نامور اور تجربہ کار شخصیت تھی، آپ آج بھی دیکھیں امریکی صدر سوشل میڈیا پر خاصے متحرک ہیں، سوشل میڈیا نے آزادیٔ رائے کی سہولت سے عوام کو مزیّن کیا ہے، پہلے ایڈیٹر کے نام خطوط کے ذریعے چند لوگ اپنے حق کے لئے آواز بلند کرتے، توجہ دلاتے یا رائے دیتے تھے تاہم سوشل میڈیا فورم نے عوام کے لبوں کو آزاد کیا ہے، البتہ مناسب زبان کا استعمال ضروری ہے، نظریات پر اختلاف کیا جاسکتا ہے تاہم گالم گلوچ بہتر امر نہیں ہے، جعلی خبروں کو وائرل کرنا انتہائی سطحی حرکت ہے، ان اقدامات کی فوری روک تھام ہونی چاہئے۔سوشل میڈیا ریاست کا پانچواں ستون اس لحاظ سے بھی بن گیا ہے کہ اب جنگیں میدان میں نہیں بلکہ سماجی رابطے کی ویب سائٹس پر لڑی جاتی ہیں،اس ماڈرن جنگ کو ففتھ جنریشن وار فیئر کا نام دیا جاتا ہے۔ 27فروری 2019 کو روایتی محاذ پاک افواج نے اپنے نام کیا تو ماڈرن محاذ پر پاکستان کے نوجوانوں نے دشمن کے دانت کھٹے کئے، سوشل میڈیا کے ذریعے سے ہی پاکستان کے بیٹے اور بیٹیاں ریاست کے خلاف زہر اگلنے والوں کو بے نقاب کرکے ان کو شٹ اپ کال دیتے ہیں، مقبوضہ کشمیر میں بھارتی جارحیت کے خلاف بھی اس ماڈرن فورم پر دل کھول کر بولا جاتا ہے اور اقوام عالم کو کشمیریوں پر بھارتی مظالم سے آگاہ کیا جاتا ہے، ہندوستان کی سرکار مسلمان مخالف بل کو منظور کرکے مسلمان پر جو قیامت ڈھا رہی ہے اس کی اطلاعات بھی سوشل میڈیا کے ذریعے سے ہی بین الاقوامی دنیا تک پہنچ رہی ہیں۔
صحافی و بلاگر فہیم پٹیل نے کہا کہ پاکستان میں سوشل میڈیا اس وقت جس شکل میں موجود ہے، ایسی صورت میں اس کو ریاست کا پانچواں ستون قرار نہ دیا جاسکتا ہے، اور نہ دیا جانا چاہئے۔ سوشل میڈیا پر تمام تر خوبیوں کے باوجود بہت ساری خامیاں موجود ہیں، اور جب تک ان خامیوں کو دور نہیں کرلیا جاتا، تب تک اس کو اتنا اہم اسٹیٹس نہیں دیا جانا چاہئے۔اس کی سب سے بڑی خرابی تو یہی ہے کہ یہ مکمل طور پر آزاد ہے، یہاں کوئی قانون، اور اخلاقی بندش موجود نہیں ہے، جبکہ ہمارے جو تین اہم ترین ستون ہیں، وہ قائم ہی آئین اور قانون کی طاقت سے ہیں، جب بھی ان کو آئین اور قانون سے آزادی مل جائے گی، وہ بھی اپنی اہمیت کھو دیں گے۔
صحافی و بلاگر سدرہ ڈار کا کہنا ہے کہ بلا شبہ یہ دور ڈیجیٹل میڈیا کا ہے، جہاں اس کے نقصانات ہیں وہاں بہت سے فوائد بھی ہیں،ہم اس کی اہمیت سے انکاری نہیں ہوسکتے، کتنے ہی ایسے معاملات ہیں جو سوشل میڈیا پر اجاگر ہونے کے بعد سوشل میڈیا پر زیربحث آئے ہیں، نقیب اللہ قتل کیس ہو ، می ٹو مہم ہو یا بلوچستان یونیورسٹی میں سی سی ٹی وی کا ایشو ، ایمل کی ہلاکت کا معاملہ ہو یا بسمہ یا دعا منگی کیس یہ سب سوشل میڈیا کی بدولت سامنے آئے ہیں اِس کے بعد ہی روایتی میڈیا نے اسے فالو کیا ہے۔
صحافیوںاوربلاگرزکی اس بحث کے بعد ہم یہ نتیجہ نکال سکتے ہیں کہ سوشل میڈیا روایتی میڈیا کے ساتھ ساتھ ہماری زندگیوں پر بھی بہت حد تک اثر انداز ہو رہا ہے اگرچہ یہ ریاست کا پانچواں ستون تو نہیں بن رہا مگرتصور کر بھی لیا جائے کہ یہ پانچواں ستون بن سکتا ہے تو پھر اس کے استعمال کے کچھ قواعد و ضوابط ضرور ہونے چاہئیںجو ہماری زندگیوںکو سہل بنائیں اور ہمارے لئے مشکلات پیدا نہ ہوںاوراس کے ساتھ ساتھ یہ معلومات کا ذریعہ بنے ،لوگ اس سے فوائد حاصل کریں نہ کہ یہ غلط مقاصد کے لئے استعمال ہو۔ بہر طور یہ امر اپنی جگہ اہم ہے کہ حکومتِ پاکستان نے سوشل میڈیا کو ریگولیٹ کرنے کے لئے کچھ قواعد و ضبوابط وضع کئے ہیں جنہیں اگر مثبت انداز سے لیاجائے اور سوشل میڈیا بھی کچھ اخلاقی اور آئینی حدود میں رہ کر استعمال کیاجائے تو یقینا یہ معاشرے کی بہتری کے لئے زیادہ فعال ثابت ہوسکتا ہے۔

کرپشن کا خاتمہ

کرپشن یا بدعنوانی صرف رشوت اور غبن کا نام نہیں، اپنے عہد اور اعتماد کو توڑنا یا مالی اور مادی معاملات کے ضابطوں کی خلاف ورزی بھی بدعنوانی کی شکلیں ہیں۔ ذاتی یا دنیاوی مطلب نکالنے کے لئے کسی مقدس نام کو استعمال کرنا بھی بدعنوانی ہے۔ کرپشن ایک ایسا مرض ہے جو چھوت کی طرح پھیلتا ہے اور معاشرے کو کھا جاتا ہے۔ ہم سب جانتے ہیں کہ اس موذی مرض نے ہماری سماجی، سیاسی اور روحانی زندگی کو تباہ کرکے رکھ دیا ہے۔ کرپشن آکاس بیل کی طرح سے ہے، یعنی وہ زرد بیل جو درختوں کو جکڑ کر ان کی زندگی چوس لیتی ہے۔ یہ ایک ایسی لعنت ہے کہ اگر ایک بار یہ کسی معاشرہ پر آگرے تو ایک شاخ سے اگلی اور اگلی شاخ کو جکڑتی چلی جاتی ہے حتیٰ کہ زرد ویرانی کے سوا کچھ باقی نہیں رہتا۔ یہاں تک کہ معاشرہ کی اخلاقی صحت کے محافظ مذہبی اور تعلیمی ادارے بھی اس کا شکار ہو جاتے ہیں۔ کسی برائی کے خلاف جدوجہد کا انحصار معاشرہ کے اخلاقی معیاروں پر ہوتا ہے۔ اہمیت اس بات کی ہوتی ہے کہ ہم کس بات کو رد اور کس کو قبول کرتے ہیں۔ بدعنوانی کے رویوں کے ساتھ بدعنوانی کا مقابلہ ممکن نہیں۔ کوئی نگران اگر خود بد دیانت ہو تو لوٹ میں اپنا حصہ مانگ کر کرپشن میں معاونت کرتا ہے، جس سے بربادی کا عمل اور گہرا ہو جاتا ہے۔

ہمارا معاملہ یوں ہے کہ کرپشن کسی جڑواں بچے کی طرح پاکستان کے بنتے ہی ساتھ آگئی تھی۔ وہ لوگ جو آج معاشرہ میں امتیازی حیثیت کے مالک ہیں، پاکستان کے ابتدائی دنوں کی تاریخ کو بڑی احتیاط سے چھپاتے ہیں۔ یہ لوگ کرپشن کے خلاف تقریریں تو کرتے ہیں لیکن کرپشن کی وجوہات اور پیدائش پر بات نہیں کرتے۔ یہ پاکستان کی ابتدائی تاریخ کا وہ افسوس ناک باب ہے، جس میں ہماری کرپشن، موقع پرستی، مذہبی بلیک میلنگ اور بے حسی کی جڑیں چھپی ہیں۔ ہماری قیادت کو ان مسائل کا شائد کوئی تصور ہی نہ تھا، جو ہمارے عوام کو تقسیم ہند کے وقت پیش آنے والے تھے۔ چنانچہ مہاجروں کی آباد کاری کا کوئی ٹھوس منصوبہ موجود نہ تھا۔ عین اس وقت جب ہمارے لہو میں نہائے ہوئے مہاجر کیمپوں میں پڑے سڑ رہے تھے تو ملک کے طول و عرض میں ہندووں اور سکھوں کی متروکہ املاک کی لوٹ مار یوں جاری تھی جیسے عید کا تہوار ہو۔ چالاک موقع پرستوں کی چاندی ہو رہی تھی۔ لیڈر لوگ بحالیات کے دفتروں میں بیٹھے اپنے حصّوں کی سودے بازی کر رہے تھے۔ کیمپوں میں ہونے والے جنسی جرائم کی گندی کہانیاں بھی گردش میں تھیں۔ یہ سب کچھ پراپرٹی کلیم شروع ہونے سے پہلے کی بات ہے۔

پھر پراپرٹی کلیم کی کہانی شروع ہوئی، لیکن پراپرٹی کلیم کیا تھا؟
بے شمار مسلم عوام تھے، جنہوں نے اپنے اس نئے وطن پاکستان کے لئے ہندوستان سے ہجرت کی۔ ان میں بہت سے ایسے تھے، جو بھارت میں اپنے گھر اور جائیداد چھوڑ کر آئے تھے۔ لیکن ان گنت ایسے بھی تھے، جن کا وہاں کچھ بھی نہ تھا یا بہت معمولی تھا۔ اگرچہ حقائق معلوم کرنے کا کوئی قابل اعتماد طریقه موجود نہ تھا، پھر بھی ہر شخص کو یہ دعویٰ کرنے کا حق تھا کہ اس نے ہندوستان میں یہ چھوڑا، وہ چھوڑا اور اسے پاکستان میں اس کے برابر ملنا چاہیئے، اس کا نام کلیم تھا۔ لیکن لوگ اپنا کلیم کیسے ثابت کرتے تھے؟ ظاہر ہے کسی کے پاس ملکیت کا کوئی کاغذ نہ تھا۔ ایسی صورت حال میں جھوٹی کہانیوں کی گنجائش موجود تھی، جس کی تصدیق کے لئے ذاتی گواہی کے سوا کچھ موجود نہ تھا اور اس کی بھی کچھ ایسی مجبوری نہ تھی، کیونکہ کوئی ہمدرد افسر، تحریک پاکستان کا کوئی کارکن یا کوئی سیاسی رہنما آپ کا کلیم منظور کرکے آپ کی تقدیر بدل سکتا تھا۔

چنانچہ ہندووں اور سکھوں کی چھوڑی ہوئی شہری اور دیہی ملکیتیں، رہائشی اور کاروباری جائیدادیں، فضل ربی بن کر ایسے ایسے لوگوں کے ہاتھ لگیں جن کا کوئی استحقاق نہ تھا۔ سب سے زیادہ ننگے انداز میں یہ عمل صنعتی، تجارتی اور کاروباری شعبوں میں سرزد ہوا، جہاں مسلمانوں کو کوئی تجربہ نہ تھا یا بہت کم تجربہ تھا۔ چنانچہ جو نیا کاروباری طبقہ پیدا ہوا، اسے کاروبار کے اصولوں، اس کی اخلاقیات اور اس کے مزاج کے بارے میں تربیت دینے کا بھی کوئی انتظام نہ تھا۔ برطانوی حکومت سے پہلے برصغیر میں مسلمانوں کا مزاج بالعموم جاگیردارانہ اور زراعتی تھا، بعد کی صدیوں میں زیادہ تر وقت مسلمان مزاحمت اور علیحدگی کی تحریکوں میں رہے، صرف ایک محدود سا طبقہ سول سروس اور فوج میں شامل ہوا۔ اس سارے دور میں مسلم خطیبوں اور ڈاکٹر اقبال جیسے شاعروں کے ولولہ انگیز پیغامات نے ہمارے مجاہدانہ مزاج کو اور گہرا کر دیا۔ لہٰذا ہمارے کاروباری طبقوں میں جاگیرداری اور جنگی مزاج قائم رہا اور ایک حقیقی کاروباری طبقہ کے جمہوری مزاج کی کمی رہی۔

برصغیر میں مسلمان صدیوں سے ہندو کاروباری طبقہ کو حقارت سے بنیا کہتے آئے تھے اور انہیں رئیس اور سپاہی ہونے پر فخر رہا تھا۔ لہٰذا ہمارے کاروباری طبقوں اور سول سروس کے لئے بالکل فطری تھا کہ وہ جاگیرداروں، جرنیلوں اور دینی علماء کو اپنے راہنما مانتے۔ زرعی رؤسا، جن میں سے اکثر کرپشن کے موجد تھے، جنہوں نے خالص ذاتی مفادات کے لئے انگریز کی خدمات کی تھی، اس نئی سرزمین میں خوش اور محفوظ تھے کہ جہاں نہ تو زرعی اصلاحات کا خوف تھا، نہ احتساب کا۔ یہ تھی صورت حالات جس میں پرمٹ، لائسنس اور الاٹمنٹوں کا ہنگامہ شروع ہوا۔ جلد ہی امریکی امداد کا دھارا بھی بہنے لگا۔ اب اوپر کے طبقوں یعنی حکمرانوں کے لئے کھلا میدان تھا۔ آسان کمائی کی غلیظ دوڑ کا آغاز ہوا، جس نے راتوں رات امیر ہو جانے کے خواب ہماری نفسیات میں گوندھ ڈالے۔ بعد کی ساری تاریخ کرپشن اور اقربا پروری کے افسانوں اور کہانیوں سے اٹی پڑی ہے۔ آج ہمیں حیرت ہوتی ہے، کہ آخر کرپشن کی شکایتیں کرنے اور ایک دوسرے پر فرد جرم عائد کرنے کا جواز کیا ہے، لیکن سچ یہ ہے کہ اس کا جواز موجود ہے۔

نرگسیت سے بھرے معاشرہ میں ایسا عمل فطری ہے، کیونکہ نرگسیت کے مریض کی مجبوری ہوتی ہے کہ وہ اپنا جرم دوسروں پر ڈال دے۔ پاکستان میں کرپشن صحت مندی کی علامت بن گئی ہے، ایک ایسا عمل جو ذہانت کا معیار ہے، سماج میں موزوں ہونے کا ثبوت ہے، لیکن ساتھ ہی ساتھ کرپشن کو گالی دینا بھی اتنا ہی معیاری اور موزوں ہے۔ ہم میں سے ہر ایک کے پاس دوسرے کی کرپشن کے ٹھوس ثبوتوں کے ساتھ ایک فہرست موجود ہوتی ہے، جس کے ساتھ ہی ویسی ہی کامیابیوں کی آرزو ہمارے دل میں مچلتی ہے۔ عمل اور فکر کا یہ تضاد یعنی ہاتھ سے کرنے اور زبان سے کوسنے کا یہ عمل اس ریا کاری کو جنم دیتا ہے، جو بد عملی کو دوام بخشتی ہے۔ ایک ایسا معاشرہ جو ایک شاندار دین پر ایمان رکھتا ہے، لیکن جن اصولوں کی تعظیم کرتا ہے، عمل میں ان کے مخالف چلتا ہے، اسے ضمیر کی آسودگی کے لئے کسی بڑی تسلی کی ضرورت پڑتی ہے۔ لہذا ہمارے حکمرانوں نے معاشرہ کے لئے نمازوں اور حج کی رسوم پر مبنی نمائشی اسلام کو بڑھاوا دیا ہے۔ اس سے ہم اپنے ہر روز کے احساس ندامت کو دھو لیتے ہیں، تاکہ ہر نئی صبح ہلکے پھلکے ہوکر پھر سے وہی کرنے نکلیں جو کل دھویا تھا۔

کیا اس حالت سے نکلنے کا کوئی راستہ ہے؟
ہاں، ہر نئی نسل بھلائی پر ایمان اور معصوم جذبے لیکر پاکیزہ پیدا ہوتی ہے۔ یہ معاشرہ جس میں وزیراعظم سے قاصد تک اور مل مالک سے دہاڑی دار معاون تک تقریباً ہر کوئی تر بہ تر ہے اور نچڑ رہا ہے، یہاں نئی نسل کی رہنمائی کے لئے شاید کوئی موجود نہیں۔ انہیں مستقبل کی تعمیر کے لئے بڑی توجہ سے اپنے رستے بنانا ہونگے۔ اچھے معاشروں کا مطالعہ اور ذہانت سے پوچھے جانے والے سوال وہ اوزار ہیں، جو راستہ بنانے میں مدد دے سکتے ہیں۔ جمہوریت نئی نسل کو اپنا رول ادا کرنے کے لئے میدان مہیا کرسکتی ہے۔ ہمیں امید ہے نئی نسلیں سائنس اور تخلیق کی دنیا کے ساتھ جینے کا فیصلہ کریں گی، جو ایسا واحد راستہ ہے، جو کرپشن سے آزاد ہے۔

اس بات پر وسیع اتفاق موجود ہے کہ کرپشن پاکستانی معاشرے کا بنیادی مسئلہ ہے لیکن اسے حل کرنے کی کوئی کوشش کامیاب نہیں ہوئی۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ بدعنوانی کو ختم کرنے کی شدید خواہش کے باوجود اس سے چھٹکارا پانے کی کوئی سنجیدہ کوشش دیکھنے میں نہیں آتی۔ اس کی سب سے نمایاں مثال موجودہ حکومت ہے۔

عمران خان کرپشن ختم کرنے کے ایک نکاتی ایجنڈے پر پاکستانی قوم کا اعتماد حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے تھے لیکن حکومت کی نصف مدت پوری کرنے کے بعد بھی بدعنوانی میں کمی تو درکنار کسی ایسے شخص کے خلاف بھی کوئی فیصلہ کن عدالتی حکم سامنے نہیں آ سکا جنہیں حکومت تواتر سے ’چور اور لٹیرے‘ قرار دیتی ہے۔ جاننا چاہیے کہ بدعنوانی کے خلاف پاکستانی معاشرہ کیوں تسلسل سے ناکام ہو رہا ہے۔ جب بھی کسی مرض کا علاج شروع کیا جاتا ہے تو اس کے تمام پہلوؤں کا جائزہ لے کر مرض کی شدت اور گہرائی جانچی جاتی ہے اور پھر اس کا ایسا علاج تجویز کیا جاتا ہے جس سے مرض بھی ختم ہو جائے اور مریض کی تکلیف میں بھی کمی واقع ہو۔ بدعنوانی کو اگر سماجی علت مان لیا جائے تو اس کے بارے میں بھی ایسا ہی طریقہ علاج اختیار کرنا اہم ہوگا۔

جب کوئی مرض کسی ایک علاج سے درست نہیں ہوتا تو معالج دوا یا طریقہ علاج تبدیل کرتا ہے۔ اس طرح حتمی مقصد یعنی بیماری سے نجات حاصل کرنے کے لئے کام جاری رکھا جاتا ہے۔ کسی نے کبھی کوئی ایسا حکیم یا ڈاکٹر نہیں دیکھا ہوگا جو مرض بڑھنے کے باوجود پرانی دوا جاری رکھنے پر اصرار کرتا ہو۔ پاکستان میں کرپشن کا علاج کرنے کے لئے البتہ یہی عجیب و غریب طریقہ علاج اختیار کیا گیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ قیام پاکستان کے ساتھ ہی کرپشن کے خلاف نعروں اور اقدامات کا آغاز ہو گیا تھا۔ مرض تو دور نہیں ہوسکا البتہ مریض جاں بلب ہے۔

پاکستان میں کرپشن کو سیاسی سلوگن بنا کر درحقیقت معاشرے میں بدعنوانی کے مسلسل فروغ کی راہ ہموار کی گئی ہے۔ اقربا پروری، رشوت ستانی، سرکاری اختیار، مراعات یا سہولتوں کا ناجائز استعمال وغیرہ سب کرپشن ہی کی مختلف قسمیں ہیں۔ لیکن پاکستانی سامعین کو صرف سیاست دانوں کی چوری کی کہانیاں سنائی جاتی ہیں۔ اس کے ساتھ آج کا پاکستانی معاشرہ پچاس ساٹھ سال پہلے کے سماج سے زیادہ بدعنوان ہو چکا ہے۔ زوال و رائیگانی کا یہ سفر مسلسل جاری ہے۔ معاشرے کے کسی بھی شعبہ میں جائز کام کروانے کے لئے بھی ناجائز طریقے اختیار کرنے کا چلن عام ہے۔ پاکستان کو کرپشن سے ’پاک‘ کرنے کے لئے متعدد فوجی حکومتیں قائم کی گئیں، اسلامی نظام کے ذریعے لوگوں کی اصلاح کا بیڑا اٹھایا گیا یا اب مدینہ ریاست کے قیام کا نیا سیاسی ایجنڈا متعارف کروایا گیا ہے جس میں حکمرانوں کے خیال میں کسی بدعنوان کو معاف نہیں کیا جاسکتا۔ عمران خان ایک نکتہ پر مبنی اپنے اس ایجنڈے کو این آر او نہ دینے کا نام دیتے ہیں۔ یعنی وہ کہتے ہیں کہ وہ سیاسی فائدے کے لئے کسی اپوزیشن لیڈر کو معاف نہیں کریں گے۔ چاہے انہیں اقتدار سے ہی محروم کیوں نہ ہونا پڑے۔

یہ دعویٰ اور سلوگن بہت سہانا لگتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ عوام کی ایک بڑی تعداد اب تک عمران خان کو پاکستان کا مسیحا سمجھتی ہے۔ انہیں یہ یقین دلا دیا گیا ہے کہ اگر بدعنوان سیاست دانوں کو کیفر کردار تک پہنچا دیا جائے تو پاکستانی معاشرہ جنت نظیر ہو جائے گا۔ یہی وجہ ہے کہ اقتدار سنبھالنے سے پہلے لٹیرے سیاست دانوں کے بیرون ملک بنکوں میں موجود 200 ارب ڈالر واپس لانے کا اعلان کیا جاتا تھا۔ تحریک انصاف کا دعویٰ تھا کہ یہ دولت واپس لاکر ایک سو ارب ڈالر عالمی قرض کی مد میں ادا کر کے پاکستان کو ’بیرونی دباؤ‘ سے آزاد کروا لیا جائے گا اور باقی ایک سو ارب ڈالر کو عوامی فلاح کے منصوبوں پر صرف کیے جائیں گے۔ اس طرح دنوں میں ایک طرف ملک ترقی کرنے لگے گا اور عام لوگوں کی مالی حالت بھی پہلے سے بدرجہا بہتر ہو جائے گی۔ اقتدار سنبھالنے کے بعد البتہ بیرون ملک سے اربوں ڈالر واپس لانے اور کاسہ گدائی توڑنے کی بجائے ملک کے قرضوں میں لگ بھگ پچیس فیصد اضافہ کیا جا چکا ہے۔ اور جس آئی ایم ایف سے ہمیشہ کے لئے جان چھڑانے کا قصد کیا جاتا تھا، اب اسی کے ناز نخرے اٹھانے کے لئے آئے روز پیٹرولیم مصنوعات اور بجلی و گیس کے ٹیرف میں اضافہ ہوتا ہے۔

یوں ایک بات تو ثابت ہو گئی ہے کہ تحریک انصاف کی حکومت اگر ملکی ضروریات پوری کرنے اور قرضوں کی اقساط ادا کرنے کے لئے مزید غیر ملکی قرضے لینے پر مجبور ہے تو ماضی میں بھی یہی حکمت عملی اختیار کی گئی ہوگی۔ یہ دعویٰ کہ ملک پر 30 ہزار ارب روپے قرض کا بوجھ لادنے والے یہ دولت اپنے پرائیویٹ اکاؤنٹس میں منتقل کرتے رہے تھے، اب تحریک انصاف کے اپنے اقدامات کی روشنی میں غلط ثابت ہو چکا ہے۔ بصورت دیگر یہ سوال کیا جاسکتا ہے کہ اگر ماضی کے حکمرانوں نے قوم کے 30 ہزار ارب روپے اپنے ذاتی بنک اکاؤنٹس میں منتقل کیے تھے تو موجودہ حکمرانوں نے اڑھائی برس کے عرصے میں لئے گئے دس سے پندرہ ہزار ارب روپوں سے اپنے اکاؤنٹس کو بھر لیا ہوگا۔ اگر یہ دعویٰ الزام لگے تو عمران خان اور ان کے ساتھیوں کو مان لینا چاہیے کہ پاکستان اپنی معاشی سیاست کی کمزوریوں کے سبب اقتصادی بدحالی کا شکار ہے۔ اس کا بدعنوانی یا بدنیتی سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

پاکستان میں بدعنوانی سے نجات حاصل کرنے کے لئے تواتر سے یہ نعرہ فروخت کیا گیا ہے کہ بڑے مگر مچھوں کو پکڑ لیا جائے تو معاشرہ از خود کرپشن فری ہو جائے گا۔ اس نعرے کو گھڑنے اور بیچنے کی پچاس ساٹھ سالہ سیاسی مشقت کے بعد یہ سمجھنا دشوار نہیں ہونا چاہیے کہ اس نعرے سے سیاسی فائدہ تو حاصل کیا جاسکتا ہے اور شاید اقتدار بھی حاصل ہوجاتا ہے لیکن سماجی علت ختم نہیں ہوتی۔ بدعنوانی ختم کرنے کے لئے بیک وقت معاشی اصلاح اور سماج سدھار کا کام شروع کرنا ہوگا۔ یہ تسلیم کرنے کی ضرورت ہے کہ ملک کے سیاسی لیڈروں کو چور اچکے اور لٹیرے قرار دے کر بدعنوانی نام کے مرض کا علاج نہیں ہوسکا۔ بلکہ مرض بڑھتا گیا جوں جوں دو ا کی والا معاملہ ہو چکا ہے۔ اس لئے یہ سچائی تو اب نوشتہ دیوار ہے کہ مرض کا علاج ہی نہیں، اس کی تشخیص بھی غلط ہے۔ کرپشن کے خلاف کامیابی کے لئے افراد کی گرفت سے پہلے نظام کو شفاف بنانا اہم ہے۔ اس کام کا آغاز سیاسی نعروں کے ہجوم میں ہو نہیں پاتا۔

بدعنوانی کے خاتمہ کے لئے یہ تعین کرنا بھی ضروری ہے کہ کس رویہ یا طریقہ کو چوری یا بدعنوانی کہا جاتا ہے۔ اگر محض سیاسی لیڈروں کی بے اعتدالی ہی کرپشن ہے تو موجودہ حکومت بھی اس سے استفادہ کرنے میں کسی سے پیچھے نہیں ہے۔ عمران خان نے اقتدار لینے کے لئے اپنا پندرہ بیس سال پرانا یہ موقف تبدیل کر لیا کہ ’الیکٹ ایبلز‘ اور ایسے سیاسی اداکاروں کو ساتھ نہیں ملایا جائے گا جو صرف اپنے سیاسی فائدے کے لئے پارٹیاں بدلتے ہیں اور ہر نئی حکومت کا حصہ بن جاتے ہیں۔ عمران خان کی کابینہ ایسے ہی عناصر کا مرقع ہے۔ ایسے ساتھیوں کے ہمراہ وہ کیسے بدعنوانی کے ایجنڈے کی تکمیل کر سکتے ہیں؟ عمران خان کا دوسرا اہم ترین سیاسی یو ٹرن سیاست میں فوجی مداخلت کی مخالفت سے اس کے ذریعے حکومت کرنے کا طریقہ ہے۔ گویا عمران خان نے اپنے سیاسی چلن سے یہ ثابت کیا ہے کہ وہ خود سیاسی ’بددیانتی‘ کی زندہ تصویر ہیں۔ انہوں نے وزیر اعظم بننے کے لئے اسی اسٹبلشمنٹ کا ہرکارہ بننے کا فیصلہ کیا جسے وہ اس ملک میں جمہوریت ہی نہیں بلکہ معاشی و سلامتی مسائل کا بھی ذمہ دار قرار دیتے رہے ہیں۔ اگر یہی ایمانداری کی معراج ہے تو موقع پرستی اور فائدے کے لئے موقع کا ناجائز استعمال کیا ہوتا ہے؟

کرپشن کے حوالے سے عمران خان کی کج روی کی دوسری زندہ مثال تحریک انصاف کا فارن فنڈنگ کیس ہے۔ یہ معاملہ ان کی اپنی پارٹی کے ایک بانی رکن الیکشن کمیشن میں لے کر گئے تھے۔ عمران خان کی قیادت میں تحریک انصاف نے گزشتہ 7 برس کے دوران اس معاملہ میں اپنی دیانت اور نیک نیتی کا ثبوت دینے کی بجائے مسلسل کسی قانونی کجی کا فائدہ اٹھا کر اس معاملہ کو تعطل کا شکار کرنے کی کوشش کی ہے۔ جب اپوزیشن اتحاد نے الیکشن کمیشن پر براہ راست دباؤ ڈالنے کا طریقہ اختیار کیا تو اپنی غلطیوں کا جواب دینے کی بجائے یہ کہا جانے لگا کہ دوسری پارٹیاں بھی یہی سب کچھ کرتی رہی ہیں۔ گویا آپ خود یہ تسلیم کر رہے ہیں کہ ان میں اور آپ میں کوئی فرق نہیں ہے۔ اگر وہ خود پر عائد الزامات کا جواب نہیں دیتے تو عمران خان اور تحریک انصاف بھی یہی کر رہے ہیں۔ گویا اپنے عمل سے ثابت کیا جا رہا ہے کہ اس حمام میں سب ننگے ہیں۔

براڈ شیٹ نامی کمپنی کے ساتھ نیب کے تعلق کو بھی ایک خاص سیاسی ایجنڈا سامنے لانے کے لئے استعمال کیا جا رہا ہے۔ عمران خان یا ان کی حکومت نے کسی مرحلے پر اس پہلو پر تاسف یا پریشانی کا اظہار نہیں کیا کہ قوم کا قیمتی سرمایہ بعض سرکاری اہلکاروں کی نا اہلی اور نیب جیسے ادارے کے تساہل یا بدنیتی کی وجہ سے ضائع ہوا۔ سال ہا سال سے اس معاملہ پر بیرون ملک وکیلوں کی جیبیں بھری جاتی رہیں اور مصنوعی لوگوں کو ادائیگی کے ذریعے معاملہ دبانے کی کوشش ہوتی رہی۔ لیکن عمران خان حکومت کو اب بھی یہی لگتا ہے کہ اسی براڈ شیٹ کمپنی کے ذریعے نواز شریف کی گرفت کی جا سکتی ہے۔ حکومتی نمائندے جب اس اسکینڈل پر قائم کمیٹی کی بات کرتے ہیں یا جسٹس (ر) عظمت سعید کی تقرری پر پیدا ہونے والے تنازعہ کو مسترد کرتے ہیں تو ان کا فوکس نواز شریف اور ان کی نام نہاد ’بدعنوانی‘ ہوتی ہے۔ اس کے بعد بھی اگر حکومتی ہتھکنڈوں کو سیاسی انتقام نہ کہا جائے تو اسے کیا کہا جائے گا؟

پاکستان میں کرپشن کی از سر نو توجیہہ کرنے، اس مسئلہ کی حقیقت کو پہچاننے اور اس کے حل کے لئے نئے سرے سے کام کرنے کی ضرورت ہے۔ اب تک نہ تو مرض کی درست تشخیص ہو سکی ہے اور نہ ہی علاج تیر بہدف ثابت ہوا ہے۔ عقلمندی کا تقاضا ہے کہ اندھی گلی میں دوڑتے رہنے کی بجائے نیا راستہ کھوجنے کی کوشش کی جائے۔

ہمارے ملک کی ترقی میں سب سے بڑی روکاٹ کرپشن ہے پاکستان کی سیاست میں سب سے زیادہ استعمال ہونے والا لفظ کرپشن ہی ہے ستر سالو سے جو بھی حکومت اتی ہے تو ان کا سب سے بڑا دغوا کرپشن کا خاتمہ ہوتا ہے لیکن جب حکومت اپنی اختتام کو پہنچ جاتی ہے تو وہی حکومت کرپشن کا ذمہ دار ٹھہر جاتی ہے کیونکہ پاکستان میں بڑے افسر سے لے کر ایک ادنیٰ کلرک تک ہر بندہ اپنی ڈیوٹی کی فرائض کے بارے میں اتنا نہیں جانتے جتنا کرپشن کے بارے میں جانتے ہیں کرپشن اور رشوت خوری کے نت نئے طریقے ایجاد کرتے ہیں حالانکہ پاکستان میں کرپشن کے خاتمے کے لئے ایک ازاد اور آئینی ادارہ موجود ہے جس کا نام قومی احتساب بیورو ہے جس کا بنیادی کام ملک سے کرپشن اور اقرباءپروری کا خاتمہ ہے اور ملک میں موجود بدعنوان عناصر پر نظر رکھنا ان کے خلاف تحقیقات کر کے سزائیں دلوانا ہے لیکن اس کے باوجود ہمارے معاشرے میں کرپش ایک لاعلاج مرض بن کر ایک ناسور کی طرح ہر طرف پھیل رہا ہے جس نے نہ صرف ہمارے اداروں کو تباہ کر رکھا ہے بلکہ ہمارے اخلاقی اور سماجی اقدار کو بھی تباہ کر رکھا ہے ہر جگہ سفارش اور اقرباءپروری اپنی عروج پر ہے ہمارے تعلیمی نظام ہو صحت کا نظام ہو ایک ادارہ ایسا نہیں ہے جو کرپشن سے پاک ہو اج اس بد عنوانی نے پورے معاشرے کو اپنے لپیٹ میں لے لیا ہے اج معمولی سطح پر اگر کسی شخص کو کسی بھی ادارے میں کوئی کام درپیش آئے اور لائن میں کھڑا ہونا ہوتا ہے تو اس سے بچنے کے لیے وہ رشوت دیتا ہے اور اس کا کام سب سے پہلے پایہ تکمیل تک پہنچتا ہے باقی جس کے پاس رشوت دینے کے لیے پیسے نہیں ہوتے تو وہ لائنوں میں خوار ہوجاتے ہیں ہمارے معاشرے پر کرپشن نے اتنا اثر کر رکھا ہے کہ اج ہم گھر میں کسی بچے کو تب تک دکان سے سامن لینے نہیں بھیج سکتے جب تک کہ ہم اس کو سو میں سے دس نہیں دیتے اج ہم نے اپنے بنیاد کو ہی کرپشن پر رکھا ہے جس سے خاص کر نوجوان طبقے میں احساس محرومی پیدا ہوئی ہے بد عنوان عناصر نے ان کے حقوق کو غضب کر رکھا ہے اعلیٰ تعلیم یافتہ نوجوان اپنے جائز حق کو حاصل کرنے کے لیے دربدر کی ٹھوکریں کھاتی ہیں اج علم اور تجربے کی بجائے پیسہ ہی سب کچھ ہےجس کی وجہ سے اداروں میں نااہل لوگ تعینات ہوجاتے ہیں
پاکستان میں کرپشن کی خاتمے میں سب سے بڑی روکاٹ احتساب کا نظام ہے کیونکہ ہمارے احتساب کی عدالتیں انتہائی سست روی کا شکار ہے ملزمان سالہا سال جیلوں میں بند ہوتے ہیں اور عدالتوں میں تاریخ پے تاریخ دی جاتی ہے اس لیے اج تک کسی ملزم کو سزا نہیں دی جا سکی جس کا بدعنوان عناصر بھر پور پیدا اٹھا رہے ہیں جس کی وجہ سے کرپشن کم ہونے کے بجائے مزید بڑھ رہی ہے سب سے پہلے ہمیں احتساب کا نظام مظبوط بنانا ہوگا موثر قانون سازی کے زریعے احتساب عدالتوں میں ایسے جج تعینات کرنے ہوگے جو بدعنوانی کے بارے وسیع تجربہ رکھتے ہوں جن کی دامن کرپشن اور سیاست سے پاک ہو اور ان کے فیصلوں سے انصاف ہوتا ہوا نظر آئے جب انصاف کا نظام کسی کے اثر میں آئے بغیر کام کرتا ہے تو کوئی بھی ملزم سزا سے نہیں بچ سکتا
اگر ہمیں اس ارضِ پاک سے کرپشن ختم کرنا ہے اور اس ملک کو ترقی کی راہ پر گامزن کرنا ہے تو سب سے پہلے ہر فرد کو اپنی ذات سے شروع کرنا ہوگا معاشرے کے ہر فرد کو خود اپنا احتساب کرنا ہوگا کہ میں کرپشن کی اس مرض میں کتنا مبتلا ہو جب ہر فرد اپنی خود احتسابی شروع کرے اور اس مرض سے چھٹکارا پائے تب ہم معاشرے میں موجود بااثر بدعنوان عناصر کے خلاف اواز اٹھا سکتے ہیں
کرپشن کو بجا طور پر تمام برائیوں کی جڑ قراردیا جاتا ہے۔معیشت کی تباہی اور معاشرتی بگاڑ کی اصل وجہ کرپشن ہے،مہنگائی بے روز گاری ، بدامنی ا ور مایوسی کرپشن ہی کی پیداوار ہیں۔ جس معاشرے میں قومی مفادات پر ذاتی مفادات غالب آجائیںاس میں ترقی و خوشحالی نہیں غربت افلاس اور بدحالی مستقل ڈیرے ڈال لیتی ہے ۔ اس وقت ہمارا ملک بھی اسی تباہی سے دوچار ہے ۔ جس نے جس قدر زیادہ کرپشن کرکے مال و دولت اکٹھا کیا، وہ معاشرے میں اسی قدر بلند مرتبہ ہوگیا،حکومتوں کی کارکردگی میں شفافیت اور کرپشن کا جائزہ لینے والی عالمی تنظیم ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کی رپورٹ ہے کہ جنوبی ایشیا کا خطہ سب سے زیادہ بد عنوانی کا شکار ہے، حکومتوں کی ذمہ داری ہوتی ہے کہ وہ کرپشن اور بد عنوانی روکنے والے اداروں کو مضبوط کریں اور ان اداروں کی کارکردگی میں سیاسی مداخلت کو سختی سے روکا جائے مگر ہمارے ہاں الٹی گنگا بہتی ہے ۔ہر حکو مت پہلا وار ہی اداروں پر کرتی ہے ۔
پانامہ لیکس پر سپریم کورٹ میں دائر کی گئی ہماری درخواست چار سال سے عملدرآمد کی منتظر تھی کہ پنڈورا پیپرز سکینڈل بھی منظرعام پر آگیا۔ جماعت اسلامی نے ایک دفعہ پھر اس یقین کے ساتھ عدالت عظمیٰ کا دروازہ کھٹکھٹایا ہے کہ اب کی بار پاکستانی قوم انصاف سے محروم نہیں رہے گی۔ وزیراعظم کی طرف سے پنڈورا پیپرز کی انکوائری کیلئے بنائے گئے سیل پر ہمارے سمیت کسی کو بھی اعتماد نہیں۔ پنڈورا پیپرز کو منظر عام پر آئے ہوئے دو ماہ سے زیادہ عرصہ گزر چکا ہے، جن لوگوں کے نام سکینڈل میں آئے وہ یاتو پی ٹی آئی ، ن لیگ اور پی پی سے تعلق رکھتے ہیں یا سابق جنرلز، ججز ، بیوروکریٹس اوربزنس مین ہیں۔ قانون سے بالاتر یہ طاقتور اشرافیہ ملک پر اربوں ڈالرکے قرضہ اور غریب پاکستانیوں کے مصائب اور مشکلات کی اصل ذمہ دار ہے۔ حد تو یہ ہے کہ عوام بھوکوں مررہے ہیں ،جبکہ پاکستان کی اشرافیہ پنڈورا پیپرز کی لسٹ میں پانچویں نمبر پر ہے جو دنیا بھر کے ان امراء پر مشتمل ہے جنہوں نے لندن میں سب سے زیادہ قیمتی جائیدادیں خریدیں۔پانامہ میں 436اور پنڈورا میں 700سے زائد پاکستانیوں کے نام ہیں، دولت اور طاقت کی حرص نے اس ظالم اشرافیہ کوبائولاکردیا ہے۔ حکمران جماعت اور دونوں نام نہاد بڑی اپوزیشن پارٹیوں کو قوم کے مسائل سے کوئی سروکار نہیں۔ لوگ مہنگائی اور بیروزگاری کی وجہ سے خودکشیاں کررہے ہیں، سات کروڑ پاکستانی خطِ غربت سے نیچے زندگی گزارنے پر مجبور اورڈھائی کروڑ بچے سکولوں سے باہرہیں جبکہ غریب کو ہسپتال سے پیرا سٹا مول اورڈسپرین کی گولی تک نہیں ملتی۔ مگر مجال ہے جو حکمرانوں کے کان پر جوں بھی رینگ رہی ہو۔حکمران جونکوں کی طرح غریب قوم کا خون چوس رہے ہیں۔
ہم نے پنڈورا پیپرز اور پانامہ لیکس میں شامل تمام افراد کے خلاف آزادانہ انکوائری کے لیے سپریم کورٹ سے رجوع کیا ہے۔ اپنی آئینی درخواست میں عدالت عظمیٰ سے استدعا کی ہے کہ دونوں سکینڈلز میں جتنے بھی پاکستانیوں کے نام آئے ہیں ان کے خلاف غیر جانبدارانہ تحقیقات کے لیے مشترکہ تحقیقاتی کمیٹی تشکیل دی جائے اور حکمران اشرافیہ جس نے غریب پاکستانی قوم کے اربوں کھربوںلوٹ کر آف شور کمپنیوں کے ذریعے بیرون ملک جائیدادیں بنائیں ان کو کٹہرے میں کھڑا کیا جائے۔ ہم نے پانامہ لیکس کے منظر عام پرآنے کے بعد سب سے پہلے سپریم کورٹ سے رجوع کیا تھااور اس کے بعدمارچ 2016سے کرپشن فری پاکستان تحریک شروع کی ۔کرپشن کے خلاف پورے ملک میں ٹرین مارچ کیا ۔ ہماری کرپشن فری پاکستان تحریک کا ہدف ادارے یا حکومت نہیں بلکہ کرپٹ افراد ہیں جو کہیں بھی ہوں۔
کرپشن کاناسور ہماری قومی زندگی کے مالیاتی، اخلاقی اور انتخابی شعبوں پر اپنے پنجے گاڑ چکاہے۔ ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل کی رپورٹ میں کہا گیاہے کہ پاکستان میں روزانہ سات ارب روپے کی کرپشن ہوتی ہے جبکہ نیب کے ایک چیئرمین نے کچھ عرصہ قبل اعتراف کیا تھاکہ ملک میں روزانہ 12سے 13ارب روپے کی کرپشن ہورہی ہے ۔وقت کے ساتھ ساتھ مالیاتی کرپشن کا دائرہ اور حجم مسلسل بڑھ رہاہے ۔ ناجائز منافع خوروں نے کھادوں سے لے کر ادویات تک میں ملاوٹ اور ملاوٹ بھی ایسی گراوٹ کے ساتھ کی ہے کہ پاکستانی دنیا میں سر اٹھانے کے قابل نہیں رہے ۔ پہلے ہم دودھ میں پانی ملاتے تھے اور اب پانی سے دودھ بنانے کے گھٹیا ترین موجد بن گئے ہیں ۔ انتخابی کرپشن کا حال یہ ہے کہ آئین کی دفعہ 62-63 کی سیاہی الیکشن کمیشن کا منہ چڑا رہی ہے جبکہ ہر نیا الیکشن کرپشن کے نئے کنگز کومتعارف کراتا ہے ۔
یہ قوم ناموس رسالت ؐ پر لڑنے مرنے کو تیار ہو جاتی ہے لیکن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اس تعلیم کو خود پامال کر رہی ہے ’’ جو خون اور گوشت حرام رزق پر پرورش پائے گا وہ جنت میں نہ جائے گا ‘‘ (الحدیث )
امر واقع یہ ہے کہ حکومت ہی خرابیوں کی اصل جڑ ہوتی ہے ۔ اگر حکومتی اہلکار حج اور عمرے پر پیسے بنائیں گے تو بازار میں پکوڑے بیچنے والے سے خیر کی امید نہیں رکھی جاسکتی۔ یہاں تو زکوۃ و عشر فنڈ سے بھی اربوں روپے خرد برد کرلئے جاتے ہیں مگر کوئی پوچھنے والا نہیں ۔ حکومتیں کس کس طرح لوٹ مار کرتی ہیں قوم کے لیے تو ناقابل تصور ہے، لیکن اس کا بار بار مظاہرہ ہورہاہے۔ ماضی کی حکومت کے ایک وزیر نے ٹاک شو میں بڑی ڈھٹائی کے ساتھ کہا تھا کہ ’’ کرپشن پر ہماری پارٹی کا بھی حق ہے ‘‘۔ پیلی ٹیکسیاں ، روزگار سکیم، پڑھا لکھا پنجاب ، تیل ، گیس اور معدنی ذخائر جیسے منصوبوں میں سو سو ارب روپے ڈکار لیے جاتے ہیں۔ ہمار ا حال یہ ہو چکاہے کہ گندم یا گنا زیادہ یا کم ہو جاتے ہیں تو اس بحران کا بندوبست کرنے کے لیے ٹریڈنگ کارپوریشن پاکستان (TCP) کے ساتھ ساز باز کر کے کبھی 200 ارب اور کبھی 75 ارب کا ٹیکہ لگادیا جاتاہے ۔
پاکستا ن کے قومی اثاثے پی ٹی سی ایل اور بنکوں کو اس طرح فروخت کیا گیاکہ کمہار بھی اپنے گدھے کو نہیں بیچتا ۔ ان اداروں پر پہلے غیر ترقیاتی اخراجات کا بوجھ ڈالا جاتاہے پھر اس کی بیلنس شیٹ میں اثاثوں کی قیمت کم کی جاتی ہے ۔حکمرانوں کا کردار اس حد تک گر چکا کہ ہم پیسے لینے کی خاطر دہشتگردی کی جنگ کو بھی اپنے سر لے لیتے ہیں اور پھر جو چندپیسے ملتے ہیں اس کا بھی کوئی حساب ہمارے پاس نہیں ہے ۔
ایوب خان سے لے کر میاں نوازشریف اور پھر عمران خان تک اقتدار میں آنے کے لیے اعلان کرتے ہیں کہ سب کا سر عام احتساب ہوگا۔ اقتدار میں آنے کے بعد انسداد کرپشن کے لیے نت نئے ادارے بنائے جاتے ہیں ۔ پولیس کے بعد اینٹی کرپشن ، ایف آئی اے ، پروڈا (PRODA) ۔ پوڈو (PODO) ، ایبڈو (EBDO) ، پبلک اکائونٹس کمیٹی ، احتساب کمیشن اور نیب جیسے درجن بھر ادارے جن پر سرمایہ توقوم کا خرچ ہوتاہے لیکن یہ ادارے زیادہ تر سیاسی حریفوںکو ڈرانے ،دھمکانے اور دبانے کے لیے استعمال کیے جاتے ہیں ۔ آج بھی منظور نظر لوگوں کے کیس کھولنے پر حکومت تلملا اٹھتی ہے ۔ نیب کے پاس 150 میگا کرپشن کیس فائلوں میں بند پڑے ہیں ،ان فائلوں کو دیمک چاٹ رہی ہے مگر نیب کے پاس کھربوں روپے کی کرپشن کے یہ کیس دیکھنے کا وقت نہیں ۔
جنگ اور دہشتگردی کسی بھی ملک کے انفراسٹرکچر کو تباہ کردیتی ہے جبکہ کرپشن تو انفراسٹرکچر اور سماجی ترقی کو شروع ہی نہیں ہونے دیتی ۔ قومی خزانہ لوٹنے کے باعث تعلیم ، صحت ، قوانین اور دیگر میدانوں میں ہماری سماجی ترقی شروع ہی نہیں ہوسکی، بلکہ نوبت تو یہاں تک پہنچ چکی ہے کہ پاکستان 145 کھرب روپے کا مقروض ہے ۔ قومی اثاثوں کی حفاظت کیلئے کرپشن کو قانونی طور پر دہشتگردی اور غداری قرار دینا ضروری ہوگیا ہے ۔وزیر خزانہ قومی اسمبلی میں تسلیم کر چکے ہیں کہ یہ ملک اب قرضے کے بغیر نہیں چل سکتا ،قرضہ لینا اس لئے ضروری ہوگیا ہے کہ سابقہ قرضوں کی قسط ادا ہو سکے ۔آڈیٹر جنرل نے 4.2 ٹریلین روپے کے حسابات پر اعتراضات لگائے ہیں جو کئی سال سے غیر حل شدہ (Unsettelled) ہیں۔
کرپشن کے الزامات میں سزا یافتہ سابقہ وزیر اعظم نواز شریف کے دور میں کرپشن کرپشن کا شور جب حد سے بڑھ گیا تو اس وقت کے جرنیل جناب راحیل شریف صاحب کو بھی اس کے متعلق کہنا پڑ گیا کہ ریاست کی ترقی کے لئے بلا امتیاز احتساب نہایت ضروری ہے اس پر بعض طبقات کی طرف سے اعتراضات بھی اٹھا ئے گئے کہ کیا فوج کو اس طرح کے معاملات میں دخل دینے کا بھی کوئی مینڈیٹ حاصل ہے یا نہیں ؟ اور ایک ٹاک شو میں ایک سینےئر سیاستدان جو کہ بظاہر اپوزیشن جماعت سے تعلق رکھتے ہیں اور قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کے سربراہ کی حیثیت سے کام بھی کر رہے ہیں انھوں نے دو انتہائی اہم سوال اٹھائے کہ اگر راحیل شریف صاحب نے کرپشن کے خاتمے اور احتساب کی بات کی ہے تو پہلے تو اس کا لائحہ عمل بھی حکومت کو بتائیں کہ وہ کس طرح سے کرپشن کا خاتمہ کرے ، دوسری بات انھوں نے یہ کی کہ کیا فوج نے بھی کرپشن کے خاتمے کے حوالے سے اپنے ادارے کے اندر کوئی احتساب کیا ہے جسے حکومت اپنے سامنے بطور ماڈل کے رکھے اس کے بعد ہماری ملکی تاریخ کا ایک نہایت تاریخی واقعہ رونما ہوا جب 12فوجی اہلکار جن میں ایک جرنیل ،2میجر جنرل اورکرنل رینک کے افسران شامل تھے کو آرمی سے کرپشن چارجز کے باعث برخاست کر دیا گیا ۔
یہ حکومت وقت کے لئے بھی ایک طرح کا اشارہ ہے جو کہ پانامہ لیکس کا سکینڈل سامنے آنے کے بعد سے مختلف اشاروں کنایوں میں دیا جاتا رہا ہے کہ اپنے معاملات درست کر لیں اور بالآخر افواج پاکستان کو بالاوضاحت بتانا پڑ ہی گیا ہے ۔اب یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا ہمارے معاشرے سے کرپشن کا خاتمہ ممکن ہے ؟ اس کا جواب یہ ہے کے جی ہاں بالکل ممکن ہے ہاں اگر نیت ٹھیک ہو تو صرف تب ہی ایسا ممکن ہے ، اگر نیت ہو کہ معاشرے سے اس لعنت کا خاتمہ کرنا ہے تو ضرور اس لعنت کا خاتمہ ممکن ہے ۔(سرکا ر دوعالم آنحضرت ﷺنے فرمایا کہ اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہے) بس سب سے پہلے بحیثیت قوم ہمیں اپنی نیتیں ٹھیک کرنی ہوں گی ایک فیصلہ کرنا ہو گا کہ کسی بھی سطح پر کرپشن برداشت نہیں کی جائے گی (نیت کی درستگی کے بعد دوسرا قدم عمل کا ہے اس نیت کو عملی جامہ کیسے پہنایا جائے اس کے لئے کچھ ایسے کام ہیں جو کہ صبرآزما اور استقامت چاہتے ہیں سب سے پہلے ہمیں معاشرے کی اخلاقی اصلاح کرنی ہو گی اس کے لئے من حیث القوم خدا خوفی اپنے اندر پیدا کرنا ہو گی اور ہمیں ایک خدا کی طرف لوٹنا ہو گا خدا کا خوف جب ہمارے اندر اجاگر ہو گا اور شعور پیدا ہو گا کہ حقیقی جزاء و سزا کا اختیار صرف اللہ ہی کی ذات کو ہے تو ہماری سوچنے اور سمجھنے کی استعدادیں بھی تبدیل ہو ں گی پھر یہ ماننا ہو گا کہ ہمارا خالق خدا تعالیٰ ہی کی ذات ہے جو ہمارے ہر کام پر نظر رکھے ہوئے ہے پھر یہ کہ ہمیں ماننا ہو گا کہ مرنے کے بعد ہمارا خالق ومالک ضرور ہم سے ہمارے کاموں کے متعلق پوچھے گا اور ہمیں اپنے اعمال کا جوابدہ ہونا پڑے گا ۔ پھر قوم میں سے ایسے لوگوں کو دعوت دینا ہو گی جو و ا قعی ہماری قیادت کے اہل ہیں جو اخلاقی لحاظ سے بے داغ ہیں جب تک آئین کے آرٹیکل 62 اور 63 کا اطلاق حقیقی طور پر نہیں ہو گا اس وقت تک یہ انتخاب صرف ایک ڈھکوسلہ ہی رہے گا اور قوم کے پیسے کا ضیاع کے سوا اس سے کچھ حاصل نہیں ہو گا ۔ ہمیں اپنے روزمرہ کے معاملات میں عدل وانصاف کو رواج دینا ہوگا ۔
اگر موجودہ حالات میں انصاف کو مدنظر رکھتے ہوئے کسی سے بھی پوچھیں تو وہ یہی کہے گا کہ اس وقت عدلیہ ،پارلیمنٹ ،فوج، نیب یا ایف آئی اے میں سے کون ساادارہ ایسا ہے جس پر اکثریت کا اعتماد ہو تو وہ صرف فوج کا ہی ادارہ ہو گا جس پر کثرت رائے سے عوام الناس اعتماد کا اظہار کریں گی ۔ جس طرح سے جنرل راحیل شریف صاحب نے کرپشن کے خلاف جہاد شروع کر کے احتساب کا آغاز اپنے ہی ادارے سے کر کے ایک نئی بنیاد ڈالی ہے اس سے اس بات کو اور بھی تقویت ملی ہے کہ قوم میں احتساب کا عمل شروع کرنے کے لئے صرف اور صرف اخلاص نیت ہی کی ضرور ت ہے ۔
پھر الیکشن کمیشن کو خودمختار بنانا ہو گا خودمختارالیکشن کمیشن کا قیام جس وقت تک نہیں ہوتا اس وقت تک ملک میں جمہوریت کا حقیقی رنگ میں قیام ممکن نہیں اس وقت جمہوریت کے نام پر دھوکہ دیا جا رہا ہے اور دیا جاتا رہے گا ۔آپ کسی بھی دیہات کا جائزہ لے لیں تو انھیں ملک کے داخلی یا خارجی مسائل کا کچھ بھی ادراک نہیں انھیں غرض ہے تو صرف اپنی نوکریوں اپنے دیہات کی ترقی اور اپنے لوکل مسائل سے ہے اور اس امر میں ان سادہ لوح لوگوں کو قصور وار بھی نہیں گردانا جاسکتا جب ظلمت اور استحصالی معاشرے کا دور دوراں ہو گا تو ایسے ہی مائنڈ سیٹ بنتے چلے جائیں گے جس وقت تک لوگوں کو اپنے ووٹ کی حقیقی طاقت کا اندازہ نہیں ہو گا تب تک وہ اس کے درست استعمال پر توجہ بھی مرکوز نہیں کریں گے ۔
پھر نیب ،ایف آئی اے اور پولیس سے سیاسی بھرتیوں کو ختم کرنا ہو گا آج کل ان اداروں میں تعیناتی کروانا صرف سیاسی اثر و رسوخ کی بدولت ہی ممکن ہے اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جو شخص خود اپنی مرضی سے رشوت ستانی کے ذریعے سے نیب اور ایف آئی اے میں بھرتی ہو گا تو وہ دوسروں کا کیا احتساب کرے گا ؟ نیب اور ایف آئی اے دونوں وہ ادارے ہیں جو کہ کرپشن کے خاتمے میں حکومت کے ہراول دستے کا کردار بخوبی نبھا سکتے ہیں لیکن افسوس صد افسوس کہ کرپٹ اور نا اہل افسران کی موجودگی میں یہ ادارے کرپشن کے خاتمے کے بجائے اس میں اضافے کا باعث بن رہے ہیں کہیں قبضہ مافیا کے ساتھ ان کا گٹھ جوڑ ہے اور کہیں بھاری معاوضے کے عوض ذاتی بغض و عناد کی وجہ سے مخالفین کے خلاف بغیر کسی تفتیش کے مقدمات کا اندراج انھوں نے اپنا وطیرہ بنا یا ہوا ہے اگر مملکت خداداد سے کرپشن کا خاتمہ واقعی حکومت وقت کی ترجیح ہو گی تو فی الفور ان اداروں میں موجود کالی بھیڑوں کا احتساب ضروری ہے اور ایسے اہل اور دیانتدار افسر میرٹ پر بھرتی کئے جائیں گے جن کانصب العین ہی کرپشن کا خاتمہ ہو ۔
عدلیہ میں اصلاح کی ذمہ داری ہمارے واجب الا حترا م سب سے بڑھ کر عزت مآب چیف جسٹس صاحب کی ہے جب تک عدالتوں میں انصاف بکتا رہے گا اس وقت تک کرپشن کا خاتمہ ممکن نہیں پھر ملک کوملائیت کے ناسور سے باہر نکالنا ہو گا ہمارے علماء کرام کا کام معاشرے کی اخلاقی تربیت ہے اگر آج ہمارے علماء اس بات کو اپنا نصب العین بنا لیں اور معاشرے کو فرقہ واریت سے پاک اور دیندار معاشرہ بنا لیں تو یہ مملکت خداد دن دگنی رات چوگنی ترقی کرتا چلا جائے گا اور ہمارا شمار ترقی یافتہ ترین اقوام میں ہو گا آخر میں ایک دیانتدارانہ سوال اپنے قارئین کرام سے ہے کہ کیا یہ سب کا م ہماری سیاسی قیادت کرنے کی اہل ہے ؟ اس سوال کا جواب یہی ہے کہ وہ قیادت جو لوٹ کھسوٹ کر کے آف شور کمپنیاں بنانے میں مصروف ہو سرے محل خریدنے میں مصروف ہو یا اس کے روز و شب بنی گالہ محل میں
گزرتے ہوں ان سے کس طرح سے توقع کی جاسکتی ہے کہ وہ غریب عوام کا دکھ اور درد محسوس کر سکتے ہیں ؟ جنھوں نے تفریح ،علاج یا بزنس کے لئے ہر دوسرے ماہ بیرون ملک کا سفر کرنا ہو ان سے کس طرح سے توقع کی جاسکتی ہے کہ وہ اس ملک کے ساتھ مخلص ہیں ؟ صرف وہی شخص اخلاص کے ساتھ ملک کی خدمت کر سکتا ہے جس کے تمام خانگی اور مالی معاملات پاکستان میں ہی ہوں اور وہ عام عوام کے لئے رول ماڈل کا درجہ رکھتا ہو !
سائرن یا خطرے کی گھنٹی خبر دار، بیدار اور ہوشیار کرنے کے لیے ہوتی ہے۔ لیکن اگر سائرن اور گھنٹی کی آواز پر بھی لوگ چونک کے نہ اٹھیں اور لپک کے خود کو محفوظ نہ کریں تو بالآخر سائرن خاموش اور گھنٹی بے جان ہوجاتی ہے۔ یہی حال انسانی ضمیر کا ہے کہ جو بالآخر مردہ ہوجاتے ہیں۔ ہمارے ملک میں کرپشن کے خلاف مہم بھی بالآخر بے اثر ہوچکی ہے۔ پاناما کے بعد اب پنڈورا۔۔۔ لیکن ہمارا حال یہ ہے کہ۔ زمین جنبد نہ جنبد گل محمد
تلخ حقیقت یہ ہے کہ کرپشن نے ہمارا سارا نظام کھوکھلا کردیا ہے۔ اوپر سے نیچے تک کرپشن کے منحوس سائے روز بروز بڑھتے چلے جارہے ہیں۔ ہمارا پورا نظام کرپشن زدہ ہے۔ یہاں کرپشن کی ہر قسم موجود بھی ہے اور ترقی پزیر بھی۔ مثلاً مالیاتی کرپشن، تجارتی کرپشن، سیاسی کرپشن، پارلیمانی کرپشن، اخلاقی کرپشن، روحانی کرپشن، معاشرتی کرپشن، انتخابی کرپشن، عدالتی کرپشن، تعلیمی کرپشن، امتحانی کرپشن، انتظامی کرپشن اور دفتری کرپشن وغیرہ
اس ملک کے غریب اور بے بس شہریوں کے چاروں طرف پھندے لگے ہوئے ہیں اور کرپٹ نظام انہیں مسلسل چیلنج کررہا ہے کہ بچ سکتے ہو تو بچ کے دکھائو۔ ہماری یہ بھی بدقسمتی ہے کہ ہمیں اکثر اپنے ملک کی کرپشن کی خبریں باہر سے ملتی ہیں۔ ہمارے اپنے احتسابی ادارے نااہل ہی نہیں، کرپٹ بھی ہیں اور ساری کرپشن، ان کی ملی بھگت، بندر بانٹ اور چھتر چھائوں میں ہوتی ہے۔ یہاں ایف بی آر، نیب، اینٹی کرپشن، پبلک اکائونٹس کمیٹیاں، آئی بی، ایف آئی اے اور نجانے کون کون سے ادارے اور کون سی ایجنسیاں موجود ہیں لیکن ان کی مثال خربوزوں کے کھیت کے گیدڑ رکھوالے والا ہے۔
پاناما لیکس سامنے آئیں، سیاست دانوں، سول و ملٹری افسروں، تاجروں، عدلیہ سمیت 436 افراد کے نام تھے۔ اربوں روپے کی کرپشن تھی۔ جماعت اسلامی اور سراج الحق ان سب کے خلاف عدلیہ میں گئے۔ عدالت عظمیٰ نے کہا ہم اتنا بڑا پنڈورا بکس نہیں کھول سکتے۔ آپ کی پٹیشن ہمارے پاس محفوظ رہے گی۔ جب ہم موجودہ افراد کے خلاف ٹرائل اور فیصلہ سے فارغ ہونگے، تب آپ کی پٹیشن کو فریزر سے نکال کر مائیکروویو میں رکھ کر روبہ عمل لائیں گے۔ جب یہ مرحلہ آیا تو ہمارے متوجہ کرنے پر عدالت نے بتایا کہ ان افراد کے خلاف عدالت سوموٹو ایکشن لے گی لیکن یہ بھی نہ ہوسکا۔ گویا کہ پاناما لیکس کے انکشافات صدا بصحرا ثابت ہوئے، اب پنڈورا پیپرز سامنے آئے ہیں۔ اس میں 700 پاکستانیوں کے نام شامل ہیں۔ پڑوسی ملک بھارت سے ہم اس میدان میں سبقت لے گئے ہیںکہ بڑا ملک ہونے کے باوجود اس کے چار سو افراد ہی بارگاہ بدعنوانی میں شرف بار یابی حاصل کرسکے ہیں جبکہ ہمارے سات سو افراد نے یہ ریس جیت لی ہے۔
ہماری قوم میں ایک بڑا طبقہ ایسا ہے جس کی ہڈیوں میںدولت کی بھوک سرایت کرگئی ہے۔جائز ناجائز طریقوں سے دولت بنانا ان کا مذہب بن چکا ہے۔ اس ملک میں کرپشن سے نپٹنا آسان کام نہیں۔ کرپشن کے خلاف جنگ کسی ایک سیاستدان کے بس کی بات نہیں‘ یہ ایک طویل لڑائی ہے جوپاکستان کی عوام کو آہستہ آہستہ‘ مسلسل لڑنا ہوگی کیونکہ غریب‘ سفید پوش عوام ہی اس بر ائی کے اصل متاثرین ہیں۔ گزشتہ تیس سال بطور صحافی میرا بہت وقت سرکاری دفاتر میں گزرا جہاں مجھے سرکاری ملازمین ‘ اہلکاروں اور ان دفتروں کے چکر لگانے والے شہریوںسے میل ملاقات‘ بات چیت کا موقع ملتا ۔ اپنے مشاہدہ کی بنا پر میرا محتاط اندازہ ہے کہ جن سرکاری سیٹوں پرمال بنایا جاسکتا ہے ان پر مقررسرکاری ملازمین میں کم سے کم اسّی فیصدکرپشن میں ملوث ہیں۔ جن عہدوں پر پیسہ بنایا نہیں جاسکتا وہاں ایمانداری مجبوری ہے‘ اختیاری نہیں۔یہ بددیانتی کوئی جائز یا ناجائز کام کرنے کے عوض کیش رشوت یا قیمتی تحفہ کی صورت میں ہوسکتی ہے‘ سرکاری ملازمت پررکھنے کے عوض رشوت ہوسکتی ہے۔ کرپشن کسی ٹھیکہ یا خریداری میں کک بیکس یا کمیشن کی شکل میں بھی ہوسکتی ہے۔ بڑے پراجیکٹس میں سرکاری افسروں کو ملک سے باہر دورے کرائے جاتے ہیں بعض اوقات فیملی سمیت جہاں انکی رہائش اور تمام اخراجات بمع شاپنگ کا بندوبست ٹھیکیدار کرتا ہے۔ جن افسروں کے بچے غیرملکی یونیورسٹیوں میں پڑھتے ہیں ان کی لاکھوں‘ کروڑوں روپے کی فیسیں دینے کابندوبست ٹھیکیدار کرتے ہیں۔کہا یہ جاتا ہے کہ بچہ کو اسکالرشپ مل گیا ہے۔ کرپٹ سرکاری افسروں‘ ٹھیکیداروں اور سیاستدانوں کا ایک گٹھ جوڑ ہے جو ملک پر قابض ہے۔ حکومت جو بھی کام کرتی ہے اس کا اصل فائدہ اٹھانے والے یہ لوگ ہیں ۔ان کا بچا کچھا عوام کو ملتا ہے۔ جو لوگ کرپشن میں ملوث ہیں وہ اس کام کو جائز‘ حلال سمجھنے لگے ہیں۔ انہوں نے ناجائز مال کے جائز ہونے کی دلیلیں بنا رکھی ہیں۔ کرپٹ افراد سمجھتے ہیں کہ سرکاری عہدہ پرفائز شخص کا یہ حق ہے کہ وہ اپنا حصّہ وصول کرے۔ ہمارے معاشرتی رویّے اس رجحان کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔ معاشرہ میں عزّت اس شخص کی ہے جس کے پاس مال ہے‘ جو کھُلا خرچ کرتا ہے۔ جائز آمدن والے‘ کفائت شعاری سے خرچ کرنے والے کو حقارت سے دیکھا جاتا ہے۔ ان حالات میں کسی حکومت یا سربراہ مملکت کا یہ ارادہ کرنا کہ وہ کرپشن کو ختم کردے گا بہت خوش فہمی ہے۔ وزیراعظم عمراان خان کرپٹ سیاستدانوں کے خلاف آئے دن تقریریں کرتے رہتے ہیں کہ وہ انہیںچھوڑیں گے نہیں۔ یہ بہت نیک خیال ہے لیکن زمینی حقائق کو دیکھتے ہوئے حقیقت پسندی پر مبنی نظر نہیں آتا۔انہیں یہ کام کرنے کون دے گا؟ کرپٹ مافیا تو ہر جگہ موجود ہے۔ جو انتظامی ڈھانچہ ملک میں موجود ہے و ہ کرپشن کی بنیاد پر چل رہا ہے۔ کوئی ادارہ ‘ کوئی شعبہ اس مرض سے پاک نہیں۔ کہیں زیادہ‘ کہیں کم۔ یہ وہ حمام ہے جہاں سب عُریاں ہیں۔ایک محتاط اندازے کے مطابق سرکار جو پیسہ خرچ کرتی ہے اس کا تیس فیصد بددیانتی کی نذر ہوجاتا ہے۔سندھ اور بلوچستان میں یہ تناسب اوربھی زیادہ ہے۔ ایسی مثالیں موجود ہیں جہاں سو فیصد فنڈز کھالیے گئے۔ ہر کرپٹ آدمی کسی نہ کسی سیاسی گروہ سے وابستہ ہے تاکہ جب اس پر ہاتھ پڑے تو کہا جاسکے کہ یہ تو سیاسی انتقام ہے۔ کرپشن کا رشتہ سب سے مضبوط تعلق بن چکا ہے۔اس کی جڑیں بہت گہری ہوچکی ہیں۔ کرپٹ لوگ ایک دوسرے کا دفاع‘ تحفظ کرتے ہیں۔ جو بھی شخص کرپشن کے خلاف اقدام کرے گا یہ سب مل کر اس کے خلاف صف آرا ہوجائیں گے۔ اس کا ایک مظاہرہ عمران خان اسلام آباد کے دھرنے میں دیکھ چکے ہیں۔خود تحریک انصاف کی صفوں میںکچھ ایسے لوگ موجود ہیں جن کا دامن صاف نہیں۔ عمران خان کس کس سے لڑیں گے اور کیسے؟ وہ اس کام کرنے کو فرشتے کہاں سے لائیں گے؟ آپ صوبائی سطح پرکرپشن کے خاتمہ کو اینٹی کرپشن کا محکمہ بناتے ہیں۔ اس کے اہلکار‘ افسران خو د رشو ت خوری میں ملوث ہوجاتے ہیں۔ تفتیشی افسران بددیانتی کے کیسز میں جھول پیدا کرنے کی رشوت وصول کرنے لگتے ہیں‘ تفتیش لٹکا دیتے ہیں۔ اینٹی کرپشن کی نگرانی کو ایک اور محکمہ بنا دیں۔ پھر اس کی کرپشن روکنے کو ایک اور محکمہ۔ یہ سلسلہ کہاں رُکے گا؟ کرپشن یا وائٹ کالر کرائم کو پکڑنا اور سزا دلوانا خاصا مشکل کام ہے۔ ان حالات میںقومی احتساب بیورو (نیب ) اور اینٹی کرپشن محکموں میں جو افسران ایمانداری سے کام کررہے ہیں وہ اس ملک کے ہیرو ہیںگو اُن کے اچھے کاموں کا اعتراف کم کیا جاتا ہے۔ کوئی شخص رشوت یا کک بیکس لیتے ہوئے رسید جاری نہیں کرتا نہ دینے والا رسید دیتا ہے۔ جب لینے اور دینے والے دونوں ملے ہوئے ہوں اور ارد گرد لوگوں کی اکثریت بھی اسی کام میں ملوث ہو تو ثبوت اور گواہ کہاں سے آئیں؟ کرپشن ختم کرنا ہے تو قوانین میں ترامیم کی جائیں ۔ناجائز دولت کا ایک بڑا حصّہ بے نامی پرائز بانڈز اور زمینی جائیداد میںلگایا جاتا ہے یا بیرون ملک منتقل کردیا جاتا ہے۔حکومت قانون سازی کرے کہ بڑے یا چھوٹے پرائز بانڈز انہیں لینے والے کے نام سے رجسٹرڈ کیے جائیں گے۔شہری جائیدادکی کوئی حد مقرر کی جائے ۔ جس کے پاس ایک سے زیادہ مکان یا پلاٹ یا پلاٹوں کی فائلیں ہیں ان پر بھاری ٹیکس لگائے جائیں۔ قانون بنایا جائے کہ بیرون ملک کسی قسم کے اثاثے اپنے‘اپنی بیوی یااپنے بچوں کے نام رکھنے والاپاکستان میں نہ تو کسی اسمبلی کا رکن بن سکتا ہے نہ کوئی سرکاری‘ ریاستی عہدہ رکھ سکتا ہے۔ لیکن ہم موجودہ پارلیمان سے ایسی قانون سازی کی توقع کس طرح کرسکتے ہیں جہاںوہ لوگ بیٹھے ہیں جو موجودہ نظام سے فائدہ اٹھانے والے ہیں۔ وہ ایسا کام کیوں کریں گے جس میں اُن کااپنا نقصان ہو؟
بہت برس گذرے پاکستان ریلویز میں ایک ایماندار اور سخت افسر تعینات ہوئے، چارج لینے کے بعد انہوں نے ماتحت عملے کو کھینچ دیا کہ کوئی رشوت نہیں لے گا، کام میرٹ پر ہونگے، سرکاری کاموں کے عوض کوئی رقم نہیں لی جائے گی، کوئی ذاتی فائدے یا مالی تعاون نہیں لے گا۔ چونکہ افسر سخت تھا ماتحت عملے کو ہتھیار پھینکنا پڑے، رشوت کا لین دین ختم ہوا، ماتحت عملے نے نہ چاہتے ہوئے بھی افسر کی بات مانی اور ایمانداری سے کام شروع کر دیا لیکن جب سٹاف کو تنخواہ ملی تو سب اپنی تنخواہیں اور اخراجات کی فہرست لے کر اپنے ایماندار، فرض شناس افسر کے کمرے میں جا پہنچے۔سب نے اپنی اپنی تنخواہ اور اخراجات کی فہرست میز پر رکھ دی اور کہا “سر ہم نے آپکی سختی کی وجہ سے رشوت لینا ترک کر دی ہے اب ہم یہ کام نہیں کریں گے لیکن یہ تنخواہ اور گھریلو اخراجات کی فہرست آپ کے سامنے ہے ہمارا بجٹ بنا دیں، مہینے کا خرچ بھی آپ پورا کر دیں۔ ہم آپ کے احکامات پر عمل کرتے ہوئے ایمانداری سے کام کرتے رہیں”۔
اس کے بعد کیا ہوا، صاحب نے اخراجات کی فہرست دیکھی، تنخواہوں کا پہلے سے علم تھا، آنکھیں جھکائے بیٹھے سوچتے رہے اور کچھ دیر بعد سٹاف سے کہا کہ جائیں اور اپنا کام کرتے رہیں۔ ہم اس سرکاری افسر کو جانتے ہیں ان دنوں ان کی صاحبزادی بھی ایک سرکاری محکمے میں بڑے عہدے پر خدمات انجام دے رہی ہیں۔ والد کی طرح ایماندار ہیں۔ انہیں “مل جل” کر کام نہ کرنے کی وجہ سے کہیں ٹکنے نہیں دیا جاتا، اس کے گھر والے ہر وقت بیٹی کی حفاظت کے لیے وظائف کرتے رہتے ہیں۔ ایمانداری کے انعام میں ہر دوسرے دن اس کا تبادلہ کر دیا جاتا ہے۔
ایران کا عظیم بادشاہ نوشیروان عادل ایک روز شکار کے لیے جا رہا تھا۔ راستے میں اس نے ایک بوڑھے کو دیکھا جو اپنے باغ میں ایک پودا لگا رہا تھا۔ بادشاہ نے اپنا گھوڑا روک کر بوڑھے کو اپنے پاس بلایا اور اس سے سوال کیا’’بابا کیا تمہیں یقین ہے کہ تم اس پودے کا پھل کھا سکو گے؟‘‘۔بوڑھے نے ادب سے جواب دیا’’عالم پناہ! ہم زندگی بھر دوسروں کے لگائے ہوئے درختوں کے پھل کھاتے رہے ہیں۔ اب ہمارے لگائے ہوئے درختوں کے پھل دوسرے کھائیں گے‘‘۔بوڑھے کی بات سے بادشاہ بے حد خوش ہوا اور اسے ایک سو دینار انعام میں دیے۔بوڑھے نے جھک کر بادشاہ کو سلام کیا اور کہا’’دیکھا عالی جاہ! میرا لگایا ہوا درخت تو میری زندگی میں ہی پھل لے آیا‘‘۔بوڑھے کی اس بات پر بادشاہ مزید مسرور ہوا اور مزید سو دینار بوڑھے کو دیے۔بوڑھے نے کہا’’دیکھئے حضور دوسروں کے لگائے ہوئے درخت تو سال میں صرف ایک بار پھل لاتے ہیں۔ لیکن میرا لگایا ہوا درخت ایک دن میں دو بار پھل لے آیا‘‘۔ بادشاہ کو بوڑھے کی یہ بات بھی بہت پسند آئی۔ چنانچہ اس نے تیسری بار بھی سو دینار بوڑھے کو دیے۔یہ پرانے زمانے کی کہانی ہے اور پرانے زمانہ میں لوگ جیسا بولتے تھے ویسا ہی کرتے تھے ۔لیکن یہ واقعہ اگر آج ہوا ہوتا تو درخت لگانے والا درخت لگانے کے عوض ملنے والی رقم تو اینٹھ لیتا مگر درخت کسی صورت نہیں لگاتا۔ایسے واقعات کا ہم آئے روز مشاہدہ کرتے ہیں کہ سرِعام لوگ درخت لگانے آتے ہیں تصویریں بناتے ہیں ،ویڈیوبناکر ٹی وی پر چلاتے ہیں اور اپنے پیسے کھرے کرکے چلتے بنتے ہیں اور درخت اُن کے جانے کے بعد سرِ عام گلتا سڑتا رہتا ہے ۔اسے ہی کرپشن کہتے ہیں اور ہمارے ہاں ہر کام کو شروع کرنے سے پہلے اس قسم کی چھوٹی موٹی کرپشن کرنا لازمی خیال کیا جاتا ہے ۔ سچ تو یہی ہے کہ پاکستان میں رشوت اور کرپشن سے بہتر کوئی کاروبار نہیں ہے۔ 20 ہزار کی سرکاری نوکری کے لیے 20 لاکھ رشوت لی جاتی ہے لہٰذا رشوت سے ملازمت حاصل کرنے والا اِس رقم کو 6 ماہ میں ہی وصول کرنے اور اِس انوسٹمنٹ سے منافع کمانے کے لیے دن رات کرپشن کرتا ہے۔بظاہر کرپشن کے خلاف پاکستان میں حکومتی مہم جاری ہے لیکن کرپشن کے خلاف کوئی واضح پلان یا گائیڈ لائن نہ ہونے کے باعث اس مہم کو خاطر خواہ فائدہ نہیں ہورہا ۔شاید اسی بات کے پیشِ نظر وزیراعظم پاکستان عمران خان نے اپنے دورہ چین کے دوران اعلان کیاہے کہ’’ پاکستان کرپشن کے خلاف چین کے تجربات سے فائدہ اُٹھائے گا‘‘۔ پاکستان میں کرپشن کے خاتمہ کے لیے بلاشبہ’’ چینی نسخوں ‘‘کو انتہائی اہم قرار دیا جاسکتاہے کیونکہ دنیا کی قریب ترین سیاسی تاریخ میں چین ہی وہ واحد ملک ہے جس نے کرپشن کے خاتمہ میں حقیقی معنوں میں کامیابی حاصل کی ہے ۔
چین میں کرپشن کے خاتمہ کے لیے کمیونسٹ پارٹی نے ’’شُوآنگ گُوئی‘‘ نامی نظام 1990ء میں متعارف کرایا تھا۔ اس کا مقصد بدعنوان سرکاری اہلکاروں کو سزا دینا تھا تاکہ رشوت ستانی اور کرپشن کے اس رحجان کو ختم کیا جا سکے جو چین میں تیز رفتار اقتصادی ترقی کے شروع کے دور میں بہت زیادہ ہو گیا تھا۔اس نظام کے تحت کسی بھی مشتبہ فرد یا ملزم کی حراست غیر معینہ عرصے تک جاری رہ سکتی ہے۔ ایسے افراد کے اہل خانہ کو اکثر یہ علم ہی نہیں ہوتا کہ ان کے سرکاری اہلکاروں کی طرف سے تحویل میں لیے گئے رشتہ داروں کے ساتھ کیا ہوا ہے یا وہ کہاں ہیں۔چین میں کرپشن کے خلاف مہم میں سب سے زیادہ تیزی2012 میں صدر شی جن پنگ کی قیادت میں آئی اور 2013 سے 2017 تک 13 لاکھ 40 ہزار افرادکو کرپشن کے الزام میں سزا بھی مل چکی ۔ انسدادِ کرپشن کا’’چینی نسخہ‘‘ کتنا زیادہ سریع الاثر ہے اس کا اندازا صرف اس ایک بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ 2017 کے صرف پہلے 6 ماہ میں 13 لاکھ 10 ہزار سے زائد متاثرین نے کرپشن کے خلاف شکایات سینٹرل کمیشن آف ڈسپلن انسپکشن میں درج کروائیں۔ اِن میں سے 2 لاکھ 60 ہزار لوگوں کے خلاف کارروائی شروع ہوئی اور 2 لاکھ 10 ہزار مجرموں کو سزا سنائی گئی۔ اِن سزا پانے والوں میں صرف کمزور اور چھوٹے سرکاری افسر شامل نہیں تھے بلکہ اِن میں وزارتوں اور صوبائی انتظامیہ کے 38 سینئر افسران سمیت ایک ہزار انتہائی طاقتور خیال کیے جانے والے افراد بھی شامل تھے۔مثال کے طور پر چینی وزیرِ ریلوے Liu Zhijun جنہیں چین کا کامیاب ترین وزیر بھی سمجھا جاتا تھا۔ اُنہیں کمیشن لینے، عہدے کے غلط استعمال اور سامان کی خریداری میں کرپشن کے الزام پر اُن کی ماضی کی خدمات اور ریلوے کی ترقی کے لیے کی گئی محنت اور حکومتی پارٹی کے ساتھ تعلقات کو ایک طرف رکھتے ہوئے اُن کے خلاف مقدمہ چلا اور موت کی سزا سنا دی گئی۔ایسی ہی ایک عبرتناک مثال چینی افوج کے سابقہ جنرل Guo Boxiong کی بھی ہے جن کو رشوت لینے کے الزام میں نہ صرف عمر قید کی سزا دی گئی بلکہ اُنہیں اپنے عہدے سے فارغ کر کے مجبور کیا گیا کہ وہ اپنے تمام اثاثے بھی چینی حکومت کے نام کریں۔ جنرل صاحب ماضی میں نہ صرف فوج میں جنرل کے عہدے پر فائز رہے تھے بلکہ وہ صدر کی سربراہی میں بنائے گئے سینٹرل ملٹری کمیشن کے وائس چیرمین بھی تھے۔ مزید یہ کہ وہ حکومتی پارٹی کے 25 کور ممبران میں بھی شامل تھے لیکن انسدادِ کرپشن کے ’’چینی نسخہ ‘‘ کے سامنے کام کچھ نہ آیا یہ کمالِ نے نوازی۔
اس وقت بھی چین میں انسداد ِکرپشن اور بدعنوانی کے خلاف تنبیہ کے طور پر ہر ماہ درجنوں حکومتی عہدیداروں اور ان کے اہل خانہ کو ’’جیل کی سیر‘‘ باقاعدگی کے ساتھ کروائی جاتی ہے۔ اس دوران ان کی ملاقات کرپشن کے الزام میں قید بھگتنے والے سابقہ سرکاری عہدیداروں سے بھی کروائی جاتی ہے۔ ایک طرح کی تعلیمی و تربیتی تنبیہ کے طور پر ان تمام افرادکو اپنا پورا دِن جیل میں گزارنا ہوتا ہے۔ اس خصوصی ’’سیر‘‘ کے دوران جیل کی دیواروں پر ملزموں سے کی جانے والی تفتیش کی تصاویر بھی آویزاں ہوتی ہیں تاکہ دورے پر جانے والے حکومتی افراد اور اُن کے اہلِ خانہ ان تصاویر کو دیکھ کر عبرت حاصل کرسکیں۔ہم وزیراعظم پاکستان جناب عمران خان سے اُمید رکھتے ہیں کہ وہ انسدادِ کرپشن کے ’’چینی نسخوں‘‘ پر من و عن عمل پیرا ہو کر وطنِ عزیز کو کرپشن کے مہلک عفریت سے نجات دلائیں گے۔
بنگلہ دیش میں حال ہی میں ایک کئی منزلہ فیکٹری منہدم ہوئی تو اس میں1130 افراد صرف اس وجہ سے ہلاک ہوگئے تھے کہ بلڈنگ تعمیر کرتے ہوئے بلڈنگ کوڈز کی پابندی نہیں کی گئی تھی۔ یہ دنیا کے بدترین صنعتی حادثات میں سے ایک تھا۔ تب یہ حقیقت بھی سامنے آئی کہ کرپشن نے ہی بنگلہ دیشیوں کو یہ دن دکھایاتھا، کیونکہ اس بلڈنگ کا نقشہ بھی رشوت دے کر پاس کرایاگیاتھا۔
ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل(دنیا میں کرپشن پر نظر رکھنے والا ادارہ)کی 2013ء کی رپورٹ 107ممالک کے جائزہ پر مشتمل ہے۔ ایک لاکھ چودہ ہزار افراد سے سروے کیاگیا۔ انٹرویوز میں انھوں نے اپنے تجربات بیان کئے کہ کس طرح انھیں اپنے روزمرہ کے کام کرانے کے لئے رشوت دیناپڑتی ہے۔ جائزہ لیتے ہوئے یہ بھی دیکھاگیاکہ کرپشن کے خلاف لوگ کیسا ردعمل ظاہر کرتے ہیں ۔ جائزہ کے نتائج بہت واضح ہیں جو ثابت کررہے ہیں کہ کرپشن حقیقی معنوں میں معاشرے پر بوجھ ثابت ہورہی ہے۔
ہرچار میں سے ایک فرد نے بتایا کہ اس نے گزشتہ برس اپنا کام نکلوانے کے لئے رشوت دی تھی۔ جو لوگ رشوت دینے کی استطاعت نہیں رکھتے، وہ بے گھر ہی رہتے ہیں، وہ کاروبار شروع نہیں کرسکتے اور بنیادی ضروریات تک رسائی حاصل نہیں کرسکتے۔کرپشن بنیادی حقوق کو پامال کرتی ہے، بالخصوص ان لوگوں کے بنیادی حقوق جو روزانہ 2ڈالر( قریباً 211 پاکستانی روپے) سے کم پر زندگی بسر کررہے ہیں، اور پوری دنیا کی ان خواتین کے بنیادی حقوق جو بچوں کی پرورش کا فریضہ سرانجام دیتی ہیں۔ان سب کے لئے رشوت اور کرپشن عملاً تباہ کن ثابت ہورہی ہے۔ غیرمعمولی حدتک رشوت کی ادائیگی انھیں صحت کے مسائل سے دوچار کرتی ہے اور بھوک میں مبتلا کرتی ہے حتی کہ بچوں کی سکول فیس اداکرنا ممکن نہیں رہتا، اور ان بچوں کے پائوں ننگے ہی رہتے ہیں۔لوگ نہ صرف کرپشن کی قیمت براہ راست ادا کرتے ہیں بلکہ ان کا معیارِ زندگی بھی کرپشن کی ایسی اقسام سے متاثر ہوتاہے جوبظاہر نظر نہیں آتیں۔ جب طاقتور گروہ حکومتی فیصلوں پر اثرانداز ہوتے ہیں یا جب عوامی فنڈز سیاسی اشرافیہ میں ہی تقسیم ہوجاتے ہیں تو اس کی وجہ سے عام آدمی ہی مسائل کا شکار ہوتاہے۔
جب زمبابوے کا رابرٹ مقامی حکومتوں کے انتخابات میں منتخب ہوا تو وہ اس وقت صدمہ سے دوچارہوا ، جب اسے پتہ چلا کہ مقامی حکومت کا ادارہ سارے کا سارا ہی کرپٹ ہے۔ رابرٹ کے مطابق اس کے ساتھی کونسلرز ہاؤسنگ ڈیپارٹمنٹ کے ساتھ مل کر مختلف جائیدادیں خریدنے میں لگے ہوئے تھے اور وہ پھر اسے ان لوگوں کے ہاتھ مارکیٹ ریٹ سے 10گنا زیادہ قیمت پر فروخت کرتے تھے جو بے گھر تھے اور اپنے لئے چھت کے متلاشی تھے۔جب رابرٹ یہ معاملہ ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کی زمبابوے شاخ کے علم میں لایا تو اس تنظیم نے اس کی مدد کی اور اس نے شہر کے گورنر کو ایک خط لکھا۔
جواب میں گورنر نے نہ صرف الزامات کی تحقیقات شروع کرادیں بلکہ کونسلرز کے ساتھ ایک فوری اجلاس بھی طے کرلیا۔ اس پر شہر کے باسیوں کی اکثریت پرجوش اندازمیں گورنر کے ساتھ کھڑی ہوگئی۔ ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل نے یہاں کے باسیوں کو بھی حوصلہ وہمت بخشی اور انھیں کونسلرز کے خلاف شکایات سامنے لانے کے لئے راضی کرلیا۔ان تحقیقات کے ہاؤسنگ پراجیکٹ پر اچھے اثرات مرتب ہوں گے یا نہیں؟ اس حوالے سے فوری طورپر کچھ کہنا ممکن نہیں ہے تاہم مقامی لوگ اب اچھے دنوں کے لئے زیادہ پرامید ہوچکے ہیں۔ ایک شخص جو گزشتہ تیس برسوں سے ہاؤسنگ پراجیکٹ کی فہرست میں شامل ہے کاکہناتھا کہ اب اسے امید ہے کہ وہ جلد اپنے گھر کا مالک ہوگاکیونکہ وہ اس سے پہلے اپنے اس خواب کی غیرمعمولی قیمت ادانہیں کرسکتاتھا۔فیصلوں میں عوام کی شرکت سے میرے لئے چھت فراہم ہونے کے امکانات روشن ہوگئے ہیں۔
ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کی رپورٹ کے مطابق پاکستان دنیا کے ان ملکوں میں سے شامل ہے جہاں لوگوں کا خیال ہے کہ ان کے ہاں رشوت لینے ، دینے کا کلچر بڑھ رہاہے۔ تاہم دلچسپ امر یہ ہے کہ یہاں عورتوں کی نسبت مرد کہیں زیادہ رشوت دینے کے عادی ہیں۔ پاکستان دنیا کے ان ممالک میں سے ایک ہے جہاں39.9 فیصد افراد کاکہناہے کہ وہ گزشتہ برس اپنے کام نکلوانے کے لئے رشوت دینے پر مجبور ہوئے۔ بنگلہ دیش، بولیویا، مصر، انڈونیشیا، اردن، قزاقستان، میکسیکو، نیپال، آئس لینڈ، جنوبی سوڈان، تائیوان، یوکرائن اور ویت نام بھی اسی کیٹیگری میں شامل ہیں۔ رپورٹ کے مطابق پاکستان میں سب سے زیادہ رشوت لینے والا ادارہ پولیس ہے۔ پاکستان ان ممالک میں شامل ہے جہاں گزشتہ برس کی نسبت امسال کرپشن کے خلاف امید کی روشنی20 فیصدکم ہوئی ہے۔ تاہم اس کے باوجود اچھی بات یہ ہے کہ پاکستان میں 75فیصد افراد کرپشن کے خلاف جدوجہد میں کسی نہ کسی اندازمیں شرکت کرنے کو تیار ہیں۔ یہ جائزہ پاکستان کے مختلف علاقوں کے قریباً اڑھائی ہزار افراد سے پوچھے گئے سوالات کے جوابات کی روشنی میں مرتب کیاگیاہے۔
وینزویلا میں پچاس سالہ خاتون کارمیلااپنے فلیٹ میں سورہی تھی کہ اچانک شورشرابے اور چیخ وپکار سے اس کی آنکھ کھل گئی۔ ماردھاڑ کی آوازیں اوپر والے فلیٹ سے آرہی تھیں جہاں اس کا بیٹا رہائش پذیرتھا۔ وہ بھاگم بھاگ اوپر پہنچی، دیکھا کہ پولیس والے اس کے 27سالہ مکینک بیٹے کو کھینچ کر اپنے ساتھ لے جانے کی کوشش کررہے ہیں۔ ماں چیختی رہی لیکن پولیس والے اسے مقامی پولیس ہیڈکوارٹر میں لے گئے۔ ماں پیچھے پیچھے وہاں پہنچی تو پولیس اہلکاروں نے صاف صاف رشوت کا مطالبہ کردیا۔وینزویلن معاشرے میں ہرکوئی کارمیلا ہے اور ہرکوئی پولیس والوں کے ظلم واستحصال کا شکار۔ پولیس والے روزانہ کی بنیاد پر اسی اندازمیں اوپر کی کمائی وصول کرتے ہیں۔ آپ بخوبی اندازہ کرسکتے ہیں کہ اس طرح وہ کتنا کمالیتے ہیں اور آپ کو یہ بھی اندازہ ہوگا کہ اس معاشرے میں رہنے والے کس قدر خوف وہراس میں مبتلا ہیں۔ یہ پولیس والے معمولی رقم کا مطالبہ نہیں کرتے، بلکہ ہزاروں مانگتے ہیں۔ تاہم کارمیلا کے لئے ہزاروں ڈالرز کا انتظام کرنا ممکن نہیں تھا۔ اس کے چاربچے تھے جن میں سے ایک کینسر میں مبتلا تھا۔
کارمیلا کی شکایت پر ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل نے وینزویلا کے اعلیٰ حکومتی عہدیداران اور پولیس حکام سے رابطہ کرکے کارروائی کا مطالبہ کیا۔ نتیجتاً جب خاتون رشوت کی رقم لے کر متعلقہ پولیس ہیڈکوارٹر پہنچی تو پولیس اہلکاروں کی نگرانی ہورہی تھی، جیسے ہی اس نے رقم اہلکاروں کے حوالے کی، فوراً رشوت لینے والوں کو گرفتار کرلیاگیا۔ اس کے بیٹے کو اسی وقت رہائی مل گئی۔ راشی پولیس اہلکاراس وقت جیل میں ہیں، ان کے خلاف انویسٹی گیشن کا سلسلہ وسیع کردیاگیاہے۔ اب ان پر مقدمہ چلے گا اور جلد ہی انھیں اپنے کئے کی سزامل جائے گی۔

کرپشن کے خلاف کرنے کے اصل کام
٭حکومتوں پر لازم ہے کہ وہ شفافیت کے ساتھ اپنے معاملات کو سرانجام دیں اور اپنے ریکارڈ کو چھان بین کے لئے عام کریں۔
٭کوڈز آف کنڈکٹ میں بہتری لانا ہوگی اور تمام سرکاری ملازمین کو ان کا پابند بنانا ہوگا۔
٭حکومتوں کومعلومات تک مکمل رسائی کے قوانین کی منظوری اور نفاذ میں بھی شفافیت کو لازمی بنانا ہوگا۔
٭حکومتوں پر لازم ہے کہ وہ سرکاری مالی انتظام کو کرپشن کے خلاف اقوام متحدہ کے کنونشن کے آرٹیکل نمبر9 کے مطابق بنائیں۔
٭ حکومتوں کو بہرصورت احتساب کا میکانزم اور چینلز بنانا ہوں گے ۔
٭لوگوں کو جب رشوت دینے کو کہاجائے تو انھیں بھی انکار کرنا چاہئے۔
٭ حکومت کو اصلاحات برائے انسداد بدعنوانی میں پولیس کے شعبے کو ترجیح میں رکھنا چاہئے۔ ایسا کرتے ہوئے مسائل کا تجزیہ ضرورکرلیناچاہئے۔
٭ حکومت کو عدلیہ کی آزادی اور غیرجانبداری کو یقینی بناناہوگا۔
٭ حکومت کو چیک اینڈ بیلنس کا ایسا نظام قائم کرنا چاہئے کہ کوئی گروہ اپنی طاقت اور مفادات کے سبب حکومتی پالیسیوں اور اقدامات پر اثرانداز نہ ہوسکے۔
٭تمام حکومتوں کو کرپٹ حکام کے خلاف کچھ نہ کرنے کا کلچر ختم کرناہوگا اور کرپشن سے بچائو، کرپشن کا پتہ چلانے ، تفتیش کرنے، مقدمات چلانے اور سزائیں دینے کے عمل کو یقینی بناناہوگا۔
٭ اگرمنتخب عوامی نمائندوں کی کرپشن پکڑی جائے تو انھیں استثنیٰ نہیں ملناچاہئے۔
٭ جب لوگ کرپشن کا سامنا کریں یا ایسا کوئی واقعہ ہوتے دیکھیں تو انھیں موجودہ رپورٹنگ میکانزم کو استعمال کرناچاہئے۔
٭لوگوں کو کرپشن کے خلاف آواز بلند کرنی چاہئے، کرپٹ لوگوں کے خلاف ووٹ کا حق استعمال کرناچاہئے، انھیں کرپٹ لوگوں کوسزا دینے کے لئے استعمال میں لانا چاہئے، صرف صاف ستھرے
امیدواروں اور جماعتوں کو ہی ووٹ دینا چاہئے۔ اسی طرح لوگوں کو صرف ایسی کمپنیوں کا مال ہی خریدنا چاہئے کہ جوکرپشن کی غلاظت سے پاک کاروبار کرتی ہوں۔
٭ حکومت کو ایسے قوانین منظورکرناہوں گے جن کی مدد سے پارٹیوں کے مالی معاملات صاف وشفاف ہوسکیں۔ جماعتوں اور انتخابی امیدواروں کی کہاں کہاں سے چندہ وصول ہوتاہے، یہ سب کچھ عام لوگوں کے سامنے آنا چاہئے۔
٭پارلیمان کو بھی اپنے ارکان کے بارے میںکوڈآف کنڈکٹ تیارکرناچاہئے، انھیں آگاہ کرنا چاہئے کہ ذاتی اور ریاستی مفادات میں ٹکرائو پیدا ہورہاہو تو ان کی ذمہ داری کیابنتی ہے، ارکان کو اپنے اثاثے اور آمدن کو ظاہر کرنے کا پابند کرناچاہئے۔
٭ حکومتوں کو ایسے قوانین کی منظوری اور نفاذ کرنا ہوگا کہ جس کی مدد سے سیٹی ماروں(Whistleblowers) کو اجازت مل سکے کہ وہ سرکاری اور غیرسرکاری اداروں میں ہونے والی بدعنوانی پر آواز بلند کرسکیں اور ان کا تحفظ بھی ہو۔
٭ حکومت کو ایک موثر میکانزم کے ساتھ لوگوں کو کرپشن کے خلاف رپورٹ کرنے اور ان کی شکایت کا ازالہ کرنے کو یقینی بنائے۔
٭حکومت معاشرے میں سول سوسائٹی کی تنظیموں کے قیام کی حوصلہ افزائی کرے تاکہ وہ سرکاری معاملات پر نظر رکھ سکیں، لوگوں کی مدد کرسکیں اور سرکاری حکام کا احتساب کرسکیں۔
حقیقت یہ ہے کہ ملک میں کرپشن کے خاتمے کے لیے فوج اور عدلیہ سمیت کسی بھی ادارے یا پارٹی کا کردار قابلِ رشک نہیں رہا۔ موجودہ سیاسی قیادت کے نزدیک ایمانداری اہمیّت نہ ہونے کے برابر ہے، اربابِ سیم و زر کو ہی پارٹی قائدین کا قرب حاصل ہے۔ صرف ارب پتی ہی اُن کے منظورِ نظر ہیں اور وہ کم وسیلہ حضرات جن کا سرمایہ صرف اُجلا کردار ہے، انھیں نہ قیادت تک رسائی ہے اور نہ ان کی پارٹی میں کوئی اہمیّت وہ ہر پارٹی کی پچھلی نشستوں پر بیٹھے کُڑھتے رہتے ہیں۔
کرپشن کے سرطان کو جڑ سے اکھاڑنا ہے تو بڑے سخت ، غیر مقبول اور بے رحمانہ اقدامات اٹھانے ہوں گے۔ اس سلسلے میں چند تجاویز پیش کررہا ہوں۔
٭ اس وقت بدعنوانی کے خلاف کارروائی کرنے کا ذمے دار سب سے بڑا ادارہ NAB(نیب) ہے۔ نیب کے سربراہ کی تقررّی کا طریقۂ کار تبدیل ہونا چاہیے۔ نہ جانے اس اہم اشو کو سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں کیوں شامل نہیںکیا، نیب کا سربراہ ایسا شخص ہونا چاہیے جس پر کوئی انگلی نہ اٹھاسکے اور جس کے نام سے ہی حرام خور اور بڑے بڑے مگرمچھ خوف کھائیں۔اس کے انتخاب کا اختیار سیاستدانوں کے پاس نہیں بلکہ قومی اداروں کے انتہائی نیک نام ریٹائرڈ افراد پر مشتمل ایک سرچ کمیٹی کے پاس ہونا چاہیے۔ مسلح افواج اور عدلیہ میں ہونے والی کرپشن بھی نیب کے دائرۂ اختیار سے باہر نہ ہو۔ ایک ٹرم کے لیے اس کا سربراہ اعلیٰ کردار کا سول سرونٹ ہو اور دوسری بار اس کی سربراہی کسی نیک نام جرنیل کو دی جائے۔ اس سے سول اور فوجی اداروں کی کمٹمنٹ، کیپیسٹی اور کارکردگی بھی عوام کے سامنے آتی رہیگی۔ ایف آئی اے ، ایف بے آر اور قومی بینک بھی حکومتی کنٹرول سے باہر ہوں۔
٭عدلیہ، پولیس، انتظامیہ اور ٹیکس سروسز کے ریٹائر ہونے والے انتہائی نیک نام افسروں کو ڈویژن کی سطح پر محتسب مقرر کیا جائے۔ ان کے پاس بدعنوانی کا مقدمہ درج کرنے،گرفتار کرنے اور تفتیش کے اختیارات ہوں۔ وہ اپنے اپنے دائرہ ٔ کار میں انسدادِ بدعنوانی کے ذمّے دار ہوں۔ انھیں اپنے ادارے کے علاوہ کچھ اَور اِداروں کی ذمّے داری بھی دی جاسکتی ہے۔ محتسب کا انتخاب درست ہونے کی صورت میں نچلی سطح پرکرپشن کا موثر طور پر تدارک ہوگا اور عوام کے جائز کام رشوت کے بغیر بھی ہونے لگیں گے۔
٭عوام کا پیسہ (Public Money) جس ادارے یا محکمے میں بھی خرچ ہو، اس کی مکمّل تفصیل اُس ادارے کی ویب سائیٹ پر دکھائی جائے۔ اگر ارکانِ پارلیمنٹ یا ارکانِ عدلیہ کی تنخواہیں بڑھائی جائیں یا نئی گاڑیاں خریدی جائیں تو وہ بھی قومی اسمبلی اور سپریم کورٹ کی ویب سائیٹ پر دکھائی جائے۔
٭تمام وزارتوں اور ڈویژنوں کے لیے لازم قرار دیا جائے کہ وہ ایک خاص حد سے زیادہ رقم کے معاہدے آن لائن کریں، اور یہ On line transactions بھی بینکوں کے ذریعے ہوں۔
٭سپریم کورٹ 1980ء سے لے کر اب تک بینکوں کے قرضے معاف کرانے والوں کی مکمل فہرست طلب کرے اور جس فیکٹری کے نام پر لیے گئے قرضے معاف کرائے گئے ہوں اُس فیکٹری کے اصل مالک (قرضہ لینے یا معاف کرانے کی درخواست تو ڈائریکٹر یا مینیجر کے نام سے بھی دی جاتی ہے) اس کی بیوی، بھائیوں اور بچّوں پر پندرہ سال کے لیے سیاست میں حصّہ لینے پر پابندی لگادی جائے۔
٭سیاسی اور انتخابی نظام کی صفائی (purification)کے لیے آئین کے آرٹیکلز 62 اور63کے سخت نفاذ کے بغیر کوئی چارہ نہیں۔ سپریم کورٹ سختی سے ریٹرننگ افسروں کو پابند کرے کہ وہ انتخابی امیدواروں کے کردار کے بارے میں مکمل چھان پھٹک کریں۔ امیدواروں کی اسکروٹنی کی مدّت تین مہینے تک بڑھادی جائے تاکہ ان کے بارے میں الزامات اور تفتیش و تحقیق مکمل کی جاسکے۔ تمام امیدواروں کے کردار اور شہرت کے بارے میں انٹیلی جنس ایجنسیوں کے نیک نام افسروں اور ڈویژنل سطح پر مقرّر محتسب صاحبان سے رپورٹیں لی جائیں۔
٭اگر کوئی اسمبلی کا رکن بدعنوانی یا کمیشن خوری میں ملوّث پایا جائے تو پارلیمنٹ اس کا تحفّظ نہ کرے اور نہ ہی اس کے خلاف ہونے والی قانونی کارروائی کے آگے استحقاق کے بیرئیرکھڑے کیے جائیں۔ جرم ثابت ہونے کی صورت میں نہ صرف رکنِ پارلیمنٹ کو سزا دی جائے بلکہ پندرہ سال تک وہ خود اس کی بیوی، بیٹا، بیٹی یا بھائی سیاست میں حصّہ لینے کے لیے نااہل قراردیے جائیں۔
٭ایک کروڑ روپے سے زیادہ کی کرپشن کرنے والوں اور اشیائے خورد ونوش اور دوائیوں میں ملاوٹ کرنے والوں کے لیے سزائے موت مقرّر کی جائے۔
٭ اگر کوئی سرکاری ملازم کرپشن میں ملوّث پایا جائے تو سزائے قید اور جرمانے کے علاوہ اس کے خونی رشتوں پر دس سال کے لیے سرکاری ملازمت کے دروازے بند کردیے جائیں۔
٭اہم دفاتر میں کلوز سرکٹ ٹی وی کیمرے نصب ہوں جن کے کنٹرول روم محتسب اور NABکے دفاتر میں ہوں تاکہ ان دفاترمیں ہونے والی غیر قانونی سرگرمیوں کی نگرانی کی جاسکے۔
٭جس طرح قانون میں کچھ کیسوں کی تفتیش مکمل کرنے کے لیے وقت مقررکردیا گیا ہے اسی طرحAnti Corruption Courts کو کرپشن کے مقدمات کے فیصلے ایک مخصوص مدّت کے اندر کرنے اور سنانے کا پابند کیا جائے۔
٭بدعنوانی میں ملوّث ہونے والے سرکاری افسروں کو نوکری سے برخاست کیا جائے اور ان کی جائیداد ضبط کرکے نیلام کی جائے۔
٭سی ایس ایس اور پی سی ایس کے امتحانات میں سائیکولوجیکل ٹیسٹ کے ذریعے امیدواروں کے رجحانات معلوم کیے جائیں اور نوکری کے ذریعے مال بنانے کا رجحان رکھنے والوں اور حلال و حرام کی تمیز پر یقین نہ رکھنے والوںکو سروس میں داخل ہونے سے روکا جائے۔
٭بدقسمتی سے اس وقت سول سروسز کے کسی تربیّتی ادارے میں دیانتداری یا کردار سازی پر بالکل زور نہیں دیا جاتا۔ ٹریننگ اکیڈیمیوں میں سب سے زیادہ توجّہ کردار سازی اور ایمانداری کا وصف پیدا کرنے پر دی جائے اور تمام اداروں کی تربیّت گاہوں میں چُن کر باکردار اور رزقِ حلال کو فروغ دینے کے جذبے سے سرشار افراد کو سربراہ مقرّر کیا جائے۔
٭ہر سروس گروپ اور ہر ادارے پر لازم ہوکہ وہ اپنی سالانہ رپورٹ عدالتِ عظمیٰ میں پیش کرے اور اس میں اس سال کے نیک نام اور بدنام افسروں کی فہرست شامل ہو۔ بہت سے ملکوں میں پولیس اور انتظامیہ کے سالانہ عشائیوں میں اس سال بھر کے نیک نام اور بدنام افسروں کے ناموں کا اعلان کیا جاتا ہے۔دوستوں اور کولیگز کا دباؤ (Peer Presure) سرکاری افسروں کو گمراہ ہونے سے بچانے کا ایک موثر ذریعہ بن سکتا ہے۔
٭سرکاری ملازمین کی تنخواہیں بڑھاکر انھیں پرائیوٹ سیکٹر کے برابر کیا جائے اور احتساب کا نظام بہت موثّر بنایا جائے۔ سنگاپور میں لی کوآن نے سرکاری ملازموں کی تنخواہیں کئی گنا بڑھا کر انھیں معاشی مسائل سے بے نیاز کردیا تھا مگر احتساب کا اتنا کڑا نظام وضع کیا کہ کرپشن میں ملوث ایک وزیر کو اپنے رہنما کا سامنا کرنا کرنے کی ہمت نہ ہوئی او ر اُس نے اپنی زندگی کا خود خاتمہ کرلیا۔ سرکاری اداروں میں موٹروے پولیس کرپشن سے پاک ہے اسی لیے اس کا ذکر ماڈل اور مثال کے طور پر کیا جاتا ہے۔ کئی دیگر عوامل کے علاوہ تنخواہ میں خاطر خوا ہ اضافہ بھی وہاں ملازمین کی ایمانداری کا سبب بنا تھا۔
٭ہر محکمے کے ایماندار افسروں کی حوصلہ افزائی کی جائے۔ ان کی ضرورتوں کا خیال رکھا جائے، اچھی تعیناتیوں میںانھیں ترجیح دی جائے تاکہ دوسرے تمام ملازمین تک یہ میسج پہنچے کہ ایمانداری اتنا پسندیدہ اور ارفعٰ عمل ہے کہ اس پر عمل پیرا ہونے والوں کو عزّت بھی ملتی ہے اور ان کے نخرے بھی اٹھائے جاتے ہیں۔
٭کلمہ گو تو اﷲ اور رسول کریم ؐ کا حکم سمجھ کر مالِ حرام سے ہر حال اور ہر صورت میں بچنے کے پابند ہیں۔ یہ چیز بچپن سے ہی ذہنوں میں ڈالی جائے۔گھر سب سے بڑی تربیّت گاہ ہوا کرتی تھی جو اب غیر فعال ہو چکی ہے، اس ادارے کو زندہ اور بحال کرنے کی ضرورت ہے۔ والدین اپنے فرائض سے کوتاہی نہ برتیںاور مسلسل تربیّت کے ذریعے کرپشن اور مالِ حرام سے نفرت بچّوں کے رگ و پے میں اسطرح اتاریں جس طرح سؤر کے گوشت سے نفرت مسلمانوں کے دل و دماغ میں سرایت کرچکی ہے۔ اگر بچپن سے ہی ان کے ذہنوں میں یہ بات بیٹھ گئی تو پھر وہ عملی زندگی کے جس شعبے میں بھی جائیںگے ان کی سمت درست رہے گی اور وہ مالِ حرام سے بچے رہیںگے۔
٭اسکولوں میں صبح اسمبلی کے دوران مالِ حرام کمانے کو ایک سنگین اور قابلِ نفرت جرم کے طور پر پیش کیا جائے اور رزقِ حلال کی فضیلت اور افادیّت بچوں کے دل و دماغ میں ڈال دی جائے۔
٭کسی بھی قسم کی بدعنوانی اور رشوت ستانی کی سنگینی اور اس کے مضر اثرات کے بارے میں بچّوں کو Sensitise کرنے کے لیے اسکولوں اور کالجوں کے نصاب میں ایسے مضامین اور کہانیاں شامل کی جائیں جن میں بددیانت اور حرام خور شخص کو ولن اور دیانتدا ر شخص کو ہیرو کے طور پر پیش کیا جائے۔
٭والدین اور اساتذہ کے علاوہ میڈیا بھی اپنا کردار ادا کرے، کوئی سیاسی پارٹی کسی داغدار شہرت کے مالک شخص کو اپنی نمائیندگی کے لیے کسی چینل پر نہ بھیجے۔ میڈیا مالکان بھی کرپشن کے خاتمے کے لیے اتنا حصّہ ضرور ڈالیں کہ ناجائز ذرایع سے پیسہ بنانے والے کسی شخص کو کسی ٹاک شو میں مدعو نہ کریں۔ ٹی وی چینل کرپٹ لوگوں کو ملک دشمن قرار دیکر ان کا مکمل بائیکاٹ کریں۔
یہ سب کچھ ہوسکتا ہے! یہ کون کریگا؟ اس کا جواب ہے ایسی قیادت جس کا دامن پاک ہو اور جو مالی اور اخلاقی طور پر پاکیزہ ہو۔
۔۔۔۔۔۔۔۔
تمت بالخیر

Leave a Reply

Your email address will not be published.